غلام ہمدانی مصحفیؔ کے کلام کا فکری و فنی مطالعہ


شیخ غلام ہمدانی مصحفیؔ (1748ء۔ 1824ء) کا شمار دبستانِ لکھنؤ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان کی شاعری کی ابتداء دلّی میں ہوئی تھی۔ دلّی میں مغلیہ سلطنت کا جب شیرازہ بکھر گیا تو دلّی کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں گوشۂ عافیت تلاش کی۔ مصحفیؔ اپنے عہد کے ایک باکمال اور قادر الکلام شاعر تھے۔ اِس کے کئی واضح ثبوت ہمیں ملتے ہیں۔ ایک ثبوت یہ ہے کہ ان کے نو دیوان میں 37 ہزار اشعار موجود ہیں۔ دوسرا یہ کہ اِن کے تلازموں کی تعداد136 تک پہنچتی ہے۔

انہوں نے دلّی کے بنیادی اسلوب میں لکھنؤ کے خارجی عناصر کو شامل کر کے نئے اسلوب کی طرح ڈال دی۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ مصحفیؔ نے لکھنؤ کے خارجی عناصر کی شمولیت کے باوجود جراتؔ اور انشاء کے رنگ کو نہیں اپنایا۔ اس نئے تجربے سے مصحفیؔ کی شاعری ایک نئی شعری وحدت میں ڈھلتی چلی گئی یعنی ایسی وحدت جو نئی اور پرانی روایات کا مظہر تھی، اُس میں دلّی کا رنگ بھی تھا اور لکھنؤ کی خوشبو بھی۔ مصحفیؔ کا کلام قدم قدم پر نئی زبان، نئے محاورے، نئے نئے لفظیات اور تراکیب و مرکبات، سے ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ مصحفیؔ نے اپنی غزلوں کے اسلوب میں جو آہنگ پیدا کیا تھا وہ اُس زمانے کی دوسری آوازوں پر حاوی تھی۔ جراتؔ اور انشاؔ سے معرکہ آرائی کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصحفیؔ نے غزلیہ روایت سے اپنے شعری اسلوب کو ہم آہنگ رکھا، اس کے معیار کی پاس داری کی اور اپنے جمالیاتی احساس سے اردو شاعری کو نئی معنویت دینے کی کوشش کی ہے۔ اب ہم مصحفیؔ کے کلام کا فکری و فنی جائزہ لیتے ہیں۔

1؎ جورِ فلک سے ہم نہ کبھی سر اٹھا سکے
جوں شمع، زیرِ تیغ یہاں عمر کٹ گئی
فکری جائزہ: ساری زندگی ظلم و ستم سہتے سہتے گزر گئی ہے۔
فنی جائزہ: تشبیہ: شاعر نے خود کو شمع کی مانند کہا ہے۔ تراکیب:جورِ فلک اور زیر ِتیغ

صنعت ایہام: عمر کٹ گئی سے ایک مطلب تو زندگی بسر کرنا کے ہیں، دوسرا تیغ کی مناسبت سے عمر کو کاٹنا بھی ہے۔

جورِ فلک سے شاعر نے آسمان سے نازل ہونے والے ظلم کی طرف اشارہ کر کے زمانے والوں کے ظلم و ستم کو بیان کیا ہے۔

2؎ امیر جتنے تھے آزاد ہو گئے صیاّد!
قفس سے ایک نہ یہ مرغِ ناتواں چھوٹا
فکری جائزہ: شاعر اپنی مفلسی کا حال بیان کر رہا ہے کہ سب قید سے چھوٹ گئے لیکن میری قید ختم نہ ہوئی۔
فنی جائزہ: صنعت مراعات النظیر: صیاد، قفس، مرغ، صنعت تضاد: آزاد، صیاد
صنعت مترادف: آزاد، چھوٹا صنعت عددی: ایک تراکیب: مرغِ ناتواں
استعارہ: مرغِ ناتواں : شاعر نے خود کو کہا ہے۔
3؎ شبِ مہتاب میں کیا کیا سَمے ہم کو دکھاتا ہے
بکھر نا چاند سے چہرے پر اُس زلفِ پریشاں کا
فکری جائزہ: شاعر محبوب کے چہرے اور زلفوں کی تعریف کر رہا ہے۔
فنی جائزہ: تکرار لفظی: کیا کیا صنعت مترادف: مہتاب، چاند تراکیب: شبِ مہتاب، زلفِ پریشان
تشبیہ: محبوب کے چہرے کو چاند سے تشبیہ دی ہے۔
4؎ اٹھا جو صبح خواب سے وہ مست ِ پُرخمار
خورشید کف کے بیچ لیے جام آ گیا
فکری جائزہ: محبوب کی خوبصورتی کو بیان کیا گیا ہے۔
فنی جائزہ: صنعت مراعات النظیر: صبح، خواب، خورشید مست، پر خمار، جام

استعارہ: محبوب کو مست پر خمار کہا ہے۔ صنعت مبالغہ: خورشید کا محبوب کے لیے جام لے کر آنا مبالغہ آرائی ہے۔

5؎ نمودِ رنگ ِ گُل یوں غنچۂ سوسن کی تہہ میں ہے
شرابِ سرخ دیوے جلوہ جوں اودی گلابی سے

فکری جائزہ: صنعت مراعات النظیر:سرخ، اودی، گلابی تشبیہ:شراب کی سرخی کو پھولوں کے سرخ رنگ سے تشبیہ دی ہے۔ تراکیب: نمودِ رنگِ گل، غنچۂ سوسن، شرابِ سرخ

6؎ ساعد سے ترے شعلے یوں حُسن کے اٹھتے ہیں
ہاتھوں میں ترے گویا مہتابیِ دستی ہے
فکری جائزہ: محبوب کی کلائی اور ہاتھوں کی خوبصورتی کو بیان کیا گیا ہے۔
فنی جائزہ: تشبیہ: کلائی اور ہاتھوں کی چمک اور خوبصورتی کو چاند کی چمک اور خوبصورتی سے تشبیہ دی ہے۔
صنعت مترادف: ہاتھ، دست ترکیب: مہتابی ِ دستی
7؎ عید اب کے بھی گئی یوں ہی کسی نے نہ کہا
کہ ترے یار کو ہم تجھ سے ملا دیتے ہیں
فکری جائزہ: عید کے موقع پر محبوب کو ملنے کی خواہش
فنی جائزہ: تلمیح: عید
8؎ بال اپنے بڑھاتے ہیں کس واسطے دیوانے
کیا شہر محبت میں حجام نہیں ہوتا
فکری جائزہ: عاشق لوگوں کی حالت زار کو بیان کیا گیا ہے۔

فنی جائزہ: صنعت مراعات النظیر: بال، دیوانہ، حجام صنعت لف و نشر: بال بڑھانے کی نسبت سے حجام کا ذکر کرنا

صنعت تجاہل عارفانہ: شاعر کو پتا ہے کہ دیوانوں کے بال کیوں بڑھ جاتے ہیں۔
9؎ آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں
یا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں
فکری جائزہ: شاعر عشق کے جذبہ سے نفرت کا اظہار کر رہا ہے۔
فنی جائزہ: صنعت مراعات النظیر: آنکھوں، دل، گردن صنعت تجنیس: پھوڑ، توڑ، مروڑ
10 ؎ دلی میں اپنا تھا جو کچھ اسباب رہ گیا
اک دل کو لے کے آئے ہیں اس سرزمیں سے ہم
فکری جائزہ: شاعر اپنے وطن دلی کو یاد کر رہے ہیں۔

فنی جائزہ: صنعت تجنیس: دل، دلی صنعت ایہام: اسباب سے مراد گھر کا سامان اور مال و زر ہے لیکن غور کرنے سے اس سے مراد خاندان والے اور سب رشتے دار ہیں۔ تلمیح: دلی شہر کا ذکر ہے۔

11 ؎ آساں نہیں دریائے محبت سے گزرنا
یاں نوح کی کشتی کو بھی طوفان کا ڈر ہے
فکری جائزہ: شاعر نے محبت کی راہ میں آنے والی مشکلات کو بیان کیا ہے۔

فنی جائزہ: تلمیح: حضرت نوحؑ کی کشتی۔ (پورا واقعہ لکھنا ہے ) تشبیہ: محبت کو دریا سے تشبیہ دی گئی ہے۔

12 ؎ موسم ہولی ہے دن آئے ہیں رنگ اور راگ کے
ہم سے تم کچھ مانگنے آؤ بہانے پھاگ کے
فکری جائزہ: شاعر نے ہولی کے تہوار اور محبوب سے ملاقات کرنے کے بہانے کا کا ذکر کیا ہے۔

فنی جائزہ: صنعت تلمیح: ہولی ( ہندوؤں کا تہوار) صنعت مراعات النظیر: رنگ، راگ، پھاگ ( سرخ رنگ کا پاؤڈر جو ہولی کے تہوار می استعمال کرتے ہیں ) صنعت تضاد: ہم، تم صنعت تجنیس: ہم، تم

13 ؎ گو کہ تو میرؔ سے ہوا بہتر
مصحفیؔ پھر بھی میرؔ میرؔ ہی ہے
فکری جائزہ: شاعرانہ تعلی اور عظمت میر ؔکا اعتراف

فنی جائزہ: صنعت تلمیح: مصحفیؔ اور میر تقی میرؔ کا ذکر ہے۔ صنعت تجنیس: میر ؔسے مراد میر ؔکی شخصیت اور دوسرے میؔر سے مراد شاعر میر تقی میرؔ کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف ہے۔ صنعت تفریق؛ مصحفیؔ اور میر ؔ کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔

14 ؎ چراغ حسن یوسف جب ہو روشن
رہے پھر کس طرح زنداں اندھیرا
فکری جائزہ: حضرت یوسف ؑ کے حسن کے نور سے تمام اندھیرے چھٹ جائیں گے۔
فنی جائزہ: صنعت تلمیح: حضرت یوسف ؑ صنعت متضاد: روشن۔ اندھیرا
تشبیہ: حضرت یوسفؑ کے حسن کو چراغ سے تشبیہ دی گئی ہے۔
15 ؎ لاکھ ہم شعر کہیں لاکھ عبارت لکھیں
بات وہ ہے جو ترے دل میں جگہ پاتی ہے
فکری جائزہ: شاعر کہتا ہے کہ جو بات اس کے محبوب کو بھلی لگے وہ سب سے بہتر ہے۔
فنی جائزہ: صنعت مراعات النظیر: شعر، عبارت، بات صنعت عددی؛ لاکھ
16 ؎ ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا کبھی اُس سے بات کرنا
فکری جائزہ: محبوب سے باتیں کرنے کے بہانے تلاش کرنا
فنی جائزہ: صنعت تضاد: دن، رات صنعت تجنیس: اِس، اُس
17 ؎ دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں
ویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیں
فکری جائزہ: دلی کی تباہی کا ذکر ہے۔

فنی جائزہ:صنعت تلمیح: دلی شہر کا بیان صنعت مراعات النظیر:ویراں، سونے، سنسان، کھنڈر۔ دلی، محلے، گھر، کھنڈر

18 ؎ آسماں کو نشانہ کرتے ہیں
تیر رکھتے ہیں جب کمان میں ہم
فکری جائزہ: اپنی بلند ہمتی کا اظہار ہے۔

فنی جائزہ:صنعت مبالغہ: اپنے حوصلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ صنعت ایہام: (معنی قریب:آسماں کو نشانہ بنانا معنی بعید: دشمنوں کا مقابلہ کرنا ) صنعت مراعات النظیر:تیر، کمان، نشانہ

19 ؎ کہئے جو جھوٹ تو ہم ہوتے ہیں کہہ کے رسوا
سچ کہئے تو زمانہ یارو نہیں ہے سچ کا
فکری جائزہ: شاعر ایک تلخ حقیقت بیان کرنا چاہتے ہیں کہ یہ دور سچ بولنے والوں کا مخالف ہے۔

فنی جائزہ:صنعت تضاد: جھوٹ، سچ صنعت تجنیس: (سچ کہئے کا مطلب ہے کہ کسی نے سچ کہا ہے ) (سچ کا، مطلب ہے کہ سچ بات کرنا) صنعت تجنیس: کہہ، کہئے

20 ؎ ہوش اڑ جائیں گے اے زلف پریشاں تیرے
گر میں نے احوال لکھا اپنی پریشانی کا
فکری جائزہ: محبوب سے اپنی حالت زار بیان کرنے کا بیان ہے۔
فنی جائزہ:استعارہ: اے زلف پریشاں شاعر نے اپنے محبوب کو کہا ہے۔ صنعت تجنیس: پریشاں، پریشانی
21 ؎ یوں چشم تر سے چہرے پر آنسو ہوئے رواں
دریا سے جیسے لاوے کوئی نہر کاٹ کر
فکری جائزہ: شاعر اپنے رونے کی شدت کو بیان کر رہا ہے۔

فنی جائزہ:صنعت تلمیح: فرہاد کا ذکر ہے۔ تشبیہ : چشم تر کو دریا سے اور آنسوؤں کو نہر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ صنعت مراعات النظیر: چشم، آنسو، چہرے۔ دریا، نہر، رواں

صنعت مبالغہ: رونے کی شدت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔
22 ؎ اتنے محکوم بتاں ہیں جو یہ کافر چاہیں
پہنیں زنار ابھی چھوڑ دیں اسلام کو ہم
فکری جائزہ:شاعر اپنے محبوب کے سامنے اپنی بے بسی کو بیان کر رہا ہے۔

صنعت تفریق: دو مختلف مذاہب کو ایک مقصد کے تحت اکٹھا گیا ہے۔ صنعت مراعات النظیر:بتاں، کافر، زنار، اسلام

صنعت متضاد: اسلام، کافر استعارہ: محبوب کو پہلے بت پھر کافر کہا ہے۔
23 ؎ دیر و حرم بہ چشم حقیقت نہیں جدا
یعنی مآل سبحہ و زنار ایک ہے
فکری جائزہ: تمام مذاہب کی حقیقت ایک ہے۔
صنعت لف و نشر: دیر کی مناسبت سے زنار اور حرم کی مناسبت سے سبحہ کا ذکر آیا ہے۔ صنعت تضاد: دیر، حرم
24 ؎ کیا کیا اس کا کسو نے باغ سے جاتی رہی
سر درختوں کے ہزاروں باد صرصر توڑ کر
فکری جائزہ: شاعر نے علامتی انداز میں ظالم کا مظلوم پر ہونے والے ظلم کو دکھایا ہے۔

صنعت تجنیس: کیا کیا ( پہلے ’کیا‘ سے مراد سوال ہے اور دوسرے ’کیا‘ سے مراد کرنا یعنی فعل ہے ) صنعت عددی: ہزاروں

25 ؎ زمانہ کا چلن یکساں نہیں کچھ
کہیں کچھ ہے کہیں کچھ ہے کہیں کچھ
فکری جائزہ: زمانے کے حالات کو موضوع بنایا ہے۔
صنعت تجنیس: (کہیں کچھ ہے کہیں کچھ ہے کہیں کچھ) سے مراد ہر طرف، ہر جگہ

Facebook Comments HS