چھبیس دسمبر۔ مشہور پاکستانی شعراء پروین شاکر اور منیر نیازی کا یوم وفات
پروین شاکر کی آج 30 ویں برسی ہے۔ 26 دسمبر 1994 کی صبح کو اسلام آباد میں ہلکی پھلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ پروین گاڑی پر دفتر جانے کے لیے روانہ ہوئیں۔ دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پھسلن کے باعث گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی اور پروین شاکر موقعہ پر ہی زیست کی بازی ہار گئیں۔
پروین شاکر 24 نومبر 1954 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ پروین کا تعلق ایک ادبی خانوادے سے تھا۔ ان کے نانا ایک اچھے شاعر تھے۔ پروین نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں بی اے اور ایم اے کیا۔ وہ نو برس تک شعبہ تدریس سے بھی وابستہ رہیں۔ 1986 میں انہوں نے مقابلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کسٹمز میں سرکاری ملازمت حاصل کر لی۔ 1991 میں انہوں ٹرینی کالج اور ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے ایم پی اے کی ڈگری حاصل کی۔
پروین شاکر نے 42 برس کی عمر میں شاعری میں وہ ممتاز مقام حاصل کر لیا جو کئی دوسرے شعراء پوری زندگی میں حاصل نہیں کر سکے۔ ان کی زندگی کے خانگی معاملات نے ان کی شاعری پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کی پہچان ایک رومانوی شاعرہ کے طور پر ہوئی جس میں انہوں نے بہت جلد ہی ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ اردو شاعری میں مرد آہن کو کم ہی موضوع سخن بنایا گیا ہے اور جہنوں نے بنایا ہے ان میں پروین شاکر کا ایک نمایاں مقام ہے۔
ان کی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔ پروین شاکر کی شادی ڈاکٹر سید نصیر علی سے ہوئی جن سے انہوں نے بعد ازاں طلاق لے تھی۔ ان سے ان کا ایک بیٹا سید مراد علی ہے جس کی عمر ان کے انتقال کے وقت پندرہ برس تھی۔ اب وہ ٹیسلا کمپنی میں کمپیوٹر انجنیئر ہے، دو شادی شدہ بیٹیوں کا باپ ہے۔
خوشبو کی شاعرہ پروین کی شاعری نے ایک زمانے کو متاثر کیا۔ خصوصاً نوجوان نسل ان کی شاعری سے بہت متاثر ہوئی۔ 1976 میں ان کی شاعری کے اولین مجموعہ خوشبو نے بہترین فروختہ کتاب کا اعزاز حاصل کیا اور ایک دوسرے کو تحفہ دینے میں سب سے زیادہ یہ کتاب مشہور ہوئی۔ اس مجموعہ کلام پر انہیں آدم جی ادبی اعزاز سے نوازا گیا۔ 1990 میں حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا۔
مشاعروں میں پروین کا شعر پڑھنے کا انداز بھی بہت دلفریب تھا اور ان کو بے پناہ داد ملتی۔ ایم اے ادبیات میں انہوں نے اپنی ہی شاعری پر تنقیدی مضمون لکھا۔ مقابلے کے امتحان میں بھی ان سے ان کی شاعری کے متعلق سوال جواب ہوئے۔ پروین شاکر کو ممتاز شاعر احمد ندیم قاسمی کی سرپرستی حاصل تھی اور ان کا سارا کلام ان کے ادبی رسالے فنون میں شائع ہوتا۔
اسلام آباد کی کسی محفل میں مہدی حسن اور پروین شاکر محو گفتگو تھے۔ پروین نے اپنی غزل ”کوبکو پھیل گئی بات شناسائی کی“ سنائی تو مہدی حسن نے بہت پسند کی۔ وہیں بیٹھے بیٹھے مہدی حسن نے میز بجا کر راگ درباری میں غزل کی دھن بنائی اور جب یہ غزل موسیقی کے پیرہن میں ڈھل کر ہوا کے دوش پر سفر کرتے ہوئے نشر ہوئی تو یہ غزل ایک شہکار کا درجہ حاصل کر گئی، جس نے مہدی حسن اور پروین شاکر کو لازوال کر دیا۔ پروین شاکر نے شاعری کی دنیا میں صرف 42 سال کی عمر مستعار میں وہ مقام حاصل کر لیا جو کوئی شاعر پوری زندگی میں حاصل نہیں کر سکتا ہے۔
پروین شاکر کی لوحِ قبر پر جو اشعار کندہ ہیں وہ یہ ہیں :
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے، میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
بخت سے کوئی شکایت نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
رب میرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخم ہنر کو حوصلہ لب کشائی دے
شہر سخن سے روح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستا سجھائی دے
ان کی غزلیات کے چند اشعار
ہر رنگ میں وہ شخص نظر کو بھلا لگے
حد یہ کہ روٹھ جانا بھی اس شوخ پہ کھلے
شاید کہ چاند بھول جائے راستہ کبھی
رکھتے ہیں کچھ لوگ اس امید پر در کھلے
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارہ دیکھنا
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
کوبکو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہ ہی بات اچھی ہے میرے ہرجائی کی
تیرا پہلو بھی تیرے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی
اس نے جب جلتی ہوئی پیشانی پہ ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
پروین شاکر کے مجموعہ کلام کے نام خوشبو، خود کلامی، صد برگ کف آئینہ، انکار اور ماہ تمام ہیں۔
منیر نیازی۔ 18 ویں برسی
اردو پنجابی زبان کے اس عہد کے ایک اہم شاعر جن کو بیسویں صدی کی آواز قرار دیا گیا، بقول ممتاز مفتی وہ شاعر تھے، شاعر نظر آتے تھے اور سو آدمیوں میں بیٹھے ہوئے بھی شاعر نظر آتے تھے۔ منیر نیازی ایک انفرادی طرز کے شاعر تھے۔ ان کی شخصیت پر کشش تھی۔ مشاعروں میں ان کی شرکت کامیابی کی دلیل تھی۔ وہ بہت دھیمے لہجے میں شعر پڑھتے تھے۔ مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے ایک گاؤں میں 9 اپریل 1928 کو پیدا ہوئے۔ بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ شروع میں کچھ عرصہ کے لیے ہندوستانی بحریہ میں ملازمت بھی کی جو بعد میں چھوڑ دی۔
قیام پاکستان کے بعد ساہیوال میں سکونت اختیار کی اور سات رنگ کے نام سے ایک ادبی رسالہ نکالا۔ وہ منفرد لہجے کے شاعر مجید امجد کے دوستوں میں سے تھے۔ لاہور منتقل ہونے کے بعد انہوں نے المثال کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا جس کے تحت ن۔ م راشد کی کئی کتابیں شائع ہوئیں۔ شروع میں فلمی شاعری کی طرف توجہ دی اور کئی مقبول عام فلمی گیت لکھے۔ 1962 منیر نیازی کی فلمی شاعری کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا جب خلیل قیصر کی فلم شہید میں مسرت نذیر پر فلمایا ہوا گیت جس کی موسیقی رشید عطرے نے ترتیب دی تھی، ”کس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو“ کامیابی کے ریکارڈ بنا گیا۔ اس سے اگلے برس فلم سسرال میں رتن کمار پر فلمایا گیا گیت جس کی موسیقی حسن لطیف نے دی تھی ’جس نے میرے دل کو درد دیا، اس شخص کو میں نے بھلایا نہیں‘ نے شہنشاہ غزل مہدی حسن کو رات و رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اسی فلم میں منیر نیازی کا ایک اور گیت ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز میں ’جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سو جا‘ انتہائی مقبول ہوا۔ 1976 ء میں فلم خریدار میں منیر نیازی کی غزل۔ ’زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا، دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا۔ منیر نیازی اور ناہید اختر کی پہچان بن گئی۔
منیر نیازی کے تیرہ اردو، تین پنجابی اور دو انگریزی مجموعہ کلام شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 1992 میں انہیں تمغا حسن کارکردگی اور 2005 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔
منیر نیازی کی شاعری میں بہت سی پراسرار اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں، جیسے تنہا پھول، تنہا جنگل، ہوا سایہ، بے وفا کا شہر، بادل اور ان جیسے اور الفاظ و تراکیب۔
ان کے شائع ہونے والے چند مجموعہ کلام کے نام کلیات منیر، وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، ماہ منیر، شفر دی رات، چار چپ چیزاں اور رستہ دسن والے تارے شامل ہیں۔
نمونہ کلام
بدل اڈیا تے آسمان دسیا
پانی اتریا تے مکان دسیا
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا
کج اونجاں وی راہواں اوکھیاں سن
کج گل وچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج مینوں مرن دا شوق وی سی
شہر دے مکان اپنے ای ڈر توں جڑے ہوئے نیں
اک دوجے دے نال
کس دا دوش سی کس دا نہی سی
اے گلاں ہن کرن دیاں نہی
ویلے لنگھ گئے توبہ والے
راتاں ہوکے بھرن دیاں نہی
جو ہویا اے ہونا ای سی
تے ہونی روکیاں رکدی نہی
اک واری جے شروع ہو جائے
گل منیر ایویں مکدی نہی
26 دسمبر 2006 کو عارضہ قلب کے باعث جناح ہسپتال لاہور میں انتقال کر گئے۔ 2006 میں جناب احمد ندیم قاسمی کی رحلت کے بعد منیر نیازی کی وفات دوسرا بڑا ادبی خلا پیدا کر گیا تھا۔

