باغی بلوچ، بد امن بلوچستان


سنو اے راہِ راست کے بے زبان دانشورو! اے جگر سوز لمحات کے نایاب مسافرو! میں حق و باطل کا فرق بھول گیا، میں تلوار تو لے آیا کفن بھول گیا۔ سنو آج زمین لرز نہ جائے تو بھی حیرت ہے یہ روتے بلکتے مسافروں کی آخری صدائیں ہیں، انہیں سمیٹ لو یہ وہ موتی ہیں جو کل تمھارے دامن سے بھی چمٹ سکتے ہیں۔

اے راہ راست کے دانشورو! آج پھر میں مجبور ہوا۔ میرے ضمیر نے مجھے زنجیر میں جکڑے قلم سے وہ داستان لکھنے کی خواہش کی جو آغاز سے انجام تک خون کی سیاہی سے لکھا جا رہا ہے۔ تو سنو یہ وہ حقیقت ہے جو بلوچستان کے ہر گھر میں کہیں آنسو تو کہیں خون سے خود اپنی تاریخ کے دو حرف لکھنے کی نا ختم ہونے والی کوشش کر رہا ہے۔ 26 اگست 2006 کو تراتانی کے پہاڑوں سے بھڑکتے شُعلے بلوچستان کے بُلند و بالا پہاڑوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد ہر شہر ہر گھر تک اُس وقت پہنچے جب بلوچستان میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا ایک نا ختم ہونے والے باب کا آغاز ہوا۔ جب شک کی بنیاد پر رات کی تاریکیوں میں لوگوں کے گھروں میں گُھس کر توڑ پھوڑ اور نوجوانوں کو زبردستی بِنا وارنٹ کے گرفتار کرنا روز کا معمول بن گیا تو تراتانی کے خُشک پہاڑوں سے نکلنے والے آگ کے شُعلے مزید بھڑک اُٹھے۔ ان بھڑکتے شُعلوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور جو لوگ اس آپریشن کو دو پہاڑوں کی آپسی زور آزمائی سمجھتے تھے نا چاہتے ہوئے اس آگ میں کودنے لگے۔ جگہ جگہ روکتی چوکیوں، آئے دن تفتیشی بُلاوے اور رات کی تاریکیوں میں چین کی نیند سوئے لوگوں پر اچانک چھاپے سمیت کہیں مشکلات عوام کو پہاڑوں کی گود میں سکون کا سانس لینے کا مشورہ دیتے رہے۔ سرزمینِ بلوچستان نے خون کی ندیاں اپنے سینے میں اُتاریں۔ کہیں نوجوان اس آگ میں جُھلس کر اسی سرزمین میں دفن ہوئے بے شُمار گھر اُجڑ گئے۔ ان گنت بچے یتیم ہوئے بن باپ کے شہزادے وقت کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے بڑے ہوتے گئے اور آج اُسی سرزمین میں اُنہی بچوں کی مائیں سخت اذیتوں میں گُزارے زندگی کو جب ہسپتال جیسے بنیادی ضرورت سے محرومی کی حالت میں خیرباد کہتے ہیں، جب وطن کے خُشک پہاڑوں کی سرد ہوائیں ماں کی آغوش میں چُھپے ایک نادان، دنیا کی آزمائشوں سے بے خبر، پھول جیسے نازُک بچے سے ماں کا سایہ چھین لیتی ہیں تو درد بھی غضب ناک آہوں کی اوٹ میں چُھپ جاتا ہے۔ وہی بچہ جب حالات کے کٹن مرحلوں سے گُزر کر جوانی کی گرد آلود ہواؤں کو دیکھتا ہے تو اُسے بارہا خیال آتا ہے کہ کس قدر بے بس ہیں ہم، زیرِ زمین ان گنت خزانوں کو اپنے قدموں تلے رکھ کر بھی ضروریات زندگی کی بنیادی چیزیں ہم سے میلوں دور ہیں۔ اور یہی دوری میرے ماں کو آج مجھ سے اس قدر دور لے گئی کہ میں وطن کے تمام خزانے لُٹا کر بھی اُس ماں کی مسکراہٹ نہیں خرید سکتا جس کی آغوش میرے لیے دنیا کے تمام خزانوں سے قیمتی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی سرزمین پر پرورش پاتا ایک نوجوان وطن کے اُن خزانوں کو اپنے گُزرے ہوئے آلام کی آنکھوں سے دیکھ کر وہی درد محسوس کرتا ہے جو اس کی ماں نے بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے محسوس کیا تھا تو اس کا ردِ عمل بھی سخت ہوتا ہے اور سخت ردِ عمل کے وہ نتائج نکلتے ہیں جنہیں ریاست اپنی زبان میں جُرم کا نام دیتی ہے۔ تاریخ ایک کڑوی حقیقت ہے کس قدر سخت تھے وہ دن کس قدر مغرور تھے وہ لوگ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی کھال سے بنی کتابوں میں خون کی سیاہی سے تاریخ کی ناقابلِ تسخیر داستان لکھی جا رہی ہے۔ ان دل خراش واقعات نے لوگوں کو ذہنی طور پر مفلوج کیا اور یہاں سے وہ تحریک چل پڑی جس نے بلوچ کو باغی اور بلوچستان کو بدامن علاقہ قرار دیا۔

Facebook Comments HS