جون ایلیا کی شاعری میں پاکستانی سیاست کا المیہ
فوضوی شاعری جون ایلیا کے ان دو اشعارسے مضمون کا ابتدائیہ ہے کہ
منظر سا تھا کوئی کہ نظر اس میں گُم ہوئی
سمجھو کہ خواب تھا کہ سحر اس میں گُم ہوئی
وہ میرا اک گمان کہ منزل تھا جس کا نام
ساری متاعِ شوقِ سفر اس میں گُم ہوئی
پاکستانی سیاست کا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ نظریاتی اور فکری اعتبار سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایک بھی ایسی جماعت نہیں ہے جسے قومی سطح کی سیاسی جماعت کہا جا سکے۔ مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (ف) سے لے کر دیگر چھوٹی بڑی جماعتیں سب کی سب کسی نہ کسی خول میں بند ہیں۔
مذکورہ بالا سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایسی جماعتیں ہیں جو وفاق میں حکومت کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں لیکن اس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دو ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جو 2008 کے عام انتخابات کے بعد سے اب تک ایک دوسرے کے لیے ”اسٹیپنی“ کے طور پر کام کر رہی ہیں، یعنی ایک دوسرے کے اقتدار میں شراکت داری رکھتی ہیں چاہے وہ براہ راست حکومت کا حصہ ہونا ہو یا پھر فرینڈلی اپوزیشن کے کردار کی صورت۔ رہی بات نظریات اور سیاسی فکر کی تو کسی حد تک جمعیت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں میں تو یہ نظر آتی ہے لیکن وہ بھی سیاسی اعتبار سے مخصوص طبقے کو ہی متاثر کر پاتے ہیں، اسی طرح خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کی قوم پرست تنظیمیں ہیں جو اپنے اندر محدود پیمانے کی سیاسی فکر رکھتی ہیں لیکن نظریاتی اعتبار سے ان کے قوم پرست ہونے پر کوئی شک نہیں جبکہ جنوبی پنجاب (سرائیکی وسیب ) میں قوم پرست سیاست ابھی بلوغت کو نہیں پہنچی ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں پاکستانی سیاست میں اگر کسی حد تک نظریاتی سیاست (مذہب اور خطے کی بنیاد پر ) پائی جاتی ہے تو پھر وہ مذہبی جماعتیں اور قوم پرست تنظیمیں ہی ہیں۔
پاکستان میں ایسی سیاست کا چلن عام ہے جو ماضی کی شخصیات، نظریات اور نعروں کے گرد گھومتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں ”نیچرل نئے لیڈر“ پیدا نہیں ہوتے بلکہ نئے لیڈر تراشے جاتے ہیں۔ نواز شریف، آصف علی زرداری اور عمران خان تک ایک لمبی فہرست ہے جو تراشے گئے لیڈروں پر محیط ہے۔ ایسے لیڈروں کے نظریات اور بیانیہ بھی کسی نہ کسی جذباتی پہلو سے ٹچ مارتے ہیں یا پھر ان جذباتی پہلوؤں کا چربہ ہوتے ہیں جن میں مقبولِ عام ہونے کی صلاحیت ہوتی ہیں۔
پاکستانی سیاست کا دوسرا بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں ”لیفٹ اور رائٹ“ کے نام پر جو سیاست ہوتی ہے وہ بھی مصنوعی ثابت ہوئی ہے جیسا کہ پیپلز پارٹی جو ایک زمانے تک بلکہ اب بھی خود کو لیفٹ یا پھر لبرل سیاسی جماعت کے طور پر ظاہر کرتی ہے لیکن حقیقت میں وہ بھی شخصیت پرستی کے گرد گھوم رہی ہے اور شخصیت بھی ایسی جو سابق آمر صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے ہاتھوں تراشی گئی تھی۔ اسی طرح آصف علی زرداری ہیں جو مشرف کی آمریت اور ایک عظیم سانحہ کی حادثاتی پیداوار ہیں، نواز شریف کی بات کی جائے تو سب جانتے ہیں کہ وہ سابق آمر صدر جنرل ضیاء الحق کے تراشے گئے بُت ہیں، اسی طرح عمران خان جنرل پاشا اور جنرل باجوہ جیسے جرنیلوں کی سیاسی سوغات ہیں۔ شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز، اور بشریٰ بی بی جیسی شخصیات جاں نشینی اور موروثیت کے جھکڑ ہیں جو ہر موسم چلتے ہیں جنھیں خزاں اور بہار سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ یعنی تراشے گئے لیڈروں کی نئی نسل اپنے سیاسی کاروبار کو آگے بڑھانے جا رہی ہے۔ ایسا ہے کہ ملکی سیاست میں نظریاتی اور فکری سیاست کی بحالی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا، ایسے میں پھر کیسے ملکی سیاست کو درپیش بحرانوں سے نکالا جاسکتا ہے؟
ملکی معیشت عدم استحکام کا شکار ہے جبکہ ملکی سیاست بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، ایسا کیوں ہے؟ کیا یہ سب کچھ کسی حقیقی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے یا پھر یہ بھونڈے تجربات کا ماخذ ہے۔ بلاشبہ ملکی سیاست میں طاقت کا محور ”اسٹیبلشمنٹ“ ہی ہے جو کہ اسے بلا فصل حاصل ہے، اگر ایسا ہے تو پھر ملکی معیشت اور سیاسی عدم استحکام کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی، سیاست دانوں پر یا پھر اسٹیبلشمنٹ پر۔ جہاں تک سیاسی جماعتوں بالخصوص اسٹیپنی سیاسی جماعتوں اور پی ٹی آئی کی قیادت کا معاملہ ہے تو یہ خود اسٹیبلشمنٹ کی ”کٹھ پتلیاں“ ہیں جبکہ اسٹیپنی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ملکی تاریخ کا نصف دورانیہ اقتدار میں رہ کر گزارا ہے اور نصف ہی دورانیہ اسٹیبلشمنٹ نے براہ راست حکومت کی ہے جبکہ دیگ کی کھرچن کے طور پر پی ٹی آئی کو ساڑھے تین برس کا اقتدار نصیب ہوا ہے۔ لہذا ایسے میں ضروری ہے کہ سب سے پہلے سیاسی و عسکری قوتیں اپنی ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لیں اور ناکامیوں کے اسباب تلاش کریں پھر اس کے بعد اسباب کے سدباب کے کے لیے قومی اتفاق رائے سے حکمت عملیاں اور منصوبہ بندیاں تشکیل دیں۔
بلاشبہ ملکی سیاست کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے جس میں کرپشن، مہنگائی اور بیروزگاری سر فہرست ہیں، کرپشن ایسا ناسور بن چکا ہے جس کا علاج ایسے معالج کر رہے ہیں جو خود کرپشن کے مرض میں مبتلاء ہیں۔ ایسے میں مجھے ممتاز شاعر جون ایلیا کا یہ شعر یاد آتا ہے۔
دوا سے فائدہ مقصود تھا ہی کب کہ فقط
دوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے
جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو یہ محض مصنوعی نوعیت کی ہے اگر حکومت اس ضمن میں سنجیدگی رکھتی ہے تو اسے دنوں میں ختم کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے ”کاروباری اشرافیہ“ پر سخت ہاتھ ڈالنا پڑے گا جس کا ایک بڑا حصہ خود اقتدار کے ایوانوں میں پایا جاتا ہے، دوسری طرف کاروباری شعبے بالخصوص زرعی شعبے سے مڈل مین کلچر کو ختم کرنا ہو گا۔ اسی طرح بے روزگاری کا معاملہ ہے اگر کرپشن اور مہنگائی کے ناسور کا علاج ہو سکے گا تو ملک میں حقیقی معنوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، صنعتوں کا جال بھی بچھے گا اور زراعت سمیت دیگر شعبے بھی ترقی کریں گے۔ لیکن یہ سب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملکی سیاست میں طاقت کے اعتبار سے ”توازن“ پیدا کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر کسی بھی قسم کے چیلنج سے نمٹنا اور بحران سے نکلنا ممکن نہیں ہو گا، ایسے میں جو بھی کوششیں کی جائیں گی وہ لاحاصل اور مثبت نتائج سے عاری ہوں گی۔
کیا مل گیا ضمیرِ ہنر بیچ کر مجھے
اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں
اپنے زخموں کو نہیں کوئی کھرچنے والا
کارِ جاناں، ترے بے کار کہاں ہیں جانے
قافلوں کا ہے سرِ دشتِ طلب کب سے پڑاؤ
ایلیا! قافلہ سالار کہاں ہیں جانے
شہر قلندراں کا ہوا ہے عجیب طور
سب ہیں جہاں پناہ سے بیزار کچھ سنا
اہل ستم سے معرکہ آرا ہے اِک ہجوم
جس کو نہیں ملا کوئی سردار کچھ سنا
(جون ایلیا)


