سی ایم نعیم: اک ستارے میں ہے مکاں میرا


شہر میں اس دانش ور، نقاد، محقق اور مترجم کی موجودگی کی اطلاع ملی تو ملنے کی سبیل ڈھونڈنے لگے۔ تگ ودو کے بعد رابطہ ہوگیا۔ ان سے ملاقات، جس بھی جگہ پر ہوئی، بجلی کو غیر حاضر پایا۔ دیال سنگھ لائبریری میں ان سے ملنے پہنچے تو وہ اندھیرے میں داخلی دروازے سے آنے والی روشنی کی مدد سے لائبریری کارڈ کیٹلاگ دیکھتے پائے گئے۔ پنجاب پبلک لائبریری میں بھی دو ڈھائی دن وہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود تندہی سے کام میں جٹے رہے۔ لائبریریوں میں وہ تیرتھ رام فیروز پوری کی تالیفات اور ترجموں کی کھوج میں رہے۔ ممتاز ادیب انتظار حسین کے ہاں ان سے ملے تو ادھر بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی، یہاں موجود دوسرے صاحبان تو گرمی میں پہلو بدلتے رہے لیکن یہ حضرت کرسی پہ شانت بیٹھے سب کی سنتے رہے۔ بیچ بیچ میں کلام کرتے اور مختلف علمی و ادبی معاملات پرجچی تلی رائے دیتے۔ انتظار صاحب کو انہوں نے بتایا کہ وہ تیرتھ رام فیروز پوری کی ایک سو دس کتابوں کا پتا چلا چکے ہیں، جس پر ان کا جواب تھا ” بھئی! مجھے تو تیرتھ رام فیروز پوری میں کوئی دلچسپی نہیں۔ “ہم نے سوچا کہ انتظارصاحب، ابن صفی کے ناول نہ پڑھنے کا اعتراف کرکے، ان کے دیوانوں کو پہلے ہی ناراض کرچکے ہیں اور اب وہ تیرتھ رام فیروز پوری کے عشاق کو خفا کرنے کاخطرہ مول لے رہے ہیں۔ انتظارصاحب سے ہم نے کہا کہ نعیم صاحب نے تیرتھ رام فیروز پوری کی کچھ زیادہ ہی کتابیں ڈھونڈ نکالی ہیں، بات چھ سات کتابوں تک رہتی، تب شاید وہ پڑھنے پرآمادہ ہو جاتے، اس پرانتظار صاحب بولے’ میں پڑھنے پر کیوں آمادہ ہو جاتا ؟ ‘تو ہم نے انھیں یاد دلایا کہ محمد سلیم الرحمٰن کی کتاب”مشاہیر ادب (یونانی) “ پر اپنے مضمون میں انھوں نے لکھ رکھا ہے کہ اس کتاب سے معلوم ہوا ہے کہ سوفوکلیز نے  123 ڈرامے لکھے، ان میں سے صرف 7 دستیاب ہیں، واقعہ افسوس ناک ہیں مگر مجھے خوشی ہے کہ سات ڈرامے ہیں، اس لیے ہم نے بھی پڑھ  لیے، اگر سارے کے سارے ڈرامے موجود ہوتے تو پھر انھیں محمد سلیم الرحمٰن اور مظفر علی سید ہی پڑھتے۔

سادہ منش اور درویش صفت، سی۔ ایم۔ نعیم (چودھری محمد نعیم) سے ہماری تیسری نشست موصوف کی شاگرد اور معروف مصورہ لالہ رخ کے گھر ہوتی ہے، جدھر ہم پہنچے توبجلی موجود تھی لیکن ابھی سکون سے بیٹھنے بھی نہ پائے تھے، کہ وہ چلی گئی اور پھر ہماری موجودگی میں دوبارہ نہیں آئی اور اس عرصہ میں وہ بڑے سکون سے محو گفتگو رہے۔ پچپن برس سے امریکا میں قیام پذیر ہونے کے باوجود اپنے مشرقی کلچر میں رنگے ہیں، اس کی وجہ شاید یہ بھی رہی ہو کہ اس تمام عرصے میں اپنی زمین سے ان کا ناتا نہیں ٹوٹا، اور وہ اپنے وطن ہندوستان کا تواتر سے پھیرا لگاتے رہے۔ مضبوط استدلال کے ساتھ وہ دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں۔ وضع داراور شائستہ آدمی ہیں۔ اپنی مدح آپ کرنا تو درکنار کسی دوسرے سے اپنی تعریف سننا بھی انہیں پریشان کرتا ہے۔ علمیت کی نمائش سے گریز کرتے ہیں۔ دوسری تہذیبوں سے وابستہ افراد کے علمی کاموں کے اعتراف میں بخل سے کام نہیں لیتے۔ مستشرقین کی کمزوریاں پیش نظر ہیں لیکن گفتگو کرتے، ان کی خدمات کا انہیں پاس رہتا ہے۔ وہ اپنے مولانا روم سے صحیح معنوں میں متعارف ہونے کا کریڈٹ بھی نکلسن کو دیتے ہیں۔ کسی دوسرے کی کاوش کو اپنے سے بہتر قرار دینے کا ظرف بھی رکھتے ہیں۔

محمد عمرمیمن، سردست، جس معتبر ادبی جریدہ” اینول آف اردو اسٹڈیز“ کی ادارت کر رہے ہیں، سی۔ ایم۔ نعیم اس کے بانی مدیر ہیں۔ پہلے سات پرچے انہی کی زیرادارت شائع ہوئے۔ ایک مرحلے پر ادارت کرنا ممکن نہ رہا تو وہ اس سے الگ ہوگئے لیکن یہ کہنے میں انہیں باک نہیںکہ ”میرے بعد محمد عمر میمن نے مجھ سے بہتر پرچہ نکال لیا۔ “ (یہ رسالہ اب بند ہوچکا ہے ) ”محفل “کے نام سے جنوبی ایشیائی ادب سے متعلق رسالے کے مدیر بھی رہے۔ سی۔ ایم۔ نعیم جن موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں، ان کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان کے کئی مضامین اردو میں منتقل کرنے والے اجمل کمال کے بقول ”پروفیسر نعیم عمومی طور پر رائج تصورات اورخیالات کو تنقیدی نظر سے پرکھتے ہیں اور ان غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جن کے باعث اپنے معاشرتی، سیاسی، اور ادبی ماضی اور حال کے بارے میں ہمارے عام نقطہ نظر میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔ “سی۔ ایم۔ نعیم جہاں بھی جاتے، ایک تھیلا ان کے ساتھ رہتا ہے، جس میں موجود نوٹ بک پر وہ اپنے کام کی ہر بات فوراً نقل کر لیتے۔ ایک جدید کیمرہ بھی ان کے پاس ہم نے دیکھا، جس سے وہ ان چیزوں کی تصویر اتارتے، جنھیں فوٹو کاپی کرانے کی اجازت نہ تھی۔ لاہور سے چھپنے والی جن نئی کتابوں کو وہ حاصل کرنا چاہتے تھے، ان میں کلیات نظم آزاد شامل تھی، جس کو پا کر وہ مسرور نظر آئے۔ کلیات نظم ڈپٹی نذیراحمد کا ملنا بھی انہیں سرشار کر گیا۔ ذکاءاللہ دہلوی کی کتاب ”تہذیب الاخلاق“ کی اشاعت سے بے خبر تھے، باخبر ہوتے ہی اسے پانے کے لیے بیتاب ہوگئے اور پھر کسی مہربان نے انہیں کتاب مہیا بھی کردی۔

 سی۔ ایم۔ نعیم نے3 جون 1936 ء کو یوپی کے چھوٹے سے شہر بارہ بنکی میں آنکھ کھولی۔ سی۔ ایم۔ نعیم کے بقول، ان کا تعلق بالائی طبقے کے مڈل کلاس خاندان سے ہے۔ بچپن میں ان کی ذہنی افزائش میں گھر کے مردوں کے بجائے عورتوں کا کردار رہا۔ والدہ جنھیں وہ آپا کہتے، ان سے نماز پڑھنا سیکھا۔ وہ بیٹے سے قصص الانبیا اوررسول کریم کی سیرت پر بچوں کے لیے تحریر کردہ کتاب بھی سنتیں۔ مولوی صاحب سے ناظرہ پڑھا۔ نماز پڑھنے کی حوصلہ افزائی ضرور کی جاتی لیکن مجبور کبھی نہ کیا گیا۔ دادی، جنھیں وہ امی کہتے، ان سے بھی مذہب کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ سالہا سال بعد انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر رائے قائم کی کہ وہ بچے جن کا بچپن مردوں کے برخلاف خواتین کے زیر اثر گزرتا ہے، ان کے رویے زیادہ معتدل اورصلح جویانہ ہوتے ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت وہ ان لفظوں میں کرتے ہیں ” ایک زمانے میں زنانہ و مردانہ الگ ہوتے تھے، اور بچے اپنے ابتدائی سال زنانے میں گزارتے چنانچہ عورتوں سے وہ اپنا مذہب سیکھتے تھے۔ زنانے میں ہونے والی رسوم سے انہیں اپنے مذہب کا پتا چلتاتھا۔ بعد میں وہ پھر مردانے میں آتے تھے۔ میں یہ بات اشراف کے تعلق سے کہہ رہا ہوں کیونکہ غریب لوگوں کے پاس ظاہر ہے کہ مردانہ نہ زنانہ بلکہ ایک کمرہ اور کٹیا ہوتی ہے۔ میلاد شریف، فاتحہ، مناجات، درود وسلام، کا انتظام عورتیں کرتی تھیں۔ ان خواتین کے مذہب میں ایک طرح کی برداشت اور قبولیت کافی تھی۔ عورت ہمارے معاشرے میں ہمیشہ خاصی مجبوراور مظلوم رہی تو جو خود ہی مجبور اور مظلوم ہو تو وہ پھر کسی پر کیا جبر کر پائے گا۔ زنانہ و مردانہ ختم ہوئے تو ظاہر ہے، مکانوں اورفلیٹوں میں مرد ہر وقت موجود اور مذہب کو ڈکٹیٹ کرتا ہے۔ مردوں کا جو مذہب ہے، چاہے وہ تبلیغی جماعت کا ہو یا جماعت اسلامی کا یا کسی اور کا وہ بہت پاور اورینٹیڈ ہے۔ اس میں دین کی شوکت کا معاملہ بہت زیادہ آ جاتا ہے، مسلمان عورتوں میں دین کی شوکت والی بات نہیں تھی۔ مردوں نے دین کو اخلاق کے بجائے ضرورت سے زیادہ قوت اور اقتدار سے جوڑ دیا۔ بحیثیت مسلمان، رویوں میں حلم ہو، انکسار ہو، دوسروں کو سمجھنے کی کوشش، اور اپنی بات پر اصرار نہ ہو ان باتوں پرشوکت اسلام والے یقین نہیں رکھتے۔ مسلمان نوجوان بھی انہی چیزوں میں پڑ رہے ہیں۔ “

برصغیر کے مسلمانوں میں انتہا پسندی کے بڑھتے رجحان سے متعلق جاننا چاہا تو بتایا ” برصغیر کے مسلمانوں میں انتہا پسندی کی بات برصغیر کے پچھلے پچاس، برس یا سو برس سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں ہم قیاس آرائی کر سکتے ہیں کہ صاحب یہ اس کا نتیجہ اور یہ اس کا نتیجہ ہے۔ یہ تمام چیزیں برصغیر میں نہیں ہو رہیں، باہر بھی ہو رہی ہیں اور برصغیر بھی دنیا کا ایک جزو ہے، بین الاقوامی چیزوں کا بھی اثر ہے اور مقامی چیزوں کا بھی اثر ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ جس معاشرے میں اقتدار میں جو لوگ ہیں ان کا جبر بہت بڑھ جائے تو ان کے خلاف مذہب کی بنیاد پر احتجاج بہت آسان طریقہ ہے۔ پاکستان، ایران اور مصر میں ایسا ہی ہوا ہے۔ ڈکٹیٹر فوجی ہو یا غیر فوجی، اس کے لیے سیکولر گروپوں سے نمٹنا تو بہت آسان ہے لیکن مسجد سے ان کے خلاف جو آواز اٹھتی ہیں، اس کو وہ نہیں دبا پاتے، کیونکہ مذہب کو وہ اپنے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں، اور اگر وہ ایسا نہ کرتے ہوں تو مذہب کے نام پر احتجاج بھی دبا سکتے ہیں، مثلاً پاکستان میں بھٹو صاحب نے سیاست کمزور ہوتی دیکھ  کر مذہب کا استعمال کیا۔ “

 ”ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب ’ اورینٹل ازم ‘ میں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ مستشرقین کی علمی سرگرمیوں کے پیچھے بظاہر علمی تجسس مگر بباطن سامراجی ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ کیا آپ اس نقطہ نظر سے متفق ہیں ؟ اس سوال پر ان کا زاویہ نگاہ کچھ یوں سامنے آیا:

 ” ہم نے ایڈورڈ سعید سے بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے سامراجیت اور نوآبادیات پر جو تنقید کی ہے، وہ سب ٹھیک اوراپنی جگہ پر درست ہے۔ مشکل یہ ہے وہ سب الزام سامراجیت اور نوآبادیات کے اوپر ڈال دیتے ہیں لیکن جن ملکوں میں وہ رہے، ان کے جانے کے بعد ادھر جوnarrow  نیشنلزم ابھرا اس کی کچھ تنقید وہ اگر ساتھ میں کردیتے تو بھر بات بنتی۔ دوسری اہم بات یہ کہ اسلام کے حوالے سے مستشرقین پر وہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوںنے دستاویزی اسلام کے اوپر بات چیت کی ہے۔ سعید یا ان کے مداحین نے یہ نہیں بتایا کہ مستشرقین کی طرح یہی چیز وہ لوگ بھی کر رہے ہیں، جنھیں اسلام پرست کہا جاتا ہے، وہ بھی تو ٹیکسٹ ہی کو استعمال کررہے ہیں اور کہتے ہیں، اسلام وہی ہے جس کی سند وہ دے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوںکہ جس چیز پر تنقید وہ مستشرقین کی کر رہے ہیں تو ایسی تنقید انہیں دوسرے لوگوں کی بھی کرنی چاہیے تھی اور انہوں نے اگر نہیں کی تو ہمیں کرنی چاہیے، اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ پھر ہم اس پھیرمیں نہ پڑھیں گے کہ مستشرقین، یہودی تھے اورعیسائی تھے، اس لیے وہ ایسا کر رہے ہیں بلکہ یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ یہ سب حصول اقتدار اوراسے برقرار رکھنے کا حربہ ہے۔ پاور پالیٹکس میں اصل چیز اقتدار کا حصول ہے، اس سے ہم تعلق جوڑیں گے تبھی بات سمجھ میں آئے گی۔ ورنہ ہم یہی کہتے رہیں گے کہ اس شخص نے یہ اس لیے لکھا کہ کیوں کہ وہ بد باطن یہودی تھا اور دوسری قوم کہتی رہے گی کہ وہ بنیاد پرست مسلمان تھا، اصل بات ہے، ان کا مقصد کیا ہے اور مقصد دونوں کا یکساں ہے۔ عام آدمی دکاندار کے پاس جا کر یہ تو نہیں کہتا کہ غیر مسلموں میں اسلام کے بارے میں لکھنے والا کون ایسا ہے، جس کو سب اچھا کہہ رہے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ عبارت سمجھ میں آرہی ہے، اس نے کوئی ایسی بات تو نہیں کی، جس سے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور جب دیکھتے ہیں کہ اس لکھنے والے کی بات سے ٹھیس نہیں پہنچ رہی بلکہ بعض بڑی اچھی باتیں ہیں جو اپنی مداحی میں لگ رہی ہیں تو وہ کتاب خرید لیتے ہیں۔ رہی بات تنقید کی تو وہ ہر شخص پر ہوتی ہے۔ برنارڈ لیوس کو سب سے زیادہ بدنام کیا جاتا ہے لیکن بے حد اہم آدمی عزیز احمد نے اپنی انتہائی اہم کتاب\”Studies in Islamic Culture in the Indian Environment \” اس کے نام معنون کی ہے۔ ایڈورڈ سعید سب سے زیادہ گالیاں برنارڈ لیوس کو دیتے ہیں۔ یہ چلتا رہتا ہے۔ برنارڈ لیوس کو گالی دی اور این میری شمل میں ہزار غلطیاں تو نکال دیں، پھر سوال ہوگا، شمل نے کتاب لکھی اور غلطیاں کیں تو اب آپ ایک صحیح کتاب لکھ دیجیے۔ غلطیاں نکالنا ٹھیک ہے، اس سے طالب علموں کو فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ فلاں نے دانستہ گمراہ کرنے کی کوشش کی، یہ ٹھیک نہیں۔ “

”آپ نے اپنے مضمون ”ڈپٹی نذیر احمد کا انعامی ادب “کے آخرمیں لکھا ہے کہ ڈپٹی نذیرکا موجودہ دورمیں پڑھنا باعث تشویش ہوسکتا ہے۔ کیوں؟“ اس سوال پر پروفیسر نعیم نے بتایا ” موجودہ دور میں ڈپٹی نذیر احمد کو پڑھنا باعث تشویش ہوسکتا تو اس کی وجہ ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد کے ہیرو وہ ہیں جو کامیاب ہو جائیں۔ ان کے نزدیک کامیابی بڑی شرط ہے اور وہ کامیابی دنیاوی ہے۔ وہ دین کے اہمیت پر زور دیتے ہیں، اور دین کی راہ پر چلنے کے بعد دنیاوی کامیابی بھی لازمی ہوگی، اس کو وہ جوڑتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ باعث تشویش ہے۔ دنیا میں ترقی اور سماج کو توانائی دینے کے لیے اور بھی طرح کے لوگ درکار ہیں۔ مثلاً عبدالستار ایدھی ہیں، پاکستانی سماج کے لیے وہ کس قدر اہم ہیں، لیکن دنیاوی طور پر تو کوئی انہیں کامیاب نہیں کہے گا، لوگ انہیں سرپھرا ہی کہیں گے۔ اس لیے میں نے کہا کہ ڈپٹی نذیر احمد کی تحریروں کونصاب میں پڑھایا جاتا ہے اورکچے ذہنوں میں اس کا اثر ہوسکتا ہے۔ دوسرے ان کے ناولوں میں ایک نسل کی، اپنے سے پہلے والی نسل سے جو بغاوت ہوتی ہے، وہ موجود ہے لیکن اس کی سرکوبی بھی ہوجاتی ہے، مثلاً ”توبتہ النصوح “میں کلیم کا کتب خانہ جلا دیا جاتا ہے، کتاب کا جلانا میرے نزدیک انتہائی تکلیف دہ ہے، اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ سماج بے قابو ہوگیا ہے اور وہ معمولی سی کتاب بھی نہیں برداشت کرسکتا۔ “

 سی۔ ایم۔ نعیم نے 1955ءمیں لکھنو یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ 57 ءمیں امریکا چلے گئے۔ 1961ء میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے سے ایم اے لسانیات کیا اور شکاگو یونیورسٹی سے متعلق ہو گئے۔ چند برس مشرقی مطالعات اور لسانیات کے شعبوں میں رہے، بعد ازاں وہ جنوبی ایشیائی زبانوں اور تہذبیوں کے شعبے سے جڑ گئے۔ 2001 میں بحیثیت پروفیسر ریٹائر ہوئے۔ فی الحال وہ شکاگو یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریطس ہیں۔ تنقید، تحقیق اور ترجمے میں خاصا کام کر چکے ہیں، ان کی علمی و ادبی کارگزاری کو ہم اردو کی خدمت کے کھاتے میں اس لیے نہیں ڈالیں گے کہ انہیں لفظ خدمت سے چڑ ہے۔ ان کے خیال میں ”اردو کے زوال اور ترقی سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ کہنا کہ اردو کی ڈکشنری بن گئی تو اردو کی ترقی ہو گئی، یا اردو میں رسالہ نکال دیا تو خدمت کر دی، یہ سب دل خوش کرنے کی باتیں ہیں۔ ایسا میں نے دنیا کی کسی زبان میں نہیں دیکھا۔ کوئی ہندی والا نہیں کہتا کہ وہ ناول لکھ کر ہندی کی خدمت کر رہا ہے۔ انگریزی کا کوئی ادیب نہیں کہے گا کہ وہ انگریزی کی خدمت کر رہا ہے یا اس کی ترقی کے لیے کام کر رہا ہے لیکن اردو والے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ “

”اردو دنیا کی سب سے شیریں زبان ہے۔ “ ایسے بیانات بھی انھیں کھلتے ہیں۔ کہتے ہیں ” اردو دنیا کی سب سے شیریں زبان ہے، شیریں کا کیا مطلب ہے؟ماں کسی بھی زبان میں لوری سناتی ہے، بچے کو اس سے نیند آجاتی ہے تو اس کے لیے وہی زبان شیریں ہے۔ ہم لوگوں کے دماغ میں پتا نہیں کیوں ہے کہ اس میں فارسی اور عربی حروف پائے جاتے ہیں اور ہم ف بھی بول لیتے ہیں اور ز بھی بول لیتے ہیں، اس لیے ہماری زبان بہت میٹھی ہوگئی ہے۔ یہ بہت بیوقوفی کی بات ہے۔ “ ان کے طویل تدریسی وعلمی سفر میں جس چیز کا زیاں ہوا، ان کی تخلیقی سرگرمیاں ہیں۔ نظمیں وہ کہتے رہے اور کہانیوں کا 76ء میں ” فائیو پلس ون“ کے نام سے مجموعہ بھی چھپا لیکن اب مدتوں سے تخلیقی محاذ پر خاموشی ہے۔ کہتے ہیں ”افسوس بالکل نہیں۔ طالب علم نظم اور غزل لکھتے تو ہیں لیکن ان کے لیے بہتر ہوتا ہے کہ اس کو بھول جائیں، بچپن کی غلط کاریوں کی طرح نوجوانی کی غلط کاریاں بھی ہوتی ہیں۔ یہ ٹھیک ہے، جن میں صلاحیت ہوتی ہے، وہ جم کر کام کرتے ہیں۔ صلاحیت کے علاوہ محنت بھی درکار ہوتی ہے۔ مجھے جلد پتا چل گیا کہ میری صلاحیت اس کام میں زیادہ ہے، جو میں اب تک کر رہا ہوں۔ بہت جلد احساس ہوگیا تھا کہ نظم اور افسانہ لکھنا میرا میدان نہیں ہے۔ “ سی۔ ایم۔ نعیم کو اردو سے انگریزی میں ترجمہ کرنے والوں میں اونچا مقام حاصل ہے۔ تخلیقی ادب میں قرة العین حیدر کے دو ناولٹ ”سیتا ہرن“، ”ہاﺅسنگ سوسائٹی “اور افسانے” پت جھڑ کی آواز “کے تراجم پر مشتمل ان کی کتاب A Season of Betrayals چھپ چکی ہے۔ ہندی ادیب وبھوتی نرائن رائے کے ناول ”شہر میں کرفیو“ اور ہری شنکر پرسائے کی طنزیہ کہانیوں پر مبنی کتاب کا "Inspector Matadeen on the Moon” کے عنوان سے ترجمہ بھی ان کے قلم سے ہے۔ اردو میں طنز نگاری کی کمی انہیں محسوس ہوتی ہے، ہندی میں وہ سمجھتے ہیں، اس ضمن میں بہت بہتر کام ہو رہا ہے۔ ہندی کے طنزیہ ناولوں میں شری لال شکل کے”راگ درباری“ اور دبھوتی نرائن رائے کے”تبادلہ“کا نام خاص طور پر لیتے ہیں۔ انگریزی ترجمے اور تدوین متن میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ” ذکر میر “ ہے۔ بتاتے ہیں ” میر صاحب کی بہت اہمیت ہے۔

میر صاحب نے آپ بیتی فارسی میں لکھی، جس کا اردو میں نہایت عمدہ ترجمہ نثار احمد فاروقی نے کیا۔ میں نے بھی اصل فارسی سے ترجمہ کیا، اور اس کے ساتھ تعارف، میر کی زندگی، اور اس سماج کے بارے میں لکھا۔ مجھے تاریخ سے دل چسپی ہے اور آپ بیتیوں سے بھی۔ اور میر جیسا آدمی آپ بیتی لکھے گا تو ظاہر ہے ہمارے لیے اہم ہے۔ اٹھارویں صدی میں میری بڑی دلچسپی ہے۔ اس صدی کی دلی کے بارے میں، اس میں بہت سی معلومات ہیں۔ میر اپنے بارے میں بہت کم بتاتے ہیں لیکن تاریخی واقعات کا بہت ذکر کرتے ہیں، جادو ناتھ سرکار نے بھی اپنی کتاب میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ یہ کتاب موجود تھی لیکن اس کی اہمیت مورخین کے لیے کوئی زیادہ نہیں تھی، دلی کی اٹھارویں صدی کی کوئی تاریخ لکھنے بیٹھے تو تب اس کے لیے ذکر میر کی اہمیت ہے۔ “ اردو سے انگریزی میں ہونے والے تراجم کے معیار کے بارے میں ان کا موقف ہے ”یہ بات درست ہے کہ اکثر ترجموں میں غلطیاں ہوتی ہیں لیکن وہ ترجمے اردو والوں کے لیے نہیں کئے جاتے، بلکہ اردو سے واقفیت نہ رکھنے والوں کے لیے ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر ڈپٹی نذیر احمد کا ناول ساٹھ ستر فیصد بھی ایسے قارئین تک صحیح پہنچ جائے تو غنیمت ہے۔ “اس وقت اردو میں لکھا کچھ نیا پڑھنے کے بجائے، وہ کلاسیک جنھیں پڑھنے سے وہ اب تک محروم چلے آئے ہیں، انہیں پڑھنے کے زیادہ مشتاق ہیں۔ مضامین کے یہ چارمجموعے شائع ہوچکے ہیں۔

Ambiguities of Heritage

Urdu Texts and Contexts

 A Killing in Ferozewala

The Muslim League in Barabanki

 تیرتھ رام فیروز پوری کے کام اوراس سے ان کی دلچسپی کے باب میں ہماری جو بات چیت ہوئی، اس کا لب لباب یوں ہے:

 ” میری نسل کے لوگوں کو تیرتھ رام فیروزپوری کی ترجمہ کی ہوئی نئی کتاب مل جاتی تو بہت زیادہ خوشی ہوتی۔ اس زمانے میں ان کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ لی جاتی تھیں۔ انہوں نے زیادہ تر جاسوسی ناولیں ترجمہ کی تھیں۔ بعد میں جاسوسی کے علاوہ رینالڈز جو اپنے زمانے کا بہت مقبول عام مصنف تھا، اس کے کئی ناولوں کا ترجمہ کیا۔ رینالڈز ایک زمانے میں ہندوستان میں بہت مقبول تھا۔ تیرتھ رام فیروزپوری کی خصوصیت بس ترجمہ تھی، اوراس میں واقعی میں کمال حاصل تھا۔  110 ٹائٹل مجھے مل چکے ہیں۔ تیرتھ رام فیروز پوری کی تحریروں میں دلچسپی تو تھی، 80ء میں پہلی بار لاہور آیا توصلاح الدین محمود سے تیرتھ رام فیروزپوری کا ذکر ہوا تو وہ کہنے لگے کہ ان کے نزدیک اردوکا سب سے بڑا محسن تیرتھ رام فیروز پوری ہے۔ یہ بات ذہن میں بیٹھی رہی کہ ہم سب اس کو اتنا مانتے اور چاہتے ہیں اور اس پر کوئی مضمون نہیں ملتا، ادھر میری توجہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کے تو حالات زندگی کہیں نہیں ملتے، ہندوستان میں ایک انسائیکلو پیڈیا چھپی ہے، اس میں تاریخ پیدائش غالباً 1880ء اور تاریخ وفات 1954ء بتائی گئی ہے۔ وہ اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ فیروزپوری لکھتے تھے، لیکن ان کی تالیفات اور ترجموں کا آغاز لاہور سے ہوتا ہے۔ وہ لاہور میں رہتے تھے۔ یہاں لاہور سے ایک پبلشرنے ان کی کتابیں چھاپنی شروع کیں اور پھر اس کی مددسے تیرتھ رام نے”ترجمان“کے نام سے رسالہ بھی نکالا، جو 1915ء سے 1918ء تک نکلتا رہا۔ شروع میں تو وہ فلسفیانہ اور ادبی رسالہ تھا، لیکن بعد میں صرف ناولوں کے تراجم، سلسلہ وار چھپتے تھے۔ تیرتھ رام کے بارے میں لمبا مضمون بنے گا( اب یہ مضمون چھپ چکا ہے)، جس میں ان کی تالیفات اور تراجم کے نام، کس کتاب سے انہوں نے ترجمہ کیا، کب شائع ہوا اور کہاں سے شائع ہوااور کتنے صفحات تھے، ان کے تراجم پر بھی تبصرہ ہوگا۔ یہ سب بتایا جائے گا۔ ترجمہ وہ بہت عمدہ کرتے تھے۔ اصل کو زیادہ مسخ نہیں کرتے تھے۔ ان کے تراجم پڑھ کر آپ کو ادبی لطف بھی ملتا تھا اور ایک تسلسل کا احساس ہوتا۔ زبان اکھڑی اکھڑی نہیں ہوتی تھی۔ “

C. M. Naim

 پروفیسر شمیم حنفی کی کتاب ”ہم نفسوں کی بزم میں “ سی۔ ایم۔ نعیم کا خاکہ ہے، جس میں بیان کردہ اس واقعہ سے ان کے مزاج کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے :

1971ء کے اومس بھرے موسیم میں، ایک روز وہ اپنے انڈو امیریکن بچوں، طاہر اور فرح کے ساتھ، علی گڑھ میں وارد ہوئے، اس ارادے سے کہ یہ نقل مکانی راس آئی تو یہیں رہ جائیں گے۔ ان دنوں پروفیسر آل احمد سرور شعبہ اردو کے صدر تھے اور انھوں نے تقابلی ادبیات کی ریڈر شپ پر نعیم صاحب کو بلا لیا تھا۔ نعیم صاحب نے کم وبیش ایک سیشن یونیورسٹی میں گزارا۔ مگر یہ تجربہ انھیں راس نہ آیا۔

ایک صبح میں نے یہ تماشا دیکھا کہ فیکلٹی آف آرٹس کی عمارت کے برآمدے اور راہداری سے وہ دھڑا دھڑ سائیکلیں اٹھا اٹھا کر باہر فوارے سے ملحق آب زاروں کی طرف اچھال رہے ہیں اور طیش میں ہیں۔ میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا تو غصے اور غصے کو ضبط کرنے کی کوشش کے باعث کانپتی ہوئی آواز میں بولے : ”صاحب “حد ہو گئی! یونیورسٹی ہے یا کباڑ خانہ۔ لوگ یہ تک نہیں دیکھتے کہ آنے جانے کا راستہ بھی ہے یا نہیں! ہرطرف سائیکلیں پارک کر رکھی ہیں۔ !“

 شمس الرحمٰن فاروقی نے داستان امیر حمزہ کے بارے میں اپنی معرکتہ الآرا تنقیدی کتاب”ساحری، شاہی، صاحبقرانی“ کی چوتھی جلد سی۔ ایم۔ نعیم کے نام فیضی کے اس شعر کے ساتھ معنون کی ہے۔

بادم من بوئے او آمیخت زاں رو زندہ ام

ورنہ خود پیدا بود بابا دنتواں زیستن

(میری سانس کے ساتھ اس کی خوشبو مل گئی، اسی باعث میں زندہ ہوں ورنہ یہ بات تو ظاہر ہے کہ غم و اندوہ کے ساتھ زندہ نہیں رہا جا سکتا)

 شعرکے ترجمے کے لیے ہم ڈاکٹر تحسین فراقی کے ممنون ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سی۔ ایم۔ نعیم صاحب کا یہ انٹرویو پہلی دفعہ 12 جون 2012ء کو ” ایکسپریس“ میں چھپا، معمولی ردوبدل کے بعد اسے ”ہم سب “میں دوبارہ شائع کیا جارہا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “سی ایم نعیم: اک ستارے میں ہے مکاں میرا

  • 01/09/2016 at 4:26 شام
    Permalink

    سی ایم نعیم سے غاءبانہ تعارف کروانا کا بہت شکریہ۔۔۔

Comments are closed.