ابو العلاء المعری: بصارت سے محروم اور بصیرت کا امام
ابو العلائ المعری عربی شاعری میں بقائے دوام کے دربار کی صف اول کا بے بدل چہرہ ہے۔ دسویں صدی عیسوی میں پیدا ہوا اور گیارہویں صدی میں وفات پائی۔ کہاں کا باشندہ تھا؟ بھائی، یہی ملک شام جہاں کے حالیہ سیاسی مدوجزر پر ان دنوں انقلاب اور ارتقا کی حرکیات سے ناآشنا طفلان گلی کوچہ نے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ اور ملک شام میں بھی شہر حلب کا باسی جہاں زہد و پارسائی کی توبہ شکن حسینہ کے چند روزہ نرت نے خاک فرش سے ردائے آسماں غبار آلود کر رکھی ہے۔
اندھے ملحد فلسفی شاعر ابو العلائ المعری نے وفات سے کئی سال قبل اپنے کتبے کے لئے شعر منتخب کیا تھا:
ھذا جناہ ابی علئ
و ماجنیت علی احد
(یہ میں جو اس قبر میں پڑا ہوں یہ اس ظلم کا نتیجہ ہے جو میرے والد نے میرے اوپر کیا۔ اور میں نے کسی پر ظلم نہیں کیا۔ میں نے شادی نہیں کی۔)
زیر نظر تصویر اندھے ملحد عربی شاعر ابوالعلائ المعری کے مزار کی ہے۔ دیوار پر وہی شعر نظر آ رہا ہے۔
وفات کے بعد دنیا جہاں کے بادشاہ ان کے مزار کو اپنے شان و شوکت سے بار بار مختلف انداز سے تعمیر کرتے رہے لیکن وہ شعر ہر حال میں موجود رہا۔
انسان دنیا کو اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر تولتا ہے۔ جو آپ پر گزرے وہی خیر و شر کا معیار اور اخلاق کی کسوٹی بن جاتا ہے۔ ماں باپ سے نفرت، رشتوں سے بیزاری، افزائش و تولید دشمنی antenatalism کا فلسفہ اسی انفرادی تجربے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
قنوطی فلسفی شوپن ہائر نے لکھا ماں باپ اژدھا ہوتے ہیں۔ اندھے ملحد ابوالعلائ المعری التنوخی، قنوطی شوپن ہائر اور اس حقیر فقیر پر از تقصیر رشید یوسف زئی کا تجربہ کس اذیت ناک حد تک یکساں رہا! کاش انسان انسان نما درندوں سے پیدا ہی نہ ہوتا! کاش سرے سے پیدا ہی نہ ہوتا! یا لیتنی کنت ترابا!
ابولعلائ المعری عمر بھر ٹاٹ کے کپڑے پہنتا، کبھی گوشت نہ کھاتا، دنیا جہاں کے بادشاہ و ملوک تحائف و ہدایا بھیجتے۔ ہر روز غربا اور فقرا میں سب کچھ بانٹتا یہاں تک کہ مغرب تک کچھ بھی باقی نہ رہے۔ تب سکون سے رات کو سوتا۔
معری کے الحاد پر علمائے اسلام نے کافی رد و کد کی ہے۔ محدث و واعظ امام ابو الفرج ابن جوزی بغدادی نے ”تلبیس ابلیس“ میں معری پر لعن طعن کی ہے۔
اندھے ملحد فلسفی شاعر کے اشعار عالمی الحادی ادب میں ضرب المثل بن گئے ہیں۔ کہتا ہے:
اثنان اہل الارض ذو عقل بلا
دین و اخری دین لا عقل لہ
اس روئے زمین پر رہنے والوں کی دو انواع ہیں : وہ جن کی عقل ہے مگر مذہب نہیں رکھتے۔ دوسرے وہ جن کا مذہب ہے مگر عقل سے خالی ہیں۔
عجبت لکسری و اشیاعھ
و غسل الوجوہ ببول البقر
و قول الیھود الہ یحب
رسیس العظام و ریح القتر
و قول النصاری الہ یضام
و یظلم حیا و لا ینتصر
و قوم اتی من اقاصی البلاد
لرمی الجمار و لثم الحجر
(مجھے تعجب ہے کسری اور اس کے ہمنوا مجوسیوں پر جو گائے کے پیشاب سے منہ دھوتے ہیں اور عیسائیوں پر بھی کہ خدا کو مصلوب کیا جاسکتا ہے اور زندہ خدا پر ظلم کیا جا سکتا ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکتا، اور یہودیوں پر بھی کہ خدا خون کے چھینٹے اور جلے ہوئے گوشت کی دھونی پسند کرتا ہے، اور ان لوگوں پر بھی جو دور دراز سے ایک پتھر پر کنکر پھینکنے اور ایک پتھر کو بوسہ دینے آتے ہیں۔ کس قدر عجیب ہیں انسان کی یہ باتیں۔ کیا حق کسی کو نظر نہیں آتا؟ کیا اندھے ہو گئے ہیں سارے؟)
مسلمانوں کی شعوری و سماجی ترقی معکوس پر غور فرمایے: معرۃ النعمان میں معری کے مزار کے باہر اندھے ملحد فلسفی کا خوبصورت تاریخی مجسمہ تھا۔ شام پر حالیہ قابض ہونے والے جہادی جتھے ہیئت التحریر الشام کا موجودہ سربراہ احمد حسین شرع المعروف با ابو محمد الجولانی تب جبھۃ النصرہ کا امیر تھا۔ جولانی کی قیادت میں جبھۃ کے دہشت گرد فروری 2013 میں حلب کے قصبے معرة النّعمان میں ایستادہ معری کے مجسمے پر حملہ آور ہوئے۔ مغرب کے حالیہ پسندیدہ گماشتے ابو محمد الجولانی نے اپنے ہاتھ سے معری کے مجسمے کا مزعومہ اسلامی روایات کے مطابق سر قلم کیا۔ یوں اسلام کے عہد زریں کے مقبول ترین، عظیم ترین مفکر اور اپنے زمانے میں تعقل کے استعارے کو اس کے الحاد اور عقل پرستی کی سزا ایک ہزار سال کی تاخیر سے دی گئی۔





