راجھستان


راجستھان شمالی بھارت کی ایک اسٹیٹ ہے جس کا رقبہ ساڑھے تین لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ ( پاکستان کے صوبہ پنجاب کا رقبہ دو لاکھ مربع کلومیٹر کے قریب ہے۔ ) یہ اسٹیٹ بھارت کے کل جغرافیائی رقبے کا دس فیصد ہے اور یوں رقبے کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی ریاست بھی ہے لیکن آبادی کے اعتبار سے اس کا ساتواں نمبر ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ غیر آباد اور صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اسی وجہ سے اسے عظیم ہندوستانی صحرا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی مغربی اور شمالی سرحد پاکستان کے صوبوں پنجاب اور سندھ سے ملتی ہے۔ دوسری جانب اس کی سرحدیں بھارت کی پانچ اسٹیٹس سے ملتی ہیں۔ اس کے شمال میں پنجاب، شمال مشرق میں ہریانہ اور اتر پردیش، جنوب مشرق میں مدھیہ پردیش اور جنوب مغرب میں گجرات واقع ہے۔ اس ریاست کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس علاقے میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کے ساتھ ساتھ ویدک اور دیگر کئی قدیم تہذیبوں کے کھنڈرات بھی ملتے ہیں۔ یہاں پرندوں کی بقاء کے لیے ایک نیشنل پارک بھی بنایا گیا ہے۔ یہاں شیروں کی نسل کی حفاظت کے لیے بھی تین علاقے مختص ہیں۔

انگریزوں کے دور میں یہاں اٹھارہ ریاستیں موجود تھیں جن میں دو جاٹ اور سولہ راجپوت ریاستیں شامل تھیں۔ اُس وقت اسے راجپوتانہ کہا جاتا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد اس علاقے کو ایک اسٹیٹ کا درجہ دے دیا گیا اور اس کا نام راجستھان رکھا گیا۔ اس کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر جے پور ہے جبکہ دوسرے اہم شہروں میں جودھ پور، کوٹا، بیکانیر، اجمیر، بھرت پور اور اودے پور قابل ذکر ہیں۔ معیشت کے اعتبار سے اس کا جی ڈی پی ایک سو چالیس بلین امریکی ڈالر ہے جو پاکستان سے نصف ہے۔ معیشت کی فہرست میں یہ بھارت میں ساتویں نمبر پر ہے۔ انسانی ترقیاتی انڈیکس میں اس کا 29 واں نمبر ہے جو کافی کم ہے۔

راجستھان کی تاریخ جاننے کے لیے میں نے درج ذیل کتب سے استفادہ کیا ہے۔ جو میں جان سکا حاضر خدمت ہے۔

Rima Hooja کی کتاب A History of Rajasthan رادھے شیام چوریسیا کی کتاب History of Ancient India: Earliest Times to 1000 A۔ D۔ جان کیی کی کتاب India: A History آر کے گپتا کی کتاب Studies In Indian History Rajasthan Through The Ages The Heritage Of Rajputs Set Of 5 Vols۔

علاقے کی تاریخ کتنی قدیم ہے، اس بارے میں متضاد باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ اس سے متعلق پہلا حوالہ ساتویں صدی عیسوی میں ایک پتھر پر لکھی تحریر سے ملتا ہے۔ اس کا نام راجپوتانہ کب پڑا، یہ جاننا بے حد مشکل ہے۔ راجپوت کا مطلب راجہ کا بیٹا ہے۔ اس علاقے کے راجاؤں نے اپنے بچوں کو اپنے منصب کی مناسبت سے راجہ کا پوت کہلوانا پسند کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے ان کے بچوں میں ایک احساس تفاخر پیدا ہو گا جو ان کی شخصیت کا ایک لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ اب سب راجپوت کہلاتے ہیں۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ راجہ کی اولاد میں سے ہیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو حکمران خاندان سے جوڑتے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پچھلے پانچ ہزار سال سے ہندوستان کے حکمران ہیں۔ ایک انگریز مورخ کے مطابق انگریزوں نے اس علاقے کو فتح کرنے کے بعد ایک بڑے حصے کا نام راجپوتانہ رکھا۔ اس سے پہلے کسی نے بھی اس نام کو استعمال نہیں کیا تھا۔ اس وقت یہاں قائم مختلف ریاستیں ہی اس کی اصل پہچان تھیں۔ راجستھان کے علاقے پر کئی خاندانوں نے صدیوں حکمرانی کی۔ ماضی قریب کی تاریخ کا مختصر ذکر پیش خدمت ہے۔

ہندوستان میں آنے والے غیر ملکیوں میں عرب وہ پہلے لوگ ہیں جو تجارت کی غرض سے جنوبی ہندوستان کے ساحلوں پر آئے اور زمینی حملوں کے لیے سندھ کا راستہ اختیار کیا۔ اس کی ایک مثال سندھ میں محمد بن قاسم کا حملہ ہے۔ تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس سے قبل بھی عرب، ہندوستان کے مغربی علاقوں پر حملے کرتے رہے لیکن انھیں محمد بن قاسم کے دور میں ہی کامیابی ملی۔ سندھ کے بعد انھوں نے بارہا یہ کوشش کی کہ وہ سندھ سے منسلک علاقے جسے اب ہم راجستھان کہتے ہیں پر بھی اپنا قبضہ جما لیں۔ اس دور میں راجستھان کے علاقوں میں گجرارا پرتیہار سلطنت موجود تھی، جو ایک طاقتور ریاست تھی۔ اس کی وجہ سے پوری دنیا میں فتوحات حاصل کر نے والے عرب اس علاقے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کی حکمرانی صرف سندھ تک ہی محدود رہی۔ اس لیے گجرارا پرتیہار کو ہندوستان کا رکھوالا بھی کہا جاتا ہے۔ انھوں نے کسی بھی غیر ملکی کو ہندوستان میں داخل نہ ہونے دیا۔ تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کا یہ دور ایک سنہری دور مانا جاتا ہے۔

میں نے گجرارا پرتیہار سے متعلق جتنا بھی پڑھا اس کے مطابق وہ لوگ اپنے وقت کے انتہائی ترقی یافتہ لوگ تھے۔ پھر وہی ہوا جو ریاستوں کے ساتھ ہوتا ہے تقسیم ریاست، زوال ریاست۔ پھر ایک وقت آیا کہ محمود غزنوی نے اس علاقے پر حملہ کیا اور یہاں کے حکمرانوں کا خاتمہ کر دیا اور صدیوں سے قائم قنوج کی ریاست سمیت بے شمار دیگر ریاستوں کا بھی خاتمہ کر دیا۔

کیا ایسا اس لیے ہوا کہ محمود، عربوں سے زیادہ طاقتور تھا یا مقامی ریاست کمزور ہو گئی تھی؟ اس کا صحیح جواب تو شاید کسی کے پاس نہ ہو لیکن میرا گمان ہے کہ غزنوی عربوں سے طاقتور نہیں تھا۔ کیونکہ عربوں کی تو پہلے سے ہی سندھ میں حکومت قائم تھی اور انھیں اس علاقے میں بسنے والے دیگر حکمرانوں کی حمایت بھی حاصل تھی جبکہ غزنوی بہت دور سے آیا تھا اور اسے کوئی مقامی مدد بھی میّسر نہ تھی۔ اس بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ غیر ملکی حملہ آوروں، عرب ہوں یا افغان، مغل یا ترک یا یورپین سب کو یہاں کامیابی صرف مقامی ریاستوں کی کمزوری کی وجہ سے ہی ملی۔

راجستھان میں راجپوتوں کے علاوہ بھی کئی قومیں آباد ہیں جن میں براہمن، گجر اور جاٹ وغیرہ شامل ہیں۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ ان تمام لوگوں نے اپنی ثقافت اور زمین کی حفاظت کرتے ہوئے لاکھوں افراد کی قربانی دی۔ بارہویں صدی کے آخر میں موجودہ کرنال کے علاقہ میں پرتھوی راج چوہان نے ایک افغان حملہ آور محمد غوری کو شکست دی لیکن یہ کامیابی کی خوشی زیادہ دیر تک بر قرار نہ رہ سکی۔ اگلے ہی سال محمد غوری نے ترائن کی دوسری لڑائی میں پرتھوی راج کو شکست دے دی۔ (اس کا تفصیلی ذکر آئندہ صفحات میں بیان ہو گا) ۔ اس طرح راجستھان کا ایک بڑا حصہ غیر ملکی مسلمان حکمرانوں کے ماتحت آ گیا۔ اس وقت ناگور اور اجمیر مسلمانوں کی طاقت کے گڑھ تھے۔ اس کے بعد تیرہویں صدی میں مقامی لوگوں نے غیر ملکی مسلمان حکمرانوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ تیرہویں صدی کے آغاز میں راجستھان کی سب سے نمایاں اور طاقتور ریاست میواڑ تھی۔ متعدد راجپوت اور دیگر ریاستوں نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے۔ ایک وقت آیا کہ سارا علاقہ وسطی ایشیاء اور افغان علاقوں سے آنے والے مسلمان حملہ آوروں کے زیرنگیں ہو گیا۔

تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ان علاقوں میں مقامی لوگ وقتاً فوقتاً بغاوت کرتے رہے مگر ناکام رہے۔ مثال کے طور پر میانہ کے رانا کی جنگیں، رانا ہمیر سنگھ کا تغلق حکمرانوں کو شکست دینا، رانا کمبھا کی مالوا کے خلاف چڑھائی، ناگور اور گجرات کے سلطانوں پر غلبہ حاصل کرنا، میواڑ کی ریاست کا قیام وغیرہ۔ رانا سانگا کا مختلف راجپوت قبیلوں کو متحد کرنا، دلی کی افغان لودھی، مالوا اور گجرات کے ترک سلطانوں کو شکست اور پہلے مغل بادشاہ بابر پر فتح حاصل کرنا۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ رانا سانگا کی موت کے بعد ان غیر ملکی مسلمان حکمرانوں کا راستہ روکنے والا کوئی نہ تھا۔ ایک وقت آیا کہ وسطی ایشیاء سے آ کر مغلوں کی قائم کردہ سلطنت بھی کمزور پڑ گئی اور پھر ایک غیر ملکی عیسائی طاقت نے یہاں پر اپنی اجارہ داری قائم کی۔ اُس وقت مقامی ریاستیں تقسیم در تقسیم کے عمل کے بعد بے حد کمزور ہو چکی تھیں اور ان کے پاس سوائے انگریزوں کی غلامی کے کوئی اور چارہ نہ تھا۔

یہاں ایک اور شخصیت ہیم چندر وکرمادتیہ کی جدوجہد کا تذکرہ کرنا بھی بے حد ضروری ہے جس نے مختصر عرصہ کے لیے اپنی ایک حکومت قائم کی۔ اسے ہندو، شہنشاہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ وہ واحد ہندو حکمران ہے جس نے افغانیوں کے خلاف بائیس جنگیں جیتیں اور اکبر کو بھی شکست دی۔ اس کے دور میں ہندوستان کے شمالی علاقوں میں مختصر مدت کے لیے ہندو راج کا چلن عام ہو گیا۔

ہیم چندرا پانی پت کی دوسری لڑائی میں مغلوں کے خلاف لڑتے ہوئے میدان جنگ میں مارا گیا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ راجستھان سے تعلق رکھنے والے راجپوت دو حصوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ ایک وہ جنہوں نے مغل اور افغانیوں کے خلاف جنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور دوسرے وہ جنہوں نے ان کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ کئی جنگوں میں یہ ایک دوسرے کے سامنے بھی آئے۔ دونوں طرف راجپوت خون تھا۔ تخت پر ایک غیرملکی مسلمان حکمران براجمان تھا۔ انکار کرنے والوں میں میواڑ کے رانا اڈائی سنگھ اور راؤ چندرسن راٹھور سر فہرست تھے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بے حد سخت سلوک کیا گیا اور اس وقت تک ان کے خلاف جنگ جاری رکھی گئی جب تک ان کا مکمل طور پر قلع قمع نہ ہو گیا۔ اس دور میں عام شہریوں کے قتل عام سے بھی دریغ نہ کیا گیا۔ ایسا ایک واقع چتوڑ میں بھی پیش آیا جہاں عام لوگوں کو اس لیے قتل کیا گیا کہ انھوں نے مزاحمت کی اور جنگ میں مخالفین کا ساتھ دیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ کیا سچ ہے، جاننا بے حد مشکل ہے۔

چتوڑ کے واقعے سے متاثر ہو کر مہارانا پرتاپ نے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی موت تک مغل سلطنت کے ساتھ جنگیں کیں۔ وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوا۔ اس کی بہادری کی مثالیں ہر جگہ مشہور ہوئیں۔ وہ کامیاب تو نہ ہوسکا لیکن مزاحمت کے استعارے کے طور پر ہندوستان کی تاریخ میں آج بھی جانا جاتا ہے۔ راجپوت اسے اپنا ہیرو مانتے ہوئے اس کی پوجا کرتے ہیں۔

میرے علم کے مطابق بیشتر مقامات پر اس کا مقابلہ ان راجپوتوں سے ہی ہوا جو مغل حکمرانوں کے حامی تھے۔ اس وجہ سے بھی یہ شخص کامیاب نہ ہوسکا۔ شاید اس کی تلوار ایک غیر ملکی حکمران کا دفاع کرنے والے مقامی راجپوت کے خلاف اس زور سے نہ چل سکی جتنی اس میں طاقت تھی۔ رانا پرتاب سنگھ کے خاندان نے اس مزاحمت کی بے حد سخت سزا پائی۔ وہ مغل دور میں کسی بھی جگہ پناہ حاصل نہ کرسکے اور نسل در نسل جنگلوں اور ویرانوں میں بھٹکتے رہے۔
آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے ساتھ ایسا تو ہوتا ہے۔

اورنگزیب کے دور میں بھی یہ مزاحمتی تحریک جاری رہی۔ اس کام میں رانا راج سنگھ اور ویر درگداس راٹھور پیش پیش تھے۔ انھوں نے اراولی پہاڑیوں میں مغل فوجوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔ اورنگزیب کی وفات کے بعد مغل سلطنت کمزور پڑ گئی مقامی راجاؤں نے بھی موقع غنیمت جانا اور یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ ان کی شکست کی اصل وجہ آپس کی نا اتفاقی ہے۔ اس سب کو دیکھتے ہوئے تین ریاستوں ؛ امبر، ادائی پور اور جودھ پور کے راجاؤں نے مغلوں کے خلاف مشترکہ محاذ بنا لیا۔ ان کی مزاحمت بہت حد تک کامیاب رہی۔ انھوں نے اپنے علاقوں میں مغل گورنروں کو قتل کر کے ایک طرح سے آزادی کا اعلان کر دیا۔ ایسی صورت حال میں مغلوں نے مقامی راجپوت راجاؤں کے ساتھ معاہدہ کرنے کو ترجیح دی۔ ان راجاؤں نے اپنی ریاست پر حکمرانی کو ہی مقدم سمجھا اور دلی پر حملہ کرنے سے باز رہے۔ اس معاہدہ کی رو سے یہ لوگ مغلوں کے حلیف بن گئے۔ اس کے بعد جب بھی مغلوں پر برا وقت آیا جیسا کہ سورج مل کے ماتحت جاٹوں کا آگرہ پر حملہ تو ایسی صورت میں ان ہندو ریاستوں کے راجاؤں نے مغل حکومت بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسا کرنے سے بھی راجستھان کی مقامی ریاستیں زیادہ دیر تک آزاد نہ رہ سکیں اور اٹھارہویں صدی کے آخر میں مراٹھا ان پر قابض ہو گئے۔ پھر ایک وقت آیا کہ 1818 ء میں برطانوی سلطنت نے مراٹھوں کی برتری بھی ختم کردی اور صدیوں سے قائم راجپوت بادشاہت کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ راجپوت بادشاہوں نے انگریزوں سے معاہدے کیے اور داخلی خود مختاری کے بدلے ان کی غلامی کو قبول کر لیا۔ اس نہج تک پہنچنے کی بڑی وجہ ان سب کے اتحاد اور مرکزی حکومت کی غیرموجودگی تھی۔

آج کا راجستھان ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق راجستھان میں اکثر عمارتیں ان علاقوں میں غیرملکی حملہ آوروں کے آنے سے پہلے کی ہیں۔ تیرہویں صدی کے بعد سے انگریزوں کی حکومت تک یہ علاقہ مسلسل جنگ کی زد میں رہا، اس لیے اس دور میں کسی نئی شاندار عمارت کا تعمیر ہونا مشکل تھا۔
جنگ اور ترقی دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

اس وقت راجستھان کے علاقے جیسلمیر میں ایک نیشنل پارک بنایا گیا ہے جس کا رقبہ تین ہزار مربع کلومیٹر سے بھی زائد ہے۔ راجستھان کی معیشت کا انحصار بنیادی طور پر زراعت اور جانوروں پر ہے۔ راجستھان، بھارت بھر میں خوردنی تیل پیدا کرنے والی سب سے بڑی اسٹیٹ ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان میں پولیسٹر بنانے کے بھی کئی کارخانے لگے ہوئے ہیں۔ تاج محل میں لگا ہوا سفید سنگ مرمر بھی مکرانہ جو کہ راجستھان کا ایک قصبہ ہے سے ہی نکالا گیا تھا۔ اس علاقے میں بجلی کی سہولت سو فیصد لوگوں کو میّسر ہے۔ راجستھان کی آبادی سات کروڑ سے زائد ہے۔ جن میں اکثریت مقامی لوگوں کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند کے وقت سندھ سے نقل مکانی کر کے جانے والے ہندو بھی کافی تعداد میں یہاں رہتے ہیں۔ مسلمان آبادی کا صرف دس فیصد ہیں۔ راجستھان میں ہیرے اور جواہرات کا کاروبار بھی بہت بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔

راجستھان میں پائے جانے والے بے شمار قلعے ایسے بھی ہیں جن کی مثال ملنا ممکن نہیں۔ میں راجستھان میں موجود کسی بھی قلعے کو نہ دیکھ سکا، جس کا بہت افسوس ہے۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کو راجستھان کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ امریکہ کے سابق صدر کلنٹن بھی راجستھان کے کلچر کے مداح تھے۔

راجستھان کی تاریخ حضرت معین الدین چشتی ؒ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ جنہیں خواجہ غریب نواز کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے کا مزار اجمیر شریف میں ہے۔ اس علاقے میں جہاں مسلمان حملہ آور آئے وہیں پر بے شمار اللہ کے ولی بھی آئے جنہوں نے اسلام کی اشاعت کے لیے بے حد کام کیا۔ ان میں خواجہ غریب نواز کا نام ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے مزار پر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو بھی بڑی تعداد میں آتے ہیں۔

Facebook Comments HS