افسانوی مجموعے ”انگارے“ کا موضوعاتی مطالعہ
اردو ادب کے فروغ کے لئے بہت سی تحریکوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے جس میں ایک نمایاں نام ترقی پسند تحریک کا ہے۔ ترقی پسند تحریک رومانوی تحریک کی ضد تھی۔ اس کا بنیادی طور پر آغاز اس وقت ہوا جب لوگوں نے زندگی کے مادی وجود سی نجات حاصل کر کے تخیل کی دنیا میں قدم رکھنا شروع کیا اور اپنے اصل سے غافل ہو گئے۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر آئی وہ دراصل 1917 میں روس کے انقلاب کی بدولت تھی۔ لوگ کارل مارکس کے تصور کو مانتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کی نفی اور سوشلسٹ نظام کو ماننے لگے۔
یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اب سیاسی و سماجی مسائل ملکی حدود سے نکل آئے ہیں۔ اس بات کا واضح شعور اس وقت ہوا جب 1933 میں ہٹلر کی حکومت آئی اور فاشزم نے سر اٹھایا۔ پورے یورپ میں ایک سیاسی بحران پیدا ہو گیا۔ کیونکہ ہٹلر ایک ایک کر کے وہاں کی تہذیب و تمدن پر حملہ کر رہا تھا۔ اس کچھ ادیبوں کو قید کر دیا اور کچھ کو جلاوطن بھی کیا۔ جس سے وہاں پر موجود کچھ روشن دماغ لوگوں میں غصہ بڑھنے لگا۔ یورپ اور امریکہ کے لوگوں نے مل کر فاشزم کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا جو رجعت پسندی اور انسانیت دشمنی کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں۔
1935 میں رومن رولان اور انڈو رومالنز جیسی شخصیتوں نے ایک کانفرنس بلائی اور پوری دنیا کے ادیبوں نے اس میں شرکت کی۔ ہندوستان سے کسی نے بھی اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی ماسوائے سجاد ظہیر اور ملک راج آنند کے جو کہ اس وقت لندن میں وکالت کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ انہوں نے اس کانفرنس سے متاثر ہو کر ایک ادبی حلقہ بنایا اور ہندوستان میں ایک انجمن بنانے کا فیصلہ کیا خس کو ترقی پسند تحریک کا نام دیا گیا۔ اس ادبی حلقہ کا پہلا اجلاس لندن کے ایک چائنیز ریسٹورنٹ میں ہوا اور انہوں نے ایک مینی فیسٹو تیار کیا۔ جس کا نام
Indian progressive writers Association
رکھا گیا۔ اس مینی فیسٹو کو ہندوستان بھیجا گیا اور بہت سے ادیبوں نے اس کی حمایت کی۔ اس طرح ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز 1936 میں لکھنو سے ہوا۔
بقول ڈاکٹر انور سدید:
” ترقی پسند تحریک کے ادباء نے پہلی ضرب اخلاقیات پر لگائی اور پھر معاشرے کی چند اہم قدروں کے خلاف علم بغاوت کھڑا کر دیا“ ( 1 )
اردو ادب میں جدید افسانے کا آغاز ”انگارے“ سے ہوتا ہے۔ جس کی اشاعت اس بے چینی کا نتیجہ تھا جو کہ روس میں آنے والے انقلاب نے پیدا کی تھی۔ انگارے سجاد ظہیر، احمد علی، رشید جہاں اور محمود الظفر کی مشترکہ کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے معاشی بدحالی، جنسی گھٹن، اور مذہب کی فسردہ روایات کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
سجاد ظہیر انگارے کی اشاعت اور اس میں موجود نصف افسانوں کے خالق تھے۔ ان کے افسانوں میں بنیادی طور پر سماجی برائیاں اور معاشی و معاشرتی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
افسانے ”نیند نہیں آتی“ میں سجاد ظہیر ایک فرد کی نفسیات کو ظاہر کر رہے ہیں جو کہ متوسط نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے شاعر اکبر کی کہانی ہے جو کہ خواب اور بیداری کی درمیانی حالت میں مچھروں کی بھن بھن اور کتوں کے بھونکنے کی آوازوں میں رات کے اندھیروں میں اپنے معاشی مسائل کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس کو اپنی بیمار ماں اور ضرورتیں پوری نہ ہونے پر بیوی کی شکوے اور شکایات یاد آتی ہیں۔ اس افسانے میں ہمیں مذہبی عدم توازن، سیاسی بحران اور اس کے ساتھ ساتھ بھوک اور افلاس کی زد میں آتا نچلا طبقہ نظر آتا ہے۔
اقتباس ملاحظہ ہو:
”موت یا آزادی! مجھے موت پسند نہ آزادی کوئی میرا پیٹ بھر دے۔
پن، پن، پن، پن چٹ، ہت تیرے مچھر کی۔ ٹن ٹن ٹن۔ ٹن ٹن۔ ”( 2 )
افسانہ ”جنت کی بشارت“ جو کہ سجاد ظہیر کا دوسرا افسانہ ہے تکنیکی لحاظ سے ”نیند نہیں آتی“ سے قدرے بہتر اور مختلف ہے۔ اس افسانہ کے ذریعے سجاد ظہیر نے مولویوں کی ریاکاری، بدحواسی اور مذہبی قدامت پسندی کو واضح کیا ہے۔ مصنف نے براہ راست مذہبی عقائد پر وار کرنے کی بجائے اس میں irony کی تکنیک استعمال کی ہے جس میں لفظوں کے معنی وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں۔ اس افسانے میں ایک مولوی دکھایا گیا ہے جو کہ پختہ عقائد رکھتے ہوئے خود کو عبادت میں مشغول رکھتا کو حوریں نظر آتی ہے جو کہ برہنہ ہوتی ہیں۔
اقتباس ملاحظہ ہو:
”مولانا نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور مسکراتے ہوئے ایک کھڑکی کی طرف بڑھے۔ حور آگے بڑھی اور انہوں نے اس پر سر سے پیر تک نظر ڈالی۔ اس کے جسم کا دمکتا ہوا چمپئی رنگ، اس کی کٹیلی آنکھیں، اس کا دل فریب تبسم، اس جنت نگاہ سے مولانا کی آنکھیں ہٹتی ہی نہ تھیں۔“ ( 3 )
”دلاری“ انگارے میں سجاد ظہیر کا چوتھا افسانہ ہے جس میں سجاد ظہیر نے امیر گھرانے اور متوسط طبقے کے فرق اور متوسط طبقے کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور جنسی زیادتی کو واضح کیا ہے۔ اس افسانہ کا مرکزی کردار ایک لڑکی ہے جس کا نام دلاری ہے۔ شیخ ناظم کا ایک خوشحال گھرانا جس میں دلاری کام کرتی ہے اور شیخ ناظم کا بیٹا اس سے شادی کے نام پر جنسی تعلقات استوار کرتا ہے۔ اور اس کا جنسی استحصال کرنے کے بعد کسی اور سے شادی کر لیتا ہے۔ دلاری یہ برداشت نہیں کر پاتی اور گھر سے بھاگ جاتی ہے۔ کچھ عرصے بعد جب وہ واپس آتی ہے تو اس کو بدچلن قرار دے کر دھتکار دیا جاتا ہے۔ اس افسانے میں سجاد ظہیر نے معاشرے کی نا انصافیوں اور کٹھن سچائیوں کا پردہ چاک کیا ہے۔
اقتباس ملاحظہ ہو:
”یکایک بغل کے کمرے سے کاظم اپنی دلہن کے ساتھ نکلے اور اپنی ماں کی طرف بڑھے۔ انہوں نے دلاری پر نظر ڈالی۔ ان کے چہرے سے غصہ نمایاں تھا۔ انہوں نے اپنی والدہ سے درشت لہجے میں کہا۔ :
”امی خدا کے لئے اس بدنصیب کو اکیلی چھوڑ دیجئے۔ وہ کافی سزا پا چکی ہے۔ آپ دیکھتی نہیں کہ اس کی حالت کیا ہو رہی ہے!“ ( 4 )
” پھر یہ ہنگامہ“ میں مذہبی روایتوں اور اس کے تضادات، امرا طبقے کی شاہانہ حرکات اور متوسط طبقہ کے مسلم خاندانوں کے تضاد سے بھرپور رشتوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ کہانی سماج اور اس میں موجود مذہبی جنونیت، سماجی نا انصافی اور طبقاتی نظام پر ایک تنقیدی وار ہے۔ دراصل مصنف کے نزدیک مذہب ایک ماورائے عقل قوت ہے جسے لوگ ایک طاقت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اقتباس ملاحظہ ہو:
” مذہب دراصل بڑی چیز ہے۔ تکلیف میں، مصیبت میں، ناکامی کے موقع پر جب ہمارے عقل کام نہیں کرتی اور ہمارے حواس مختل ہوتے ہیں، جب ہم ایک زخمی جانور کی طرح چاروں طرف ڈری ہوئی بے بس نظریں دوڑاتے ہیں، اس وقت وہ کون سی طاقت ہے جو ہمارے ڈوبتے ہوئے دل کو سارا دیتی ہے؟ مذہب! اور مذہب کی جڑی ایمان ہے۔ خوف اور ایمان۔ مذہب کی طرف لفظوں میں نہیں کی جا سکتی۔ اسے ہم عقل کے زور سے نہیں سمجھ سکتے۔ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے“ ( 5 )
اس مجموعے میں ”احمد علی“ کے دو افسانے ”بادل نہیں آتے“ اور ”مہاوٹوں کی ایک رات“ شامل ہے۔
”مہاوٹوں کی ایک رات“ میں احمد علی نے معاشرے کی تلخیوں کو واضح کرتے ہوئے دو وقت کی روٹی کے لئے ترستے اور عیاش پرستوں کا موازنہ کیا ہے۔ جس میں ایک طرف مفلسی اور اس کے دردناک نتائج اور دوسری طرف زندگی کا لطف اٹھاتے لوگ ہیں۔ اس افسانے کے ابتدائی حصے میں مذہب، تقدیر اور جنت کے مروجہ تصورات پر تنقید کی گئی ہے۔ ایک مفلس عورت جو کہ ایک بوسیدہ مکان میں اپنے تین بچوں کے ساتھ تیز بارش سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بچے ڈر رہے ہیں اور وہ ان کو تسلی دیتی ہے۔ ایک ایسی عورت جو کے نہ تو بے دین ہے اور نہ ہی ترقی پسند تحریک کو ماننے والی ہے۔ صرف اس بے بسی کے عالم میں جنت کے تصور کو اپنے ذہن میں لاتی ہے جو کہ مصنف نے نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ چونکہ عورت کے گھر کی چھت ٹپک رہی ہے تو وہ جنت کی عمارت کے بارے میں بھی یہی سوال کرتی ہے کہ یہ چھت ٹپکتی تو نہیں۔
اس افسانے میں مصنف نے داخلیت کو بیان کیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
”گڑ ڑ ڑ ڑ ڑ! ٹپ ٹپ کی آواز چاروں طرف سے آ رہی تھی اماں! اماں! ابھی کانوں میں سنسناہٹ باقی تھی۔ دل گزوں اچھل رہا تھا۔ کیا ہے، بیٹا کیا ہے؟ ڈر لگ رہا ہے۔ یہ آواز کاہے کی تھی؟ کچھ نہیں بیٹا گرج ہے۔ تینوں بچے چمٹے ہوئے ایک کونے میں سکڑے پڑے تھے۔ ٹپکا ان کے لحاف تک پہنچ چکا تھا۔ مریم کی طرف کا کونا خوب بھیک گیا تھا۔ بیچاری نے اٹھ کر بچوں کو اوپر سرکایا۔ اب وہ بالکل دیوار کے برابر پہنچ گئے تھے۔ یا اللہ اگر سب کا اسی طرح بڑھتا رہا تو اب سے بھی اتنا ہی پڑے گا۔ اماں سردی لگ رہی ہے۔ صدیقہ اس کے برابر لیتی ہوئی تھی اس نے اس کو چمٹا کے لٹا لیا۔ روئی نہیں تو دوئی ہی سہی۔ ادھر دونوں لڑکے چمٹے پڑے تھے لیٹے ہوئے جیسے سانپ درخت سے لپٹ جاتا ہے۔“ ( 6 )
انگارے کی اشاعت میں رشید جہاں کا نام بھی نمایاں ہے۔ انہوں نے افسانوی ادب کو اک نئے رنگ میں پیش کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ اس افسانوی مجموعے میں رشید جہاں کا ایک افسانہ ”دلی کی سیر“ اور ایک ڈرامہ ”پردے کے پیچھے“ شامل کیا گیا ہے۔
منفرد نقطہ نظر رکھنے والے رشید جہاں نے افسانے دلی کی سیر میں ہمارے سماج میں عورتوں کے ساتھ رکھا جانے والا اجتماعی رویہ جو وہ گھر سے بازار تک جانے میں مختلف طعنوں اور قہقہوں کی شکل میں برداشت کرتی ہیں، ایک افسانے کے ذریعے اس کی عکاسی کی ہے۔ جس میں ایک عورت اپنے شوہر کے ہمراہ فرید آباد سے دلی کا سفر کرتی ہے، اپنی سہیلیوں کو وہاں سٹیشن کے واقعات بتاتی ہے۔ اور اس کی سہیلیاں جب بھی اس کے گھر آتی ہیں اس سے واقع سننے کی فرمائش کرتی ہیں اقتباس ملاحظہ ہو:
”ہمارے ہندوستانی بھائی بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تکتے ہیں۔ کم بختوں کی آنکھیں نہیں پھوٹ جاتیں۔ ایک میرے سے کہنے لگا۔“ ذرا منہ بھی دکھا دو۔ میں نے فورا۔ ( 7 )
اس افسانوی مجموعے میں محمود الظفر کا ایک افسانہ ”جوانمردی“ شامل ہے۔ جو کہ اپنے موضوع کے لحاظ سے بھرپور افسانہ ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے مرد اور عورت کی ازدواجی زندگی میں معاشرہ اثر انداز ہوتا ہے۔ اور مرد کو اس کی مردانگی اور عورت کو بانجھ پن کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اس افسانہ میں بچہ نہ ہونے پر لوگ اس کی مردانگی پر شک کرتے ہیں۔ جوانمردی ایک مرد کی کہانی ہے جو خود کو اپنی بیوی کی موت کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ ایک ایسا مرد جس کو شادی کے بعد اپنی بیوی پسند نہیں آتی اور وہ اس کو چھوڑ کر ولایت چلا جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد اس کی بیوی شدید بیماری کی صورت میں اس کو خط لکھتی ہے اور وہ سب چھوڑ کر واپس آ جاتا ہے۔ معاشرے کی تلخ باتوں کی زد میں آ کر وہ وہ اپنی جوانمردی ثابت کرتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
”میری حالت اس مالی کی سی تھی جو اپنے لگائے ہوئے درختوں پر کلیوں کو کھلتے ہوئے دیکھ کر باغ باغ ہوتا ہے۔ ہر ہر دن، ہر ہر لمحہ کے بعد میری کامیابی زیادہ نمایاں ہوتی جاتی۔ لیکن میری ہیوی خاموشی رہتی۔ میں سمجھتا تھا کہ اس کا سبب غالباً زچگی کی گھبراہٹ اور پریشانی ہے۔ آخر کار اس کو درد زہ شروع ہوا۔ گھنٹوں تک کرب اور بے چینی کا عالم رہا۔ جسم شدت تکلیف سے تڑپ رہا تھا۔ اور کسی پہلو اسے چین نہیں تھا۔ روح تک معلوم ہوتا تھا کہ آہ و فریاد کر رہی ہے۔ لیکن اس کی بے کلی اور تڑپ، اس کی اہ و زاری ان سب سے میری جوانمردی کا ثبوت مل رہا تھا۔“ ( 8 )
حوالہ جات
1۔ انور سدید، ڈاکٹر، اردو ادب کی تحریکیں، انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی، 2013، ص: 435
2۔ سجاد ظہیر، انگارے، مرتب: شکیل حسین سید، فکشن ہاؤس، لاہور، 2018، ص: 23
3۔ ایضا، ص : 30
4۔ ایضا، ص: 43
5۔ ایضا، ص: 45
6۔ ایضا، ص: 65۔ 66
7۔ ایضا، ص: 72
8۔ ایضا، : 96



عمدہ تحریر پر شاباش ۔