محمدرفیع کا 100 واں یوم پیدائش


 

عظیم گلوکار محمد رفیع کا 100 واں یوم پیدائش 24 دسمبر 2024 کو ہے۔ محمد رفیع آج ہی کے دن سو سال قبل 1924 کو امرتسر کے ایک گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ محمد رفیع کا لاہور سے بھی تعلق رہا ہے جہاں انہوں نے بھاٹی دروازہ کے محلہ چومالہ میں لڑکپن کے دن گزارے تھے۔ محمد رفیع گائیکی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے جن کی مدھ بھری آواز اپنے وقت کی ہی نہیں بلکہ بعد میں آنے والی نسلوں کو بھی جکڑے ہوئے ہے۔ بلاشبہ محمد رفیع ایک لافانی گلوکار تھے۔ محمد رفیع کے گائے ہوئے گیت نغمے غزلیں آج بھی دنیا کے ہر اس خطے میں سنے جاتے ہیں جہاں اردو بولنے سمجھنے والے بستے ہیں۔

محمد رفیع کی زندگی میں متعدد اہم واقعات نے انہیں آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا وہ واقعات مختلف مواقع پر رونما ہوئے جنہوں نے محمد رفیع کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا تھا۔ قدرت نے محمد رفیع کو ایک ایسی آواز سے نواز رکھا تھا جو شاید صدیوں بعد ہی کسی کو عطا ہوتی ہے۔ 31 جولائی 1980 کو اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے تھے اور اس وقت ان کی عمر محض 55 برس تھی۔ اگر ان کی عمر سے ابتدائی سال نکال دیے جائیں تو ان کی گائیکی کی عمر بہت کم بنتی ہے لیکن اسی عرصے میں انہوں نے اپنی آواز کے جادو سے نہ صرف بھارتی فلموں کو سپر ہٹ اور یادگار بنایا بلکہ اپنے انداز گائیکی سے شاعری اور موسیقی دونوں کو امر کیا۔ محمد رفیع کے بڑے بھائی کے حوالے سے یہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ ان کے آبائی گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں ہر جمعرات کے دن ایک فقیر آیا کرتا تھا اور گاؤں کی گلیوں میں درد بھری آواز میں گاتا اور مانگتا پھرتا تھا۔ نو عمر رفیع کو اس کی آواز بہت پسند تھی اور وہ بھی بچپن میں اسی فقیر کے پیچھے نقل کرتے ہوئے گنگناتے پھرتے تھے۔ شاید یہی فقیر ہی تھا جس کی آواز نے رفیع کے اندرچھپے ہوئے گلوکار کو زندہ کیا اور بعد ازاں نوعمری میں گائیکی کے اسی جنون نے محمد رفیع کو ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔ محمد رفیع کے والد کا نام حاجی علی محمد تھا۔ حاجی علی محمد کے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ محمد رفیع کا اپنے بہن بھائیوں میں دوسرا نمبر تھا۔ بچپن میں محمد رفیع کو پیار سے ”فیکو“ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ محمد رفیع کی زندگی پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ قسمت کی دیوی بچپن سے ہی ان کے تعاقب میں تھی اور ان کے اندر چھپے ہوئے آواز کے فن کو باہر نکالنے کے لئے بیتاب تھی اور کسی موقع کی تلاش میں تھی اور اس کے لئے قدرت نے شاید لاہور کا انتخاب کر رکھا تھا۔ محمد رفیع کے والد حاجی علی محمد بچوں کو پڑھانا چاہتے تھے لہذا بہتر معاش کی جستجو میں کوٹلہ سلطان سنگھ کو خیر باد کہہ کر بڑے بیٹے کے ساتھ لاہور پہنچ گئے اور بھاٹی دروازہ میں قیام کر کے وہاں نائی کی دکان کھولی اور ساتھ ہی دیگوں کی پکائی کا کام شروع کیا۔ جب حالات بہتر ہوئے تو باقی فیملی کو بھی لاہور بلا لیا یوں محمد رفیع بھی لاہور پہنچ گئے۔ رفیع صاحب کو بڑے بھائی محمد دین کی دکان پر کام پر لگا دیا گیا۔ محمد رفیع گاؤں سے لاہور شہر پہنچ کر بھی بچپن کے فقیر کو نہیں بھولے تھے اور دکان پر بھی اسی طرح گنگناتے اور گاتے رہتے تھے۔ ارد گرد کے دکاندار دوست بھی دلچسپی اور شوق سے ان کو سنتے تھے۔ باربر کی دکان پر باقاعدہ آنے والوں میں محمد دین کا ایک دوست حمید بھی تھا جس کو موسیقی سے خاص دلچسپی تھی۔ اس نے ایک بار توجہ سے رفیع کو گنگناتے اور گاتے سنا تو چونک گیا اور اس نے بڑے بھائی سے کہا کہ تمہارے چھوٹے بھائی کی آواز کوئی معمولی آواز نہیں ہے، اس کو کچھ تربیت ملے تو یہ موسیقی کی دنیا میں بڑا نام کما سکتا ہے۔ بڑے بھائی کو رفیع کی گائیگی کے جنون کا علم تو تھا ہی اس نے ہچکچاہٹ کے ساتھ اجازت دیدی اور یوں محمد رفیع کی گائیکی اور موسیقی میں تربیت شروع ہوئی اور اس دور کے مختلف بڑے ناموں سے سیکھنا شروع کیا۔ ان استادوں میں فیروز نظامی کے علاوہ پنڈت جیون لعل مٹو، چھوٹے غلام علی خان، استاد برکت علی خان وغیرہ شامل تھے جنہوں نے رفیع کی آواز کو سنوانے اور نکھارنے میں بڑا کردار ادا کیا اور موسیقی کے رموز و اسرار سے آگاہی دی۔ اسی دور میں لاہور میں اس وقت کے مشہور گلوکار کندن لعل سہگل کا پروگرام تھا جس میں انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرنا تھا لیکن حسن اتفاق سے عین وقت پر بجلی چلی گئی جس پر کندن نے گانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ لائٹ آنے پر ہی وہ گانا گائیں گے۔ ہزاروں کے مجمع میں اب لوگوں کو انتظار کروانا منتظمین کے لئے پریشانی کا باعث بن گیا۔ اس موقع پر رفیع کے بڑے بھائی نے منتظمین سے کہا کہ لائٹ آنے تک اس کے بھائی کو گانے کا موقع دیا جائے وہ بھی گلوکار ہے۔ مجمع کی ناراضگی کو مدنظر رکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کی اجازت دیدی اور یوں پہلی بار بڑے ہجوم کے سامنے پندرہ سال سے بھی کم عمر میں سٹیج سے گانے کا مظاہرہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ پروگرام میں موسیقار شیام سندر بھی موجود تھے انہوں نے رفیع کی آواز کو ایک جوہری کی طرح پرکھ لیا اور رفیع صاحب کو بمبئی آنے کی دعوت دی۔ یوں رفیع صاحب کا گلوکاری کا ایک یادگار سفر شروع ہوا تو ساتھ ہی لاہور سے تعلق بھی اختتام کو پہنچا۔ آزادی کے بعد صرف ایک بار 1960 میں لاہور آئے تھے لیکن ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ کے بعد کبھی پاکستان نہیں آئے۔ آزادی کے بعد نور جہاں سمیت دیگر مسلمان فنکاروں نے پاکستان کا رخ کیا تھا لیکن محمد رفیع نے بھارت میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ فیصلہ بعد میں درست بھی ثابت ہوا۔ آزادی سے قبل محمد رفیع نے نورجہاں کے ساتھ گانے گائے لیکن فلم جگنو کا ایک گیت جس کو بہت شہرت ملی وہ یہ تھا۔ ”یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے“ ، آج بھی ان کے یاد گار نغموں میں ایک ہے۔ محمد رفیع کی آواز اور گلوکاری کو مزید دوام اس وقت ملا جب ان کی ملاقات مشہور موسیقار اعظم، نوشاد سے ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ کسی موقع پر گانے کی ریکارڈنگ سے قبل نوشاد نے طلعت علی کو سگریٹ پیتے دیکھا تو انہوں نے غصے میں انکار کر کے رفیع کا انتخاب کر لیا اور یوں رفیع صاحب کی گلوکاری کا نیا دور شروع ہوا اور بعد میں رفیع اور نوشاد کی جوڑی نے انڈین فلمی صنعت کو غیر معمولی گیتوں، موسیقی سے نوازا جو آج بھی مقبول ہیں۔ عظیم گلوکار محمد رفیع دنیائے موسیقی کے گلوکاروں میں سرفہرست ہیں اور انہوں نے ساڑھے چار ہزار سے زائد نغمے گا کر عالمی شہرت حاصل کی۔ محمد رفیع کی مدھ بھری آواز فلموں کی کامیابی کا باعث بنتی رہی اور وہ تمام فلمیں آج بھی موجودہ دور کی نسل میں اسی طرح مقبول ہیں جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتی تھیں۔ محمد رفیع کے گائے فلمی گیتوں اور فلموں کی فہرست تو بہت طویل ہے لیکن کچھ کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور یہ آج بھی قائم ہے۔ انمول گھڑی، میلہ، انداز، بیجو باورا، دیوداس، کاغذ کے پھول، آرادھنا، نیا دور، کشمیر کی کلی، مغل اعظم، گائیڈ، جنگلی، میرے محبوب، سنگم، کھلونا، دل دیا درد لیا، پاکیزہ، کارواں، چوری چوری، پیاسا سمیت ہزار کے لگ بھگ فلموں میں فلمی گیت گائے۔ ان کے لازوال گانوں میں ”کیا ہوا تیرا وعدہ“ ، ”بہارو پھول برساؤ“ ، ”لکھے جو خط تجھے“ ، ”چرا لیا ہے تم نے جو دل کو“ ، ”دل کے جھروکے میں تجھ کو بٹھا کر“ ”، چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے“ ، ”یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں“ ، ”بابل کی دعائیں لیتی جا“ ، ”یونہی تم مجھ سے بات کرتی ہو“ ، ”مجھے تیری محبت کا سہارا“ ، جو وعدہ کیا ہے نبھانا پڑے گا ”وغیرہ شامل ہیں۔ موسیقی کی دنیا میں لازوال گلوکاری کرنے اور خدمات کے اعتراف میں انہیں بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔ حکومت ہند کی طرف سے انہیں پدم شری ایوارڈ دیا گیا۔ 6 فلم فیئر ایوارڈز انہیں ملے۔ اس دور کے موسیقاروں میں ایک بہت بڑا نام لکشمی کانت پیارے لال کا تھا۔ ان کے بنائے ہوئے فلمی گیتوں کو محمد رفیع نے شہرت کی بنلدیوں تک پہنچا کر انہیں امر کر دیا تھا ایسے لازوال گیتوں میں ایک گیت“ تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے، جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے، سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے، بھی شامل تھا جو آج بھی موجودہ نسل میں شوق سے سنا جاتا ہے۔ بھارت میں راج کپور کی پیدائش کی پہلی صدی 14 دسمبر 2024 کو بہت دھوم دھام سے منائی گئی ہے اور بڑے پیمانے پر تقریبات منعقد کی گئیں بھارتی وزیر اعظم نے کپور خاندان سے خصوصی ملاقات کی۔ بھارتی حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ محمد رفیع کی پیدائش کی پہلی صدی پر ان کو خراج تحسین پیش کرے اور بھارتی فلمی صنعت ان کے فلمی گیتوں کی نمائش کا اہتمام کرے۔

Facebook Comments HS