استاد ذاکر حسین کی یاد میں


سان فرانسسکو کے اسپتال میں اپنی سانسوں کی لے کو ہموار کرنے کی کوشش کرتے استاد ذاکر حسین کو کیا اپنی انگلیوں کی وہ درت لے یاد آئی ہوگی جو غیر مرئی آوازوں کو ٹھوس تھرکن میں بدل ڈالتی تھی؟ خود ذاکر حسین نے ایک بار انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا طبلہ ان کے ساتھ سانس لیتا ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے والد مشہور طبلہ نواز اللہ رکھا خاں نے ان کے کان میں موسیقی کا منتر پھونک دیا تھا۔ مذہبی رسم کے مطابق انہیں ان کے والد کے پاس لایا گیا تھا کہ وہ ان کے کان میں اذان دیں، لیکن اس کے بجائے اللہ رکھا خاں نے ان کے کان میں طبلے کے بول پڑھ دیے تھے۔ روایت سے یہ پہلی بغاوت تھی جس میں ذاکر حسین اسی وقت شراکت دار بن گئے جب انہوں نے ابھی بولنا بھی نہیں سیکھا تھا۔ بچپن ہی سے سنگیت سیکھنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ انہوں نے کئی نسلوں کے ساتھ سنگت کی۔ اپنے بزرگوں کے ساتھ بھی اور اپنے بعد کے نوجوانوں کے ساتھ بھی۔

ذاکر حسین کے طبلے کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ طبلے کو مدھر بنا ڈالتے تھے۔ انہوں نے شوکمار شرما کے سنتور کے ساتھ سنگت کی، ہری پرساد چوراسیا کی بانسری سے لے ملائی، علی اکبر خان کے سرود کے ساتھ تال بٹھائی، اور ایسا کرتے ہوئے انہوں نے طبلے کو بھی سرود، سنتور اور بانسری جیسا مدھر بنا دیا۔ ان کے ہاتھوں کی تھاپ سے طبلہ گویا ملائم ہو جاتا تھا۔ برسوں پہلے دلی کے نہرو پارک میں ہری پرساد چوراسیا اور شوکمار شرما کے ساتھ ان کی جگل بندی کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔

ذاکر حسین طبلے کے پنجاب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ میاں قادر بخش، میاں شوکت حسین خان اور استاد اللہ رکھا جیسے عظیم طبلہ نوازوں کا یہ گھرانا بہت معروف گھرانا تھا لیکن جب ذاکر حسین نے ہوش سنبھالا اس وقت گھرانوں کی روایت کمزور ہو چکی تھی۔ ذاکر حسین جیسی آزاد روح کو ویسے بھی گھرانوں کی حدود میں قید کرنا ممکن نہ تھا، طبلے کی حدود میں بھی نہیں۔ انہوں نے کشن مہاراج سے بھی سیکھا اور برجو مہاراج کے ساتھ بھی سنگت کی۔ یوں ذاکر حسین نے جس کے ساتھ بھی سنگت کی وہ ان کا گرویدہ ہو گیا۔ شو کمار شرما جیسے سنتور نواز کا ان کے بغیر گزارا نہ تھا۔ جب ذاکر حسین امریکہ چلے گئے تو شو کمار شرما نے رام کمار طبلہ نواز کو اپنے ساتھ رکھا لیکن اسے تنبیہ کردی کہ وہ پہلے ذاکر حسین کا طبلہ اور انداز دیکھ لے۔ بانسری کے ساتھ بھی ان کی سنگت شاندار ہوا کرتی تھی۔

ذاکر حسین کے طبلے کو سننا جتنا فرحت بخش تھا اتنا ہی ان کی انگلیوں کو دیکھنا بھی۔ ان کی تھرکتی ہوئی انگلیاں جیسے کسی ساز میں بدل جاتی تھیں۔ طبلہ ان کی انگلیوں کے بیچ تڑپتا نہیں تھا بلکہ بہتا تھا۔ ان کی تہائی سنتے ہوئے لوگ تالی بجانے سے زیادہ ان کے سم پر آنے کا انتظار کرتے تھے۔ وہ کبھی سُر کے اوپر حاوی نہیں ہوتے تھے۔ ہمیشہ اتنی سہولت سے سم پر آتے تھے کہ سننے والے حیران رہ جاتے۔

ان کے طبلے کی ایک اہم بات یہ ہے کہ طبلے کی کلاسیکی روایت کو قائم رکھتے ہوئے ذاکر حسین نے اسے مغربی موسیقی کے ساتھ جوڑ کر اس کی ایک الگ شناخت قائم کر دی۔ انہوں نے جارج ہیرسن، چارلس لائڈ، ملی ہارٹ اور یویوما جیسے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ روی شنکر کے علاوہ وہ ان گنے چنے فنکاروں میں سے تھے جن کے کام سے لوگوں نے ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی کی اہمیت کو سمجھا۔ یہ ایک نیا سُر تھا جو مغرب پہلی بار سن رہا تھا۔ انہوں نے ’شکتی‘ نام سے جاز فیوژن بینڈ بھی بنایا۔ انہیں ایک ہی سال میں تین گرامی ایوارڈ ملے۔

ذاکر حسین کی شخصیت کا اہم پہلو ان کی سادگی اور عاجزی تھی۔ اس لیے انہیں بزرگوں کی دعائیں بھی ملیں اور نوجوانوں کی محبت بھی۔ انہوں نے نوجوان فنکاروں کو بڑھاوا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہی وجہ ہے کہ برسوں امریکہ میں رہنے کے باوجود وہ اتنے زیادہ ہندستانی تھے کہ انہیں کسی اور روپ میں پہچاننا ممکن ہی نہیں۔ انہیں پاکستان میں بھی بہت پسند کیا جاتا تھا۔ 1990 میں انہوں نے کراچی کے پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں ایک لائیو کانسرٹ کیا تھا جس میں انہوں نے عدنان سمیع خان کے ساتھ سنگت کی تھی۔ وہ ایک یادگار کانسرٹ تھا۔

20 ویں صدی میں ہندوستانی سنگیت کے کئی ایسے فنکار سامنے آئے جنہوں نے عالمگیر شہرت حاصل کی، ذاکر حسین بھی انھی عظیم فنکاروں میں سے ایک تھے۔ انہیں ہندوستان میں بھی بھرپور عزت اور پیار ملا۔ ہندوستانی سرکار نے انہیں پدم وبھوشن کے اعزاز سے نوازا۔ ذاکر حسین چاہے اپنی محفل ختم کر کے رخصت ہو گئے ہوں لیکن ان کے طبلے کی تھاپ ہمیشہ گونجتی رہے گی۔ ان کی تھرکتی انگلیاں ہمارے اندر سنگیت رچاتی رہیں گی اور ہم اپنے آپ کو ان سروں میں پہچانتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS