ماں کا غم (سانحہ آرمی پبلک اسکول)
ہمیشہ کی طرح محتشم کو اسکول چھوڑا، گیٹ پر موجود چوکیدار بابا ہم ماں بیٹے کے جلدی جلدی گیٹ اور پھر سیڑھیاں چڑھنے پر مسکراتے رہے۔ میں بار بار محتشم کو یاد دلاتی رہی کہ دیکھو اب دیر ہو رہی ہے، جلدی جلدی تیار ہوا کرو نا اور محتشم ہمیشہ کی طرح اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے، میرے قدموں سے قدم ملانے کی کوشش کر رہا تھا اور پھر میں نے اس کا بیگ اپنے کندھے سے اتار کر اس کے کندھے پر ڈالا، پانی کی بوتل ہاتھ میں تھمائی، پھر روز کی طرح اس کی شرٹ جو سائیڈ سے باہر نکل گئی تھی پینٹ میں واپس اڑسی اور پھر وہی لیکچر دیا جو وہ سننے کے موڈ میں بالکل نہیں تھا، مگر میں بھی مجبور ہوں اپنی ممتا سے، محتشم نے ہمیشہ کی طرح سر ہلاتے آدھے سے بھی کم باتیں سنیں اور اپنی کلاس کی طرف دوڑ لگا دی، میں اس وقت تک اس کو تکتی رہی جب تک وہ نظر آتا رہا۔
پھر اسکول کی ماسی سے اسلام دعا اور پھر بابا سے حال احوال کیا۔ اس دوران مسلسل سوچتی رہی کہ محتشم کو یہ تو بولا نہیں، وہ تو بولا نہیں، چلو کل بولوں گی، پھر سوچنے لگی کہیں محتشم اپنی ٹوپی نہ اتار پھینکے؟ کہیں اپنا لنچ نہ ختم کرے؟ اور کہیں آج پھر کلاس فیلوز سے الجھ نہ بیٹھے، ایک تو یہ اتنا شرارتی ہے، یہ سوچتے سوچتے محتشم کی تصویر آنکھوں میں گھومی اور خود بخود میں مسکرا اٹھی۔
یہ ساری باتیں سوچتے سوچتے نظر موبائل پر ڈالی تو وہاں پیارے پیارے اسکول کے بچے نظر آئے، نیچے سانحہ آرمی پبلک اسکول لکھا نظر آیا۔ دل ایک دم جیسے رک گیا۔ فکر و اندیشے سانپ کی طرح پھن پھیلائے دکھائی دینے لگے۔ دکھ کے سائے ہر طرف پھیل گئے۔ یہ غم بھی بھلا کوئی بھول سکتا ہے۔
اس دنیا میں سب سے بڑا دکھ صرف ایک ماں کا ہوتا ہے جیسے ماں کا پیار دنیا کا سب سے سچا جذبہ ہے بالکل ویسے ہی ماں کا غم اس دھرتی کو پھاڑ دیتا ہے، آسمان کو ہلا دیتا ہے۔ پتہ نہیں کیسے ان ماؤں نے صبر کیا ہو گا، کیسے وہ صبح کو دوسرے بچوں کو اسکول جاتا دیکھتی ہوں گی۔ کیسے برداشت کر رہی ہوں گی جب دوپہر کوئی واپس نہیں آتا ہو گا، کیسے سہتی ہوں گی جب شام میں ”تھوڑی دیر اور کھیلنے دو نا ماما،“ کی آوازیں سنائی نہ دیتی ہوں گی، کیسے رات گزارتی ہوں گی جب بستر خالی رہتے ہوں گے، کیسے؟
یا اللہ کسی ماں کو ایسا غم کبھی نہ دکھانا، یا اللہ رحم فرما، آمین۔


