نامور فرانسیسی مصنف ایبے پریووس کا ناول مینن لیسکاٹ
ناول کی تفصیل میں جانے سے پہلے ہم اس کے مصنف کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ ایبے پریووس ( 1697۔ 1763 ) جن کا اصل نام انتوان فرانسو پریووس تھا ہیسڈن فرانس میں پیدا ہوئے۔ وہ فرانس کے نامور فکشن نگار، مورخ اور پادری تھے۔ ان کی زندگی دل چسپ اور غیر روایتی تھی۔ انہوں نے ابتدا میں یسوعی جماعت میں شمولیت اختیار کی، پھر فوج میں بھرتی ہو گئے اور بعد میں بیڈ کائن راہب بن گئے۔ تاہم ادب کی طرف رجحان کی وجہ سے خانقاہی زندگی کو خیرباد کہہ دیا اور اپنی تحریروں کے ذریعے انسانی جذبات اور نفسیات کی گہرائیوں کو بیان کرنے لگے۔ ان کا کام نہ صرف ادب کے لیے قیمتی اثاثہ ہے بلکہ انہوں نے بالزاک اور گستاؤ فلابیر جیسے عظیم ادیبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
آئیے اب مذکورہ ناول کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ مینن لیسکاٹ پہلی بار 1731 میں منظرعام پر آیا۔ ادبی حلقوں میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ مینن لیسکاٹ جدید ناول کی ابتدائی مثالوں میں سے ایک ہے۔ اس ناول میں جذباتی شدت اور محبت کی طاقت، جذبہ اور منطق کے درمیان تصادم اور معاشرتی دوہرے معیار جیسے اہم موضوعات کو یکجا کیا گیا ہے۔
ناول کا اردو ترجمہ گوربخش سنگھ جنہیں ادبی حلقوں میں مخمور جالندھری کے نام سے پہچان حاصل ہے نے 1959 میں کیا جو دہلی، بھارت سے شائع ہوا۔ یہ ترجمہ راہیں شباب کی کے عنوان سے شائع ہوا اور اس کے 161 صفحات تھے۔ پاکستان میں بھی گاہے بگاہے اس کے کئی ایڈیشن چھاپے گئے مگر جس ترجمے سے ہم مستفید ہوئے ہیں وہ 2022 میں چھپا ہے اور صفحات کی بچت کرتے ہوئے اسے 112 صفحات تک محدود کر دیا گیا ہے جب کہ اس کے 14 ابواب ہیں۔
اگر کہانی کی بات کی جائے تو یہ ہر سماج میں موجود ہے، جس میں ایک نوجوان لڑکا ایک خوب صورت دوشیزہ کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ لڑکے کا نام شیولیئر ڈیس گریو ہے جبکہ لڑکی کا نام مینن ہے۔ دونوں میں شدید محبت ہے۔ وہ سماجی روایات کو توڑتے ہوئے ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم ان کا تعلق شدید مشکلات اور اخلاقی اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔ مینن کا کردار محبت اور خود غرضی کے درمیان ایک تضاد پیش کرتا ہے، جبکہ ڈیس گریو کی شخصیت ایک ایسے عاشق کی ہے جو محبت میں خود کو فنا کرنے پر تلا ہوا ہے۔ مینن کی مادہ پرستی اور آسائشوں کی خواہش انہیں مسلسل غلط فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہے، جبکہ ڈیس گریو اپنی محبت کے باعث اس کی ہر خواہش کی تکمیل میں مصروف ہے۔ یہ کہانی مالی بحران، دھوکہ دہی اور سماجی دباؤ سے دوچار دونوں کرداروں کے دربدر بھٹکنے کی داستان ہے، جو آخرکار ایک المناک انجام کو جنم دیتی ہے۔
اس ناول کا اہم موضوع محبت اور اخلاقیات کا تصادم ہے۔ پریووس نے محبت کو محض جذباتی تعلق سے بڑھ کر پیچیدہ، سماجی و اخلاقی مسئلے کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ مینن کی شخصیت میں خودغرضی، لالچ اور جذباتی کمزوریوں کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ محبت اور دولت کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہے اور اکثر فیصلے اپنے ذاتی مفاد کو سامنے رکھ کر کرتی ہے۔ اس کی مادہ پرستی اور کمزوری کی وجہ سے وہ غیرمستحکم شخصیت بن جاتی ہے، جو نہ صرف اپنی تقدیر بلکہ اپنے محبوب کی زندگی بھی داؤ پر لگا دیتی ہے۔ جب کہ دوسری جانب گریو کی شخصیت میں وفاداری اور ایثار کی خصوصیات شامل ہیں۔
مینن لیسکاٹ کا اختتام المناک ہے، جو جذبے، خواہش اور مادی فائدے کی جستجو کے تباہ کن نتائج کو اجاگر کرتا ہے۔ جیسے جیسے ناول آگے بڑھتا ہے ڈیس گریو اور مینن کے درمیان محبت زہر آلود ہو جاتی ہے، جو چالبازی، دھوکہ دہی اور ذاتی خواہشات اور سماجی رکاوٹوں کے درمیان تصادم سے بھری ہوئی ہے۔ ڈیس گریو کی گہری اور بے پناہ محبت کے باوجود مینن کا خود غرض رویہ اور دولت کا لالچ اسے تباہی کی راہ پر لے جاتا ہے۔
اس ناول کو سماجی اور ثقافتی تنقید کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہ اٹھارہویں صدی عیسوی میں فرانس کے سماجی ڈھانچے اور اصولوں پر عمیق تبصرہ ہے۔ خاص طور پر اشرافیہ کے جنسی رجحانات کو مادہ پرستی کے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جہاں اس ناول کی پیچیدہ نفسیات نے رومانوی ادب کے عوامل کو اجاگر کیا ہے تو دوسری جانب اس میں حقیقت پسندانہ پہلو بھی پیش کیے ہیں۔ مثال کے طور پر طبقاتی فرق، اخلاقی کمزوریاں اور افراد کی اندرونی کشمکش۔
مینن لیسکاٹ کا پلاٹ ایسی المناک محبت کے گرد گھومتا ہے جو پیار کی طاقت اور انسانی کمزوریوں کی حقیقت سے روشناس کروانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ناول کا اسلوب بیانیہ ہے۔ کہانی کو داستان کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو برق رفتاری سے انجام کی طرف گامزن ہے۔ داستان گو کو مرکزی کردار خود اپنی کہانی بیان کر رہا ہوتا ہے اور وہ اسے ہم تک پہنچاتا ہے۔ ناول میں فضول جزئیات نگاری شامل نہیں ہے اور غیر اہم کرداروں کا ذکر بھی نہایت مختصر انداز سے کیا گیا ہے حتیٰ کہ ان کے نام بھی میرے اب تک کے مطالعے کے مختصر ترین نام ہیں۔ منظر نگاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ بالکل سیدھے سادے فقرے جوڑ کر کہانی کو ترتیب دے دیا گیا ہے، مگر تمام تر واقعات بالترتیب موجود ہیں اور دل چسپی سے بھی ہمکنار ہیں۔
یہ بات بہرحال قابلِ ذکر ہے کہ فرانسیسی ادب نے عالمی کلاسیکی ادب کو قابل تعریف ادب پاروں سے نوازا ہے اور ایسا فکشن تخلیق کیا ہے کہ جو کئی صدیاں گزرنے کے باوجود ایسی تاثیر کا حامل ہے کہ تازگی برقرار ہے۔ اختتام پر ہم یہ کہنا چاہیں گے مخمور جالندھری نے ترجمہ کرتے وقت اسے ”راہیں شباب کی“ کا نام دیا ہے مگر ہماری رائے میں اسے محبت نامہ کہا جاتا تو کوئی مضائقہ نہ تھا۔


