فریحہ نقوی کی غزل کا مختصر جائزہ


برس ہا برس سے اُردو غزل کا سفر ہنوز جاری ہے۔ اُردو غزل کی صنف اپنے اندر ایسے لطیف پیرائے رکھتی ہے کہ انسان چاہ کر بھی اِس صنف سے خود کو بے نیاز نہیں کر سکتا۔ کسی نہ کسی موڑ، گام، لمحے اور کیفیت میں انسان کا من چاہتا ہے کہ اُس کے لب خود بہ خود پھڑک اُٹھیں اور کوئی مصرع موزوں ہو جائے یا کسی کا موزوں کیا ہوا مصرع زبان تلک آ جائے تاکہ دل کی اُداس نگری کو پل بھر کے لیے قرار مل جائے۔ اُردو غزل دیگر اصناف کے مقابلے میں ہمیشہ معتبر مانی گئی ہے۔ اس کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ایسے ایسے شعرا میسر آئے جنھوں نے اپنا خونِ جگر صرف کر کے گلستانِ غزل کو مہکائے رکھا۔

اُنیسویں صدی اُردو غزل کا زریں دور کہلاتی ہے۔ اس صدی میں میر ؔ، سوداؔ، آتشؔ، ناسخ، غالبؔ جیسے قدر آور شاعر موجود تھے جنھوں نے اُردو غزل کے دامن کو ہر طرح کے موضوعات سے معمور کیا۔ بیسویں صدی کے آغاز سے اُردو غزل نے اوجِ ثریا کو چھو لیا۔ کلاسیکی غزل نے جدید اُردو غزل کو مزید توانا کیا۔ بیسویں صدی میں اُردو غزل میں ایک سے بڑھ کر ایک شعرا سامنے آئے جنھوں نے اُردو غزل کی زلفوں کو سنوارا۔ ان شعرا کی تعداد ہزاروں میں ہے، ایک ایک شعر موتی کی طرح پرویا ہوا ہے۔ کس کس شعر کا انتخاب کیا جائے اور کسے معمولی کہہ کر رد کر دیا جائے۔ مجموعی طور پر بیسویں صدی کی اُردو غزل اُردو ادب کا افتخار گردانی گئی ہے۔

اکیسویں صدی جہاں عالمگیریت کے زیرِ اثر طلوع ہوئی وہاں اس صدی میں اظہار رائے کے کثیر ذرائع بھی شاعر کو میسر آئے ہیں۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں انٹرنیٹ کی بدولت سوشل میڈیا کا احیا ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شاعر اور قاری کے درمیان ہزاروں لاکھوں میل کے حائل فاصلے کو ختم کر دیا۔ اکیسویں صدی میں شعور سبنھالنے والے تخلیق کاروں اور قارئین کے لیے اب یہ مسئلہ نہیں رہا کہ وہ کچھ لکھا ہوا نشر کرنا چاہتے یا لکھے ہوئے کو پڑھنا چاہتے ہیں لیکن شائع شدہ مواد تک ان کی رسائی نہیں ہے۔ اب شاعر اِدھر غزل کہتا ہے اور اُدھر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتا ہے۔ آدھ گھنٹے میں غزل کے معیاری اور معمولی ہونے کا فیصلہ قارئین کی فیڈ بیک کی صورت سامنے آ جاتا ہے۔ اکیسویں صدی میں جن غزل گو شعرا اور شاعرات کے نام سوشل میڈیا پر کسی بھی وجہ سے زیادہ نمایاں ہیں ان میں تہذیب حافی، عمران عامی، شکیل جاذب، عمیر نجمی، علی زریون، احمد عبداللہ، رحمان فارس، صنوبر الطاف، کومل جوئیہ، ریحانہ قمر، عمار اقبال، جواد شیخ، افکار علوی، خرم شیخ، تیمور حسن تیمور، احمد فرہاد اور فریحہ نقوی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

یہ نام سیکڑوں کی تعداد میں ہیں تاہم کالم کے تناظر میں یہ میرا ذاتی انتخاب ہے۔ مذکور شعرا اور شاعرات میں کچھ نام وہ ہیں جو خالصتاً سوشل میڈیا کی پیداوار ہیں۔ ان کے ہاں موضوعات کا تنوع کم اور پیش کش کا انداز نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ چند ایک شاعر ایسے ہیں جن کے ہاں موضوعات میں تنوع، جدت اور تازگی کے ساتھ کچھ نیا کہنے کی صلاحیت بھی موجود ہے ان ناموں میں جواد شیخ اور فریحہ نقوی کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ آج فریحہ نقوی کی غزل کے بارے میں لکھنے کا من چاہ رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر مذکور شعرا کی گروپ بندی اور پھڈے بازی بھی سُننے کو ملتی ہے اور ان کے بیک دوڑ سینئر شعرا سے روابط کا چرچا بھی گردش میں رہتا ہے۔ جب کوئی نیا شاعر سامنے آتا ہے اور اس کا کلام قارئین اور ناظرین تک پہنچتا ہے تو قارئین کی داد و تحسین پر منحصر ہوتا ہے کہ یہ شاعر کتنی دیر تک توجہ لینے اور سکرین پر ٹکنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر یہ دیکھا گیا ہے کہ شاعر آندھی کی طرح آتا ہے اور طوفان کی مانند غائب ہو جاتا ہے۔

فریحہ نقوی نوجوان شاعرہ ہیں۔ اکیسویں صدی کی چند اہم غزل کہنے والی شاعرات میں ان کا شمار ہو رہا ہے۔ فریحہ نقوی کا تعلق لاہور سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم پاکستانی سماج کے رائج ماحول کے تحت ہوئی ہے۔ سادات گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے ان کے ہاں فکر کی گہرائی اور تفکر کی گیرائی دکھائی دیتی ہے۔

فریحہ نقوی شہرِ لاہور کے معیاری تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہیں۔ شاعری کا ذوق بچپن سے ان کا رفیقِ کار ہے۔ پہلے نظموں کی طرف توجہ زیادہ رہی تاہم خود کو غزل گو کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں متعارف کروایا۔ ان کا تحریری کام کتابی صورت میں ہنوز سامنے نہیں آیا تاہم مشاعروں میں پڑھی جانے والی غزلیات سُن کریہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آنے والے وقت میں فریحہ نقوی کا شمار اکیسویں صدی کے نمائندہ غزل گو شاعرات میں یقینی ہو گا۔

فریحہ نقوی کے ہاں ذات پات، رنگ نسل اور ذاتیات کے خانگی الجھاؤ کی کسک موجود ہے۔ ظاہر داری اور منافقانہ رویوں سے انھیں چِڑ ہیں۔ ان کا احساس ہے کہ انسان جیسا ہے ویسا نظر آنا چاہیے۔ مکھوٹے پہن کر دس بیس آدمیوں کا روپ دھار کر خود کو دُھوکا دینے سے کیا حاصل۔

اندر ایسا حبس تھا میں نے کھول دیا دروازہ
جس نے دل سے جانا تھا وہ خاموشی سے چلا جائے
ہم تحفے میں گڑیاں تو دے دیتے ہیں
اک دوجے کو وقت نہیں دے پاتے
بھلا میں زخم کھول کر دکھاؤں کیوں
اُداس ہوں تو ہوں تمہیں بتاؤں کیوں

فریحہ کی غزل کا رنگ تیکھا، چلبلا اور چشم کشا ہے۔ اس کے ہاں لفظیات کی بازی گری نہیں ہے۔ اس کے ہاں تصنع سے کام لینے کی جستجو دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے ہاں صنائع بدائع سے غزل کو مقیش کرنے کی شعوری کوشش دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے ہاں سادگی سلاست اور روانی کی روایتی صورت نظر آتی ہے۔ اس کے ہاں دل سے نکل کر دل میں اُتر جانے والی شاعرانہ غنایت دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ہاں رکھ رکھاؤ کا مشرقی انداز بھی ہے اور زمانے کی تیز رفتار دوڑ میں خود کو سنبھال کر آگے بڑھنے کا سلیقہ بھی موجود ہے۔

اِسے بھی چھوڑوں اُسے بھی چھوڑوں تمہیں سبھی سے ہی مسئلہ ہے
مری سمجھ سے تو بالاتر ہے یہ پیار ہے یا معاہدہ ہے
اے او جاؤ! یوں سر نہ کھاؤ! ہمارا اس سے مقابلہ کیا؟
نہ وہ ذہن و فطین یارو نہ وہ حسیں ہے نہ شاعرہ ہے

فریحہ کے ہاں کچھ نیا اور دوسروں سے مختلف کہنے کا سلیقہ اپنے اندر باغیانہ بیانیہ لیے ہوئے ہے۔ فریحہ نے اپنی لفظیات خود تراشی ہیں۔ کلاسیکی غزل کی روایت کے تتبع کے باوجود اس کے لب و لہجے میں انفرادیت جھلکتی ہے۔ فریحہ نے پاکستانی معاشرت کے تنزل کو قریب سے محسوس کیا ہے۔ مشرقی اقدار کی گراوٹ پر نوحہ خواں ہونے کی بجائے ان کے استحکام اور فروغ کے لیے اس کے قلم سے مثبت اُسلوبِ بیان کی متنوع پرچھائیاں اشعار میں پے در پے آشکارا ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

مرا دل جل رہا ہے روشنی سے
زمانہ فیض پاتا جا رہا ہے
بھلی کیوں لگے ہم کو خوشیوں کی دستک
ابھی ہم محبت کا غم کر رہے ہیں
تم مری وحشتوں کے ساتھی تھے
کوئی آساں تھا تمہیں کھونا؟
اے مجھے پھول بھیجنے والے
تو مری عادتیں بگاڑے گا

فریحہ نقوی کے ہاں نسائیت کا شعور اس قدر پختہ ہے کہ ان کی غزلیات پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ ایک نو عمر شاعرہ کے ہاں جذباتیت کے بھر پور اظہار کے باوجود سنجیدگی اور متانت کا عکس کس طرح مکمل، پُر اثر اور دل پذیر ہے۔ جس عمر میں لڑکیاں عام طور پر جذباتی ہو کر بانہوں میں بہلنے کی خواہش کرتی ہیں، خودساختہ خوابوں کی تعبیر کے حصول میں اجنبی سہاروں کی جز وقتی رفاقت میں گمنام راستوں کی طرف نکل جاتی ہیں وہاں فریحہ پھول بھیجنے والے کی نیت اور ارادے سے باخبر اپنی عادتوں کے خراب ہونے کا اندیشہ یوں ظاہر کرتی ہیں جیسے اسے سب پتہ ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

فریحہ کی غزل میں دکھائی دینے والی عورت جذباتی ہونے کے باوجود اپنی وقعت اور اصلیت سے بخوبی آگاہ ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ اُسے کس حد تک تعلق کو نبھانا ہے اور کہاں تک کسی کے ہمراہ جانا ہے۔

تمہیں پتہ ہے مرے ہاتھ کی لکیروں میں
تمہارے نام کے سارے حروف بنتے ہیں
عین ممکن ہے اُسے مجھ سے محبت ہی نہ ہو
دل بحر طور اُسے اپنا بنانا چاہے
دے رہے ہیں لوگ مرے دل پہ دستک بار بار
دل مگر یہ کہ رہا ہے صرف تو اور صرف تو
مرے ہجر کے فیصلے سے ڈرو تم
میں خود میں عجب حوصلہ دیکھتی ہوں

فریحہ نقوی کی غزل کا رنگ و آہنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شاعرہ کے دامن میں بہت کچھ ہے جو اسے کہنا ہے اور بہت کچھ ایسا بھی ہے جو اسے نہیں کہنا ہے۔ کہنے اور نہ کہنے کا یہ سلیقہ فریحہ کی غزل کی بنیادی پہچان ہے۔

انسانی فطرت ہے کہ جب اِسے داد و تحسین ملتی ہے تو وہ خود کو بہکنے سے روک نہیں پاتا۔ داد و تحسین اور وجہ شہرت بننے والے عناصر و عوامل میں تکرار کے در آنے سے توجہ کی خواہش دم توڑ دیا کرتی ہے۔ فریحہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔

شعر جب تک ڈال پر اچھی طرح پک نہیں جاتا، اُسے اُتارنے میں عجلت نہ کرنا اور صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دینا، یقیناً کٹھن مرحلہ ہے تاہم یہ حوصلہ فریحہ کے ہاں برابر دکھائی دیتا ہے۔ فریحہ کے ہاں ایسے اشعار کی تعداد ملتی ہے جنھیں بہرحال ڈال پر پکے ہوئے پھل کہا جاسکتا ہے جو اپنے اندر ترسیلِ اظہار کی لذت سے لبالب ہیں۔

رات سے ایک سوچ میں گم ہوں
کس بہانے تجھے کہوں آ جا
اُس کی جانب سے بڑھا ایک قدم
میرے سو سال بڑھا دیتا ہے
تمہارے رنگ پھیکے پڑ گئے ناں؟
مری آنکھوں کی ویرانی کے آگے

فریحہ نقوی کی غزل میں وہ سبھی رنگ موجود ہیں جو ایک مشاق شاعر کے ہاں ہو سکتے ہیں۔ ابھی فریحہ کا تخلیقی سفر ابتدائی مراحل میں ہے۔ قوی اُمید ہے، یہ آواز دبائی نہیں جا سکے گی۔ سوشل میڈیا پر داد ملے نہ ملے۔ اظہار کے جملہ ذرائع تک اس شاعرہ کی رسائی ہو سکے یا نہ ہو پائے۔ اس کے باوجود فریحہ کی غزلیات کے مطالعے کے بعد میرا یہ احساس ہے کہ فریحہ نقوی مستقبل کی کامیاب غزل گو شاعرہ ہیں۔ اس شاعرہ کے ہاں عمدہ غزل کہنے کا سلیقہ موجود ہے۔ فریحہ سے یہ التجا ہے کہ غزل کے اس سفر کو ادھورا نہ چھوڑنا اور کچھ نہ کچھ ضرور کہتی رہنا۔ تمہارے اشکوں کی روانی سے ایک دن زمانہ ضرور شعر لکھے گا۔

مرے اشکوں کی لے کر روشنی
زمانہ شعر لکھتا جا رہا ہے

Facebook Comments HS