تصویر کی اپنائیت: بلوچستان کی کچھ یادیں 


اس کو ریٹائر ہوئے پندرہ برس ہو گئے ہیں اور مجھے گیارہ۔ اس کی یادوں میں اجالا مگر زیادہ ہے۔

کوئٹہ میں بطور سیکرٹری زراعت مجھے مئی 2005ء میں تعینات کیا گیا اور اسے فروری 2006ء میں بطور میجر جنرل جی او سی۔ میرا اولین ہدف اصلاح آبپاشی کے قومی ترجیحی پروگرام کی رفتار کو باقی صوبوں کے برابر لانا تھا۔ بلوچستان میں ذرائع آبپاشی میں تنوع بہت تھا: کھالا، تالاب، کاریز، نالی اور کہیں پائپ۔ سبھی جگہوں پر اور سبھی طریقوں میں بہتری مقصود تھی تاکہ آب پاشی کے قیمتی پانی کے زیاں کو روکا جا سکے۔ تمام اضلاع میں جاری کام کو اپنی نظر میں لانا اور رکھنا ضروری تھا۔

فرض منصبی کے تحت میں نے اس وقت 30 اضلاع پر مشتمل صوبہ بلوچستان کے سبھی علاقے چھان ڈالے سوائے دو اطراف کے۔ ایک تو کھجوروں کے لیے مشہور علاقہ پنجگور رہ گیا جو صحرا کے عین قلب میں تھا جس کے اطراف میں سو سو کلومیٹر تک صرف کچی سڑکیں تھیں اور وہاں کسی بھی طرف سے پہنچنے کے لیے پورے دن کی مسافت درکار تھی۔ دو تین دفعہ پروگرام بنایا بھی لیکن کوئٹہ ہیڈ کوارٹر پر کوئی نہ کوئی ایسی افتاد کہ تین چار دن اکٹھے نکالنا ممکن نہ ہو سکے۔ دوسرا، بد امنی کے لیے معروف، کوہلو جانے کی میں نے خود ہی ہمت نہیں کی۔ ہمت کرتا بھی کیسے۔ میری کوئٹہ میں تعیناتی کے چند ماہ کے اندر کوہلو ضلع میں صدر جنرل پرویز مشرف کے ہیلی کاپٹر پر راکٹ فائر ہونے کا واقعہ پیش آ چکا تھا جس کے اگلے روز یا شاید اسی سہ پہر فرنٹیئر کانسٹیبلری کے انسپکٹر جنرل کے تجزیاتی دورے میں ان کے ہیلی کاپٹر کو نچلی پرواز کے دوران گولی آ لگی تھی جس سے ان کی ٹانگ شدید زخمی ہوئی اور وہ کئی دن سی ایم ایچ کوئٹہ میں زیر علاج رہے۔

کوہلو اور اس کا گرد و پیش مری قبیلے کا گڑھ تھا جس کے نوجوان ساٹھ کی دہائی سے مختلف عرصے کے لیے اور مختلف طریقوں سے وفاق کے خلاف برسر پیکار تھے۔ پہلی سات سالہ شورش کی شروعات 1962ء میں سابقہ ریاست قلات کے امیر نواب احمد یار خان کی گرفتاری پر ہوئی تھی۔ دوسری پانچ سالہ بد امنی سنہ 1973ء میں اس وقت شروع ہوئی جب مرکز میں قائم منتخب حکومت نے دوسری سیاسی پارٹیوں کی مخلوط صوبائی حکومت کو حیلے بہانوں سے برطرف کر کے پورے بلوچستان کے عوام کو برانگیختہ کر دیا۔

مری اور مینگل قبائل نے اس ناانصافی کے خلاف باقاعدہ ہتھیار اٹھا لیے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ ہمارا کالج کا زمانہ تھا اور مری قبیلے کے ایک کمانڈر شیر محمد نے جنرل شیروف کے نام سے بڑی شہرت پائی تھی۔ تیسری مرتبہ 2004ء میں سوئی کے مقام سے نکلنے والی قدرتی گیس کی قبائلی رائلٹی میں سرداری حصے کے اضافے پر جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا۔ نواب اکبر بگٹی اور مرکزی حکومت میں ٹھن گئی۔ نیم دلی سے ہونے والی مصالحتی کوششیں ناکام ہوئیں۔ بات بگڑ گئی اور ڈیرہ بگٹی ضلع میں باقاعدہ شورش شروع ہو گئی۔ ملحقہ ضلع کوہلو کے مری سرداروں نے بھی ساتھ دیا اور پورا مری بگٹی علاقہ شدید بد امنی کی لپیٹ میں آ گیا۔

جنرل پرویز مشرف پر راکٹ حملے کے کچھ عرصے بعد شورش زدہ ضلع کوہلو سے متعلقہ فوجی ڈویژن میں نئے کمانڈر کی تعیناتی جنوری 2006ء میں ہوئی۔ مری قبیلے کا پورا علاقہ بھی اس کی عمل داری میں تھا۔ کوئٹہ میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کے ساتھ تین میجر جنرل بیٹھتے ہیں جن میں سے دو فوجی ڈویژنوں کے جی او سی اور ایک آئی جی ایف سی ہیں۔ اب سنا ہے کہ ایک میجر جنرل اپنے ڈویژن کے ساتھ گوادر / تربت میں بھی تعینات ہوئے ہیں۔

اس میجر جنرل کی کوئٹہ میں اکتالیسویں ڈویژن کی کمان سنبھالنے کی خبر میرے بچپن کے دوست میجر ریٹائرڈ ارشد محمود نے دی جو اس کا کورس میٹ بلکہ پلاٹون میٹ تھا اور اس نے اپنے ساتھی کی بہت تعریف کی تھی۔ میجر ارشد محمود، جو اب خیر سے سپریم کورٹ کا سینئر ایڈووکیٹ ہے، انسانوں کی بہت اچھی پہچان رکھتا ہے۔ اس کے لانگ کورس کا نمبر ففٹی فرسٹ مجھے ازبر تھا کیونکہ وہ میرا پہلا قریبی دوست ہے جس نے فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ ارشد کا تعلق لاہور کے نواحی قصبے بھائی پھیرو سے ہے۔ کچھ تو اس قصبے کے نام کی چلبلاہٹ کے لحاظ سے اور زیادہ ارشد کی دلچسپ شرارتوں اور حیران کن چکمہ سازیوں کی وجہ سے کورس میٹ ارشد محمود کو بھائی پھیرو کے نام سے پکارتے اور پیار کرتے تھے۔ بلکہ اس کا اصل نام بھول جاتے تھے۔

فرور ی 2006ء میں کوئٹہ میں اپنے ڈویژن کی کمان سنبھالنے کے چند ہی دنوں بعد میجر جنرل نے اپنی عملداری کے سب سے خطرناک علاقے کوہلو ضلع کے دورے شروع کر دیئے۔ وہ کوئٹہ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر کوہلو جاتا اور وہاں متعین یونٹ کی حفاظت میں اندرون کے مختلف اطراف کو بہت غور سے دیکھتا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا فوٹو گرافر بھی ساتھ ہوتا تھا جو مفاد عامہ کے حامل مناظر کو تعلقات عامہ کے لیے عکس بند کرتا۔ ہر سو ویرانی تھی۔ میلوں کے بعد کوئی چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کو سوکھی جھاڑیاں چراتا ہوا نظر آتا۔ کھیتی باڑی تو کوسوں کی مسافت پر، خال خال اور محدود تھی۔ ہر طر ف بنجر میدان، نوکیلی چٹانیں اور کالے پہاڑ دکھتے تھے۔ فوٹوگرافر کوبھی اپنے مطلب کی کوئی چیز نہیں ملتی تھی۔ میجر جنرل غربت کی وسیع سلطنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور اس کی افسردگی روز افزوں تھی کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا کہ بد امنی کی جڑکیا ہے۔ روزگار کا بڑا ذریعہ چمالانگ میں کوئلے کی کانیں ہو سکتی تھیں لیکن وہ تو مدت سے بند پڑی تھیں۔ کہیں کہیں کچھ کوئلہ نکلتا تھا، سرداروں کی براہ راست نگرانی میں ان کی ذاتی آمدنی کے لیے یا فراریوں کے مصارف کے لیے جو اس علاقے میں کثرت سے پائے جاتے تھے۔ یہ علاقہ تھا تو ضلع لورالائی میں اور پٹھان قبیلے لونی کی ملکیت لیکن اس پر قبضہ مریوں کے جنگ جوؤں یا فراریوں کا تھا جو وحشت میں لونیوں سے بالا تر تھے۔ ادھر کا قاعدہ تھا کہ مری نظر آئے تو لونی گولی چلا دے گا اور لونی نظر آئے تو مری فوراَ نشانہ لگائے گا اور فوج کا کوئی سپاہی اس طرف بڑھے تو سارے مری فراری باقی کام چھوڑ کر اس پرفوراَ حملہ آور ہو جائیں گے۔

مری اور لونی قبائل کی لڑائی میں اس وقت تک 70 سے زائد آدمی جان سے گئے تھے اور سینکڑوں زخمی ہو چکے تھے۔ پاک فوج نے 70 کی دہائی میں بہتیری کامیابیاں حاصل کی تھیں لیکن نقصان بھی کافی اٹھایا۔ مجھے مرحوم لیفٹیننٹ جنرل سلیم حیدر، جو مجھے بھائیوں کی طرح عزیز رکھتے تھے، کی بات یاد آئی ہے۔ میں بہاولپور میں ڈپٹی کمشنر تھا اور وہ جی او سی تھے۔ 70کی دہائی میں انہوں نے مری علاقے میں کاروائی میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ بہت ہی مشکل مہم تھی۔ علاقہ دشوار گزار ہونے کے ساتھ ساتھ پہاڑوں سے اس طرح سے گھرا تھا کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ گولی کس طرف سے آ رہی ہے اور دوسرا یہ کہ مری لڑاکے غضب کے نشانہ باز تھے۔

ہمارا میجر جنرل جاری لڑائی کو طو ل دے کر غربت کو اور بڑھاوا نہیں دینا چاہتا تھا۔غربت کی اس وسیع سلطنت میں وہ مصنوعی امن اور اپنی وقتی حکمرانی قائم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے دل میں شدید تڑپ پیدا ہوئی کہ وہ مریوں سے لڑنے کی بجائے ان کی زندگی میں بہتری لانے کا کام کر سکے اور اپنے لوگوں پر گولی چلائے بغیر ان کے حالات میں تبدیلی لا سکے۔ اس کی تڑپ تو شدید تھی لیکن راستہ کوئی نہیں سوجھ رہا تھا۔ چار دہائیوں سے آلودہ، منجمد اورمخاصمانہ ماحول اس کو کوئی گنجائش نہیں دے رہا تھا۔ آخر بے حال ہوکر اس نے اپنے رب سے راستہ دکھانے کی پکار کی اور پھر انھی دعاؤں اور دوروں کے درمیان اس کے خلوص کا کوئی خالص لمحہ خلاؤں کو پار کر گیا اور قدرت نے پراسرار طریقے سے اس کی مدد کر دی۔

ایک روز وہ اپنے لاؤ لشکر کی معیت میں اندرون کے دورے پر تھا کہ اس کی نگاہ ایک جگہ پر جاکر ٹک گئی۔ ایک بلوچ گڈریا اپنی چند بھیڑ بکریاں چرا رہا تھا اور اس کا پانچ چھ سال کا خوبصورت لڑکا ننگے پاؤں گردا گرد بھاگ رہا تھا۔ بچے کے چہرے پر چھایا جمال اس کے اندر کھب گیا اور اس کے ننگے پاؤں سے لپٹی غربت جنرل کے دل میں ترازو ہو گئی۔ بلا ارادہ اس نے قافلہ روکا اور بے اختیار جا کر اس نے بچے کوگود میں اٹھا لیا۔ جرنیل محویت سے اور بچہ حیرت سے اک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ جرنیل نے بچے سے کچھ باتیں کیں۔ اس کے والد سے علیک سلیک کی، حال چال پوچھا اور بچے کو پیار کرکے واپس ہو لیا۔ ان پسماندہ لوگوں کو بہتر مستقبل دینے کی اس کے من میں موجود شدید کسک کو اس بچے کے معصوم لمس نے اور بھی بڑھا دیا تھا۔

اگلے روز دورے کی تجزیاتی میٹنگ میں جرنیل یہ دیکھ کر نہال ہوگیا کہ ماہر فوٹو گرافر نے اپنائیت کے اس لازوال لمحے کو کیمرے کی آنکھ میں لاکر لافانی بنا دیا تھا۔ اس نے اس تصویر کو بار بار مسرت و محبت سے دیکھا اور پھر یکایک اس پر لکھ دیا۔

To Marri children whom I love and who have every right to education and better life.     تصویر کو بڑا کروا کے اور فریم میں لگوا کر کوہلو کے علاقے میں تعینات یونٹ میں بھجوا دیا گیا تاکہ وہ اسے بچے کے گھر پہنچا دیں۔ تصویر پہنچ گئی اور فوراً ہی پوری بستی میں مشہور ہو گئی لیکن بچے کے گھر والوں کے لیے وبال بن گئی۔ جب مری قبیلے کی اس شاخ کے بڑوں تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے اسے قبیلے سے بے وفائی اور غداری پر محمول کیا اور بچے کے والد کو اس شک کی بنا پر سزا دینے کا سوچ لیا گیا کہ وہ اپنے لوگوں کے خلاف جاسوسی کررہا تھا۔

بچے کے گھر کے سامنے جرگہ ہو رہا تھا۔ اس کے والد سے سوال جواب ہو رہے تھے۔ وہ بتا رہا تھا کہ واقعہ اچانک ہوا ہے اور اس سے آگے پیچھے اس کا کسی فوجی سے کبھی کوئی رابطہ نہیں ہوا لیکن بڑوں کی تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ اچانک وہاں سے ایک نوجوان کا گزر ہوا جو ایف اے پاس تھا۔ اسے بلایا گیا اور تصویر پر لکھی تحریر کو پڑھنے کا کہا گیا۔ نوجوان نے جب پڑھ کر مطلب بتایا کہ تصویر پر لکھا ہے: مری بچوں کے لیے جن سے میں پیار کرتا ہوں اور جو تعلیم اور بہتر زندگی کا پورا حق رکھتے ہیں۔ تصویر پر لکھی انگریزی کا ترجمہ سن کر سب بڑے حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے اور جرگہ برخا ست کر دیا۔ وہ اس بات پر حیران و پریشان تھے کہ ان کے خلاف مدتوں سے لڑنے والی فوج کا جرنیل ان کے بچوں کا خیر خواہ اور ان کے لیے بہتر زندگی کا خواہش مند کیسے ہو سکتا ہے۔ کچھ عرصے کے صلاح مشورہ کے بعد انہوں نے دشمن کی اس چال کو سمجھنے کے لیے جرنیل سے خود ملنے کا فیصلہ کر لیا۔

 جرنیل تو شروع سے ان کی آمد کا خواہاں اور منتظر تھا۔ وہ قبائلی نظام کی تشکیل و تاریخ کے متعلق بہت کچھ پڑھ چکا تھا۔ قبائل کو لشکر کے اصول پر منظم کیا گیا تھا اور اس میں سردار سے لے کر عام آدمی تک پہنچنے کے لیے مختلف سطحیں تھیں۔ میر، وڈیرہ، معتبر، مقدم، سرٹکڑی وغیرہ۔ قبیلے کی ملکیت مشترکہ تھی۔ عزت ذلت اور نفع نقصان بھی سانجھے تھے۔ قبیلہ اجتماعی طور پر فرد کی حفاظت، معیشت اور عزت کا ضامن تھا اور سردار اس کا نگران جس کے لیے قبیلے کے سب سے بہادر اور سب سے دانش مند فرد کو چنا جاتا تھا۔ انگریز کے زمانے میں رابرٹ سنڈیمن نے 1890ء میں قبیلے کے سر کے تاج کو اٹھا کر وہاں آہنی خود رکھ دیا، یوں کہ سرداری کو موروثی بنا کر آقائیت میں بدل دیا۔ جرنیل قبائلیت کی اصل روح شراکت، شرکت اور برابری کے احساس کو بیدار کرنا چاہتا تھا تاکہ پائیدار امن قائم ہو اور لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے۔

اس نے ملاقاتیوں کو بتایا کہ وہ اس بے مقصد لڑائی کو ختم کرنا چاہتا ہے اور ان کے اور ان کے بچوں کے لیے بہتر زندگی کا بندوبست کرنے کا خواہشمند ہے اور اگر قدرت کی طرف سے ان کو دیئے گئے تحفے، کوئلے کی کانوں کا صحیح انتظام ہو جائے تو ان کی کئی نسلوں تک کی زندگی سنور جائے گی۔ قبیلے والوں نے جرنیل کی باتیں غور سے مگر بے یقینی سے سنیں تاہم اگلی دفعہ اور زیادہ تعداد میں بزرگ ملاقات کے لیے آئے اور پھر اور زیادہ۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ اجنبیت تو ختم ہو رہی تھی لیکن اعتماد قائم نہیں ہو رہا تھا، انسیت نہیں بن پا رہی تھی۔ برف پگھل رہی تھی لیکن بد اعتمادی کے تودے بہت بھاری تھے۔ تب قدرت نے ایک اور مدد بھیج دی۔

کوہلو کے فیلڈ ہسپتال میں ایک جاں بلب مری نوجوان کو لایا گیا جس کا اپینڈکس تشویشناک حالت میں تھا۔ فوری سرجری کی ضرورت تھی۔ والدین اور لواحقین مگر فوجی ڈاکٹر سے آپریشن نہیں کروانا چاہتے تھے۔ ان کے ذہن میں بیٹھا ہوا تھا کہ فوج والے تو ہمارے جوانوں کی جان لیتے ہیں۔ یہ اس موقع کو کیوں گنوائیں گے۔ وہ ابتدائی طبی امداد لے کر پنجاب کے ملحقہ ضلع راجن پور کے ضلعی ہسپتال میں پہنچنا چاہتے تھے۔ کوئٹہ میں جرنیل کو صورت حال بتائی گئی تو اس نے زبردستی آپریشن کرنے کا حکم دیا۔ اس نے خطرہ مول لے لیا تھا۔ جان چلی جاتی تو اس کی اب تک کی کوششوں پر پانی پھر جاتا۔ آپریشن کامیاب ہو گیا اور گھر گھر خبر پہنچ گئی کہ فوج والے اب زندگیاں بچاتے بھی ہیں۔

ملاقاتی اب کثرت سے آنے لگے۔ مری قبیلے کے علاوہ لونی قبیلے کے لوگ بھی آنے لگے اور ایک دوسرے کے جانی دشمن اب اس کے دفتر میں اکٹھے بھی بیٹھ جاتے۔ جرنیل کو روشنی نظر آنے لگی۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس نے دونوں قبیلوں کے بری طرح پسے ہوئے درمیانی طبقوں تک رسائی حاصل کر لی۔ وہ گولی چلائے بغیر متحارب کے قلب میں گھس گیا تھا۔ جرنیل نے ان کو بتایا کہ وہ سوچ رہا ہے کہ امن قائم ہونے پر کوئلے کی کانوں پر قبیلے کی سبھی شاخوں کی ان کے اپنے اپنے علاقے والے ٹکڑے پر ملکیت بحال کر دی جائے۔ وہ اس کا ٹھیکہ بھی خود دیں اور مالی معاملات کی نگرانی بھی خود کریں۔ ان کے ہزاروں جوانوں کو روزگار بھی ملے اور ملکیت سے ٹھیکے کی رقم بھی ملتی رہے۔ صوبائی اور مرکزی حکومت کو حاصل ہونے والے ٹیکس کی آمدنی بھی اسی علاقے میں صرف کی جائے اور اس سے ان کے بچوں کے لیے سکول بنائے جائیں۔ ان کے ناہموار راستوں کو پکا کیا جائے اور پینے کے پانی کا آسان انتظام کر دیا جائے۔

پہلے پہل تو یہ باتیں قبیلے والوں کو اپنے سرداروں کی مدتوں کی سیاست کاریوں جیسی لگتیں لیکن پوری ایک نسل سے فراریوں کے ستائے ہوئے اور امن کے لیے ترسے ہوئے لوگ اب اپنی زندگیوں کو بدلنے کا موقع حاصل کرنا چاہتے تھے۔ جرنیل کی باتیں ان کے کانوں میں شہد بن کر ٹپکنے لگیں۔ کانوں کا سنا دل میں جگہ بناتا چلا گیا۔ انہوں نے دل و جان سے جرنیل کا ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا۔

 لڑائی کے قبائلی فریق کی طر ف سے مطمئن ہوکر وہ اپنے فریق کی طرف پلٹا اور بغیر گولی چلائے پائیدار امن و ترقی کا خاکہ اپنے بڑوں کو پیش کیا۔ جواباَ اسے سخت سست کہا گیا لیکن اسے اپنے خلوص اور مقصد کی سچائی پر یقین تھا۔ اس نے ہمت نہ ہاری اور آنے بہانے اس خاکے کو مختلف مواقع پر پیش کر تا رہا۔ اس کو لیکن یہی کہا جاتا، کیا ہم تمہیں اور تمہارے ہزاروں جوانوں اور افسروں کو ابھی سے الوداع کہہ ڈالیں؟ اور پھر قدرت کی طرف سے تیسری مدد آ گئی۔

صدر جنرل پرویز مشرف کوئٹہ آئے تو چوٹی کے فوجی افسران کے ساتھ مختلف پہلوؤں پر مبنی اجلاس کیا۔ نشست کے اختتام پر ہمارے جرنیل نے جرات کرکے اپنا خاکہ اپنے آرمی چیف کے سامنے پیش کرنے کا چانس لے لیا۔ چیف نے بڑی دلچسپی سے سارے خاکے، اس کے پس منظر اور اب تک ہونے والی پیش رفت کو سنا اور خوش ہو کر کہا کہ یہی تو میں چاہتا ہوں۔ بس پھر کیا تھا، ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اس کی سوچ کی تعریف شروع ہو گئی اور اس کو بروئے کار لانے کی سفارش کی گئی۔ آرمی چیف نے ہمارے جرنیل کو اپنے اس خاکے کو منصوبے کی شکل دینے اور اوپر منظور ی کے لیے بھیجنے کا کہہ دیا۔

منصوبہ بنا کر راولپنڈی روانہ کر دیا گیا۔ آرمی چیف نے اپنے نائب کی ذمہ داری منصوبے کی حتمی جانچ پڑتال کے لیے لگائی۔ نائب صاحب نے کوئٹہ آ کر بہت تفصیلی اجلاس کیا اور آخر میں پوچھا کہ منصوبے کو برسر زمین لانے میں فوج کا جو نقصان ہو گا کیا اس کی ذمہ داری منصوبہ ساز جرنیل لینے کو تیار ہے۔ ہمارے جرنیل نے اعتماد اور یقین سے کہا کہ اگر فوج پر ایک گولی بھی چلی تو وہ استعفیٰ دے دے گااور اپنے آپ کوکورٹ مارشل کے لیے پیش کردے گا۔ منصوبہ منظور ہو گیا۔ اس کا اپنا فریق راضی ہو گیا تو بقیہ کام آسان تھا۔ اسی سال دسمبر 2006ء میں چمالانگ کول مائنز کے سہ فریقی معاہدہ پر دستخط ہو گئے جس میں ایک فریق مالک لونی قبیلہ، دوسرا فریق قا بض مری قبیلہ اور تیسرا فریق حکومت بلوچستان تھی جبکہ اس منصوبے کا ضامن ان کوئلے کی کانوں پر عمل داری والا ڈویژن یعنی ہمارے جرنیل والا اکتالیسواں ڈویژن تھا۔ اس معاہدے کا چار دانگ چرچا ہوا۔

میں ان دنوں کوئٹہ میں تھا۔ میں نے بھی سنا اور خوش ہوا۔ چار دہائیوں سے شورش میں مبتلا علاقے میں کو ئلے کی کانوں پر دو بڑے قبیلوں کے مابین جاری خونی تنازع کو ختم کروا کے کام بحال کر دینا واقعتاَ ایک کارنامہ تھا۔ سیکرٹریٹ اور چھاؤنی میں چند دن خوب گہماگہمی رہی، اخبارات میں شہ سرخیاں اور خیر مقدمی بیانات لگے، ٹی وی پر خبریں نشر ہوئیں، پھر سب کچھ معمول کی گرد میں گم ہوتا گیا۔

 اس میجر جنرل سے پہلی ملاقات کا واقعہ بہت دلچسپ تھا۔ میں نے اپنے پرسنل سٹاف سے میجر جنرل صاحب سے ملاقات کا وقت طے کرنے کے لیے کہا۔ کوئٹہ میں سول سیکرٹریٹ والے چھاؤنی والو ں سے ذرا دب کے اور کافی ہٹ کے رہتے ہیں۔ میرے سٹاف نے بہت دن لگا کر جی او سی صاحب سے میری ملاقات کا وقت طے کر دیا۔ جنرل صاحب کے ساتھ کافی پیتے وقت میں نے ذرا بے تکلفی سے جب میجر بھائی پھیرو کا ذکر چھیڑا تو ان کے سپاٹ چہرے سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ سٹاف نے دوسرے جی او سی سے ملاقات کروا دی تھی اور میں بھی روانگی سے قبل نام چیک نہیں کر سکا۔ اس کوشش کے ایک دو ماہ بعد میرا نام اکیسویں گریڈ کے لیے لازمی 20 ہفتے کے نیشنل مینجمنٹ کورس کے لیے ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج لاہورمیں آ گیا۔ میں اسی طرح چمالانگ معاہدے کے اگلے مہینے چھ ہفتے کے کورس پر ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ چلا گیا۔ واپس آیا تو ایک آدھ مہینے بعد جرنیل تبدیل ہو گیا۔ اس سے کوئٹہ میں ملاقات نہ ہو سکی۔ اس سے ملاقات کہیں جا کر 2011ء میں اسلام آباد میں ہوئی جب وہ ریٹائر ہوچکا تھا اور اس سہ فریقی معاہدے، جو ابھی تک کامیابی سے عمل پذیر ہے، کے اصل جوہر تو مجھ پر بعد میں کھلے۔

 اس معاہدے کی برکت سےچار ہزار دو سو مربع کلومیٹر والی طویل و عریض کوئلے کی کانوں میں، جن کی مالیت کا تخمینہ پچاس ارب امریکی ڈالر ہے، تواتر سے کام ہو رہا ہے۔ یہاں مزدوری کرنے والے 60 ہزار سے زائد لوگوں کی اجرت سے اندازاً دو ارب روپے کی رقم ہر مہینے مقامی معیشت میں داخل ہو رہی ہے۔ منصوبے کی حفاظت پر مامور ڈھائی ہزار مری جوانوں کی چمالانگ سکیورٹی فورس کی ماہانہ تنخواہ اس کے علاوہ ہے۔ لونی قبیلے کی ہر شاخ اپنی اپنی ملکیت کے حساب سے ٹھیکے کی آمدنی وصول کر رہی ہے اور خوشحال ہو رہی ہے۔ حکومت بلوچستان نے علاقے میں سڑکیں بنا دی ہیں، پینے کے پانی کا بہتر انتظام کر دیا ہے، سکول قائم کر دیے ہیں، بجلی پہنچ گئی ہے،موبائل کمپنیوں کے ٹاور لگ گئے ہیں۔ لیکن اس منصوبے کے ماتھے کا جھومر وہ تعلیمی وظائف ہیں جو حکومت بلوچستان کے حصے میں سے قائم کردہ ویلفیئر فنڈ سے دیئے جاتے ہیں، جن کی مدد سے مری اور لونی قبیلوں کے ہونہار بچے ملک کے نامور سکولوں کے بورڈنگ ہاؤس تک میں رہ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اب تک ستر (70) ہزارکے قریب بچے ان اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم کا مساوی موقع حاصل کر چکے ہیں۔ شرح خواندگی جو منصوبہ شروع ہونے سے پہلے صرف دو فی صد تھی اورعموماَ سرداروں کے بچوں تک محدود تھی اب کئی گنا بڑھ چکی ہے اور اس میں عام گھروں کی بچیاں بھی شامل ہیں جن کے لیے تعلیم پہلے شجر ممنوعہ تھی۔ ان وظائف کی سکیم جنرل صاحب نے بقلم خود تیار کی۔ انتخاب، تدریس، تکمیل، لاگت اور پڑتال کی درکار جزیات طے کیں۔ ان وظائف کی تعداد ماضی قریب کی مشہور رائفل تھری ناٹ تھری (303) کے استعاراتی عدد سے شروع ہو کر سالانہ چار پانچ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

ہمارے جرنیل سے تاہم ایک آدھ چوک ہوگئی جو غریب آدمی سے ہمدردی کرنے میں اکثر ہو جاتی ہے۔ منصوبے کے مطابق مرکزی حکومت کے ورکرز ویلفیئر فنڈ سے چار لیبر کالونیاں بنائی گئیں لیکن آباد نہ ہو سکیں کیونکہ وہ کانوں کے دہانوں سے فاصلے پر ہیں اور کان کنوں کو دور پڑتی ہیں۔ اس طرح کی بنیادی غلطی جو نیجو حکومت کے زمانے میں بھی ہوئی تھی جب بیوگان کے لیے ڈھائی ڈھائی مرلے کے کوارٹر والی جناح آبادیوں کی سکیم بنائی گئی۔ لاتعداد کوارٹر بنے تھے لیکن بہت کم آباد ہوئے کیونکہ زمین کی لاگت بچانے کے لیے یہ جناح آبادیاں جن سرکاری زمینوں پر تعمیر کی گئیں وہ معروف آبادیوں سے دور تھیں۔ اسی وفاقی ورکرز ویلفیئر فنڈ سے اس علاقے میں 25 بستر کا ہسپتال بھی پورے آلات و ضروریات کے ساتھ بنایا گیا ہے لیکن چل نہیں پا رہا کہ اتنے دور کے ہسپتالوں میں ڈاکٹر صاحبان کہیں بھی نہیں جاتے۔ ایسے علاقوں کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈسپنسریاں پہلے مرحلوں میں بنانی چاہییں تاکہ ابتدائی امداد تو لازماَ دی جا سکے اور اس کے لیے طالب علموں کو ڈسپنسر اور دوسرے طبی عملہ کی ترجیحی تربیت دی جائے۔ دور کی مسافت کی وجہ سے تو اب تک گوادر میں دوست ملک چین کا بنایا ہوا 200 بستر کا ہسپتال بھی نہیں چلایا جا سکا۔ ان دو بلکہ ایسی تمام جگہوں پر ان سہولتوں کو اجڑنے سے بچانے کے لیے ہائی برڈ انتظام کے تگڑے ساجھی کے ذمہ لگا دیا جائے یا پھر انہیں بھرپور امداد کے ساتھ نیک نام این جی اوز کے حوالے کر دیا جائے۔

اس معاہدے کا ماحصل وہ خاموش انقلاب ہے جو قبائل کے درمیانی اور نچلے طبقات نے برپا کیا۔ جرنیل نے شروع ہی سے ان کی یاس اور بے بسی سے بھری باتوں کو نظر انداز کرکے توجہ اس اندرونی بے چینی پر مرکوز کر دی جو تبدیلی کے لیے مد و جزر سے گزر رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ قدرت نے بڑی فیاضی سے ان کے لیے شاندار تقدیر لکھ رکھی ہے لیکن لکھی کوئلے کی کانوں کی اندرونی دیواروں پر ہے۔ اپنی اس تقدیر کو باہر لے آنا ان کے اپنے بس میں تھا اور کوئلے سے لکھی تحریر باہر آ کر ان کے ہاتھوں میں رو شن مقدر کی لکیر بن سکتی تھی۔ امیدوں کا ٹوٹا ہوا دم بحال ہونے لگا۔ خوابیدہ امنگوں کو روشنی نظر آنے لگی۔ سماج نے اپنا وزن امن اور ترقی کے حق میں ڈالنا شروع کردیا۔ بڑھتے ہوئے سماجی دباؤ کے سامنے سرداری تسلط پچک گیا، مخا لف ٹھٹھک گیا اور فراری کھسک گیا۔ امن بحال ہوا تو حقوق بھی بحال ہو گئے۔ نہایت سرعت اور سہولت سے قبیلے کی سبھی شاخوں نے اپنے اپنے ملکیتی حصے کی نشاندہی کر لی اور اسی رواج کے مطابق خاندانوں اور کنبوں میں ملکیتی حصے بھی بانٹ دیئے۔ ہر گھر میں موجود مردوں کی تعداد کے حساب سے ایک ایک حصہ نسلوں سے تسلیم شدہ رواج کے تحت مل گیا۔ سبھی شاخوں نے اپنے ٹکڑوں کی نیلامی کرکے ٹھیکیداروں سے کام شروع کروا دیا۔ نکلتے ہوئے کوئلے کے ڈھیر لاکھوں کے رزق اور بہتر زندگی کے امین بن گئے۔ اور یہ سب کام ہمارے جرنیل نے کمان سنبھالنے کے گیارہ مہینے کے اندر کر لیا۔

اس نے قبائلیت کی گم کردہ روح شرکت، شراکت اور برابری کے احساس کو توانا طور پر بحال کر دیا لیکن اس نے روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اس بڑی تبدیلی کی زد میں آنے والے سرداروں کی نہ ہتک کی اور نہ ہونے دی۔ بے شک اس نے ان کی طرف سے آنے والی بیش بہا پیش کشوں کو بہت مروت اور سلیقے سے ٹال دیا البتہ یہ ضرور ہے کہ اس نے تبدیلی کے سماجی عمل کو حفاظتی حصار فراہم کیے رکھا۔ وہ ہر دو قبیلوں کے درمیان پیچیدہ تنازعہ میں غیر جانبدار مگر خاموش منصف بن کر بھی بیٹھتا رہا۔ اس نے صوبائی حکومت کو شامل کرکے اور اپنے اکتالیسویں ڈویژن کو ضامن بنا کر معاہدے کو اداراتی شکل دے دی اور اس کی پائیداری کا احسن انتظام کر دیا۔ یہ بھی ضرور ہوا کہ اس نے ان پسماندہ علاقوں سے دور بڑے شہروں میں موجود اونچے مگر کھوکھلے بانسوں کی افزائش نہیں کی جن پر روایتی سیاست کے پرچم لگائے جاتے ہیں بلکہ اس نے ان غریب بستیوں میں خوشی اور خوشبو دینے والا زعفران کاشت کر دیا۔

 اسے اس کے ادارے نے صلے میں کیا دیا، مجھے اندازہ نہیں لیکن اس کا انعام وہ مسلسل عوامی پذیرائی ہے جو اسے آج تک حاصل ہے۔ اس کی کوئٹہ سے ٹرانسفر کے قریب ایک سال بعد جب جنرل ہیڈ کوارٹر میں اس کامیاب معاہدے کی پہلی سالگرہ منائی گئی تو تمام قبائلی مدعوئین نے پرزور مطالبہ کیا کہ اسے واپس کوئٹہ بھیجا جائے۔ اس مطالبہ میں علاقے کے علماء کرام بھی شامل تھے۔ وہاں کے بزرگ و جوان آج بھی اس سے رابطے میں ہیں۔ وظائف کی مدد سے پڑھ جانے والے بچے اس سے بات کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے اور آگے کے لیے مشورے مانگتے ہیں۔ ادھیڑ عمر اور بزرگ لوگ بھی اس کو کوئی نہ کوئی کام کہتے رہتے ہیں اور وہ بھی جو بن پڑتا ہے کر دیتا ہے۔ امسال بہار کے موسم میں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں مری سٹوڈنٹس کے آمدہ وفد میں بچیوں کی شرکت کو دیکھ کر اس کی خوشی دیدنی تھی۔ اس گروپ نے بھی تقریب سے فارغ ہوتے ہی اس سے ملنے کی فرمائش کی تھی۔

تعلیم کا یہ تخلیقی طریق جنگجو قبیلوں کی سوچ میں اساسی تبدیلی لے آیا ہے۔ لڑاکا قبائل کے ایک درجن سے زیادہ نوجوان پاک فوج میں افسر بن چکے ہیں۔ بہت سے ڈاکٹر اور انجینئر بھی بنے ہیں۔ تین گبھرو آج اور اس وقت بھی کاکول میں زیر تربیت ہیں۔ ان سب کا سرخیل وہ لیفٹیننٹ جہانگیر ہے جو ارض پاک کے دفاع میں شہادت کے مرتبے پر سرفراز ہوا اور جس کے نام پر کوہلو کا ایف سی پبلک سکول موسوم کیا گیا ہے۔اور اب تو کوہلو میں باقاعدہ کیڈٹ کالج بھی بن گیا ہے۔مری قبائل کے کڑیل کیڈٹ افسر، جن کی پچھلی دو نسلیں مرکز کے خلاف تلوار اٹھائے ہوئے تھیں، آج جب کاکول میں اپنی پلٹنوں کی کمان کرتے ہوئے تلواریں تھامے گزرتے ہیں تو گویا ہمارے جرنیل کو اعزازی شمشیر مل جاتی ہے۔ ان افسروں میں ان معمر مری کمانڈروں کے بیٹے اور پوتے بھی شامل ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں تک دہشت و وحشت کا بازار گرم کیے رکھا۔ مری قبیلے کے خونخوار لڑاکوں کی خون ٹپکانے والی تلواروں کو ملکی حفاظت کی شمشیروں میں بدلنے کے لیے اس نے اپنی انا قربان کردی تھی اور قبائلی چھوٹے بڑوں کے ساتھ مٹی میں مٹی ہوکر ان کی غیریت کو دور کیا اور ان کی عزت نفس کو بحال کیا تھا۔ یہ نامیاتی، بنیادی اور کیمیائی تبدیلی اس کا بہترین صلہ ہے۔ کایا کلپ کا یہ تمغہ اس کے سینے پر دائیں جانب اس کے نام کے عین اوپر نہایت خوبصورتی سے سج گیا کیونکہ بائیں جانب تو بسالت اور مہارت کے تمغوں سے بھری تھی۔ لیکن یہ تمغہ اپنی شان اور آب و تاب میں ان سے کہیں بڑھ کر ہے۔

ملحقہ بگٹی علاقے میں سوئی کے مقام سے 1952ء میں قدرتی گیس نکل آئی تھی۔ بلوچستان کے عوام کو اس کے ثمرات میں دہائیوں تک شریک نہ کرنے یا پھر شرکت کا ایسا نظام بنانے کی وجہ سے جس میں فوائد بالائی سطح پر ہی رک گئے تھے، یہ منصوبہ تند و تیز عوامی تنقید کا نشانہ رہا بلکہ سچ پوچھیں تو یہ منصوبہ وفاق کے کار پردازوں کے لیے ایک طعنہ بن کر رہ گیا ہے۔ سوال سب کے سامنے ہے۔ سوئی والا طعنہ یا چمالانگ والا تمغہ۔

میں اس مرحلے پر ٹھوس قومی خدمت کرنے والے اپنے ممدوح میجر جنرل کا نام لکھ دینا چاہتا ہوں لیکن سوچتا ہوں یہ اس کا قصیدہ نہ بن جائے۔ پھر خیال آتا ہے کہ یہ اس کے بعد آنے والوں اور اس کے تجربے کو صوبے کے دوسرے میں نہ دہرا سکنے حصوں والوں کا نوحہ بھی تو ہوگا لیکن رک جاتا ہوں۔ مجھے سٹیل ملز کراچی کا 2006ء کا مطالعاتی دورہ یاد آ جاتا ہے جب نیشنل منیجمنٹ کورس کے 55-50 شرکاء وہاں گئے تھے۔ اس وقت کے لیفٹیننٹ جنرل سربراہ نے بریفنگ دی اور بتایا کہ کیسے انہوں نے خسارے میں چلنے والی پاکستان سٹیل ملز کو دوبارہ نفع آور بنا دیا تھا۔ اختتام پر میں نے چند تشنہ پہلوؤں پر استفسار کیا مگر جنرل صاحب کی کامیابی کی تعریف کردی۔ میرے ساتھ بیٹھے ہمارے بیج کے کامیاب ترین افسر نے مجھے ٹوکا اور کہا کہ سول سروس والے کسی کے منہ پر تعریف نہیں کرتے۔ اس ذہین و فطین ساتھی، جو میرا ہمدرد دوست بھی تھا، کی بات بالکل درست تھی۔ میری یہ حرکت ہماری مشرقی تہذیبی روایات کے بھی منافی تھی اور پھر یہ بھی ہوا کہ پوٹھوہار سے تعلق رکھنے والے وہ لیفٹیننٹ جنرل صاحب کچھ عرصہ بعد سیاست کو پیارے ہو گئے اور دوسرا یہ کہ 2010ء میں وفاقی وزارت صنعت و پیداوار میں بطور ایڈیشنل سیکرٹری تعینات ہونے پر مجھ پر واضح ہوا کہ ملز کو خسارے سے نکالنے کا اصل کام تو کراچی سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل پہلے ہی کرچکے تھے۔

 ریٹائرڈ میجر جنرل مجھ سے عمر میں ایک سال بڑا ہے اور اس حوالے سے بڑا بھائی بننے کی کوشش کرتا ہے لیکن میں اسے میجر بھائی پھیرو کے ناتے واپس دوستی کے دائرے میں کھینچ لاتا ہوں۔ میں اسے داد دیے بغیر رہ نہیں سکتا اور کہتا ہوں کہ گولی کے بغیر امن و ترقی کی تمہاری سوچ کی جیت ہوئی۔ وہ کہتا ہے کہ قبائل بھی اس جیت میں برابر کے حصہ دار ہیں بلکہ یہ ہم سب کی جیت ہے۔ میں اسے چھیڑتا ہوں کہ تم نے یہ سبق کہاں سے سیکھا کہ شورش کا جواب ہمیشہ یورش نہیں ہوتا۔ یہ تمہارے مکتب کی کرامت تو ہرگز نہیں۔ وہ سنجید گی سے خاموش رہتا ہے۔ میں کریدتا ہوں کہ یہ کس کا فیضان نظر ہے۔ وہ متانت سے مسکرا دیتا ہے۔میں اور تنگ کرتا ہوں کہ اعوان، پٹھان، جاٹ، راجپوت، جرنیل تو عموماً لٹھ باز ہوتے ہیں۔ تم جو اتنے دھیمے اور سیانے ہو، ضرور ارائیں ہو گے۔ وہ حیرانی سے مجھے دیکھتا ہے اور زور سے ہنس کر کہتا ہے کہ ہاں حنیف رامے میری والد ہ کے فرسٹ کزن تھے۔ میں کہتا ہوں ہم نے تو اردو محاورہ سنا تھا کہ کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا مگر تم اچھے رہے، تم نے کوئلے کے ڈھیروں سے اپنے دونوں جہان روشن کر لیے۔ وہ خاموش رہتا ہے۔ میں بات بڑھاتا ہوں کہ کوئلے کی کان سے نور نکال لینا بڑے جوکھم کا کام ہے۔ صوبے کے دیگر حصوں میں تو تانبا، پیتل اور سونا بھرا ہے جن کی اپنی چمک دمک ہوتی ہے۔ ان سے روشنی بنانے میں تو اتنی محنت بھی درکار نہیں ہو گی۔ وہ پھر سنجیدہ ہو جاتا ہے۔

وہ اسلام آباد میں رہتا ہے لیکن کوئی اسے پوچھتا نہیں۔ کوئی اس سے پوچھتا نہیں۔ کیا وردی اتار دینے کے بعد وہ بھی دوسرے درجے کا شہری بن گیا ہے؟

Facebook Comments HS