مذاکرات کہانی: کوئی ایسا نہیں آ کر جو منا لے مجھ کو


پی ٹی آئی نے اپریل 2022 ء میں اقتدار سے محرومی کے بعد جتنی بھی جدوجہد کی اس کا مقصد شہباز شریف کی حکومت کو بائی پاس کرنا اور بالا بالا معاملات طے کرنا تھا مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس لیے بعض پارٹی رہنماؤں اور اتحادیوں نے خان کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔ ان میں بیرسٹر گوہر علی خان اور محمود خان اچکزئی شامل ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے ”غیر مشروط اور جامع“ مذاکرات کی حمایت کی اور محمود خان اچکزئی نے بھی خان صاحب سے سول نافرمانی کی کال واپس لینے اور مذاکرات پر مبنی نئی حکمت عملی اپنانے کی تجویز دی۔ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے بیشتر رہنما اور کارکن اس وقت ملک میں سول نافرمانی تحریک کے حق میں نہیں۔ 26 نومبر کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں میں پی ٹی آئی ارکان کا ماضی کے برعکس مصالحانہ رویہ تھا۔ اس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ پی ٹی آئی نے سڑکوں پر احتجاجی جلوس اور لانگ مارچ کی حکمت عملی ترک کر کے اسمبلیوں میں اپنا موقف واضح کرنے اور حکومت سے بات چیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت ابھی تحریک انصاف کی مذاکرات کی پیشکش کا جائزہ ہی لے رہی تھی کہ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ مذاکرات اسی وقت ہوں گے جب حکومت ہمارے یہ مطالبات تسلیم کرے گی جن میں بانی پی ٹی آئی اور پارٹی کے دیگر اسیر ارکان کی رہائی نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تفتیش کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام شامل ہیں۔

یہ سطور لکھتے وقت ملٹری ٹرائل کے بعد پی ٹی آئی کے کئی کارکنوں کو 9 مئی کے حوالے سے سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اب بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم کرنے سے انکاری رہی تو پارٹی سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کر دے گی۔ پہلا مطالبہ ”مینڈیٹ واپسی“ کا رادھا والا ہے، کہ نو من تیل ہو گا تو رادھاناچے گی۔ لہٰذا نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچ سکے گی۔ مینڈیٹ کی واپسی کا ایک ہی مطلب ہے کہ حکومتی قیادت خان صاحب سے معافی مانگے اور اپنے گناہوں بشمول فروری الیکشن میں دھاندلی کا اعتراف کرے اور ان سے کہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا کر ہمیں فارغ کریں۔ چاہیں تو ہمیں جیل بھیج دیں۔

عمومی طور پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران جلسے جلوسوں اور ریلیوں کے بعد شاید پی ٹی آئی قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ احتجاجی سیاست سے موجودہ سیٹ اپ کی تبدیلی ممکن نہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی اراکین کے علاوہ معاشرے کے دیگر طبقات، مزدور، کسان، دکاندار، تاجر، صنعتکار، اساتذہ، ڈاکٹر، صحافی اور وکیل بھی احتجاجی تحریک کا فعال حصہ بننے کے لئے تیار نہیں۔ دوسری طرف حکومت کی انتظامی مشینری پر گرفت مضبوط ہے اور وہ پی ٹی آئی اجتماعات، ایجیٹیشن، احتجاجی جلوسوں اور ریلیوں کو ناکام بنانے کے موثر طریقے استعمال کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت مخالف سوشل میڈیا مہم، امریکہ اور یورپ میں لابنگ کے باوجود شہباز حکومت کو عالمی سطح پر نا صرف آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں بلکہ دوست ممالک چین، سعودیہ، متحدہ عرب امارات اور قطر کی مالی معاونت بھی حاصل ہے مقتدرہ اور حکومت بھی ایک پیج پر ہیں۔ اس لیے حکومت محض پی ٹی آئی کے احتجاجی جلسوں سے ختم نہیں ہو سکتی۔

پاکستان میں سیاسی خلفشار کا تعلق زمینی حقائق سے کم اور میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا سے زیادہ ہے۔ ہر فرد یہ کہہ رہا ہے کہ مسئلے کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔ بات درست، مگر زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ مذاکرات اس وقت ہوتے ہیں جب فریقین میں مذاکرات کا ماحول ہو۔ بانی نے جیل سے سول نا فرمانی کی کال دے رکھی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا حکومت کو دھمکیاں دیے رہے ہیں کہ اگلی بار ہم مسلح ہو کر آئیں گے، پھر دیکھتے ہیں کہ کون بھاگتا ہے۔ دوسری جانب بیرسٹر گوہر کا بیان ہے کہ ”بس بہت ہو گئی اب مذاکرات کی طرف آنا چاہیے جبکہ عمر ایوب نے کہا کہ انسان ہوں یا فرشتے ہم سب سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں اور اب شبلی فراز اور عمر ایوب کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات کی بھیک نہیں مانگیں گے۔ ان متضاد رویوں کے ساتھ کیا مذاکرات ہوسکتے ہیں؟ ایک جانب دھمکیاں ہوں اور دوسری طرف مذاکرات کا راگ الاپا جا رہا ہو تو مذاکرات کیسے ممکن ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں عمران خان نے تکبر اور غرور سے مغلوب ہو کر دوسری جماعتوں کے راہنماؤں کو جس طرح کے ناموں اور القاب سے پکارا اور جماعت کے سوشل میڈیا ٹرولنگ سے مقابل رہنماؤں پر حملہ آور رہے۔ بانی کے خلاف قانونی شکنجہ کسے جانے کے بعد ان کی جماعت“ یوٹرن ”لیتے ہوئے انہی حریف رہنماؤں سے بانی کے لئے ریلیف کی خواہاں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے سیاست کے کھیل میں حرف آخر کچھ نہیں ہوتا، ضرورت اور مفادات کے تحت نیا بیانیہ اختیار کر لیا جاتا ہے اب تو پی ٹی آئی اپنے ماضی کے“ ایبسیلوٹلی ناٹ ’اور دوسرے یوٹرنز پر طعنے سننے پربھی مجبور ہے۔

پاکستانی تاریخ میں احتجاجی تحریک سے حکومت کی رخصتی کی دو کامیاب مثالیں ہیں اُن میں سے ایک ایوب خان ( 1968۔ 69 ء) اور دوسری ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی 1977 ء تحریک ہے۔ ان دونوں تحریکوں میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا اتحاد اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تھی۔ ان کی کامیابی میں مقتدرہ کی حکومت سے دوری کا فیصلہ کن کردار تھا۔ موجودہ صورتحال میں مقتدرہ خود ایک فریق ہے۔ اس لیے مقتدرہ ثالث کا کردار ادا نہیں کر سکتی کیونکہ بانی کی احتجاجی تحریک کا رُخ مقتدرہ کی طرف ہی رہا ہے۔ وہ اب تک حکومت سے بات چیت کو وقت کا ضیاع گردانتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک نتیجہ خیز مذاکرات صرف مقتدرہ سے ہی ممکن ہیں کیونکہ اصل طاقت اور اختیارات اسی کے پاس ہیں مگر مقتدرہ مذاکرات کی خواہاں نہیں۔

بدقسمتی سے عجلت میں بغیر مشورے کے فیصلوں سے خان صاحب نے اپنی راہ خود کھوٹی کی اسی لیے اب ان کی دھمکیوں کو گیدڑ بھپکیاں سمجھا جا رہا ہے۔ مذاکرات چاہتے ہوئے وہ دھمکی کا سلسلہ بھی ساتھ چلا رہے ہیں تاکہ کوئی تو راہ نکلے۔ بقول محسن احسان مرحوم ان کا عالم یہ ہے :

صبح سے شام ہوئی روٹھا ہوا بیٹھا ہوں
کوئی ایسا نہیں آ کر جو منا لے مجھ کو

بانی کا رویہ شروع دن سے غیر سیاسی ہے ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہونے کے باوجود ان کی سوچ اور عمل میں سیاسی پختگی نہیں۔ یہ کیسی سیاست ہے کہ آپ اگر حکومت میں ہیں تو سب ٹھیک، اگر آپ حکومت میں نہیں تو پھر اینٹی اسٹیٹ احتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں ملتا۔ 2018 کے الیکشن پر بھی ایسے ہی اعتراضات تھے لیکن اس وقت کی حزب اختلاف نے سسٹم کو چلنے دیا اور سسٹم میں رہتے ہوئے سیاست کی تھی نہ کہ بانی کی طرح ڈیڈ لاک کی راہ اپنائی۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ سیاسی مفادات اور سیاسی مخالفت مستقل نہیں ہوا کرتی وقت کے تقاضوں کے تحت اس میں بدلاؤ فطری امر ہے۔ عقل و فہم کا تقاضا ہے کہ ایسی صورتحال میں افہام و تفہیم سے کام لیا جائے تاکہ ملک و قوم کی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔ ٹرمپ سے رہائی کے متمنی خاطر جمع رکھیں کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اب تک ایسا ممکن نہیں ہوا کہ پلک جھپکتے ہی سب کچھ تہہ و بالا ہو جائے۔ امریکہ کی تاریخ تو یہ ہے کہ جب ضرورت پڑے تو وہ آمروں کی بھی بلائیں لیتا ہے لیکن مطلب نکل جائے تو شاہ ایران اور ضیاء و مشرف کا انجام سب کے سامنے ہے۔

کون مانے گا کسے آج یقین آئے گا
ہم وہی ہیں جو کبھی جان سے پیارے تھے

Facebook Comments HS