صادقہ نصیر کی کتاب روزمرہ کی نفسیات


کتاب ”روزمرہ کی نفسیات“ میں صادقہ نصیر صاحبہ نے انسانی شخصیت، جذبات، رویوں اور نفسیاتی مسائل کو عام فہم اور سائنسی انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف نفسیاتی علم پر مبنی ہیں بلکہ معاشرتی حقیقتوں کا آئینہ بھی ہیں۔ زیرِ بحث مضامین، جیسے ”مشاہدۂ باطن“ ، ”اوسط ذہانت کے لوگوں کے عمومی رویے اور خصائل“ ، ”حسد انسانی شخصیت کا منفی پہلو“ اور دیگر، انسانی رویوں کی گہرائی اور ان کے معاشرتی اثرات کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ کتاب زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور بہتر بنانے کے لیے گراں قدر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

مضمون ”مشاہدۂ باطن“ انسانی شخصیت کے اندرونی پہلوؤں کی گہرائی میں جھانکنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ مصنفہ نے واضح کیا ہے کہ انسان اپنی ذات کے پیچیدہ تضادات اور شعوری و لاشعوری خیالات کو سمجھے بغیر اکثر الجھنوں اور نفسیاتی عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس مضمون میں انسانی جذبات اور رویوں کے نفسیاتی اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسانی شعور اور لاشعور (Conscious and Subconscious) کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے سے فرد اپنی زندگی کے مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہے اور ان کا حل تلاش کر سکتا ہے۔

مشاہدۂ باطن کے ذریعے، فرد اپنے رویوں میں توازن پیدا کر سکتا ہے اور اپنے جذبات کو منفی اثرات سے بچا سکتا ہے۔ یہ مضمون فرد کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے اندرونی تضادات کو سمجھے اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ صادقہ صاحبہ کا یہ تجزیہ انسانی شخصیت کی نفسیاتی گہرائیوں کو سمجھنے اور بہتر بنانے کی ایک بہترین کاوش ہے۔

مؤلفہ کا ایک اور مضمون ”اوسط ذہانت کے لوگوں کے عمومی رویے اور خصائل“ انسانی ذہنی صلاحیتوں اور ان کے اثرات کو واضح کرتا ہے۔ متن میں اوسط ذہانت کے حامل افراد کے رویے اور کردار کو اعتدال پسندی، محتاط فیصلے، اور روایتی رجحانات کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ یہ افراد اپنی صلاحیتوں اور تحدیدات کے شعور کے باعث اپنی زندگی کو نظم و ضبط کے تحت گزارتے ہیں۔ مضمون یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ان افراد میں خطرہ لینے یا غیر روایتی طریقے اپنانے کی حوصلہ کم ہوتی ہے، جو ان کے معاشرتی استحکام کو بڑھا سکتی ہے لیکن ان کی ترقی کی رفتار کو محدود کر سکتی ہے۔ اوسط لوگ ہر کام نقل اور بھیڑ چال میں کرتے ہیں مثلاً برائیاں بھی دوسروں کو دیکھ کر کرتے ہیں مثلاً رشوت، سفارش، شان و شوکت، شادیوں پر بے جا اخراجات۔ وغیرہ۔ ایسے لوگ درمیان میں لٹکتے رہتے ہیں گو کہ معاشرے کو نقصان نہیں پہنچاتے لیکن برائی اور نا انصافی پر آواز بھی نہیں اٹھاتے۔

مضمون میں وضاحت سے بتایا گیا ہے کہ نفسیات میں آئی کیو ٹیسٹ کے نتائج عام طور پر ایک گھنٹی کی شکل کے گراف (Bell Curve) میں ظاہر کیے جاتے ہیں، جسے ”نفسیات کی گھنٹی“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں زیادہ تر افراد کا اسکور درمیانے حصے میں ہوتا ہے ( 100 کے قریب) ، جبکہ انتہائی کم یا زیادہ اسکور والے افراد تعداد میں کم ہوتے ہیں۔ یہ گراف ذہانت کی تقسیم کو واضح کرتا ہے تاکہ لوگوں میں ان کی صلاحیتوں کے مطابق مختلف کام سونپے جائیں۔

مضمون ”زندگی کا عدم توازن“ میں صادقہ نصیر صاحبہ نے نفسیاتی اور سماجی عدم توازن کے جو پہلو بیان کیے ہیں، وہ نفسیات میں کئی اہم موضوعات سے جڑے ہیں۔ ان میں شدت پسندی (extremism) ، بے اعتدالی (imbalance) ، اور ذہنی دباؤ (stress) جیسے عناصر شامل ہیں، جنہیں سائنسی اور نفسیاتی اصولوں کے مطابق سمجھنا ضروری ہے۔ نفسیات میں توازن (balance) یا ہارمونی (harmony) کو ذہنی صحت کی بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔ اگر انسان زندگی کے مختلف پہلوؤں میں توازن برقرار نہ رکھ سکے، تو یہ نہ صرف ذہنی صحت بلکہ جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔

لکھاری کا یہ کہنا کہ ”زندگی کے کسی بھی پہلو میں توازن کا نہ ہونا ہماری ذہنی سکون میں پہلے خلل پیدا کرتا ہے پھر ہماری ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے“ ہوبہو نفسیاتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، جب والدین بچوں کی تربیت میں شدت پسند رویہ اختیار کرتے ہیں، تو بچوں میں اعتماد کی کمی (low self۔ esteem) یا خود مختاری (autonomy) کی کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ مسائل زندگی بھر کے نفسیاتی اور سماجی رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ شدت پسندی اور بے اعتدالی بچوں کی تربیت، مذہب، سماجی تعلقات، اور روزمرہ کی عادات میں نظر آتی ہے۔ دوسری طرف، ضرورت سے زیادہ نظرانداز (neglect) انہیں سماجی تعلقات میں مشکلات کا شکار کر دیتا ہے۔

ذہنی صحت اور جسمانی صحت کا تعلق پر صادقہ صاحبہ کی تحریر اس اہم موضوع کو سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کرتی ہے کہ جسمانی اور ذہنی صحت کا باہمی ربط ایک پیچیدہ مگر ناقابل انکار حقیقت ہے۔ ان کی تحریر میں یہ جملہ، بہت وضاحت کے ساتھ جسم اور دماغ کے تعلق کو بیان کرتا ہے : ”جسم اور دماغ کے حیاتیاتی اور کیمیاوی وجود اور ذہنی اعمال و افعال بلا شبہ ایک دوسرے سے منسلک ہیں لیکن ہمیں ان سے جڑے مسائل کی تشخیص کے لئے درست سمت کا تعین کرنا ہو گا۔“ یہ جملہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جسمانی اور ذہنی صحت ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتی ہیں، اور ان کی شناخت کے لیے باریک بینی ضروری ہے۔

مزید وضاحت کے لیے انہوں نے والدین کی کوتاہیوں کو ان الفاظ میں پیش کیا: ”والدین یا تو اپنی کم علمی، حکمت اور دانائی سے تعصب یا ڈینائل کی وجہ سے ان کو شناخت نہیں کر پاتے اور اسی غلطی کی بنیاد پر جو مسائل پہلے دیکھنے چاہئیں وہ بعد پر چھوڑ دیتے ہیں یعنی Putting the Cart before Horse والی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں۔“ یہ جملہ والدین کی غیر سنجیدگی اور غلط ترجیحات کو بیان کرتا ہے، جو بچوں کے مسائل کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔

حسد انسانی شخصیت کا منفی پہلو کے باب میں قلمکار نے حسد کو انسانی شخصیت کا منفی پہلو قرار دیتے ہوئے اس کے اثرات اور وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔ مضمون کے مطابق، حسد ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کے اندرونی سکون کو برباد کر دیتا ہے اور اس کی شخصیت میں خلل پیدا کرتا ہے۔ حسد ایک ایسا نفسیاتی رویہ ہے جو موازنہ، کم مائیگی، اور دوسروں کی کامیابی یا خوشی کے خلاف جذبات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ مصنفہ نے حسد کی تکون کا ماڈل پیش کر کے نئے انداز سے حسد کو سائنسی اور معروضی طور پر واضح کیا ہے جو دلچسپ اور منفرد ہے۔ مزید یہ کہ حسد ایک سیکنڈری ایموشن ہے اور عدم تحفظ پرائمری۔

مضمون میں حسد کے اثرات کو نفسیاتی اور سماجی دونوں زاویوں سے بیان کیا گیا ہے۔ حسد نہ صرف فرد کو ذہنی دباؤ اور غصے میں مبتلا کرتا ہے بلکہ اس کے سماجی تعلقات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ تعلقات میں کشیدگی، شکایات، اور عدم اعتماد کا باعث بنتا ہے، جو فرد کو مزید تنہائی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حسد کے جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے فرد کو خود شناسی، مثبت سوچ، اور اپنے رویوں پر قابو پانے کی مشق کرنی چاہیے۔

سائیکو پیتھ کے موضوع پر صادقہ نصیر صاحبہ نے گہرائی اور تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ مضمون کے مطابق، سائیکو پیتھ افراد کو عام طور پر ”ایذا رساں“ یا ”زہریلے“ کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کی اذیت پہنچانے کی فطرت سانپ کے زہر کی مانند تباہ کن ہوتی ہے۔ یہ افراد، جو اینٹی سوشل پرسنالٹی ڈس آرڈر (Antisocial Personality Disorder۔ ASPD) کے زمرے میں آتے ہیں، اپنی مجرمانہ اور خود پسندانہ (Narcissistic) خصوصیات کے ذریعے دوسروں کو نقصان پہنچا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

تخلیق کار لکھتی ہیں : ”یہ اپنی فطرت پر مجبور ہوتے ہیں اور دوسروں کو تکلیف جتنی وہ دینا چاہتے ہیں دے کر ہی رہتے ہیں بلکہ یہ سلسلہ تمام زندگی چلتا ہے اور کہیں اسٹاپ سائن نہیں ہوتا۔“ یہ بیان سائیکو پیتھ کی بنیادی نوعیت کو واضح کرتا ہے کہ وہ منصوبہ بندی اور چالاکی سے دوسروں کو اذیت پہنچانے میں مصروف رہتے ہیں۔ صادقہ صاحبہ نے لکھا: ”لازمی نہیں کہ ہر سائیکو پیتھ جسمانی قتل ہی کرے، ہاں وہ ایسا کرتے ہیں یک دم یا آہستہ آہستہ اقدام قتل کی کوشش کرتے پائے جاتے ہیں۔“ یہ جملہ ان کے مختلف طریقہ واردات کی جانب اشارہ کرتا ہے، جہاں وہ سماجی اور نفسیاتی حربے استعمال کرتے ہیں۔

پیری فقیری اور گنڈے تعویذ کے کاروبار کی نفسیات پر نثر نگار کی تحریر ایک گہرا نفسیاتی اور معاشرتی تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس مضمون میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ انسان کی خوف، حسد اور غلبے کی جبلتوں کو استعمال کر کے ایک پورا کاروباری نظام کھڑا کر دیا گیا ہے، جو نہ صرف معاشرتی نقصان دہ ہے بلکہ انسانی نفسیات کی کمزوریوں کا بھرپور استحصال بھی کرتا ہے۔ مضمون میں یہ جملہ، ”صارف خوف زدہ اور کمزور ہوتا ہے اور بیماریوں سے گھبرایا ہوا وہ ان تاجروں سے رجوع کرتا ہے“ ، واضح کرتا ہے کہ یہ کاروبار خوف اور لاعلمی کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے۔

مضمون نگار نے یہ بھی بیان کیا کہ ”یہ پیر، عامل اور گنڈے تعویذ دینے والے انسان کی خوف، حسد اور غلبے کی خواہش کی جبلتوں کو استعمال کر کے پیسہ بناتے ہیں۔“ یہ جملہ تاجروں (Practitioners) کی نفسیات کو واضح کرتا ہے، جو اپنی سفاک ذہنیت، شاطر سوچ، اور مجرمانہ خصلتوں کے ذریعے نہ صرف مالی فائدہ اٹھاتے ہیں بلکہ لوگوں کو ذہنی بلیک میلنگ میں بھی مبتلا رکھتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف اپنے مفاد کے لئے دوسروں کا استحصال کرتے ہیں بلکہ اپنی اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لئے سماجی یا مذہبی طریقے بھی استعمال کرتے ہیں۔

کیا خاندان جرم سازی کی فیکٹریاں ہیں؟ اس سوال کو صادقہ صاحبہ کی تحریر کے ذریعے سمجھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خاندان، جو ایک مقدس سماجی اکائی ہے، بعض حالات میں مجرمانہ رویوں اور نفسیاتی مسائل کی افزائش کا مرکز بن سکتا ہے۔ مضمون کے مطابق، جرم کے پیچھے وراثتی عوامل (Genetic Factors) اور ماحولیاتی اثرات (Environmental Influences) دونوں کارفرما ہوتے ہیں۔ ایک جگہ مصنفہ تحریر فرماتی ہیں : ”ماحول کا پہلا زینہ خاندان کی اکائی ہے جہاں پر وراثتی یا جینیاتی عوامل بھی موجود ہیں اور جرم سکھانے کے ڈھانچے اور قالب بھی موجود ہیں۔“ یہ جملہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ خاندان میں موجود حسد، نفرت، اور تشدد جیسے رویے بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں، جو آگے چل کر سماجی مسائل اور مجرمانہ کردار میں ڈھل سکتے ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہے کہ سائیکو پیتھی (Psychopathy) اور نرگسیت (Narcissism) جیسے شخصیت کے عوارض اکثر جینیاتی بنیادوں پر منتقل ہوتے ہیں۔ لیکن ماحول، جیسا کہ گھر میں موجود منفی رویے، والدین کی باہمی کشیدگی، یا بچوں کو کسی ایک والدین کے خلاف اکسانا، ان عوارض کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ تحریر میں یہ جملہ، ”سکول بھیجنے سے پہلے بھی عدم برداشت کا سبق ملتا ہے“ ، والدین کے منفی کردار کی عکاسی کرتا ہے، جو بچوں کے رویے کو جرم کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ نفسیاتی آلودگی (Psychological Pollution) کو ماحولیاتی آلودگی کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ورنہ، جیسا کہ مضمون میں بیان کیا گیا: ”دنیا کے بڑے اور عظیم مجرموں، جابروں آمروں کے بچپن اور ابتدائی زندگیوں پر نظر ڈالیں سب نے زہر آلود بچپن گزارے ہیں۔“ یہ بیان جرم کے محرکات کو تاریخی اور نفسیاتی سیاق و سباق میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

ایک عورت کی ماہواری پورے کے پورے خاندان پر اثرات کی تحریر میں خواتین کے ماہانہ حیاتیاتی عمل کے نفسیاتی اور سماجی اثرات پر گہری روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس مضمون میں خواتین کے ماہواری کے دوران پیش آنے والے مسائل کو مختلف نفسیاتی عوارض، جیسے Premenstrual Syndrome (PMS) اور Mood Disorders، کے ساتھ جوڑا گیا ہے، اور اس کے اثرات کو نہ صرف انفرادی بلکہ خاندانی سطح پر بیان کیا گیا ہے۔

مؤلفہ لکھتی ہیں : ”اکثر گھریلو جھگڑے خاص طور پر میاں بیوی کے مابین جھگڑے عورت کے اس ماہانہ نظام سے چند دن پہلے یعنی پی۔ ایم۔ ایس کی صورت میں اور دوران ماہواری کے ایام میں جنم لیتے ہیں۔“ یہ بیان خواتین کے ماہواری کے دوران جسمانی اور جذباتی تبدیلیوں کے نفسیاتی اثرات کو اجاگر کرتا ہے، جو بعض اوقات خاندان کے دوسرے افراد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ تحریر میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ: ”نارسسٹ عورت میں اس دورانیے میں کنٹرول، خبط عظمت، حسد، حکمرانی، ڈرامہ، جھوٹ کی عادات میں شدت آ جاتی ہے۔“ یہ نکتہ واضح کرتا ہے کہ شخصیت کے عوارض کی موجودگی میں ماہواری کے دوران خواتین کے رویوں میں شدت خاندان کے دیگر افراد کے لئے چیلنج بن سکتی ہے۔ اس مسئلے کا حل آگاہی، تعاون، اور مثبت رویے کو فروغ دینے میں ہے۔ اس کے علاوہ، مرد حضرات کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حیاتیاتی اور نفسیاتی معاملے کو سمجھیں اور ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔

پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے مضمون میں عورت کے تخلیقی عمل اور اس کے نفسیاتی اثرات، خاص طور پر Postpartum Depression (PPD) ، کو تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں عورت کے ماں بننے کے عمل کو زمین کی زرخیزی اور فصلوں کی کٹائی سے تشبیہ دے کر ایک منفرد اور گہرے تعلق کی عکاسی کی گئی ہے۔ تحریر کا یہ جملہ، ”میرا وجود خالی ہو گیا ہے، میری کوکھ خالی ہو گئی ہے۔“ عورت کی اس اندرونی کیفیت کو اجاگر کرتا ہے جسے طبی زبان میں Postpartum Emotional Void کہا جا سکتا ہے، کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی، نئی ذمہ داریوں، نیند کی کمی، اور معاشرتی دباؤ بھی اس میں اضافہ کرتے ہیں۔ تحریر میں ماں کے اس تجربے کو زمین کے فصل کٹنے کے بعد کے خالی پن سے جوڑ کر ایک علامتی اظہار کیا گیا ہے، جو ماں اور زمین کے زرخیزی کے عمل کو یکجا کرتا ہے۔

تحریر میں دوسرا پہلو ”تخلیقی عمل“ کو بھی اسی زاویے سے دیکھتا ہے۔ تخلیقی تحریر کے بعد محسوس ہونے والے خالی پن کو بھی Post۔ Creation Depression کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ جملہ، ”یہ تجربہ بھی ماں بننے جیسا ہی ہے۔ اسے اسی طرح ایک طرح کے حمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یعنی کسی خیال کو conceive کرنے بعد بہت سے بے مقصد چکر لگانا، اور لیبر روم کی طرح پسینہ بہانا اور پھر کسی افسانے، کہانی یا تحریر کی پیدائش ہو جاتی۔“ لکھاری کے اس داخلی تجربے کو اجاگر کرتا ہے، جسے نفسیات میں Creative Cycle Emotional Lapse کہا جاتا ہے۔ علاج اور مقابلے کے لئے، مضمون میں سائیکا تھراپی، حمایت، اور تخلیقی عمل میں تسلسل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

صادقہ نصیر صاحبہ کی ایک اور تحریر والدین کا اپنے بچوں سے حسد میں ایک نفسیاتی اور سماجی مسئلے کو بے نقاب کیا گیا ہے، جو عمومی طور پر نظر انداز ہوتا ہے۔ والدین کا اپنی ہی اولاد سے حسد، جو ایک ناپسندیدہ حقیقت ہے، کو مضمون میں واضح طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مضمون کی یہ سطر، ”حاسد والدین کوالٹی ٹائم اور جینوئن محبت فراہم نہیں کر سکتے۔“ بچوں پر والدین کے منفی اثرات اور ان کے جذباتی و سماجی مسائل کی وضاحت کرتی ہے۔ نفسیاتی نقطۂ نظر سے بھی، والدین کے حسد کو Parental Narcissism یا Maladaptive Parenting کی صورتوں میں سمجھا جا سکتا ہے، جہاں والدین کی اپنی شخصیت کی خامیاں بچوں کے ساتھ ان کے رویے پر غالب آتی ہیں۔ Projection حسد کی جڑیں Pathological Jealousy اور Control Issues میں پائی جاتی ہیں، جہاں والدین اپنی توجہ یا اختیار کھونے کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔

مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ حاسد والدین بچوں کی خوشیوں کو نظر انداز کرتے ہیں، ان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، اور حتیٰ کہ ان کی ازدواجی زندگیوں میں دخل اندازی کرتے ہیں۔ مضمون میں تجویز کردہ رویہ کہ حاسد والدین بچوں کے پیدا کرنے سے گریز کریں، اس مسئلے کے سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ تاہم، جدید سائیکاٹری میں اس مسئلے کا علاج ممکن ہے۔ Cognitive Behavioral Therapy (CBT) اور Family Counseling ایسے والدین کو اپنے جذبات اور رویے کو سمجھنے اور بہتر کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

کام چوری کی نفسیات اور وجوہات پر صادقہ صاحبہ کا مضمون انسانی رویوں اور ان کے اثرات کو آسان اور جامع انداز میں پیش کرتا ہے۔ کام چوری ایک ایسا مسئلہ ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے اور ترقی میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ مضمون میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ”کام کے بغیر زندگی کا ارتقاء ناممکن ہے۔“ اس سے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کام کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ کام چوری کی نفسیاتی وجوہات میں بچپن میں والدین کی جانب سے بچوں کو خودمختار بننے کی ترغیب نہ دینا شامل ہے۔ جب والدین خود سہل پسند ہوں یا غیر فعال نظر آئیں تو بچے بھی غیر شعوری طور پر یہی رویہ اپنا لیتے ہیں۔

کام چوری کی طبی وجوہات میں ڈپریشن اور شخصیت کی خرابی شامل ہو سکتی ہیں۔ ڈپریشن کا شکار افراد اکثر کسی کام کو شروع کرنے یا اس میں دلچسپی لینے میں ناکام رہتے ہیں۔ اسی طرح، کچھ افراد اپنی برتری کے احساس کی وجہ سے دوسروں سے کام کروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سماجی طور پر، معاشرتی رویے اور غیر متوازن ذمہ داریوں کے باعث مردوں اور خواتین دونوں میں کام چوری کے رجحان کو فروغ ملتا ہے۔ اس مسئلے کا حل والدین کی جانب سے بچوں کو نظم و ضبط اور خود انحصاری سکھانے میں ہے۔ بچوں کو چھوٹی عمر سے کام کی اہمیت کا احساس دلانے اور ان کے لئے عملی مثال بننے سے یہ مسئلہ کم ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ مضمون میں کہا گیا ہے، ”اگر صبح اٹھتے وقت بچے نے اپنا بستر درست کر لیا تو سمجھیں کہ اس کی زندگی کی شکنیں خود بخود دور ہو جائیں گی۔“ یہ ایک چھوٹا مگر موثر قدم ہو سکتا ہے۔

کیا جپھی (ہگ) محبت کی دوا ہے؟ میں قلمکار نے ”جپھی“ کے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی پہلوؤں کو خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ انسانی نفسیات میں جسمانی لمس، خاص طور پر جپھی، ایک بنیادی ضرورت ہے جو نہ صرف بچوں بلکہ بالغوں کے لئے بھی جذباتی تسکین، تحفظ، اور ہمدردی کی علامت ہے۔ مضمون کی ایک اہم سطر: ”جپھی یا ہگ انسانی جسم میں خوشی کے ایسے ہارمون پیدا کرتے ہیں کہ جو بچے کی جسمانی و نفسیاتی صحت اور اس کی تعلیمی کارکردگی پر مثبت اور قابل فخر اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ “ اس بات کی سائنسی بنیاد کو تقویت دیتی ہے کہ جسمانی رابطہ دماغی کیمیا (neurochemistry) پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ثقافتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ مضمون واضح کرتا ہے کہ Patriarchal Norms اور Cultural Taboos بچوں کو جپھی جیسے مثبت جذباتی تجربے سے محروم کر سکتے ہیں۔ ماں باپ کے سخت رویے اور ”روایتی رعب“ بچے کے جذباتی تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ مضمون میں بیان کردہ کلینیکل کیس ہسٹری اس بات کو مزید اجاگر کرتی ہے کہ والدین کے اپنے جذباتی صدمات بچوں پر گہرے اثر ڈال سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک ماں جو خود جنسی زیادتی کا شکار رہی ہو، اپنے بچے کو غیر ضروری طور پر اوور پروٹیکٹیو انداز میں پالتے ہوئے اسے محفوظ محبت کے لمس سے محروم رکھ سکتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو صحت مند جسمانی رابطے کی اہمیت سے روشناس کرائیں، کیونکہ جپھی یا ہگ محبت کی ایک ضروری دوا ہے جو بچے کی ذہنی، جذباتی اور جسمانی نشوونما کے لئے لازم ہے۔

شادی کا بندھن ٹوٹنے کی نفسیاتی وجوہات کے باب میں صادقہ نصیر صاحبہ ازدواجی زندگی کے پیچیدہ نفسیاتی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کے مطابق شادی ایک زمینی رشتہ ہے، جس کی بقا یا خاتمہ زیادہ تر انسانی نفسیات، پرسنیلٹی ڈس آرڈرز، اور سماجی رویوں پر منحصر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا کہ ”شادی خالصتاً زمینی معاملہ ہے“ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ازدواجی بندھن کے ٹوٹنے میں انسانی اعمال اور رویے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ شادی میں بگاڑ کی بڑی وجوہات میں نارسزم (Narcissism) اور سائیکوپیتھی (Psychopathy) شامل ہیں، جو حسد (Envy) اور کنٹرول کی خواہش سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ خصائل ازدواجی زندگی میں تعلقات کو مسموم کرتے ہیں، مثلاً شریک حیات کو ترقی سے روکنا، بچوں کو دوسرے فریق سے دور رکھنا، اور باہمی اعتماد کو ختم کرنا۔ حسد کو ازدواجی دھوکہ دہی (Emotional Infidelity) کے برابر سمجھا جا سکتا ہے، جو علیحدگی یا طلاق کا سبب بنتا ہے۔

شادی میں اختلافات اکثر پرسنیلٹی ڈس آرڈرز کی دیگر علامات سے بھی پیدا ہوتے ہیں، جیسے تکمیلیت پسندی (Perfectionism) ، شک و شبہ (Paranoia) ، اور ہمدردی کی کمی (Lack of Empathy) ۔ ان مسائل کی شدت رومانوی جذبات کو ختم کر دیتی ہے اور تعلق کو جیل کی طرح محدود کر دیتی ہے۔ تخلیق کار کے مطابق، ”جب فریقین انا کی زد میں آ کر قناعت، شکر، معافی اور درگزر سے پہلو تہی کریں تو کشیدگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔“ شادی کے بندھن کو کامیاب بنانے کے لئے باہمی احترام، شکرگزاری، اور جذباتی وابستگی ضروری ہے۔ اگر کسی فریق میں نفسیاتی پیچیدگیاں موجود ہوں، تو جلد مدد لینے سے تعلقات کو بچایا جا سکتا ہے۔

کیا آپ شادی کے قابل ہیں؟ کا مضمون صادقہ صاحبہ کے ایک گہرے نفسیاتی اور سماجی تجزیے پر مبنی ہے، جس میں وہ شادی کو صرف جسمانی بلوغت کی بنیاد پر انجام دینے کے بجائے، اسے ایک پیشہ ورانہ مہارتوں پر مبنی معاہدہ قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق، شادی کے لئے جسمانی، ذہنی، اور سماجی قابلیتوں کا ہونا ضروری ہے، ورنہ یہ بندھن بکھر سکتا ہے۔ نثر نگار کہتی ہیں، ”پروفیشن کو اختیار کرنے کے لیے مختلف استطاعتیں اور قابلیتیں درکار ہوتی ہیں اسی طرح شادی کرنے سے پہلے اور بعد میں بھی ان قابلیتوں کا ہونا ضروری ہے۔“ یہ بیان واضح کرتا ہے کہ شادی کو بھی مکمل تیاری اور اہلیت کے ساتھ انجام دینا چاہیے۔ جسمانی اور وراثتی صحت کے معائنے، ذہنی صحت کے سرٹیفیکیٹس، اور جنسی بیماریوں کے ٹیسٹ جیسی ضروریات کو نظرانداز کرنے سے شراکت داری پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتی ہے۔ معاشی استحکام، سیلف ہیلپ مہارتوں، اور خاندانی اقدار سے مطابقت بھی شادی کے پائیدار ہونے کے لئے ضروری ہیں۔ تعلیم اور روزگار دونوں فریقین کو اپنے حقوق و فرائض متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

شادی کے دوران حسد، عدم برداشت، اور شک جیسی منفی نفسیاتی خصوصیات رشتے کی جڑوں کو کھوکھلا کر سکتی ہیں۔ مضمون نگار کے مطابق، ”شکر گزاری بھی شادی کی قابلیتوں میں حسین اضافہ ہے۔“ رومانوی جذبات کا عملی اظہار اور جذباتی تعاون شراکت داروں کو قریب رکھتا ہے۔ مصنفہ پری میرج کونسلنگ کو بھی لازمی قرار دیتی ہیں تاکہ ممکنہ مشکلات کو پہلے ہی کم کیا جا سکے۔ شادی کی قابلیت کو ایک تربیتی عمل کے طور پر دیکھنے سے رشتہ مضبوط اور بامعنی بنایا جا سکتا ہے۔

ٹین ایج کے نفسیاتی بحران کے عنوان سے قلمکار کی یہ تحریریں ٹین ایج کے مسائل کی عکاسی کرتے ہوئے والدین کی ذمہ داریوں اور چیلنجز پر مبنی ہیں۔ مضامین کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ والدین بچوں کی ابتدائی تربیت اور ٹین ایج کی تیاری میں جو غلطیاں کرتے ہیں، وہی مستقبل میں بچوں کی شخصیت اور رویوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ تحریر میں اس جملے : ”یہ اولاد جسے آپ نعمت سمجھتے ہیں، یہ آپ کے لیے آزمائش ہے“ سے والدین کی توقعات اور حقیقت کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ بچوں کی پیدائش سے لے کر ٹین ایج کے مرحلے تک والدین اپنی توقعات، جذبات، اور تربیتی حکمت عملیوں کے ذریعے بچوں کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن بلوغت کے ساتھ پیدا ہونے والی جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں بچوں کی شخصیت کو نئی سمت دے سکتی ہیں۔

تحقیقی اور نفسیاتی نقطہ نظر سے، ٹین ایج میں ہارمونی تبدیلیاں (Hormonal Changes) ، نفسیاتی دباؤ (Psychological Stress) ، اور شناخت کی تشکیل (Identity Formation) جیسے عوامل بچوں کے رویے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تحریر میں مزید یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ والدین کے تنازعات، غیر ہم آہنگی، یا سخت گیر رویے بچے کے اندر کنڈکٹ ڈس آرڈر (Conduct Disorder) یا اینٹی سوشل رویے (Anti۔ Social Behavior) کو جنم دے سکتے ہیں۔ مضمون والدین کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ مددگار (Supportive) اور معاون (Facilitative) بنیں، بچوں کے فیصلوں کو تسلیم کریں، اور ان کے جذباتی اور سماجی نشوونما کو سپورٹ کریں۔

ذہنی امراض کا علاج اور سیلف ہیلپ کے باب میں لکھاری نے ذہنی امراض کے علاج اور ”سیلف ہیلپ“ (Self۔ Help) کے اہم پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔ مضمون اس بنیادی فرق کو واضح کرتا ہے کہ ذہنی بیماریوں کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ معاشرتی رویے، لاعلمی اور اس سے جڑے ہوئے ”کلنک کے داغ“ (Stigma) ہیں۔ مضمون کا نکتہ آغاز یہ تسلیم کرتا ہے کہ ذہنی مسائل بھی جسمانی بیماریوں کی طرح قابل علاج ہیں، بشرطیکہ مریض اور اس کے آس پاس کے لوگ اس حقیقت کو قبول کریں۔ ایک مثال کے ذریعے مضمون اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ شعور اور تعاون کے ذریعے نہ صرف ایک مریض اپنے علاج کو کامیاب بنا سکتا ہے بلکہ اپنے خاندان کی خوشحالی میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ جیسا کہ ایک خاتون کے تجربے میں بیان کیا گیا کہ انہوں نے اپنی بیماری کو چھپانے کی بجائے اپنے شوہر اور خاندان کے تعاون سے علاج کو مکمل کیا اور نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔

نفسیاتی علاج کے مراحل میں سے ”سیلف ہیلپ“ سب سے زیادہ مثالی اس وقت ثابت ہوتی ہے جب مریض اپنے رویوں کا تجزیہ کر سکے، اپنی منفی عادات پر قابو پا سکے، اور ضرورت پڑنے پر ماہرین کی رہنمائی کے لیے خود کو پیش کرے۔ مضمون میں دی گئی مثال شعور اور خود احتسابی کے ذریعے ذہنی صحت کی بحالی کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ یہ تحریر ذہنی بیماریوں سے متعلق غلط فہمیوں اور توہمات کو دور کرنے اور نفسیاتی علاج کی افادیت کو اجاگر کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔

گرین زون تھیراپی ذہنی صحت کے مسائل کو سمجھنے اور ان کا علاج کرنے کا ایک منفرد اور موثر فلسفہ ہے۔ یہ فلسفہ انسانی ذہن کی پیچیدگیوں کو ٹریفک لائٹس کے نظام سے مشابہت دے کر آسان انداز میں بیان کرتا ہے، تاکہ لوگ اپنی جذباتی اور نفسیاتی حالتوں کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اور ان پر قابو پا سکیں۔ اس فلسفے میں ”ریڈ زون“ غصہ، نفرت اور منفی جذبات کی علامت ہے، ”ییلو زون“ محتاط رویوں کی نشاندہی کرتا ہے، اور ”گرین زون“ وہ مثالی حالت ہے جہاں انسان سکون، توازن اور مثبت جذبات کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔ یہ فلسفہ ڈاکٹر خالد سہیل کا ایک انقلابی نظریہ ہے، جو سائیکاٹری اور نفسیات کے جدید طریقوں کے ساتھ نفسیاتی مسائل کے علاج کو موثر اور آسان بنانے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔

ڈائری لکھنے کی تجویز گرین زون تھیراپی کا ایک اہم جزو ہے، جو انسان کو اپنے جذبات، خیالات، اور رویوں کا تجزیہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ تکنیک نہ صرف نفسیاتی علاج میں معاون ثابت ہوتی ہے بلکہ خود شناسی (Self۔ Awareness) اور خود احتسابی (Self۔ Reflection) کے لیے بھی ایک بہترین حکمت عملی ہے۔ فلسفہ گرین زون یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی کے مقاصد کو آہستہ اور مستقل مزاجی کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ”کچھوے کی رفتار“ کی مثال میں بیان کیا گیا۔ یہ اصول نہ صرف نفسیاتی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ عمومی زندگی میں کامیابی کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

روزمرہ کی نفسیات میں صادقہ نصیر صاحبہ نے انسانی رویوں، نفسیاتی مسائل، اور معاشرتی اثرات پر گہرے تجزیے پیش کیے ہیں۔ ان کی تحریریں زندگی کی پیچیدگیوں کو سادہ اور موثر انداز میں بیان کرتی ہیں، جو عام قاری کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ یہ کتاب نفسیاتی علم کو سمجھنے اور بہتر زندگی گزارنے کے لیے ایک اہم حوالہ ہے۔

یہ کتاب ”روزمرہ کی نفسیات“ ماورا پبلشرز لاہور پاکستان کی جانب سے سال 2024 میں شائع کی گئی ہے، جس کی قیمت 1200 روپے ہے ؛ اور اسے 923004020955 + پر کال کر کے منگوایا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani