خطرناک سڑکوں پر بجھتے چراغ


بلوچستان کی سرزمین جہاں محبت کی خوشبو ہر گھر سے اٹھتی ہے آج آنسوؤں اور جدائی کے قصے سنا رہی ہے۔ وندر کی سنگل لین شاہراہ اور لیاری روڈ پر وہ مناظر پیش آئے جنہوں نے دلوں میں درد، محبت میں بے بسی، اور آنکھوں میں خوف بھر دیا۔ یہ حادثات محض گاڑیوں کے ٹکراؤ نہیں بلکہ محبت کے چراغوں کے بجھنے کی دردناک داستان ہیں۔ بہنیں جو ایک دوسرے کے لیے محبت، خدمت، اور قربانی کا مجسمہ تھیں اپنی بیمار بہن کی عیادت کے لیے روانہ ہوئیں لیکن قسمت نے ان کا راستہ موت کی اس گلی میں موڑ دیا جہاں سڑک کا ہر موڑ خوفناک تھا اور ہر لمحہ اندھیروں سے بھرا ہوا۔ مہرین، چھوٹی سی گڑیا جو اپنی بہنوں کے ساتھ کھیلتی اور ان کے چہرے پر مسکان لاتی تھی اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ ماریہ بتول، جس کے قہقہے گونجتے تھے، اب اس کی چیخیں اس سڑک پر کہیں کھو گئی ہیں۔ روہابہ، خوابوں کی دنیا کی شہزادی جس کی آنکھوں میں محبت کے سپنے تھے اب وہ سپنے موت کی وادی میں دفن ہو گئے۔ انس گل علی جو اپنی بہنوں کے لیے ماں کا روپ تھیں محبت کا وہ سایہ اب خود مٹی میں لپٹ چکا ہے۔ شریفہ، خاندان کی راہنما جس کی ہنسی پورے گھر کو روشن کرتی تھی اب خاموشیوں میں دفن ہو گئی۔

اسی روز لیاری روڈ پر دو قریبی دوست اپنی منزل کی طرف رواں تھے لیکن ان کی زندگیوں کی منزل اس سڑک پر آ کر ختم ہو گئی۔ سکندر والدین کی امید، بہن بھائیوں کا سہارا اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہر دن جدوجہد کرنے والا اب ان خوابوں سمیت دفن ہو چکا ہے۔ احمد اپنی ہنسی، محبت، اور زندہ دلی سے ہر دل میں خوشی بکھیرنے والا اب اپنے دوست کے ساتھ اس سڑک پر آخری سانس لے چکا ہے۔ وندر اور لیاری کے یہ حادثے کسی ایک گھر کی کہانی نہیں بلکہ ان کہانیوں کی جھلک ہیں جو بلوچستان کی ہر شاہراہ پر لکھی جا رہی ہیں ماؤں کی وہ گود جو بچوں کے قہقہوں سے گونجتی تھیں اب صرف خاموشی کی تصویر بن چکی ہیں۔ بہنوں کے سروں سے بھائیوں کا سایہ چھین لیا گیا۔ محبتوں کے بجھے چراغ جو ہر گھر کو روشنی دیتے تھے اب اندھیروں میں چھپ گئے ہیں۔ یہ سنگل لین سڑکیں جن پر محبت کے قافلے چلتے ہیں موت کے راستے بن چکی ہیں ڈرائیورز کی بے پروائی جو وقت سے آگے نکلنے کی کوشش میں زندگی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ ایمرجنسی سروسز کی کمی، جہاں بروقت مدد نہ ملنے کی وجہ سے محبتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ غفلت کا نظام جو ہر حادثے کے بعد صرف خاموش تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔

وندر حادثے کی پانچ بہنیں اور لیاری کے دو دوست اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی کہانیاں ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کہانیوں میں محبت کا سبق ہے درد کی شدت ہے اور خوف کی یاددہانی ہے یہ حادثے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ محبتیں انمول ہیں، اور ان کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہمیں ان شاہراہوں کو موت کی دہلیز سے زندگی کے راستے میں بدلنا ہو گا۔ محبتیں زندہ رہتی ہیں لیکن انہیں اس طرح مرتا دیکھنا دل کو چیر دینے والا ہے۔ یہ شاہراہیں، جو محبتوں کا ذریعہ ہونی چاہئیں آج موت کا سبب بن رہی ہیں۔ ہمیں ان چراغوں کو بجھنے سے روکنا ہو گا تاکہ کوئی اور ماں کوئی اور بہن اور کوئی اور دوست اس طرح اپنی محبتوں کو کھونے کا دکھ نہ جھیلے۔

Facebook Comments HS