فلسطین کے قومی شاعر: محمود درویش


اکیسویں صدی میں کرہ ارض پر سینکڑوں ریاستیں موجود ہیں جن میں ان گنت قومیں بستی ہیں۔ ان ریاستوں کے پرچم بھی ہیں اور قومی ترانے بھی اور ان قوموں کی اپنی مادری زبانیں بھی ہیں اور ان زبانوں میں لکھنے والے شاعر بھی۔ ان شاعروں میں سے ایک مقبول عام خوش قسمت قومی شاعر بھی کہلاتا ہے۔

دنیا کی دیگر قوموں سے جدا فلسطینی ایک ایسی قوم کے باشندے ہیں جن میں سے بعض کو شہر بدر اور بعض کو ملک بدر کر دیا گیا اور بعض کو ان کی شہریت اور شناخت سے محروم کر کے انہیں اپنے ہی گھر میں بے گھر بنا دیا گیا۔ ایسے شہر بدر ملک بدر اور بے گھر فلسطینیوں کی ریاست کرہ ارض سے زیادہ ان کے دلوں میں بستی ہے۔ دنیا کے چار کونوں میں بکھری ہوئی ایک بے گھر پردیسی اور خانہ بدوش قوم کا ایک قومی شاعر بھی ہے جن کا نام محمود درویش ہے۔

محمود درویش انیس سو اکتالیس میں مغربی گیلیلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ ان پڑھ تھیں جو یہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کا بیٹا ایک دن بڑا ہو کر بین الاقوامی شہرت کا مالک شاعر بنے گا۔ محمود درویش نے بچپن میں اپنے نانا سے پڑھنا لکھنا سیکھا۔

محمود درویش کے خاندان نے انیس سو اڑتالیس کی جنگ کے دوران ہجرت کی اور لبنان چلے گئے کیونکہ اسرائیلی فوجیوں نے ان کے گاؤں کو تباہ و برباد کر کے کھنڈر بنا دیا تا کہ اس گاؤں کے باسی کبھی بھی واپس نہ لوٹ سکیں۔ اسرائیلی حکومت چاہتی تھی کہ اس علاقے میں ساری دنیا سے آنے والے یہودی بس جائیں۔

ایک سال کی ہجرت کے بعد محمود درویش کے گھر والے لوٹے اور اپنے گاؤں کو اجڑا ہوا پایا تو انہوں نے حیفا میں قیام کیا۔ اسرائیلی حکومت نے انیس سو باون میں جب چند فلسطینیوں کو اسرائیل کی شہریت دی تو اس وقت بھی محمود درویش کے خاندان کو شہریت نہ ملی اور وہ اپنے گھر میں بھی بے گھر بن کر زندگی گزارتے رہے۔

محمود درویش نے نوجوانی میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ انیس برس کی عمر میں ”بے پر کے پرندے“ WINGLESS BIRDS کے نام سے چھپا۔

محمود درویش زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے اس لیے وہ مقامی کمیونسٹ پارٹی کے ممبر بن گئے اور ان کی نظمیں کمیونسٹ پارٹی کے جریدے الجدید میں چھپنے لگیں۔ بعد میں انہیں اس جریدے کا مدیر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ ایک زمانے میں محمود درویش مزدوروں کے ادبی جریدے الفجر کے نائب مدیر بھی رہے۔

محمود درویش انیس سو ستر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے ماسکو گئے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد قاہرہ چلے گئے جہاں انہوں نے الاہرام نامی اخبار کے لیے لکھنا شروع کیا۔

محمود درویش جب سیاست میں فعال ہوئے تو انہوں نے فلسطین کی آزادی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور انیس سو تہتر میں وہ پی ایل او کے ممبر بن گئے۔ انہوں نے فلسطین کے لیے سیاسی نظمیں بھی لکھیں۔ انیس سو ستاسی میں انہیں فلسطین کی آزادی کی تحریک کی انتظامی کمیٹی کا رکن چنا گیا اور ایک سال بعد انہوں نے ”فلسطین کی آزادی کا اعلامیہ“ بھی رقم کیا۔

انیس سو بانوے میں جب یاسر عرفات اور اسحاق رابین نے ہاتھ ملائے اور اوسلو کا امن کا معاہدہ کیا تو محمود درویش اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ ان کا موقف تھا کہ وہ معاہدہ اسرائیلیوں کے حقوق کو تو پوری طرح تسلیم کرتا ہے لیکن فلسطینیوں کے حقوق سے انصاف نہیں کرتا۔ جب تک محمود درویش پی ایل او کے ممبر تھے انہیں اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔

محمود درویش زندگی میں دو دفعہ کسی حسیں مہ جبیں کی زلف کے اسیر ہوئے اور دونوں دفعہ اس حسینہ کو اپنی بیوی بنا لیا۔ محمود درویش کی پہلی شادی ایک لکھاری رنا کبانی سے ہوئی۔ وہ شادی چند سال قائم رہی۔ رنا کبانی سے طلاق کے بعد ان کی دوسری شادی ایک مصری مترجم حیات حینی سے ہوئی۔ ان کی دونوں شادیوں سے کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی نظموں کی محبوبہ کا نام ریٹا ہے اور اب تک کوئی نہیں جانتا کہ کیا وہ ایک خیالی محبوبہ تھی یا ایک خفیہ محبوبہ۔

درویش نے اپنی سڑسٹھ برس کی زندگی میں شاعری کے تیس اور نثر کے آٹھ مجموعے چھپوائے۔ ان کی نظم ”شناختی کارڈ“ ان کی بین الاقوامی شہرت کا باعث بنی۔ محمود درویش جوانی میں پابند نظمیں لکھتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی پابند نظموں نے آزاد نظموں کا روپ ڈھالا۔ محمود درویش نے اپنی نظموں میں فلسطین کو بے گھری ہجرت کے دکھ اور اجنبیت کا استعارہ بنا کر پیش کیا اور اس ادبی کوشش میں کامیاب رہے۔

محمود درویش نے اپنے مجموعے MEMORY OF FORGETFULNESS میں اسرائیل کے لبنان پر حملے کے سانحے کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا ہے۔ ان کی نظم
TO MY MOTHER فلسطینیوں کے لیے قومی ترانے کا درجہ رکھتی ہے۔

جولائی دو ہزار سات میں جب محمود درویش پینتیس برس کی جدائی کے بعد فلسطین آئے تو یہ جان کر بہت دکھی ہوئے کہ فلسطینی الفتح اور حماس دو گروہوں میں بٹ چکے ہیں۔ انہوں نے اس تفریق کو فلسطینیوں کی سیاسی خودکشی قرار دیا۔ ان کی خواہش تھی کہ تمام مذہبی اور سماجی مکاتب فکر کے فلسطینی مل کر سیاسی جدوجہد کریں اور ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کرنے کی کوشش کریں۔

محمود درویش دل کے عارضے کا شکار تھے۔ دو ہزار آٹھ میں ان کے دل کا آپریشن ہوا لیکن وہ اس آپریشن سے صحتیاب نہ ہو سکے اور سڑسٹھ برس کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

محمود درویش کی وصیت تھی کہ انہیں فلسطین کی سرزمین میں دفن کیا جائے چنانچہ ان کی میت کو اردن سے فلسطین لایا گیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے ان کی وفات کے موقع پر تین دن کا سوگ منانے کا اعلان کیا اور انہیں بڑی عزت اور احترام سے رام اللہ میں دفنایا گیا۔ ان کے جنازے میں ان کے ہزاروں دوستوں مداحوں اور پرستاروں نے شرکت کی۔

محمود درویش کی وفات کے بعد ان کے نام کی محمود درویش فاؤنڈیشن قائم کی گئی جو آزادی کے پرستار لکھاریوں کو ایوارڈ دیتی ہے۔ دو ہزار سترہ میں جن ادیبوں نے وہ ایوارڈ حاصل کیا وہ فلسطینی مورخ مہر شریف، مصری ناول نگار سلوا بکر اور ہندوستانی ناول نگار ارون دھتی رائے تھیں۔

محمود درویش کی شاعری ان کی زندگی میں بھی اور فوت ہونے کے بعد بھی متنازعہ فیہہ رہی۔ سن دو ہزار میں جب اسرائیل کے وزیر تعلیم نے ان کی نظموں کو نصاب میں شامل کرنے کی درخواست دی تو اس دور کے وزیر اعظم ایہود براک نے یہ کہہ کر اس درخواست کو مسترد کر دیا کہ ابھی اسرائیلی سکولوں میں محمود درویش کی نظمیں پڑھانے کا وقت نہیں آیا۔

محمود درویش کو ان کی زندگی میں جن انعامات سے نوازا گیا ان میں سے ایک روس کا لینن امن انعام بھی ہے جو پاکستان کے شاعر فیض احمد فیض کو بھی مل چکا ہے۔

میں آپ کی خدمت میں محمود درویش کی تین عربی نظموں کے انگریزی ترجموں کا اردو ترجمہ پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کا ان کی شاعری سے تعارف ہو سکے اور آپ کو ان کی دیگر نظمیں پڑھنے کی تحریک ہو سکے۔

شناختی کارڈ

تم یہ سچائی رقم کر لو
میں ایک عرب ہوں
میرے کارڈ کا نمبر پچاس ہزار ہے
میرے آٹھ بچے ہیں
نواں بچہ موسم گرما کے بعد پیدا ہو گا
تم پوچھتے ہو
میرے غصے کا جواز کیا ہے؟
تم یہ سچائی رقم کر لو
میں ایک عرب ہوں
جو اپنے کامریڈ دوستوں کے ساتھ مزدوری کرتا ہے
اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت کرتا ہے
تا کہ وہ رات کو بھوکے نہ سوئیں
ان کے تن پر کپڑا ہو
اور ان کے پڑھنے کے لیے کتابیں ہوں

میں محنت مزدوری کرنا چاہتا ہوں
کسی کے در پر بھیک نہیں مانگنا چاہتا
تم پوچھتے ہو
میرے غصے کا جواز کیا ہے؟
تم یہ سچائی رقم کر لو
میں ایک عرب ہوں
میں ایک ایسا نام ہوں جو کسی لقب سے محروم ہے
میں ایک ایسے ملک میں صبر سے رہتا ہوں
جو غصے کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے

میری جڑیں
وقت کی سرزمین میں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں
جب یہ پودے یہ درخت یہ جنگلات پیدا بھی نہیں ہوئے تھے
میرا باپ ایک محنت کش مزدور تھا
میرا دادا ایک محنتی کسان تھا
میرا گھر ایک گھاس پھونس کا بنا ہوا ایک جھونپڑا تھا
کیا اب تمہاری تسلی ہو گئی ہے
تم یہ سچائی رقم کر لو
میں ایک عرب ہوں
میرے بالوں کا رنگ کالا ہے
میری آنکھوں کا رنگ بھورا ہے
میرا تعلق ایک دور دراز کے گاؤں سے ہے
جس کی گلیاں بے نام ہیں
جس کے مرد کھیتوں میں کام کرتے ہیں

تم پوچھتے ہو
میرے غصے کا جواز کیا ہے؟
تم یہ سچ رقم کر لو
میں ایک عرب ہوں
تم نے میرے آبا و اجداد کے کھیت کھلیان چوری کر لیے
ان کے گھر تاخت و تاراج کر دیے
اب
میرے بیٹوں بیٹیوں نواسے بواسیوں پوتے پوتیوں کے لیے
صرف پتھر اور چٹانیں ہی بچی ہیں
اور ہم نے سنا ہے
تمہاری حکومت
ہم سے وہ بھی چھیننا چاہتی ہے
تم اپنی کتاب کے پہلے صفحے پر لکھ لو
میں کسی سے نفرت نہیں کرتا
میں کسی کی زمین پر بغیر اجازت نہیں جاتا
لیکن اگر
میری بھوک حد سے بڑھ جائے
تو میں
اپنے غاصب اپنے جابر اپنے ظالم
کا کچا گوشت کھا سکتا ہوں
اس لیے
میری بھوک سے بچ کر رہنا
میرے غصے سے بچ کر رہنا

موسیقار

ایک ویران گاؤں میں
ایک اداس شام
دو نیند سے بوجھل آنکھیں
تیس سال
پانچ جنگیں
ایک موسیقار
آگ اور اجنبی لوگوں کے گانے گاتا ہے
شام ڈھل چکی ہے
موسیقار سے لوگ پوچھتے ہیں
تم ترانے کیوں گا رہے ہو؟
وہ آہستہ سے جواب دیتا ہے
میرا کام ہی ترانے گانا ہے
ان لوگوں نے موسیقار کی تلاشی لی
اس کے سینے میں اس کا دل
اس کے دل میں اس کے لوگ
اس کی آواز میں اس کا درد
اس کے درد میں اس کی جیل
اس کی جیل میں
ان لوگوں نے
اپنے آپ کو زنجیروں میں بندھا ہوا پایا۔

اپنی ماں کے نام

مجھے
اپنی ماں کی روٹی
اس کی کافی
اس کا لمس
بہت یاد آتے ہیں
میرے دل میں
میرے بچپن کی یادیں
ہر روز بڑھتی جاتی ہیں
میں سوچتا رہتا ہوں
اگر میں ایک دن مر جاؤں
تو کیا میں
اپنی ماں کے آنسوؤں کے قابل ہوں گا
اے میری ماں
اگر ایک دن میں واپس آ جاؤں
تو مجھ سے اپنی پلکیں ڈھانپ لینا
میری ہڈیوں کو گھاس سے چھپا لینا

مجھے
تمہارے نقش قدم
تمہاری بالوں کی لٹیں
اور تمہارے لباس کی جھالر
بہت یاد آتے ہیں
اگر میں تمہارے دل کی گہرائیوں کو چھو سکوں
تو خدا بن جاؤں
اور حیات جاوید پا لوں
اگر میں ایک دن واپس آ جاؤں
تو مجھے لکڑی سمجھ کر
اپنا چولھا جلا لینا
مجھے رسی بنا کر
اپنی چھت پر لٹکانا
اور ان پر اپنے کپڑے سکھانا

اے میری ماں
اب میں
تمہاری دعاؤں کے سہارے کے بغیر
کھڑا نہیں ہو سکتا
اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں
اب مجھے میرے بچپن کے نقشے لوٹا دو
تا کہ وہ میری رہنمائی کر سکیں
اور میں
اپنے دوست پرندوں کے ساتھ
اڑ کر
واپس اپنے گھونسلے میں آ سکوں
جہاں تم میرا انتظار کر رہی ہو

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

One thought on “فلسطین کے قومی شاعر: محمود درویش

  • 06/12/2024 at 3:10 شام
    Permalink

    wah wah Aala

Comments are closed.