ایلون مسلک کی بنائی روبوٹ خاتون اور پاکستانی خاتون کے درمیان کیا فرق ہے؟

یہ سوال ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے اپنی فیس بک وال پر شیئر کیا ہے، جس کے جواب میں ”کی بورڈ اصلاح پسند“ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں، سوال کو سمجھنے کی بجائے ٹھٹھے اڑائے جا رہے ہیں۔
معروف بھارتی دانشور جاوید اختر نے ایک بار کہا تھا کہ ”شادی“ تو محض ایک رسم کا نام ہے، اس سے زیادہ رشتے میں دوستی، برابری اور اخلاص کی اہمیت ہوتی ہے، مشرقی روایات میں شادی کا مطلب جبری بندوبست ہوتا ہے جس میں شوہر کا کردار آ قا کا ہوتا ہے اور بیوی کو غلام تصور کیا جاتا ہے۔ شوہر اور بیوی ایسے شبد اس رشتے پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ جہاں انفرادیت، آزادی، پیار و محبت اور باہمی احترام کی بنیاد پر رشتے تشکیل پاتے ہیں اس کے سامنے ”شادی یا شوہر بیوی“ ایسے الفاظ چھوٹے لگتے ہیں۔ مجازی خدا، فرمانبردار اور اطاعت گزار ایسی اصطلاحات نے اسی بندوبست کے سائے میں جنم لیا ہے۔
کہنے کو تو یہ باتیں بہت تلخ ہیں اور بہت سوں کے لیے ناقابل برداشت بھی ہو سکتی ہیں لیکن حقائق سے منہ موڑ لینا بھی تو کوئی دانشمندی نہیں ہوتی نا!
مشرقی روایات میں ازدواجی تعلقات کوئی زیادہ دیرپا اور پُرسکون نہیں ہوتے، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ عدالتی کیسز اس رشتے کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ میڈیا میں تو ہمیں وہی جھلک ملتی ہے جو کیس رپورٹ ہوتے ہیں، ان رپورٹڈ کیسز کی تعداد تو کہیں زیادہ ہے جو عزت، عصمت اور بے بسی کی قبر میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے ہیں۔
انسانی زندگی انتہائی قیمتی اور قدرت کا نایاب ترین تحفہ ہوتی ہے جو نجانے کتنے کروموسومز میں سے زندہ بچ جانے والے واحد کروموسوم کے نتیجے میں اتفاقیہ طور پر معرض وجود میں آتی ہے، قدرت کے اس قیمتی تحفے کا استحصال کرنے میں ہم کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ایک ایسی حادثاتی زندگی جو اتفاق سے صرف ایک بار ملتی ہے ختم ہو جانے کے بعد یہ کس رنگ میں ڈھلتی ہے کون جانے؟
ہم اس گوہر نایاب کو جبری اور بے جوڑ رشتوں کی نذر کر دیتے ہیں جو اس کی انفرادیت یا حقیقی جوہر کو مسخ کر ڈالتے ہیں، تشکیل پانے والے انسانی رشتے بھلے خاتون کا مرد سے یا مرد کا مرد سے ہو احترام باہمی کی بنیاد پر نمو پاتے ہیں۔ رشتوں میں ناہمواری یا ولی اور سرپرست کی صورت میں جبر رشتوں کی حقیقی روح کو متاثر کرتا ہے، رشتے دلوں اور روح کا بندھن ہوتے ہیں اور باہمی رضامندی کی بنیاد پر نبھائے جاتے ہیں۔
اب اس تلخ حقیقت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ بچی کے پیدا ہونے سے شادی ہونے تک اسے خاتون ہونے کا باقاعدہ احساس دلایا جاتا ہے، اس کی حرکات و سکنات اور افعال پر معاشرہ گہری نگاہ رکھتا ہے، ذرا سی چوک و خطا پر اس پر نجانے کس قدر گھٹیا الزامات لگا دیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی نقل و حرکت پر پابندی کے علاوہ سکول و کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم سے بھی ہٹا دیا جاتا ہے۔
بس شادی کے دن اسے بنا سنوار کر منہ بند کر کے ایک کونے میں بٹھا دیا جاتا ہے، بنا کسی قلبی و دماغی رضامندی کے ”قبول ہے“ کی گردان دہرانے کے بعد اسے اگلے گھر روانہ کر دیا جاتا ہے، اب اگلے گھر اس کے ساتھ کیسے بیتتی ہے کون جانے؟ جب تک پتا چلتا ہے اس کی روح و دماغ پر نجانے کتنے چھید ہو چکے ہوتے ہیں، نجانے کتنی اذیتوں سے گزرنے کے بعد ایک بے حس سی زندہ لاش میں تبدیل ہو چکی ہوتی ہے کون جانے؟ ماں باپ تو اپنے فرائض ادا کر چکے، اب تو بیٹی کی باری ہے نا جیسے بھی بیتے بیتانی پڑے گی، اس کے بنا اس بیچاری کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے بھلے ہم تسلیم کریں یا نہ کریں کہ ایک بے جان روبوٹ اور ایک زندہ خاتون کے بیچ فرق مٹ جاتا ہے، روبوٹ خاتون بھی استعمال کرنے والے کی مطیع و فرمانبردار ہوتی ہے اور ایک زندہ خاتون بھی اپنے شوہر کی تابعدار ہوتی ہے شوہر میاں کو تو اپنی جنسی بھوک یا تسکین سے غرض ہوتی ہے اسے اپنی لائف پارٹنر کی تسکین سے کیا لینا دینا؟ وہ کوئی انسان تھوڑے ہوتی ہے؟ بس ایک نام کی زندہ خاتون جس کے وجود کا صرف ایک ہی حصہ تو کام کا ہوتا ہے جسے وجائنا کہا جاتا ہے باقی تو وہ گوشت کا لوتھڑا ہوتی ہے۔
دن میں گھر داری کرتی ہے اور رات کو ایک ٹھنڈے گوشت کی مانند اپنے شوہر کی تسکین کا سامان بنتی ہے۔

