صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 29 : بازگشت
” خوشبو اور بخور دل کو خوش کرتے ہیں، اور دل سے دی گئی نصیحت دوست کی خوشی ہوتی ہے۔ “ امثال 27 : 9
1947 میں پاکستان بننے کے بعد کراچی میں سندھ یونیورسٹی قائم کی گئی، مگر چوں کہ کراچی وفاقی دارالحکومت تھا اور سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد مقرر کیا گیا تھا، لہٰذا سندھ یونیورسٹی بھی حیدرآباد آ گئی۔ ٹھنڈی سڑک پر جس عالی شان عمارت میں یونیورسٹی کو منتقل کیا گیا اس میں پاکستان بننے سے پہلے ایک اسکول قائم تھا جسے دیوان پربھداس اڈوانی نے 1897 ء میں اپنی نابینا بیٹی کے لیے تعمیر کیا تھا۔ چوں کہ یہ عمارت یونیورسٹی کے لیے ناکافی تھی لہٰذا کچھ کلاسیں گرد و نواح کے ان بنگلوں میں ہوتی تھیں جنہیں قیام پاکستان کے وقت ان کے مالکان چھوڑ کر بھارت چلے گئے تھے۔ مریم کی کچھ کلاسیں ان ہی بنگلوں میں سے ایک میں ہوتی تھیں جو اونچائی پر بنا ہوا تھا اور اس کی بیرونی دیواروں تک ٖڈھلان پر چاروں طرف سر سبز لان تھا جس پر مارچ کے گلابی جاڑے کی دھوپ میں بیٹھ کر پڑھنے کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔ جب مریم کی کلاس نہیں ہوتی تھی تو وہ کوئی کتاب لے کر لان پر بیٹھ جاتی اور فرحت بخش دھوپ سینکتی۔
ٹھنڈی سڑک پر ہی آگے چل کر فردوس سنیما کے سامنے ایک بلڈنگ میں دوسری منزل پر دانی ایل کا دفتر تھا جس سے سیڑھیاں اتر کر نیچے فٹ پاتھ پر ایک ٹھیلے والا، جو اپنا نام کبابی بتاتا تھا، بن کباب بیچتا تھا۔ لنچ کے وقت لوگ دفتروں اور دکانوں سے نکل کر اس کے گرد جمگھٹ لگا لیتے تھے۔ اس کے ٹھیلے پر لمبی سی انگیٹھی تھی جس میں دہکتے ہوئے کوئلوں پر سیخوں کی قطار ہوتی تھی اور وہ بجلی کی سی سرعت سے کباب بنا بنا کر بن میں رکھتا اور اس کا اسسٹنٹ اسی تیزی سے اس میں چٹنی کی تہہ جماتا اور کاغذ کے ٹکڑے میں لپیٹ کر گاہک کو دے دیتا۔ جب کوئلے ٹھنڈے ہونے لگتے تو اسسٹنٹ انگیٹھی کے سرے پر لگے ہوئے ہینڈل کو گھما کر انگیٹھی کے نیچے لگے ہوئے پنکھوں کو گردش دیتا اور کوئلوں سے چنگاریاں نکلنا شروع ہو جاتیں۔ کہا جاتا تھا کہ کبابی کے سے ذائقہ دار کباب پورے حیدرآباد میں کہیں اور نہیں ملتے تھے۔ مشہور تھا کہ اس کے کبابوں کا گوشت گدھے کا ہوتا ہے۔ اسی لیے لوگوں نے اس کے کبابوں کو گدھے کے کباب کہنا شروع کر دیا تھا۔ لوگ مذاق میں اس سے کہتے، ”ہاں بھئی کبابی، سنا ہے کہ تم گدھے کا گوشت استعمال کرتے ہو؟“ اس نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ بس ہنس کر کہہ دیتا، ”صاحب، کباب کھائیے کباب، مزا نہ آئے تو پیسے واپس۔“ دو بن کباب ایک روپے کے آتے تھے۔ جو لوگ نسبتاً کم خوراک ہوتے وہ اٹھنّی دے کر ایک کباب سے ہی کام چلا لیتے۔
دانی ایل نے گھڑی دیکھی تو بارہ بج کر پانچ منٹ ہوچکے تھے۔ وہ اپنی میز سے اٹھا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آ گیا۔ اسے معلوم تھا کہ لنچ کا وقت ہوتے ہی کبابی کے گرد بھیڑ لگنا ہونا شروع ہوجاتی ہے، مگر اس روز خوش قسمتی سے دو چار لوگ ہی اس سے پہلے آ پہنچے تھے۔ اس روز دانی ایل نے مریم کے ساتھ لنچ کرنے کا پروگرام بنایا تھا لہٰذا اس نے بن کباب کے دو پیکٹ بنوائے اور برابر کی دکان سے پاکولا کی دو ٹھنڈی بوتلیں خرید کر وہاں سے چل دیا۔ اس کی گھڑی میں سوا بارہ بج چکے تھے۔ مریم کی کلاس ساڑھے بارہ بجے ختم ہوتی تھی اور راستہ بہ مشکل پندرہ منٹ کا تھا۔ جب وہ پہنچا تو مریم کلاس سے نکل رہی تھی۔ وہ دونوں لان پر آ بیٹھے۔ دانی ایل نے پیلی قمیص اور سفید پتلون پہنی ہوئی تھی اور گردن کے گرد دہکتے ہوئے سرخ رنگ کا اسکارف لپیٹ رکھا تھا جس سے اس کی قمیص کا پیلا پن مزید اُبھر آیا تھا۔ مریم نے دانی ایل کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور مسکرا کر بولی، ”کس کو قتل کرنے کا ارادہ ہے؟“
”جس کو قتل کرنا چاہا تھا وہ سامنے بیٹھی ہے،“ دانی ایل نے کھلکھلا کر کہا اور پھر گھبرا کر پیچھے دیکھنے لگا کہ کسی نے سن تو نہیں لیا مگر اسے اطمینان ہو گیا کہ آس پاس کوئی نہیں تھا۔
”وہ تو قتل ہو چکی ہے۔ اسی لیے تو تمہارے سامنے بیٹھی ہے۔“
” کیا میں یقین کرلوں؟“
” کیا میں انگلی کاٹ کر پیش کردوں؟“
”کیا ہم عشقیہ گفتگو کر رہے ہیں؟“ دانی ایل نے کچھ توقف کے بعد پوچھا۔
”قطعاً نہیں،“ مریم نے مسکرا کر جواب دیا۔
” مجھے تو ایسا ہی لگا جیسے عشقیہ شاعری ہو رہی ہو۔“
”ہم صرف دوستانہ گفتگو کر رہے ہیں۔ “
مریم نے ایک پیکٹ کھول کر بن کباب نکالا۔ دانی ایل کی نظر اس کی انگلی پر پڑی جس میں منگنی کی وہی انگوٹھی تھی جو اس نے مریم کو دی تھی۔
”تو آخر تم نے منگنی کی انگوٹھی پہن ہی لی،“ اس نے مسکرا کر کہا۔
مریم نے گھبرا کر بن کباب اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور بایاں ہاتھ پیچھے کر کے بولی، ”یہ منگنی کی انگوٹھی نہیں بلکہ ایک عزیز دوست کا تحفہ ہے۔“
”مریم تم کیوں اپنے آپ سے جھوٹ بول رہی ہو؟ تسلیم کرلو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے۔ “
” میں نے کب انکار کیا ہے؟ میں تسلیم کرتی ہوں کہ مجھے تم سے صرف محبت ہی نہیں بلکہ بے حد محبت ہے مگر اس طرح جیسے کسی کو اپنے بے حد عزیز دوست سے ہوتی ہے،“ مریم نے سرگوشی میں کہا۔
” تو تم اس محبت کو من تو شدم تو من شدی کی منزل تک کیوں نہیں لے جانا چاہتیں؟“ دانی ایل کی آواز بھی سرگوشی سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔
”دانی، من تو شدم تو من شدی منزل نہیں صرف ایک ڈھیّا ہوتی ہے۔“
” ڈھیّا؟“
” بچے جب دوڑنے کا مقابلہ کرتے ہیں تو سامنے ایک دیوار کو ڈھیّا مقرر کرلیتے ہیں اور اسے ہاتھ لگا کر واپس پلٹتے ہیں۔ جو بچہ سب سے پہلے واپس پہنچ جاتا ہے وہ فرسٹ آتا ہے۔“
دانی ایل نے ایک گہرا سانس لیا اور مریم کو تکتا رہا۔
” تو دانی ڈئیر، من تو شدم تو من شدی ایک ایسا ڈھیّا ہے جسے چھو کر واپسی کا سفر شروع ہوتا ہے،“ مریم نے کہا۔
دانی ایل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ دونوں خاموشی سے بن کباب کھاتے رہے۔
”مریم، میں نہیں مانتا،“ دانی ایل نے طویل خاموشی کے بعد کہا، ”مرد اور عورت کے اتنے مقدس رشتے کو تم ڈھیّا کہہ رہی ہو۔“
” میرا مشاہدہ تو یہی ہے۔ تم جسے مقدس رشتہ کہتے ہو، میں اسی کی ڈسی ہوئی ہوں۔“
”میں مانتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہارا بچپن کتنے دکھ میں گزرا، مگر وہ غیر معمولی حالات تھے۔ مرد بھی محبت کرنا جانتا ہے۔ وہ بھی اپنی فیملی کے لیے قربانیاں دے سکتا ہے اور تمہارے والد بھی ایسے ہی تھے مگر منشّیات نے ان سے ان کی شخصیت چھین لی۔“
”میں جانتی ہوں دانی، مگر کیا کروں اس خوف کا جو میرے اندر بیٹھ گیا ہے؟“
مریم کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر اس کے رخسار پر بہہ گیا اور پھر آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔
”میں کیا کروں دانی؟ تم مجھے بے حد عزیز ہو، اور میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی، مگر میں اپنے خوف کے ہاتھوں مجبور ہوں،“ مریم نے رومال سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
دانی ایل بھی ایک مرد تھا۔ عورت کے آنسوؤں کی تاب لانا اس کے بس میں نہیں تھا۔ چناں چہ وہ پگھلتا چلا گیا۔
” مریم، تم فکر نہ کرو۔ میں پھر کبھی تم سے شادی کی فرمائش نہیں کروں گا مگر تمہارا انتظار کرتا رہوں گا۔ تم سے میری صرف اتنی درخواست ہے کہ ہمیشہ مجھے سرِ فہرست رکھنا۔“
”تم سرِ فہرست کی بات کرتے ہو، میری فہرست میں تو صرف تم ہی ہو،“ مریم نے آنسو پونچھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔
دانی ایل نے گھڑی دیکھی۔ لنچ ٹائم ختم ہو گیا تھا۔ اس نے کاغذ کے ٹکڑے اور خالی بوتلیں کوڑا دان میں ڈالنے کے لیے جمع کیں اور دونوں کھڑے ہو گئے۔
”میں کل ایک ہفتے کے لیے پروجیکٹ کے سلسلے میں پنڈی جا رہا ہوں۔ اگلے پیر کو ملاقات ہوگی،“ دانی ایل نے کہا۔
”خیر نال جا، خیر نال آ،“ مریم نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
دانی ایل نے ڈھلان سے اتر کر گیٹ کے ساتھ رکھے ہوئے کوڑا دان میں پاکولا کی خالی بوتلیں ڈالیں اور مڑ کر دیکھا تو مریم وہیں کھڑی تھی۔ اس نے ہاتھ ہلا کر دانی ایل کو خدا حافظ کہا۔ جواباً اس نے بھی ہاتھ ہلا دیا اور وہیں کھڑا رہا۔ اس کا دل چاہا کہ واپس جاکر مریم کو اپنی بانہوں میں بھر لے۔ مریم کا ہاتھ اب بھی خدا حافظ کہنے کے لیے اٹھا ہوا تھا۔ دانی ایل نے بھی ہاتھ ہلایا اور گہرا سانس لے کر گیٹ سے باہر نکل آیا۔ گلابی جاڑے کی سوندھی سوندھی دھوپ نے اس کی اداسی میں اضافہ کر دیا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور ٹھنڈی سڑک پر مڑ گیا۔

