بلوچ دانش سے ایک بھید بھرا مکالمہ


 

زندگی میں بہت کم ایسے لوگ ملتے ہیں جن کی سادگی و منکسرالمزاجی پہلی ملاقات میں ہی دل میں گھر کر جاتی ہے۔ جن کے ساتھ گزرا وقت آپ کی زندگی کا اثاثہ اور جن کی شخصیت، ذہانت خوش طبعی اور خوش مزاجی آپ کو زندگی کو دیکھنے، برتنے اور جینے کا ایک نیا سلیقہ و زاویہ دے جاتی ہے۔ جو مشکل حالات کی سختیوں کو بھی مسکرا کر جھیلتے ہیں اور سماجی شعور کو پروان چڑھانے میں اپنی ساری عمر دان کر جاتے ہیں۔ جن کی ذات علم، ادب اور آگہی کا ایسا گھنا شجر ہوتی ہے کہ جس کے پرسکون سائے میں جوئندگان علم اپنے روز و شب بسر کرتے ہیں۔ ایسی ہی انمول شخصیت ڈاکٹر شاہ محمد مری کی ہے۔

2018 میں آرٹس کونسل ساہیوال کے زیرِ انتظام منعقد ہونے والی ادبی و ثقافتی کانفرنس میں شاہ محمد مری صاحب سے ہونے والی ملاقات ہماری زندگی کی قیمتی یاد ہے۔ اگرچہ اس سے قبل ہم ڈاکٹر انوار احمد صاحب کی وساطت سے ان کے ماہنامے سنگت سے بھی روشناس تھے، تاہم اس دو روزہ کانفرنس اور اس کے بعد زکریا خان صاحب کی مہربانی سے اوکاڑہ میں ان کے ساتھ چاکر اعظم کے مزار اور رانا اظہر صاحب سے ملاقات کے ایک یادگار دورے میں، ہمیں ان کی شخصیت اور فکری بلاغت کو مزید قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ان دنوں کی کچھ یادگار تصاویر آج بھی ہماری اچھی یادوں کا حصہ ہیں۔ اچھی بات یہ تھی کہ خود مری صاحب نے ساہیوال، ہڑپہ اور اوکاڑہ کی اس تثلیث کو اپنے دلچسپ سفرنامے ہڑپہ شناسائی میں بڑی محبت اور خلوص سے رقم کیا۔

شاہ محمد مری ایک سادہ، نفیس اور سلجھے ہوئے انسان ہیں، جو دنیا کو دیکھنے کا اپنا دانشورانہ نقطہ نظر رکھتے ہیں، جنھیں اپنے علاقے کی پسماندگی و نظر اندازی کے ساتھ اس خطے کے لوگوں کی بے وقعتی بھی خوب کھلتی ہے۔ انھیں سامراجی قوتوں کے استحصالی رویوں اور عالمی طاقتوں کے بنتے بگڑتے طاقت کے توازن کی فہم اور سوجھ بوجھ کے ساتھ فطرت نے اور بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔

تاریخ، تحقیق، زبان، ادب، سیاسیات، سماجیات، سوانح حیات، سفرنامے، خاکے، تبصرے، تراجم جیسی کثیر اصناف پر دسترس رکھنے والے اور بلوچستان کے ادب و ثقافت کی تاریخ مرتب کرنے والے شاہ محمد مری صاحب 80 سے زائد کتب کے مصنف و مترجم ہیں۔ بلوچی زبان و ادب پر ہزار ہا صفحات کی کتب ان کا اختصاص ہیں۔ علاوہ ازیں بلوچ کلاسیکل شاعری، انیسویں صدی کی محبت بھری داستانیں، کئی دہائیوں سے تسلسل سے جاری رسالہ سنگت اور بیمار اجسام و اذہان کی مسیحائی بھی ان کا معتبر حوالہ ہے۔

چند دن قبل عابد میر صاحب کے توسط سے موصول ہونے والی شاہ محمد مری صاحب کے انٹرویوز اور مکالمات کی یکجا کتابی صورت ”بلوچ دانش سے مکالمہ“ موصول ہوئی، جسے عابد میر صاحب، نازیہ عالم صاحبہ اور عابدہ رحمان صاحبہ نے بہت خلوص اور محبت سے مرتب و مدون کیا تھا۔

اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو یوں لگا جیسے مری صاحب سے ہم کلام ہونے کا ایک اور نادر موقع ہاتھ آ گیا ہو۔ ان کی سیدھی، صاف اور کھری باتیں سننا ایک الگ قسم کا خوشگوار تجربہ ہے۔ دل کے صاف شفاف ہونے کے سبب وہ کسی قسم کی بناوٹ یا لگی لپٹی رکھنے کے کبھی رودار نہیں رہے۔ بنا کسی تعصب کے جو سچ ہے وہ سب کے سامنے ہے، ادب، ثقافت، عالمگیریت، جدت، ذہانت، اپنی دھرتی اور تہذیب سے جڑت، اپنی مٹی کی قدر اور اپنے لوگوں کا مان ان کی تحریر کا ایسا اختصاص ہے، جس میں سننے، سمجھنے اور سیکھنے کے لیے وہ سب کچھ ہے جس کی اس دور انتشار میں ہمیں جاننے کی زیادہ ضرورت ہے۔

اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی دلچسپ چیزیں سامنے آتی ہیں، جیسے ان کے بچپن کے سادہ و معصوم سے واقعات۔ یہ ایک ایسا سادہ لوح بچپن ہے، جس کے تصور سے کم از کم آج کے بچے قطعی نا آشنا ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں اساتذہ زبانی سبق سنا کرتے تھے، جسے سبق یاد ہوتا اسے استاد کے حکم پر سبق نہ یاد کرنے والے طالب علم کو مجبوراً زور سے تھپڑ مارنا پڑتا۔ بس اسی ڈر سے وہ روز اپنا سبق یاد کر کے جاتے کہ ساتھی طالب علموں سے مار نہ کھانی پڑے مگر ساتھ جانے والا دوست روز ان سے تھپڑ کھاتا۔

تب ان کے والد کی گاؤں میں کریانے کی دکان تھی۔ وہ واپسی پر روز سکول کا احوال پوچھتے اور انھیں سبق یاد کرنے پر خوش ہو کر ایک ٹافی انعام میں دیتے۔ ایک روز اتفاق سے وہ سبق یاد نہ کر سکے، اور دلچسپ اتفاق یہ کہ اس روز ساتھ جانے والے دوست کو سبق اچھی طرح سے یاد تھا، بس پھر کیا، اس نے روز کھائے جانے والے تھپڑوں کا حساب ایک ہی زناٹے کے تھپڑ سے بے باق کر دیا۔ سکول واپسی پر جب انھوں نے یہ بات اپنے والد کو اداسی سے بتائی تو انھوں نے اس دن انھیں دو ٹافیاں دیتے ہوئے سمجھایا کہ زندگی میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔

اپنی زندگی کی سیاسی ہلچل کے زمانے میں ہڑتال کروانے کا ایک دلچسپ واقعہ عابد میر صاحب کو بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک بار موچی کی دکان بند کرواتے ہوئے ہم نے اس کی دکان سے کچھ کیلیں اٹھا لیں اور بسوں کو روکنے کے لیے کچھ رستوں پر ڈال دیں، جن کے سبب جو بھی گاڑی گزرتی پنکچر ہو جاتی، لطیفہ یہ ہوا کہ ہم خود جس موٹر سائیکل پر تھے وہ بھی ایسے ہی کسی کیل کی زد میں آ کر پنکچر ہو گئی اور تب تک پنکچر کی سب دکانیں ہم خود بند کروا چکے تھے۔

مری صاحب کی حسِ لطافت اور شگفتگی بس اس ایک واقعے سے جان لیجیے کہ ایک جگہ اپنے ایک دوست جنھیں نظر کا موٹا سا چشمہ لگا ہوا تھا ان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ میں نے پارٹی اجلاس میں اس کے بارے میں ایک لطیفہ مشہور کر دیا تھا کہ بھائی مجھے اس کے ساتھ کام نہیں کرنا یہ اتنا اندھا ہے کہ دکانیں بند کروانے کے دوران پولیس تھانے کی طرف دیکھ کر بولا: ’یہ دکان کیوں کھلا ہے؟ چلو اس کو بھی بند کرواتے ہیں۔ ‘ دلچسپ بات یہ کہ دوستوں نے ہنسی ہنسی میں اس پر یقین بھی کر لیا۔

مری صاحب پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ آصف فرخی صاحب نے اپنی ایک تحریر میں جب ان کی ڈاکٹری کے پیشے، لیبارٹری اور میڈیکل کالج کی مصروفیات کے ساتھ ادبی سرگرمیوں کو بھی وقت دینے کے حوالے سے استفسار کیا، تو انھوں نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ: ”میں وقت چراتا ہوں۔ بس تھوڑا یہاں سے، تھوڑا وہاں سے لے کر برابر کرنا ہوتا ہے۔“ مجھے یہ پڑھ کر لگا کہ شاید ہم سبھی اسی طرح اس بھاگتی دوڑتی زندگی سے وقت ہی چرایا کرتے ہیں۔

اپنے عہد کے کئی معاملات و مسائل کے ساتھ جب اشاعتی مسائل کا ذکر آیا تو اس پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ:

”سرمایہ داری نے ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ جو حشر کیا، عین وہی کچھ اشاعت کے ساتھ بھی ہوا۔ اس سارے منظر نامے میں سب سے زیادہ استحصال کا شکار سوائے ادیب کے کوئی نہ ہوا۔ بالکل ایسے جیسے سرمایہ دارانہ نظام میں ایک مزدور کے ساتھ ہوتا ہے۔“

اس کتاب کے ابتدائیے میں عابد میر صاحب ان کے بارے میں خلوص سے اپنی رائے رقم کرتے ہیں کہ: ”الغرض یہ ایک ایسے آدمی کے افکار کا مجموعہ ہے جس نے عمر بھر وطن اور اہلِ وطن کی فلاح و سرخروئی کے سوا کچھ نہ چاہا، نہ لکھا، نہ بولا۔ جس نے خود کو انسانی فلاح کے کارواں کے لیے وقف رکھا اور اپنی ذات کو منہا کر دیا۔ ان درجنوں مکالمات میں آپ کو کہیں میں کی گردان نہیں ملے گی۔ اپنی بڑائی تو کجا اپنی ذات کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں۔ حتیٰ کہ جہاں اپنے کسی کام کا ذکر بھی کرنا ہوتا ہے تو وہاں وہ اکثر جگہوں پہ کہتے ہیں ’ہمارے ایک دوست نے یہ کام کر دیا۔‘ یا ’کسی فلاں بندے کا یہ کام ہے۔ ‘ یہ بڑا پن فی زمانہ کم یاب بھی ہے ناپید بھی۔“

سیاست، ثقافت، سامراجیت اور عالمگیریت کے حوالے سے ان کا مخصوص نقطہ نظر ہے جس میں وہ عالمی سامراجی قوتوں کو اس خطے کے امن، تنظیم اور یک جہتی کا ایسا دشمن تصور کرتے ہیں، جسے اپنے سرمائے و مفاد کے سوا کسی چیز سے کوئی سروکار نہیں۔ جس نے مادیت پسندی کو ایسا فروغ دیا ہے کہ سبھی رشتے، ناتے اور اعلیٰ انسانی اقدار تک کو بے وقعت بنا دیا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ:

”آپ سب انقلابی بن جائیں اس سے سرمایہ داری کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن جس دن منظم ہو گئے تو اسے خطرہ محسوس ہو گا، اسی لیے وہ آپ کو منظم نہیں ہونے دیتے۔ سوشل میڈیا اور سمارٹ فون شاید اسی لیے تنظیم کے سب سے بڑے دشمن ہیں کہ جن کے سبب آپ ایک نظام کے خلاف منظم ہو کر نہیں لڑ سکتے۔

اس سرمایہ دارانہ نظام نے ہماری ساری اچھی خصوصیات کا بیڑا غرق کر دیا۔ انھوں نے پھولوں میں خوشبو نہیں رہنے دی۔ وہ ’تھرو اَوے‘ کلچر لے آئے، چیز استعمال کی اور پھینک دی۔ یہ بات اس حد تک آگے بڑھے گی کہ آپ انسانوں کے ساتھ بھی یہی رویہ رکھیں گے، آپ کے رشتے تک ڈسپوزیبل ہو جائیں گے۔ ”

اقبال خورشید صاحب کے ساتھ ایک مکالمے میں وہ مذہب کے حوالے سے اپنے بے ریا نظریات کا اظہار کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ:

”مذہب کی بنیادی تعلیمات میں کہیں کوئی غیر انسانی بات نہیں۔ اس وحشت کے زمانے میں، قبائلی سماج میں جہاں انسان غلام تھا اسے آزاد کیا گیا۔ یہی تو ہم بھی چاہتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہم اس دن مر گئے تھے جب ہم نے قوم پرستی، مذہب اور ہر معاملے کی ایجنسی بنا کر کسی کو دے دی تھی۔ مجھے تو یہ بات بھی پسند نہیں جب کوئی کہتا ہے کہ مولوی کا کام مردہ نہلانا، جنازہ پڑھانا، نماز پڑھانا یا نکاح کرانا ہے۔ کوئی بھی مسلمان اپنی مذہب رسوم خود ادا کر سکتا ہے۔ “

بلوچستان کے لیے برطانیہ کے خلاف لڑائی میں وہاں کے مقامی ہندوؤں کی خدمات کو سراہتے ہوئے وہ اس وقت آزردہ ہو جاتے ہیں جب یہ بتاتے ہیں کہ: ”بلوچستان میں ذات پات کا نظام ہے، جس میں ہندوؤں کو کم تر ذات کے طور پر دیکھا جاتا ہے، انھیں برابری کا حامل نہیں سمجھا جاتا، انھیں زمین کی تقسیم میں برابری کا حصہ نہیں ملتا، انھیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے، ان کے پاس مویشیوں کی ملکیت نہیں، وہ فقط تجارت اور دکان داری کر سکتے ہیں، قبائلی معاملات میں بھی ان کی کہیں نہیں چلتی۔ مقامی قبائلی طاقتور شخصیات کی جانب سے انھیں تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت کے عوض ان کو متعلقہ قبائلی شخصیات کے ہاں ضروری استعمال کی اشیاء اور تحائف پہنچانے ہوتے ہیں۔“

سامراج کے خلاف اپنی جدوجہد بیان کرتے ہوئے وہ واضح اور دو ٹوک الفاظ میں بتاتے ہیں کہ: ”سامراج کون ہے؟ سامراج وہ ہے جو آپ کے خام مال کو سستے داموں خریدے، پھر اپنے کارخانے میں تیار کرے اور انٹرنیشنل مارکیٹ سے زیادہ قیمت پر آپ ہی کو بیچ دے۔ پہلے وہ آپ کو لڑائے، پھر آپ کو اپنا اسلحہ فروخت کرے۔“

بلوچستان میں سندھی مزدوروں کے قتلِ عام جیسے مسئلے پر سب کو تشویش و پریشانی لاحق ہے۔ اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے سندھ کی دھرتی سے اپنی محبت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ: ”اب صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھوک میں ہمیں سندھ نے کھلایا۔ مست توکلی ننگے پیر قلندر کی درگاہ جایا کرتا تھا۔ آج بھی بلوچستان کے لوگ سندھ کو جب سندھڑی کہہ کر پکارتے ہیں تو یہ ان کی اس دھرتی سے محبت کی ایک علامت ہے۔“

کوئٹہ اور کتاب کے موضوع کے تحت کتاب و حرف سے محبت اور اپنی قلبی وابستگی کو وہ کچھ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

”کتاب انسان اور انسان کے درمیان محبت کی موسیقی ہے۔“

بلوچستان کو عہدِ قدیم سے عصرِ جدید تک دکھاتے ہوئے وہ انکشاف کرتے ہیں کہ: ”گیارہ ہزار سال پرانی تہذیب مہر گڑھ اور بعد ازاں دریافت ہونے والی موہنجودڑو کی تہذیب درحقیقت ایک ہی نسل ہے۔ یہ آپس میں باپ بیٹا ہیں، سو ہم چھ ہزار سال مہر گڑھ میں گزارنے کے بعد وہاں سے نکلے اور سبی کے قریب پیرک نامی جگہ پر ہزار ڈیڑھ ہزار سال رہے اور پھر وہاں سے ہجرت کر کے ہم موہنجودڑو میں آ گئے اور دو ہزار سال جم کر رہے، پھر یہاں سے مختلف علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے۔ اس کے بعد ایک بہت بڑی تہذیب جس کے حوالے سے ہمیں ماپا جاتا ہے وہ ہے ہڑپائی تہذیب ہے۔ گویا ہڑپہ گرینڈ چائلڈ ہے مہر گڑھ کا اور موہنجودڑو بیٹا ہے مہر گڑھ کا۔ یعنی یہ ایک ہی تہذیب کی تین کڑیاں ہیں۔“

بلوچستان جیسے وسیع و عریض خطے پر قدرت کے انعام و اکرام اور مہربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ: ”میں اکثر کہتا ہوں کہ قدرت اس خطے پر اتنی مہربان رہی ہے کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ مثلاً اتنا وسیع سمندر دے دیا، دنیا میں کسی کے پاس اتنا طویل ساحل نہیں، کراچی سے لے کر ایران تک کو شامل کر لیں تو یہ دنیا کی سب سے طویل سمندری پٹی بنتی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ایک پوری سمندری حیات ہے، سمندری تجارت ہے، سمندری معدنیات ہے، اتنی بڑی دولت دی۔ دوسری دولت معدنیات کی شکل میں ہے ؛ سونا ہے، چاندی ہے، کوئلہ ہے، کرومائٹ ہے، سنگِ مر مر ہے کیا کچھ نہیں؟ پھر اتنا بڑا رقبہ دے دیا، چار موسم دے دیے۔ دنیا کی قدیم تہذیب کی امامت آپ کو دے دی اور آبادی کیا دی فقط ایک کروڑ! کہ چلو اب سنبھالو اس سب کو۔“

برطانوی استعماریت کے خلاف مری قبائل کی جنگوں کا ذکر، بلوچوں پر یکے بعد دیگرے مسلط کی جانے والی جنگوں کا احوال، مہر گڑھ کی شاندار تہذیب اور گمشدہ روایات و ثقافت کا دلچسپ احوال سناتے یہ انٹرویوز اور مکالمات، درحقیقت بلوچی دانش کا ایسا معتبر حوالہ ہیں جو ہمیں نہ صرف اس خطے کی مجموعی حالت سے با خبر کرتے ہیں بلکہ عالمی نوعیت کے اس گمبھیر منظر نامے کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں جو کسی نہ کسی قسم کی استعماری اجارہ داری کی صورت میں اس وقت پوری دنیا پر مسلط ہے۔ سچ پوچھیے تو بلوچی دانش کے یہ وہ قیمتی گوشے ہیں جو شاید ہی کہیں ایسے ارزاں میسر ہو سکیں۔

محترم عابد میر صاحب، نازیہ عالم صاحبہ اور عابدہ رحمان صاحبہ کے اس خلوص کا دلی شکریہ کہ انھوں نے اپنے خطے کی ایسی بیش بہا دانش کو شائقینِ علم و ادب کے لیے ایسی مفید کتاب کی صورت یکجا کر دیا۔ بلوچ دانش کی مجسم صورت ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب کے لیے بہت سے خلوص اور احترام کے ساتھ ان کی صحت، سلامتی اور درازیٔ عمر کی ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں۔

Facebook Comments HS