انیسویں صدی کے یورپ کے اردو سفرناموں پر سرسری نظر


سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے۔ سفر کی کئی اقسام ہیں جیسے تعلیمی سفر تعلیم کے لئے، تبلیغی سفر، تجارتی سفر، سیاسی سفر (یورپ میں ریفیوجی بننا) ، شاہی سفر بادشاہ یا حکمراں کا، جنگی سفر، مہماتی سفر ایڈونچرز کرہ شمالی جانا ماؤنٹ ایورسٹ، تصوراتی سفر چاند یا مریخ پر جانا، ہجرت کا سفر کسی دوسرے ملک چلے جانا، مذہبی سفر حج بیت اللہ یا در گاہ، سفیروں کے سفارتی سفر، ادبی سفر مشاعرے یا لیکچرز، تفریحی سفر۔

سر سید نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ یورپ صرف دو آدمیوں کے کام کا ہے اول ان کے جو جوان نو عمر ہیں اور علوم و فنون جدیدہ کی تربیت چاہتے ہیں، اور یورپ کی زبان سے واقف ہیں۔ دوم ان لوگوں کے لئے جو سیر کے خواہاں ہیں۔ انگلستان جنت نگاہ، منبع سیر و تفریح، گہوارہ علم و ادب، خوابوں کی سر زمین، ہندوستانیوں کے لئے پچھلے دو سو سال سے آماج گاہ تمنا رہا ہے۔

عجائبات فرنگ 1837

یوسف خاں کمبل پوش کے سفر نامے عجائبات فرنگ کو اردو کا سب سے پہلا سفر نامہ قرار دیا جاتا ہے۔ وہ حقیقی سیاح تھا جو ایک عام مسافر سے سیاح کو ممتاز کرتا ہے۔ انگلستان کے لئے اس نے اپنے سفر کا آغاز 30 مارچ 1837 کو کلکتہ سے بحری جہاز ازابیلا سے کیا۔ لندن اس وقت ہندوستانیوں کے لئے بے حد کشش رکھتا تھا۔ لندن کی آزادی اور آزاد روی، دل کشی اور عجائبات عالم اس قدر پر کشش تھے کہ ہر ہندوستانی وہاں کی سیاحت کا شوق رکھتا تھا۔

لندن سے واپس آنے والے ہم وطن مسافر رشک کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔ بہت کم خوش نصیب ایسے تھے جن کو لندن کی سیاحت نصیب ہوتی تھی۔ یہ ہندوستانی واپس وطن آ کر لندن کی باتیں اس ڈھنگ سے بیان کرتے گویا ساری خوبیاں لندن کے حصے میں آ گئی ہیں۔ راقم السطور نے لوگوں کی نام تختیاں بچپن میں دیکھی ہیں جو نام کے ساتھ لندن پلٹ لکھا کرتے تھے۔

یوسف خاں 31، اگست 1837 کو لندن سے 150 میل دور جہاز سے اتر کر کشتی کے ذریعہ لندن پہنچا۔ سفر کے دوران انوکھے مشاہدات اور نئے تجربات نے اس کو بے خود کر دیا۔ خوبصورت مناظر، لوگ خاص طور پر خوبصورت عورتیں اس کا دل بہکاتی رہیں۔ ”نا گاہ ایک چودہ برس کی معشوقہ دیکھی، ۔ عجب اس کا حسن و جمال، بے مثال کہ اس کا بیان محال، گورے گورے گال، ہونٹ لعل لعل، دانتوں میں چمک، کمر میں لچک، شیریں ادا، دلربا، ابھری ہوئی چھاتیاں عاشقوں کو پھسلاتیاں“

لندن میں ملکہ وکٹوریہ کا جلوس دیکھ کر اس کی حالت عجیب ہو گئی۔ ”ملکہ مہر سیما کوئین وکٹوریہ اپنی والدہ کے ساتھ اس پر سوار تھیں۔ چاند صورت، سورج طلعت دکھائی دیتی تھیں۔ تخمیناً عمر میں اٹھارہ برس کی، مجمع شرم و جمال، عفت بے شمار تھیں۔ میں نے صورت دیکھتے ہی

دل میں دعا کی یا اللہ ملکہ کی گاڑی میرے پاس پہنچ کر ایک لحظہ ٹھہرے، خدا نے سن لی، جب گاڑی میرے سامنے آئی، ایک ساعت رکی، ملکہ کا

نورانی چہرہ میں نے بغور دیکھا، نمونہ قدرت ایزدی کا پایا، ” (صفحہ 139 ) عجائبات فرنگ پہلی بار 1847 میں تاریخ یوسفی کے نام سے دہلی سے شائع ہوئی تھی۔ 1873 میں منشی نول کشور نے اس کو عجائبات فرنگ کے نام سے دوبارہ شائع کیا۔ صفحہ تین پر کمبل پوش کی شبیہ دی گئی ہے۔ یہ سفرنامہ فارسی میں بھی زیور طبع سے آراستہ ہوا تھا۔ یوسف خاں کمبل پوش لندن سے واپس کلکتہ 25 جولائی 1838 کو پہنچا۔

1873edition https://www.rekhta.org/ebooks/ajaibat-e-farang-yusuf-khan-kambal-posh-ebooks
سیاحت نامہ 1840

اردو کے مشہور نقاد ڈاکٹر عبادت بریلوی نے نواب کریم خاں کے سیاحت نامے کو لاہور سے شائع کیا تھا۔ نواب کریم نے مارچ 1840 میں انگلستان کا سفر شروع کیا اور، نو ماہ بعد پہلی دسمبر 1840 کو لندن پہنچے۔ وہ نومبر 1841 تک لندن میں مقیم رہے۔ نواب یوسف کمبل پوش کے ہم عصر تھے۔ نواب نے یہ سفر بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے سفیر کی حیثیت سے جھجھر کے مقدمے کی پیروی کے لئے اختیار کیا تھا۔ نواب لندن جو کچھ دیکھتے اس کو اپنی روزانہ ڈائری میں لکھ لیتے۔ اس لئے اس کا سیاحت نامہ لندن کی سیاسی، ثقافتی، معاشی، سماجی اور معاشرتی زندگی کی دستاویز ہے۔

سفر فرنگ

مرزا ابو طالب خاں اصفہان (ایران) کا سفر نامہ اردو کا تیسرا قدیم ترین سفر نامہ ہے۔ اس نے 1799 میں لندن کا سفر اختیار کیا اور 1801 میں واپس آیا۔ مرزا ابو طالب عوام میں لندنی کا نام سے مشہور ہوئے۔ ان کا سفرنامہ سیر طالبی لندن کا آنکھوں دیکھا حال پیش کرتا ہے۔ سفرنامہ فارسی میں ہے جو اس وقت تہذیبی زبان تھی۔ سفر فرنگ، در اصل اس کے سیر طالبی کا اردو ترجمہ ہے۔

تاریخ انگلستان (معروف بہ سفر نامہ لندن) 1856

مولوی مسیح الدین علوی نے لندن میں ساڑھے سات سال کا عرصہ گزارا۔ علوی کا شمار سلطنت اودھ کے حکمراں واجد علی شاہ کے معتمدین خاص میں ہوتا تھا۔ سفر انگلستان سے قبل مولوی مسیح الدین گورنر جنرل کے میر منشی رہ چکے تھے۔ برٹش سرکار نے جب 1856 فروری میں ریاست اودھ کی حکومت کو معزول کر دیا تو بادشاہ واجد علی شاہ نے مسیح الدین کو داد رسی کے لئے انگلستان سفیر بنا کر روانہ کیا۔ مسیح الدین 140 نفری قافلے کے ساتھ کلکتہ سے 18 جون 1856 کو روانہ ہوئے اور 23 دسمبر 1865 کو واپس ہندوستان پہنچے۔

نومبر 1863 کو لندن سے روانہ ہوئے، واپسی پر دو بار حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ لندن میں یہ سفارت ناکام رہی، اس کی اہم وجہ ہندوستان کی 1857 کی جنگ آزادی تھی۔ واجد علی شاہ نے بارہ لاکھ روپے لے کر سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور مسیح الدین کو معطل کر دیا۔ سفر نامے میں انگلستان کی تہذیب و تمدن، تعلیم و تعلم، فن تعمیر، صنعت و حرفت، فنون جدیدہ کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ مسیح الدین کے زمانے میں سفر کے وسائل اور ذرائع دشوار ہوتے تھے۔ کتاب کا واحد نسخہ خانقاہ کا کوری شریف (لکھنؤ، اتر پر دیش) کی لائبریری میں محفوظ ہے۔

سیر فرنگستان

یہ شاہ ایران ناصر الدین شاہ قاچار کا سفر نامہ ہے۔ سفر کا آغاز روس سے ہوا اور سلطنت عثمانیہ پر ختم ہوتا ہے۔ سید مظفر الدین حیدر نے اس کا ترجمہ سیر فرنگستان کے نام سے کیا تھا۔ مترجم نے اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے : پہلے میں روس اور پرشیا ہے۔ دوسرے حصے میں لندن اور فرانس کے سفر کے حالات ہیں۔ تیسرے حصے میں فرانس سے استنبول تک کی سیر بیان کی ہے۔ سفرنامے میں شاہ ایران کی ملکہ وکٹوریہ، لارڈ مور اور شہزادہ لیوپولڈ سے ملاقات کا ذکر ملتا ہے۔

لندن میں شاہ کا پرزور استقبال کیا گیا اور خوب خاطر مدارات کی گئی۔ سفر نامے میں لندن کی سیاست، وہاں کے حاکم اور ارکان حکومت کے لباس کو پیش کیا گیا ہے۔ مانچسٹر میں لوہے کی پہیے بنانے کے کارخانے، گاڑیوں کے پہیے، گاڑیوں کے کارخانوں کا احوال ہے۔ چونکہ کارخانے بہت زیادہ ہیں اس لئے لوگ اور وہاں کے در و دیوار سیاہ نظر آتے ہیں۔ لندن کی شاہی زندگی کا نقشہ دیا گیا ہے۔ سفرنامے میں شاہ ایران کے فرانس جانے کا بھی ذکر ملتا ہے، وہاں کے قلعوں اور گرجاؤں کی تفصیل پیش کی ہے۔

سفر نامہ یورپ 1873 فارسی

شاہ ایران ناصر الدین کے سفر یورپ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ مولوی عبد الحمید فرخی نے 1306 ہجری ( ( 1888 میں کیا، اور ”جلوس مسند نشینی۔ نواب محمد حامد علی خاں بہادر والی رامپور“ 1889 کی تقریب کی یادگار میں شائع ہوا۔ شاہ ایران نے 1873 میں یورپ کا سفر کیا۔ انگلستان کے مختلف شہروں کا حال، سلطنت کا حال، وہاں کے عجائب خانے، اسلحہ خانے، توپ خانہ، آہنگر خانہ کی سیر کی اور چشم دید حالات قلم بند کیے ۔ سفر نامے میں انگلستان کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ یہاں کے لوگ محنتی، کسی کام کو کرنے میں عیب نہیں سمجھتے۔ ہر کام خوشی خوشی کرتے اور اسی وجہ سے یہ قوم دنیا کی بہترین قوم ہے۔ شاہی دعوتوں کا بھی ذکر ہے اور شاہی شان و شوکت کا۔

سیر ستان انگلینڈ 1863

اس سفر نامے کے مصنف کرشن داس جی تھے جو گجرات کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے یہ سفر 1863 میں کیا اور اس کے حالات گجراتی زبان میں قلم بند کیے ۔ نواب سکندر خاں رئیس پالن پور (گجرات) کو یہ سفر نامہ بہت پسند آیا جنہوں نے اس کا ترجمہ رحمت سیاں سے کروایا۔ یہ اردو ترجمہ 1870 میں مطبع حسینی دہلی سے شائع ہوا تھا۔ مصنف نے سفر نامے میں انگلستان کی تعلیمی اور تہذیبی زندگی کو پیش کیا ہے۔ لکھا کہ لندن میں بہت سارے صبح اور شام کو اخبار شائع ہوتے ہیں، ان اخباروں کے نام بھی دیے ہیں جیسے ہیرالڈ، مارننگ سٹار، ایوننگ سٹینڈرڈ۔ ہر اخبار کی قیمت چار پینس ہوتی ہے۔ انہوں نے کتب خانوں، زو لاجیکل گارڈن، ریجنٹ پارک، اور ٹاور آف لندن کی تفصیل دی ہے۔ لوگوں کے گھر صاف اور آراستہ ہوتے ہیں۔ لوگ ہر قسم کا کاروبار کرتے ہیں۔

مسافران لندن 1869

سر سید احمد خاں ( 1817۔ 1898 ) کا لندن کا یہ سفر یکم اپریل 1869 کو شروع ہوا، اور 12 اکتوبر 1870 کو (یعنی ایک سال چھ ماہ اور

دو یوم) ختم ہوا تھا۔ سر سید نے ہندوستان کے تعلیمی نظام میں وسعت لانے کے لئے یورپ کا سفر کیا تھا۔ ان کی دانست میں جب تک

مسلمانوں اور انگریزوں میں میل جول پیدا نہ ہو گا اس وقت تک ان کا ہندوستان میں رہنا دشوار ہو گا۔ وہ سر ولیم میور کی کتاب لائف آف محمد کا جواب لکھنے کے لئے بھی بے قرار تھے۔ اس کے لئے بہت سی کتابوں اور مخطوطات کی ضرورت تھی جو ہندوستان میں دستیاب نہ تھیں مگر برٹش میوزیم اور انڈیا آفس لائبریری میں موجود تھیں۔ جب ان کے بیٹے سید محمود کو گورنمنٹ کی طرف انگلستان جا کر تعلیم حاصل کرنے کا سکالر شپ ملا تو انہوں نے بھی لندن جانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔

سر سید اپنے دونوں بیٹوں سید حامد اور سید محمود کے ہمراہ لندن روانہ ہوئے۔ اس سفر کی تفصیلات جو انہوں نے قلم بند کیں وہ مسافران لندن کے نام سے شائع ہوئی تھیں۔ جگہ جگہ انہوں نے اپنے وطن کے حالات کا وہاں کے حالات سے مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے انگلستان کی تعلیم، طرز تمدن و طرز معاشرت، اور ترقیات جاننے کی کوشش کی۔ طریقہ تعلیم کے سلسلے میں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کا خود جا کر قریب سے معائنہ کیا۔ تعلیم نسواں کو غور سے دیکھا۔

سر سید اس نتیجہ پر پہنچے کہ ترقی کے لئے سب سے پہلے انگریزی زبان اور علوم سے واقفیت قطعی طور پر ضروری ہے۔ سفر کے اخراجات کے لئے انہوں نے اپنا کتب خانہ فروخت کر دیا، دوستوں سے قرض لیا، اور اپنی جائیداد سود کی 14 دی صد شرح پر گروی رکھ کر بمبئی سے عازم انگلستان ہوئے۔ انسان کا مطالعہ چاہے کتنا ہی وسیع ہو مشاہدے کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا۔ سر سید سفر کے دونوں مقاصد حاصل کر نے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے لائف آف محمد کا مدلل و مسکت جواب لکھا۔

تعلیم کے لئے ان کے مشاہدے، مطالعے نے ایسی تدبیریں سکھائیں جو ہندوستان کی تعلیمی پالیسی اور طریقہ تدریس وضع کر نے میں بنیادی ثابت ہوئیں۔ علی گڑھ میں انہوں نے ایک سکول کے بعد محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھی۔ 1870 میں وہ ملکہ معظمہ کوئین وکٹوریہ اور پرنس آف ویلز کی تقریباتLEVEEؑؑ میں شریک ہوئے۔ ڈیوک آف آرگائیل کے ہاتھوں کے سی ایس آئی کا خطاب اور تمغہ حاصل کیا۔ انہوں نے اپنی قوم کی پستی اور انگریز قوم کی بلندی کا تجزیہ کیا۔ یہ سفر نامہ فی الواقعہ معلومات کا نگار خانہ ہے۔

سفر نامہ لندن 1880

سفرنامہ لندن کے مصنف کا نام مولوی محمد سمیع اللہ خاں ہے جو 1881 میں عمدہ المطابع امروہہ سے طبع ہوا تھا۔ سفر کا آغاز علی گڑھ سے ہوا، ان کے ہمراہ حمید اللہ خاں، حامد علی خاں اور محمد رفیق تھے۔ یہ سفر نامہ انہوں نے اس لئے مرتب کیا تا وہ لوگ جو سفر نہیں کر سکتے وہ اس سے فیض یاب ہو سکیں۔ انہوں نے لندن اور فرانس کے شہروں کا حال، کیمبرج یونیورسٹی کی کالجوں کی تفصیل، سکاٹ لینڈ کا حال، وہاں کے رہائشی مکانات، زولاجیکل گارڈنز، برٹش میوزیم لائبریری کی تفصیل دی ہے۔

لندن اور فرانس کے بازاروں کی تعریف کی، بازار سجے سجائے ہوتے، سڑکیں وسیع، مکانات سڑکوں کے دونوں طرف ہوتے ہیں۔ لندن کے عجائب گھروں کا ذکر نہایت دل کش انداز میں کیا ہے۔ لندن میں انہوں نے ویکس میوزیم (مومی عجائب گھر) بھی دیکھا : ”لندن میں بیکر اسٹریٹ پر ایک مکان ہے اس میں موم کی پورے قد کی مورتیں، دنیا کے اکثر مشہور لوگوں کی ہیں۔ داخلے کا ٹکٹ ایک شلنگ ہے۔ وہ پتلے ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے اصلی آدمی کھڑے ہوں“ ۔ (صفحہ 137 ) یہ سفر نامہ لندن کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔

آئینہ سکندری 1887

یورپ کا یہ سفر نامہ بابو اما شنکر کے قلم سے نمودار ہوا۔ مطبع محب ہند دہلی نے 1887 میں اس کو شائع کیا۔ اس میں جرمنی، انگلینڈ اور فرانس کے حالات پائے جاتے ہیں۔ دعوتوں کا حال، نمائش کی سیر کا نقشہ، عجائب گھر، کتب خانے، لندن کے باغات، پکچر گیلری، بکنگھم پیلس، سینٹ جیمز پارک، کرسٹل پیلس، اورنیشنل گیلری کی منظر نگاری کا مرقع ہے۔ ٹاور آف لندن کی تاریخ بھی پیش کی ہے جو کبھی شاہی محل، کبھی عدالت، کبھی قید خانہ، مصنف نے جب اس کو دیکھا تو یہ نمائش گاہ تھا۔

اس کے علاوہ ٹاور آف لندن کابیل ٹاور جہاں ملکہ ایلزبیتھ اول پا بند سلاسل رہی تھیں۔ بلڈی ٹاور جہاں ایڈورڈ چہارم کے دو بیٹوں کے سر قلم ہوئے۔ وائٹ ٹاور جہاں سر والٹر رَیلے تین مرتبہ قید رہے تھے۔ مصنف نے ریجنٹ پارک اور زولاجیکل گارڈن کی خوب صورتی کو زیب قرطاس کیا ہے۔ باغوں کی دل کشی اور خوبصورتی جنت کا سماں پیش کرتی ہے۔ مکانوں میں صحن بالکل نہیں ہوتا، مکانات ایک جیسے ہوتے ہیں۔ لوگ جب آپس میں ملتے تو سب سے پہلے حال پوچھتے ہیں۔

جب عورتوں سے ملتے تو پہلے ہاتھ آگے نہیں بڑھاتے بلکہ ذرا سا سر جھکا دیتے ہیں۔ عورت خود ہاتھ بڑھائے تو پھر ہاتھ ملاتے ہیں۔ راستے میں کوئی مل جائے تو اپنا ہیٹ ذرا اونچا کر دیتے ہیں۔ لندن میں انڈین نیشنل ایسوسی ایشن ہے جو ہندوستانی طالب علموں کی تعلیم اور ان کی سہولیات کی نگرانی کرتی ہے۔ شنکر نے مشورہ دیا کہ جب ہندوستانی لندن جائیں تو اپنے ساتھ ہندوستانی لباس ضرور لے کر جائیں جو وہ دعوتوں پر پہن کر جائیں۔ مصنف نے انگریزوں کی مہمان نوازی اور اعلیٰ اخلاق کی بہت تعریف کی ہے۔

سفر نامہ یورپ 1885

مرزا نثار علی بیگ یورپ 1885 میں گئے۔ تین ماہ کے عرصہ انہوں نے یورپ کی سیر کی اور ہر روز سفر کا حال ڈائری میں لکھتے رہے۔ یہ کتابی صورت میں 1890 میں سفر نامہ یورپ کے نام سے شائع ہوا۔ اودھ میں وہ ڈپٹی انسپکٹر مدارس رہ چکے تھے۔ انہوں نے سر ولیم میور کی تجویز پر 1873 میں عربی زبان کے طریقہ تدریس معلوم کر نے کے لئے عدن، جدہ، مکہ، مدینہ، کنعان، مصر اور بیت المقدس کا سفر کیا۔ اپنے سفر کی رپورٹ اور سفر نامہ گورنمنٹ کو پیش کیا جس کو انگلش سرکار نے 1874 میں طبع کروایا۔

اس سفر سے ان کے شوق کو مہمیز لگی نیز وہ اپنے چند مربیوں اور محسنوں کے انگلینڈ میں دیدار کے متمنی تھے۔ جیسے مسٹر ایم کیمپس، مسٹر ایم ایس ایڈ ( جنہوں نے کالج کی تعلیم مکمل ہونے پر ملازمت دلوائی اور ڈپٹی کلکٹر بنایا) ، اور سر ولیم میور Muir جن کے سایہ عاطفت میں نثار علی نے آگرہ میں تعلیم حاصل کی۔ پنشن کے بعد یہ تینوں اصحاب ولایت لوٹ گئے اور نثار علی کو یاد کرتے رہے۔ وہ یہ بھی جا ننا چاہتے تھے ہندوستانی وہاں سفر کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں؟

ایک ما ہر تعلیم کے طور پر مصنف نے لندن کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے لوگوں کے مذہب سے لا پرواہی اور لا دین ہونے کی شکایت کی۔ ”اتنا بڑا شہر جس میں 45 لاکھ آدمی کی آبادی ہو اور ایسا بڑا گرجا اور معدود ے چند نمازی“ ۔ سفر نامے میں زولاجیکل گارڈن، باغات، میوزیم کی تفصیل ملتی ہے۔ میوزیم کے بارے میں کہتے ہیں : ”عجائب خانہ بھی فی الحقیقت ایک نمونہ خدائے تعالیٰ کی بے حد قدرتوں کا ہے۔ ہر ملک کی پرانی شے اور جد ید شے، عمدہ چیزوں اور دستکاریوں کا مخزن تھا۔ خواہ وہ از قسم اسلحہ ہوں، یا ظروف

استعمال یا تصاویر اور مکانات یا لباس۔ غرض ہر شے نادرالوجود کا یہاں انبار جمع تھا۔ ”انگلستان کی زندگی کا ہندوستان کی زندگی سے

موازنہ کیا ہے۔ زبان شگفتہ، سادہ اور سلیس، وسعت معلومات اور منظر نگاری کا یہ عمدہ نمونہ ہے۔
گلگشت فرنگ 1888

انگریزی میں اس سفر نامے کے مصنف جسٹس مہدی حسن ہیں۔ سفر میں وہ روزنامچہ لکھتے رہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ مرزا عزیز احمد نے کیا جو مطبع مفید عام آگرہ سے 1889 میں شائع ہوا تھا۔ مہدی حسن ریاست حیدر آباد کے چیف جسٹس تھے۔ وہ 6 جنوری 1888 کو حیدرآباد سے یورپ کے سفر پر روانہ ہوئے اور مصر، عدن اور قاہرہ سے ہوتے لندن پہنچے۔ مہدی حسن کا مقصد سفر سر سید احمد سے ملتا جلتا تھا۔ وہ بھی ہندوستانیوں اور انگریزوں میں اختلاف کی دیوار کو گرا دینا چاہتے تھے۔

سفر نامے میں انہوں نے معمولی سے معمولی واقعہ کو دل چسپ پیرائے میں بیان کیا ہے۔ انگلستان کے لوگ قوی اور خوبصورت ہوتے ہیں۔ کرکٹ، روئنگ یعنی کشتی بانی، گھوڑے کی سواری، بندوق چلانا، کتوں سے شکار کرنا ان کے محبوب مشغلے ہیں۔ کلب، ہوٹل، تھیٹر، شراب خانے کثیر تعداد میں پائے جاتے۔ ان میں تعلیم کا عام رواج ہے۔ روزانہ اخبار پڑھتے ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی یہاں کی قدیم یونیورسٹی ہے اس میں قریب تین ہزار طالب علم تعلیم پا رہے ہیں۔ ایک سرکاری دعوت کا ذکر کیا جس میں ممبران پارلیمنٹ سر جیمز کیٹس، سر ولیم لینگ، ہارورڈ ونِسنٹ اور، لندن کے لارڈ مئیر، شریک تھے۔ مصنف انگریزی حکومت، تعلیم، لباس، تہذیب و تمدن کے تعریف میں زبان سے پھول بر سا تا ہے۔

آئینہ فرنگ 1888

نواب محمد عمر خاں ایک چھوٹی سی ریاست باسودہ کے رئیس تھے۔ نواب صاحب کو سیر و سیاحت کا اس قدر شوق تھا کہ پچاس سال غیر ممالک کے سفروں میں گزار دیے۔ انہوں نے سات سفر نامے (لنکا سفرنامہ رئیس، نیرنگ چین، نیرنگ رنگون، ارژنگ چین، اندلس قند مغربی ) یادگار چھوڑے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کو جہاں گردی، جہاں گشتی کا شوق تھا۔ انہوں نے اس دور میں اسفار کیے جب سفر کرنا جان جوکھوں کا کام ہوتا تھا۔ انہوں نے 1888 میں یورپ کا سفر کیا اور لندن، اٹلی، سوٹزرلینڈ، اور ترکی کے حالات و کوائف آئینہ فرنگ میں بیان کیے ۔ 1891 میں ایک بار پھر انہوں نے یورپین ممالک کا سفر کیا۔ اس دفعہ انہوں نے ماسکو، بلغراد، بلجیم، جرمنی اور یورپ کے متعدد علاقوں کی سیاحت کی اور ان کا احوال فرہنگ فرنگ میں بیان کیا۔ ان کے سفر نامے تمام ممالک کی ہر زاویے سے تصویر کشی کرتے ہیں۔

مسیر حامدی 1893

یہ سفر نامہ رام پور ریاست کے نواب محمد حامد علی خاں ہے۔ وہ 3 مارچ 1883 کو سفر پر روانہ ہوئے اور 4 جنوری 1884 کو واپس بمبئی پہنچ گئے۔ دس مہینے کی سیاحت کے دوران نواب صاحب نے سیلون، جاپان، ہوائی، فرانس، جرمنی یونان، امریکہ، افریقہ، انگلستان اور مصر کی سیر کی۔ انہوں نے یہ سفر ایک انگریز گورنر سر آکلینڈ کلون کی دعوت پر سفر کیا تھا۔ بہ حیثیت والی ریاست وہ جہاں بھی گئے ان کی شایان شان پذیرائی ہوئی۔ انہوں نے مختلف ممالک کی تہذیبوں کو بہ نظر غائر دیکھا، ان کی طرز معاشرت کو دیکھا، صنعت و حرفت کو دیکھا،

اسباب تجارت کو دیکھا اور جو چیز اچھی لگی اس سے استفادہ کیا۔ امریکہ کی نیاگرا فالز کے بارے میں لکھتے ہیں : ”نیاگرا دنیا میں سب بڑا

آبشار ہے۔ اس کے دھارے کے قریب ایک گوٹ کے برابر ہوا کا ایک سوراخ ہے جس میں سے بہ شدت ہوا آتی ہے۔ ایک ہزار ساٹھ فٹ چوڑی آبشار، چالیس فٹ موٹی دھار گرتی ہے۔ آبشار سے فی منٹ ڈیڑھ کروڑ مکعب فٹ پانی ہفتے میں ایک میل مکعب پانی گرتا ہے۔ دھار کے بہت قریب تک کشتی جا سکتی ہے ”۔ نواب صاحب نے سفرنامے میں سائنس کی تازہ ایجادات کو ابھارا ہے جن سے ہندوستانی عوام ابھی تک نا واقف تھے، جیسے امریکہ میں انہوں نے سڑکوں پر جھاڑو لگانے والی گاڑی کو دیکھا، لندن میں ہلکے اور بھاری خطوط کو الگ کر نے کے لئے مشین دیکھی جس سے ہلکے اور بھاری خط خودبخود الگ ہو جاتے ہیں۔

جاپان میں لوگ کالی چائے پیتے جس میں دودھ اور چینی نہیں ہوتی۔ اس طرح کے متعدد واقعات و مشاہدات ان کی حیرت کا باعث بنے۔ یہ سفر نامہ ان کے استاد مولوی فرخی نے مطبع مفید عام آگرہ سے 1896 میں طبع کروایا۔ سفر نامہ دو جلدوں میں ہے پہلی جلد میں ایشیا اور امریکہ کا احوال ہے۔ دوسری جلد میں یورپ اور مصر کے سفر کے حالات قلم بند کیے گئے ہیں۔

کتابیات
سر سید احمد خاں، مسافران لندن، مرتبہ مولوی محمد اسماعیل پانی پتی، علی گڑھ 2009
ڈاکٹر قدسیہ قریشی، اردو سفر نامے، جامعہ نگر نئی دہلی 1987
خالد محمود، اردو سفر ناموں کا تنقیدی مطالعہ، مکتبہ جامعہ نئی دہلی 2011

Facebook Comments HS