بشار الاسد کا زوال اور پاکستانیوں کے لئے درس
مسٹر بشار الاسد فرار ہو کر ماسکو پہنچ گئے۔ ہر آفت اور مصیبت سے بڑی ایک مصیبت ہوتی ہے۔ بشار الاسد کے زوال کے بعد ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر یہ بھول گئے ہیں کہ معاشرے تجزیہ و تحلیل کرنے اور بیداری سے آگے بڑھتے ہیں نہ کہ مشکل حالات میں کبوتر کی مانند آنکھیں بند کر کے نیک تمنّاؤں سے۔ ہماری یہ دنیا، کائنات، معاشرہ اور سماج ایک تجربہ گاہ اور لیبارٹری کی مانند ہے۔ بشارالاسد کا سقوط ہماری اس دنیا کی ایک حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو دنیا کے اختتام کی نشانیوں میں سے قرار دینے کے بجائے ہمیں دنیا کی بقا اور زندگی کے ارتقا کے لئے یہ سوچنا چاہیے کہ اس میں ہمارے لئے عبرت کا کیا سامان پوشیدہ ہے۔
چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے ہاں بشارالاسد کے زوال اور فرار کو ایک حقیقت اور تجربے کے طور پر فراخدلی سے قبول کرتے ہوئے اس کے پسِ پردہ عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی۔ تاہم ایسا تو نہ ہوا لیکن ایک مخصوص غیر علمی مذہبی طبقے نے حسبِ عادت اس واقعے کا ملبہ بھی قیامت اور حضرت امام مہدی ؑ کے ظہور پر ڈال دیا۔ ایسا ہی کرونا وائرس کی آمد کے وقت بھی کیا گیا تھا۔ ایسا طبقہ چونکہ خود علمی طور پر عقب ماندہ ہوتا ہے لہذا یہ اپنی لچھے دار باتوں سے دوسروں کو بھی تجزیہ و تحلیل جیسی خداداد صلاحیّت سے استفادہ نہیں کر نے دیتا۔ کرونا وائرس کے موقع پر ایسے ہی لوگوں کی باتوں کی وجہ سے کتنے ہی لوگوں نے مراجع کرام اور مجتہدین کے فتاوی کے باوجود حفاظتی ویکسین نہیں لگوائی، اپنا علاج نہیں کرایا اور بہت سارے اسی طرح موت کے منہ میں چلے گئے۔ بشارالاسد کے فرار کو بھی یہ لوگ اسی انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
جو اُن کا کام ہے سو وہ انجام دے رہے ہیں تاہم ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مشرقِ وسطی میں شام کی حیثیت ایک دِل کی سی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے شام کے اندر امریکہ، ترکی، خلیجی ریاستوں خصوصاً سعودی عرب اور قطر کے لئے ایران کی موجودگی ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ عرب نیشنلزم پر یقین کرنے کے بعد 2023 سے بشارالاسد تیزی کے ساتھ ایران سے دور ہوتا گیا۔ قاسم سلیمانی، اسماعیل ہنیہ اور سید حسن نصراللہ سمیت اعلی درجے کی مقاومتی شخصیات کی شہادتیں بھی اپنے پیچھے ایک خلا چھوڑ گئیں۔
حالیہ کچھ عرصے میں شام میں اسرائیل نے عسکری کارروائیاں کر کے پے در پے کئی اعلیٰ ایرانی شخصیات کو شہید کیا اور ایرانی ایمبیسی وغیرہ کو بھی نشانہ بنایا۔ وقتی طور پر ایران نے حوثیوں اور حماس پر خاص توجہ دی تاہم اس توجہ نے بھی شام کے محاذ کی تلافی نہ کی۔ ایران کے اسرائیل پر ڈرون حملوں سے بھی وینٹی لیٹر پر پڑے ہوئے بشار الاسد کو کوئی افاقہ نہ ہوا۔
شنید ہے کہ ایران کی اعلی قیادت نے بشارالاسد کو کئی مرتبہ عربوں پر اعتماد کرنے کی غلطی نہ کرنے کی تاکید کی لیکن بشارالاسد نے یہ غلطی کی اور اس کا خمیازہ بھی بھگتا۔ غور و فکر کرنے والوں کے لئے یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آخر ایسی کیا وجہ تھی کہ بشارالاسد نے آخری لمحے تک اس غلطی سے ہاتھ نہیں کھینچا؟ اس سوال کے جواب سے پہلے اتنا یاد رکھئے کہ دنیا گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے اور ہمیں بحیثیتِ پاکستانی بشارالاسد کے سقوط اور فرار سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
بشارالاسد کی ایک اہم غلطی دہشت گردوں کو پناہ دینا تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان میں ہو رہا ہے۔ دہشت گردوں کا شام سے مکمل صفایا کرنے کے بجائے بشارالاسد نے انہیں عرب قوم کے قیمتی اثاثے سمجھنا شروع کر دیا تھا اور ان کے خلاف مزید کسی کارروائی سے انکار کر دیا تھا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ وہی دہشت گرد منظم ہوئے اور آناً فانا ً دارالحکومت پر قابض ہو گئے۔
دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ایران اور بشارالاسد کے خلاف دنیا بھر میں اور خصوصاً شام کے اندر ایک ہمہ جانبہ سافٹ وار خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بڑی جنگ لڑی گئی جس کے نتیجے میں شامی عوام کی اندر ایران و بشارالاسد کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی۔ بشار الاسد کی حکومت نے میڈیا وار کو خاص اہمیّت نہیں دی چنانچہ سوشل میڈیا پر جدھر کی ہوا چلی عوام کی اکثریت بھی اُسی طرف مُڑتی گئی۔ ایسا ہی وطنی عزیز میں بھی ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کو فروغ دینے نیز غلط استعمال کو روکنے کے بجائے، سوشل میڈیا پر بے جا پابندیوں کا احمقانہ سہارا لیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی طور ملکی مفاد کے حق میں نہیں۔
بشارالاسد کے باغیوں کے سہولت کار اُس کی حکومت کے اندر ہی موجود تھے۔ اس وقت بھی باغیوں کی موجودہ حکومت کی سرپرستی سابق وزیراعظم ہی کر رہا ہے۔ نیز سابق حکومت کے اکثر وزرا ابھی بھی دمشق میں ہی ہیں۔ شامی حکومت میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی موجودگی کا نتیجہ یہ ہے کہ بشارالاسد کے حاشیہ نشینوں اور اس کی کابینہ نے ایک طرف تو مقاومتی بلاک کو نقصان پہنچایا اور دوسری طرف بشارالاسد کو بھی انتہائی سستے داموں بیچ دیا۔ پاکستان کے ریاستی اداروں میں بھی ایسے افراد کی موجودگی ایک بڑا خطرہ ہے جو دہشت گرد ٹولوں کے ہم نوا، سہولت کار اور ہمدرد ہیں۔
اگر آپ اس آخری سال کے دوران ہی شام کی صورت حال کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ بشارالاسد کی ایران سے دوری ایک سفارتی عمل کے طور پر وقوع پذیر ہوئی۔ امریکہ، یورپ اور عرب ریاستوں نے بشارالاسد کو جنگِ نرم کے ذریعے جہاں عرب قومیّت کے سبز باغ دکھائے وہیں اسے اسلامی جمہوریہ ایران سے شدید نا امید کیا۔ یہ شدید نا امیدی بنیادی طور پر ڈپلومیسی، غلط تجزیہ و تحلیل، میڈیا، ڈس انفارمیشن، سوشل میڈیا اور بشارالاسد کی کابینہ میں موجود مغرض افراد کی مدد سے پھیلائی گئی۔ بشارالاسد نے جب اپنی امیدیں عربی نیشنلزم سے وابستہ کر لیں اور خدا اور اسلام سے مایوس ہو گیا تو اُس کا انجام یہی ہونا تھا۔
ہمارے ہاں بھی نظریہ پاکستان سے انحراف، نیز قائداعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان سے انکار کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ کوئی معمولی انحراف نہیں۔ یاد رکھئے کہ جب کسی قوم کے بڑے ہی اپنے نظریات سے منحرف ہونے لگیں، کسی قائد کے اپنی ہی جیب میں کھوٹے سکّے پڑے ہوں، اُس کے دوست ہی اس کے دشمنوں کے آلہ کار بن جائیں، اور اُس کے دشمن اُس کی ملّت کونا امید اور مایوس کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر ایسی قوم اپنے دشمنوں کے خلاف زیادہ دیر تک مقاومت نہیں کر سکتی۔
آپ اس وقت پاکستان کی صورتحال کا بھی جائزہ لیں، آج پاکستان کے عوام کو بھی ملک اور ملکی اداروں نیز سیاستدانوں، عدالتوں اور میڈیا وغیرہ سے مایوس کر دیا گیا ہے۔ لوگ اس ملک اور اس کے اداروں سے نا امید ہو چکے ہیں۔ ہماری دانست میں جلد از جلد اس نا امیدی کو امید میں بدلنے کا کوئی چارہ کیا جانا چاہیے۔
ایران اپنے انقلاب اور پاکستان اپنے قیام کے بعد سے مسلسل سازشوں و مشکلات کا شکار ہے۔ ان مشکلات کے علاج کے حوالے سے ایران کے سُپریم لیڈر کا ایک حکمت آمیز جملہ ملاحظہ فرمائیے، یہ جملہ پاکستانیوں کے لئے بھی بہت اہم ہے :
میں نے پہلے سے کہا ہوا ہے اور آج پھر دہرا رہا ہوں۔ سب مسؤلین جان لیں کہ ہماری ساری مشکلات کا علاج ہمارے اپنے ملک کے اندر ہی ہے۔ ہماری بہت ساری مشکلات ملک سے باہر کے ساتھ مربوط ہیں لیکن اُن کا علاج ملک کے اندر ہی ہے۔ [ 1 ]
جی ہاں! آئیے بشارالاسد کی مانند مشکلات سے فرار کرنے کے اور عقب ماندہ مذہبی عناصر کی طرح دین کو بطورِ افیون استعمال کرنے کے بجائے اپنے ملک کی مشکلات کے علاج کو اپنے ملک اندر ہی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسانی معاشرے کے لئے جتنا بڑا خطرہ مایوسی اور نا امیدی ہے اتنا ہی بڑا خطرہ دین کو بطورِ افیون استعمال کرنا بھی ہے۔
[ 1 ] من این را گفتھام، باز ہم تکرار میکنم، تا فعّالان بخشھای گوناگونی کہ در زمینھی اقتصاد و غیر اقتصاد مسؤل ہستند ہمہ بدانند کہ علاج ہمھی مشکلات در داخل کشور است۔ بسیاری از مشکلات ما مربوط بہ خارج از کشور است، امّا علاجش در داخل است۔


