گونگے کا خواب: طارق بلوچ صحرائی کی کتاب
کتب کے مطالعے اور تحریر کے اپنے ذوق کو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ اب یہ سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے۔ گزشتہ دنوں فیس بک کی میموریز میں ایک پرانی تحریر سامنے آئی، جس میں، میں نے ایک کتاب پر تبصرہ کیا تھا۔ یہ کتاب معروف مصنف طارق بلوچ صحرائی کی ہے، جس کا نام ”گونگے کا خواب“ ہے۔ یہ کتاب میں نے 2017 میں پڑھی اور اس پر ریویو لکھا تھا۔ اس کا متن آج ہم سب کے قارئین کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔
میں تہہ دل سے اپنے رب کا مشکور اور ممنون ہوں جس نے علم والوں کے ساتھ واسطہ اور رابطہ رکھنے کی توفیق فرمائی ہے۔ اس سے بڑھ کر علم و ادب کا ذوق پیدا کیا۔ جناب طارق بلوچ صحرائی، قصہ مختصر یہ ہے کہ میری آپ سے واقفیت چند ماہ قبل قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کے ایک پروگرام کی ویڈیو کے توسط سے ہوئی۔ جس میں آپ کی گفتگو اور افکار و خیالات کو جان کر انتہائی خوشی ہوئی۔ انتہائی سادہ اور عام فہم انداز میں اتنی بڑی حقیقت اور سبق آموز واقعات کو بیان کرنا قابل تعریف ہے۔ میں نے آپ کی کتاب ”گونگے کا خواب“ انٹرنیٹ پر سرچ کی لیکن پی ڈی ایف فائل نہ ملی۔ میں نے اردو بازار کراچی سے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ کتاب مارکیٹ میں شارٹ ہے۔ اسی کشمکش میں کئی ماہ گزر گئے۔ کئی دوست احباب سے اس کتاب کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا، جس کی وجہ سے میرے اندر اسے پڑھنے کے لیے مزید تجسس بڑھ گیا۔ گزشتہ چند دنوں سے آپ کی کتاب کے اقتباسات فیس بک پر بہت وائرل ہوئے۔ میں نے دوبارہ اردو بازار کا رخ کیا تو کئی بک سینٹرز پر تلاش کے بعد ایک شاپ سے یہ کتاب ملی۔
اس کے بعد کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو یوں لگا جیسے علم و دانش کے سمندر میں اتر گیا ہوں۔ کتاب کا ہر باب اپنے اندر بے پناہ گہرائی، حکمت اور وسعت رکھتا ہے۔ آپ نے جس عمدگی اور مہارت کے ساتھ معاشرتی رویوں کی عکاسی کی ہے اور آئینہ دکھایا ہے وہ قابل دید ہے۔ بقول آپ کے ”میں پتھر کی آنکھ میں آنسو دیکھنا چاہتا ہوں، میں آدمی کو انسان دیکھنا چاہتا ہوں۔“ مزید فرماتے ہیں ”میں رب کو انسانوں کے درمیان دیکھنا چاہتا ہوں۔“
ویسے تو مجھے اس کتاب کا ہر باب اور صفحہ بہت شاندار لگا، لیکن باب ”لارنس کے ساتھ مکالمہ“ بہت دل کو چھو لینے والا تھا۔ یقین مانیے، میں کئی سالوں بعد لاہور گیا اور لارنس گارڈن کا وزٹ کیا تو آپ کی کتاب اور بابے لارنس کو یاد کیا۔ ”میلی بنیان“ میرے لیے eye opener ہے جو مجھے میری ذات کو جاننے میں مدد کرتا ہے۔ اور یہ جملہ تو میرے کئی خدشات اور سوالات کو حل کر گیا۔ ”سفر کرنا ہے تو اندر کا کرو۔“
”ساحل“ کے باب میں خالد مسعود کا واقعہ بیان کرتے ہوئے گاؤں کی زندگی اور زراعت کے بارے میں کہا ہے۔ ”یہ شعبہ فطرت کے سب سے زیادہ قریب ہے۔“ میرے دل کو اتنا لگا کہ اس کی وجہ سے میں اپنے والد محترم سے مزید محبت اور عقیدت کرنے لگا ہوں، جنہوں نے کراچی جیسے شہر کی زندگی کو چھوڑ کر گاؤں میں اپنے کھیتوں میں کاشتکاری شروع کی ہے۔ اور اب مجھے بھی آپ کے اس جملے ”ماں کہتی ہے، تو تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے باپ کی زمینیں کاشت کرنا“ کے بعد یوں لگتا ہے کہ میں اپنے باپ کی تقلید کروں۔
طارق بلوچ صحرائی صاحب، آپ نے جس نفاست، سچائی، ایمانداری، لگن، محبت اور عقیدت کے ساتھ ماں کی عظمت اور باپ کے وقار کو بلند کیا ہے، وہ الفاظ میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔ خاص طور پر ماں سے رب کی باتیں، واہ! جونگا سے تو میری گاؤں اور بچپن کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ ”بحر مردار“ میں یہ شعر تو لاجواب ہے۔
میرے خمیر میں شامل ہے صدیوں کی غلامی
ورنہ وقت تو ایسا ہے بغاوت کی جائے
پیسہ اخبار میں نیکر پہن کر مسجد میں جانے والا واقعہ Paradigm shift کی بہترین مثال ہے۔ یہ صدیوں پہ محیط سفر ہے جو قوموں کو ترقی کی معراج عطا کرتا ہے۔ یہ ہمارے سوچنے کے انداز کو واضح کرتا ہے، جسے نفسیات میں placebo effect کہتے ہیں۔ درحقیقت یہ انسان بننے کا عمل ہے۔ قصہ میں ”گاؤں میں زیادہ سے زیادہ فصلیں خراب ہوتی ہیں مگر شہر میں نسلیں خراب ہو جاتی ہیں“ اور جس سفر کا مقصد ”تلاش“ نہ ہو، وہ سفر نہیں ہوتا ہے۔ ”آئینہ“ میں الفاظ۔ ”آئینہ تو شناخت دیتا ہے، جس کو اپنی شناخت مل گئی اس کو منزل مل گئی۔“
”شناخت“ اور ”پہچان“ انسان کو دوسری مخلوق سے ممتاز کرتے ہیں۔ طارق بلوچ صحرائی صاحب، اگر میں مبالغہ آرائی سے کام نہ لوں اور وہ تمام باتیں اور نکات آپ کے ساتھ شیئر کروں جو میں نے اس کتاب کے دوران ہائی لائٹ کیے ہیں، تو ایک کتابچہ مرتب ہو جائے گا۔ لیکن مجھے اپنی کم علمی اور تحریر پر دسترس کا احساس ہے۔ آپ نے معاشرے، سماجی رویوں، قومی مسائل، دینی معاملات، نفسیاتی پہلوؤں اور ادبی اصلاحی پہلو کو جس نسبت اور سلیقہ مندی، جرات، بہادری اور ادبی ضابطہ کاری سے پیش کیا، آپ اس عظیم، منفرد اور نایاب تخلیق پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ رب آپ کو مزید قوت، فہم، حکمت و فراست اور فضل دے کہ اپنی تحریروں سے بنجر اور ویران ذہنوں کو علم و دانش سے سیراب کرتے رہیں۔ مجھے یقین اور خُدا کی ذات پر بھروسا ہے کہ میرا آپ کے ساتھ یہ تعلیمی، ادبی اور سب سے بڑھ کر سیکھنے کا رشتہ قائم رہے گا۔



