راکھ جس سے ہمارے چہرے آج تک سیاہ ہیں
بعض لکھاریوں کو خدا ایسا زور قلم عطا کرتا ہے کہ ان کی تخلیقات انسان بارہا پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کا شمار بھی ایسے لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ اپنے سفر ناموں کی وجہ سے مشہور ہیں مگر ان کے تخلیق شدہ ناول بھی بہت دلچسپ و حیران کن ہیں۔
مستنصر حسین تارڑ کا ناول ”راکھ“ اس قدر شاندار ہے کہ اس ناول کو بار بار پڑھنے کا دل چاہتا ہے۔ اس ناول کا کینوس بہت وسیع ہے اور مصنف نے ایسے ایسے رنگوں سے منظر نامے تشکیل دیے ہیں کہ پڑھنا والا دنگ رہ جاتا ہے۔ ناول کا زمانی سفر تقسیم ہند سے تقسیم پاکستان کے مختلف واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کا منظر نامہ بہت سے دل خراش مناظر پر مبنی ہے۔ مشاہد کا باپ اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتا ہے کہ وہ کٹی پھٹی لاشوں اور خون سے بھری ریل گاڑی نہ دیکھ سکے جو پاکستان سے ہندوستان جا رہی تھی۔
تقسیم ہندوستان کے وقت ظلم کا دائرہ کار صرف ایک قوم تک محدود نہیں رہا اور نہ ہی کسی ایک قوم کو ظالم کہا جاسکتا ہے۔ شاہ عالمی کی آگ اور اس سے اٹھنے والی راکھ سے ہمارے چہرے بھی سیاہ ہیں۔ نظریات کی اس جنگ میں نجانے کتنے لوگ نفرت کی بھینٹ چڑھے جن میں ہندو مسلم اور سکھ شامل تھے۔ نظریات کی یہ جنگ محض یہاں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ اس میں سقوط ڈھاکہ کا واقعہ بھی شامل ہے۔ مصنف نے مشرقی پاکستان میں ہونے والے ظلم و ستم اور علیحدگی کے اسباب کو موضوع بنایا ہے۔ نظریات، شناخت، قومیت کی وجہ سے ہونے والی ان جنگوں کا End result کیا نکلتا ہے جس کا جواب مصنف کچھ یوں دیتا ہے کہ:
” تمام جنگوں کا اینڈ رزلٹ کیا ہوا۔ نتھنگ نتھنگ۔ ڈسٹ ان ٹو ڈسٹ۔ خاک در خاک اور راکھ راکھ میں“
ناول میں بہت سے موضوعات کو شامل کیا گیا ہے جس میں تقسیم ہندوستان سے تقسیم پاکستان اور دوران تقسیم انسانیت کا قتل، شاہ عالمی کا قصہ، سقوط ڈھاکہ کے اسباب، بنگالیوں کے ساتھ ناروا سلوک، نوادرات کی اسمگلنگ، کراچی کے بگڑتے حالات، انسانی نفسیات اور رویوں کی کشمکش، اقبال مسیح کا قتل، بابری مسجد، لاہور کی بارہ دری اور اس کے ساتھ بہتے ہوئے دریائے راوی کا کم ہوتا پانی، قادیانیت، انسانوں کا استحصال، بیوروکریٹس کی محفلیں اور پاکستان کا سیاسی منظر نامہ اور اس جیسے کئی دوسرے موضوعات شامل ہیں۔
ناول میں کرداروں کی بھرمار ہے لیکن ہر کردار اپنے انفرادی قصے کے ساتھ موجود ہے۔ کسی ایک کو مرکزی کردار تصور کرنا بے حد مشکل ہے۔ متحرک کرداروں میں ”مشاہد، مردان، شوبھا، برگیتا، زاہد کالیا، ڈاکٹر ارشد، فاطمہ، کتورا اور ذوالفقار علی بھٹو، سعادت حسن منٹو، جنرل یحیٰی، ایوا گارڈنر جیسے تاریخی کردار بھی شامل ہیں۔
مشاہد کے بچپن کے حالات واقعات دیکھ کر یوں لگتا جیسے مصنف نے اپنا بچپن ناول میں بیان کیا ہو۔ مشاہد کا گوالمنڈی سے لکشمی مینشن کا سفر اور پھر یہاں سے انگلستان کا سفر ناول کو بہت دلچسپ بناتا ہے۔ مشاہد کے ذریعے دکھایا گیا ہے کہ جو اقدار و روایات اس کے معاشرے میں ممنوع ہیں ان کا وجود کسی اور معاشرے میں ایک عام سی بات ہے۔ ناول میں مشاہد کا کردار شروع سے آخر تک موجود ہے۔
اسی طرح ”مردان“ کا کردار مشرقی پاکستان کا نمائندہ ہے۔ اس کے ذریعے مشرقی پاکستان میں عام لوگوں کے ساتھ فوج کا رویہ اور ظلم دکھایا گیا ہے۔ ان حالات کا سامنا کرنے کے بعد مردان کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو تارڑ نے بہت عمدہ انداز سے بیان کیا ہے۔ اس کی بیٹی شوبھا ایک بنگالی تھی۔ مغربی پاکستان میں رہنے والے لوگوں کو شوبھا اور اس کے رسم و رواج اور رہن سہن کے ساتھ قبول کرنا کس قدر مشکل تھا۔ مغربی پاکستان میں کئی ایسے بنگالی تھے جو اپنی جان بچانے کی غرض سے اپنی شناخت چھپاتے پھرتے تھے۔
اسی طرح ”زاہد کالیا“ کا کردار بہت دلچسپ ہے۔ زاہد کالیا کے ذریعے پاکستان سے نوادرات کی اسمگلنگ کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کبھی آثار قدیمہ اور ان سے ملنے والے نوادرات کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا گیا۔ آج بھی پاکستان سے ملنے والے نوادرات بہت سے دیگر ممالک کے میوزیم میں محفوظ ہیں جو اسمگلنگ کے ذریعے وہاں مہنگے داموں میں خریدے گئے۔ ناول سے ایک اقتباس ہے کہ
”اور تم ان نوادرات کو سمگل آؤٹ کر دیتے ہو؟
ہاں میں ان نوادرات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتا ہوں۔ وہ دنیا کے کسی بھی میوزیم پر نمائش میں ہوں کسی بھی کلیکشن میں ہوں وہ پاکستان کی ہزاروں برس پرانی کاری گری کی مثالیں ہوں گی۔ ہماری ثقافت وہاں جا کر محفوظ ہوتی ہے شاہدی۔ یہاں یہ لوگ اس کی قدر کرنے کے قابل نہیں اسے دیکھ کر ان کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں جو میں کر رہا ہوں ٹھیک ہے۔ میں مال بنا رہا ہوں لیکن اس وقت ٹوکیو میوزیم میں چونے کے جو بدھا ہیڈ ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے دنیا آتی ہے اگر میں سمگل آؤٹ نہ کرتا تو تم لوگ انہیں کوٹ کر ان کی قلعی بنا کر دیواروں پر سیاسی نعرے لکھتے۔ ”
کالیا کے ذریعے بیوروکریٹس اور اشرافیہ کی مجالس میں سر انجام دیے جانے والے اعمال کو بھی دکھایا گیا ہے۔ کالیا کا کردار اپنے اعمال کے ساتھ ”جسٹی فائی“ کرتا نظر آتا ہے۔
ڈاکٹر ارشد کا تعلق قادیانی فرقے سے تھا جبکہ برگیتا ”بکو“ کے گھر سے سویڈن اور پھر مشاہد کی بیوی بن جاتی ہے۔ جب یہ راز فاش ہوتا ہے تو قاری دنگ رہ جاتا ہے۔ فاطمہ جو بابو راؤ پیٹل سے شادی کر لیتی ہے اور پھر اپنی اولاد کے ہاتھوں مسلمان ہونے کی وجہ سے ذلت اٹھاتی ہے۔ ہر کردار بہت دلچسپ اور جاندار ہے۔
ناول میں کسی بھی منظر کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا کہ گویا ہم اسی منظر کا حصہ ہوں۔ ناول میں لاہور کی تاریخی عمارات، انگلستان کا سفر، سوات کا سیلیٹی منظر، صحرا چولستان کا منظر اور یہاں سے ملنے والی ٹھیکریاں جو سمرور اور پاروشنی کی یاد دلاتی تھیں کو بیان کیا گیا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ نے بہت جزئیات کے ساتھ ہر شے کو بیان کیا ہے۔ ناول کی زبان و بیان بہت سلیس اور رواں ہے۔ ناول کا ایک جملہ جو بہت مشہور ہے :
” چار مرغابیوں کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں ہے“
اسی طرح کے کئی اور جملے ہیں جو اپنے اندر مکمل مفہوم رکھتے ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ مستنصر حسین تارڑ کا یہ ناول بہت شاندار ہے۔ ناول کو بار بار پڑھنے کا دل کرتا ہے۔ ناول کے کردار واقعات میں جان ڈالتے ہیں۔ مصنف کی منظر نامے، زبان و بیان، پلاٹ، مکالمہ نگاری پر گرفت اس ناول کو دلچسپ اور عمدہ بناتی ہے۔


