مولانا عبدالخالق ابابکی کی شاعری سید فضل الرحمن تنہا غرشین کی نظر میں

یہاں پیش کردہ خیالات میرے اپنے نہیں ہے بلکہ میرے استادِ محترم و مکرم سید فضل الرحمن تنہا غرشین کے ہیں، جو ان کی ماسٹرز کے تحقیقی مقالے ”مولوی عبدالخالق ابابکی کا تعارف اور ان کی فکری و فنی جہتیں“ پر مشتمل ہے۔ یہ مقالہ 2016 میں برا ہوئی اکیڈمی کوئٹہ، پاکستان سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ یہ مقالہ چار مختلف ابواب میں تقسیم ہے۔ پہلے باب میں مولوی ابابکی صاحب کا ذاتی اور ادبی تعارف بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں ان کے، اردو، فارسی، پشتو، سندھی، عربی اور براہوی جیسے چھ زبانوں میں لکھے گئے 55 مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کتب و تراجم کے نام دیے گئے ہیں۔
تیسرے باب میں ان کی شاعری کے فکری و فنی جہتوں پر تفصیلاً بات کی گئی ہے، جس میں ان کی شاعری پر مارکسیت تحریک کے اثرات، اور علامہ اقبال، اکبر الہٰ آبادی، محمد یوسف مگسی، اور محمد حسین عنقا کے کلام ساتھ ان کی شاعری کا تفصیلی موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ اور آخری باب میں ما حاصلِ کلام اور حوالہ جات پیش کیے گئے ہیں۔
مولوی عبدالخالق ابابکی کا اصل نام ’عبدالخالق‘ ہے، جبکہ ’عبد اور عبدل‘ تخلص استعمال کرتے ہیں۔ ان کا شجرہ نسب حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ جا ملتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے قوم کو صدیقی کہا جاتا ہے، اور براہوی زبان میں انھیں ابابکی کہا جاتا۔ اسی مناسبت سے وہ اپنے نام کے ساتھ ابابکی لکھتے ہیں۔ مولوی ابابکی ضلع مستونگ کے آٹھ میل غرب میں واقع سلطان کاریز نامی شہر میں 15 جنوری 1952 میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔
1974 میں کوئٹہ کے معروف مدرسہ مطلع العلوم سے فارغ التحصیل ہوئے۔ فارغ ہونے کے بعد گھر کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مکینک کا کام شروع کیس اور اس کے بعد ٹرک چلاتے رہے۔ لیکن 22 جولائی 1979 میں اپنڈکس پھٹنے کے بعد اپریل 1980 تک آپ سخت بیمار رہے۔ 24 اپریل 1980 کو مکمل افاقہ کے بعد وہ مدرسے میں درس و تدریس سے منسلک ہو گئے۔ اسی دوران 1988 میں جامعہ بلوچستان سے براہوی فاضل کا امتحان دے کر اول پوزیشن حاصل کرنے کے اعزاز سے بھی نوازے گئے۔ بعد میں بیماری و کمزوری کی وجہ سے گھومنے پھرنے سے قاصر ہو گئے۔ اور 2014 تک بقیدِ حیات رہے، اور آخر عمر تک علمی و ادبی کام جاری رکھا۔ ان کی زندگی میں انھیں مختلف صوبائی اور قومی ادبی اعزازات دیے گئے۔
مولانا عبدالخالق ابابکی کی شاعری کے آغاز کا زمانہ 1971 ء سے جڑا ہے، جب انہوں نے ادب کے وسیع میدان میں قدم رکھا۔ ان کے مطابق، ”ادب پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ ہر کوئی اس میدان میں طبع آزمائی کر سکتا ہے۔ ادب علم ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔“ مستونگ میں علم و ادب کی خوشگوار فضا انہی کی مرہونِ منت ہے۔
اپنی ذوقِ سُخن کی ابتدا کے بارے میں مولانا ابابکی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں :
”شعر لکھنا تو طالب علمی کے زمانے سے تھا جبکہ میں 1971 ء تا 1974 ء کو مطلع العلوم کوئٹہ میں پڑھ رہا تھا تو ہر جمعرات کو طلباء کی انجمنیں ہوا کرتی تھیں جس میں تقریر کرنا سیکھ جاتی تھی۔ تو میں اکثر شعر کہتا تھا، طلباء سے داد ملتی، کہیں جلسوں میں مجھے بلواتے۔ کسی بھی عنوان پر اردو یا براہوی میں شعر لکھ پڑھا کرتا تو ادھر بھی داد ملتی۔“
یہ زمانہ مولانا کی شاعرانہ تربیت کا دور تھا۔ اس دور میں ان کی شاعری مختلف محفلوں اور انجمنوں کی زینت بنتی رہی۔ مگر 1974 ء سے 1985 ء کے دوران غربت اور بیماری کے سبب ان کی تحریریں ضائع ہوتی گئیں۔ وہ اپنی تحریروں کے بکھرنے کا افسوس اپنی خود نوشت میں یوں کرتے ہیں :
”مگر میری اپنی کم خیالی کہ وہ نظمیں جمع کیے بغیر واللہ اعلم کدھر سے کدھر بکھر گئے۔ ورنہ تاریخ کے حوالے سے بہت ہی ضرورت پر مبنی ہیں۔“
1985 ء میں مولانا محمد شریف بزدار کی جانب سے ان کی ایک براہوی نظم ”الوداع رمضان“ شائع کی گئی۔ اس نظم کی اشاعت نے ان کے ادبی شوق کو جلا بخشی اور انہیں اپنی تحریروں کی حفاظت کی طرف مائل کیا۔ اس کے بعد ان کی تحریریں بلوچستان کے ادبی حلقوں میں مقبول ہونے لگیں، اور ان کے روابط کوئٹہ تک پھیل گئے۔
مولانا ابابکی نے مختلف زبانوں، بشمول اردو، فارسی، سندھی، پشتو، اور براہوی، میں شاعری کی۔ ان کے کلام میں موضوعاتی تنوع نظر آتا ہے، جن میں تصوف، معرفت، فلسفہ، دانش، اور دنیا کی ناپائیداری جیسے موضوعات شامل ہیں۔
مولانا عبدالخالق ابابکی کی شاعری کی نمایاں خصوصیات میں مشرقی تہذیب کی زبوں حالی پر نوحہ گری، تصوف کے اثرات، اور انسانی زوال کا گہرا شعور شامل ہے۔ وہ مغربی تہذیب کی تباہ کاریوں کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
رلاتا ہے تجھے تہذیبِ افرنگ
کہ روز افزوں نظر اس کی ادا پر
مٹایا مغارب کی لعنت نے تجھ کو
کہ ان کے تصرف میں تیرا عنان ہے
تصوف کے رنگ سے ان کی شاعری مالامال ہے۔ ان کے مطابق، ایک باعمل صوفی کے سامنے کائنات سرنگوں ہوتی ہے :
اللہ نے کیا جس میں تصوف کا ثربند
ہوتے ہیں نگوں اس کے تصور سے افلاک
اک مرشد کامل کی توجہ سے اس دم
ہوتا ہے مے نوش وہی صاحب ادراک
مولانا ابابکی کی شاعری میں ان کے علم و حکمت کا عکس نمایاں ہے۔ وہ فارسی تراکیب کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں، جن میں ”ساز فطرت“ ، ”تاب جگر“ ، ”نور میخانھ“ ، ”ولولۂ عشق“ ، ”بادِ مخالف“ ، ”صاحبِ اسریٰ“ جیسے کثیر الفاظ ان کے کلام کو مزید دلکش بناتے ہیں۔
لہو کی آبشاروں سے کلیوں میں بہار آئی
ہے اب بادِ مخالف سے گلستان میں خزاں میری
تپش آموز اے مردِ کہن پیر
بقا جوئی طلب زیست ست فنا در
ان کے اشعار میں دانش اور حکمت کی گہرائی کچھ یوں جھلکتی ہے :
جو علمِ مقدس سے نہیں خود بھی نفع مند
ہوتا ہے وہ عالِم عالم میں خطرناک
اپنی حقیقت کو تدبر کی نگاہ سے
دیکھے تو صحیح اس میں فرشتوں کے کمالات
دنیا کی ناپائیداری اور انسانی زوال ان کی شاعری کا مستقل موضوع ہے۔ وہ دنیا کو ”دارالعمل“ قرار دیتے ہیں اور اسے خامی و خلل کی جگہ سمجھتے ہیں :
یہ دنیا جانِ من دارالعمل ہے
الجھنا اس میں خامی و خلل ہے
ہزاروں سال حیاتی ہو میسر
یقیناً پھر کھڑی سر پر اجل ہے
عبدالخالق ابابکی نے اپنی شاعری کے ذریعے جاگیرداروں اور نوابوں کے ظلم کو بے نقاب کیا اور عوام کو ان کے حقوق کا شعور دیا۔ ان کے اشعار طبقاتی شعور اور سماجی انقلاب کی عکاسی کرتے ہیں، جیسے :
کہ دہقان و بے کس غریبوں پہ اکثر
سرداروں اور نوابوں کی بیداد دیکھو
امیروں کی ہر آن تبسم لبوں پر
یتیم اور فقیروں کی فریاد دیکھو
یہ اشعار سرمایہ دارانہ ظلم کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اس کے خلاف جذبات کو ابھارتے ہیں۔ یہاں پر مجھے میر تقی میر صاحب کے دو اشعار یاد آ گئے کہ:
امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور
کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انھیں کی دولت سے
نہ مل میرؔ اب کے امیروں سے تو
ہوئے ہیں فقیر ان کی دولت سے ہم
علامہ محمد اقبال کی شاعری ان کی پسندیدہ شاعری ہے۔ اس بات کا اعتراف وہ خود ان الفاظ میں کرتے ہیں :
”شعراء میں حافظ شیرازی، شیخ سعدی اور اکثر علامہ اقبال سے متاثر اس لئے ہوں کہ علامہ صاحب کی شاعری آفاقی و عرشی ہے فرشی نہیں دریا کو کوزہ میں بند کرنا یہی معنی رکھتا ہے۔ مگر علامہ کی شاعری کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔“
ان بزرگ شعراء کے کلام سے روحانی سیرابی حاصل کرنے کے حوالے سے وہ خود اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں کہ:
اقبال نہیں لیکن اس جیسا نظر رکھتا ہوں
صد جذبہ شرر دل میں عقل ہوش و ہنر رکھتا ہوں
اقبال سے ملا مجھ کو احکامِ غزل بندی
سعدی سے نظرِ باطن، رومی سے عقلمندی
(میں کون ہوں )
اقبال کی طرح مولوی ابابکی بھی عشق، کائنات کی ابتداء کی اصل وجہ سمجھتا ہے۔
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیرو بم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوزم دم بدم
عشق کے مضراب سے نغمہ تارِ حیات
عشق سے نورِ حیات عشق سے نارِ حیات
(علامہ اقبال)
عشق سے انسان بنتا ہے تمام
عشق سے ہوتا ہے حاصل ہر مقام
عشق سے ہوتی ہے ہر شے جستجو
عشق سے افلاک میں ہے گفتگو
(عبدل ابابکی)
مولوی ابابکی کے ہاں، اقبال کے فکر کے برعکس، علم کو قرآن اور انسان کی پہچان سے مناسبت ہے۔
علمِ ظاہر علم القرآن ہے
علم سے انسان کی پہچان ہے
اکبر الہ آبادی کی طرح ابابکی صاحب کے کلام میں بھی مغربی تہذیب و تمدن اور انگریزی طرز حکومت پر طنز و مزاح اور نفرت کا عنصر نمایاں ہے۔
لگا ہے شمعِ مسلم میں مغارب کا اثر عبدل
کہ نابین اپنی قدرت سے تلف ان کو خدا کر دے
صوبہ بلوچستان کے صاحبِ ادراک شاعر و ادیب میر یوسف مگسی اور ان کی تحریک کے زندہ روح محمد حسین عنقا کی طرح، عبدل ابابکی کی شاعری میں بھی آزادی، آزادانہ زندگی کا شعور اور حب الوطنی کی جھلکیاں واضح دکھائی دیتی ہیں۔
اس عالمِ رنگ و بو میں اگر آئی ہے خزاں تو خیال نہ کر
کرنی ہے تجھے تعمیر جہان، معمارِ جہاں اٹھ ہمت کر
وطن کی یاد نے پھر آ قبضہ جمایا ہے
پھر اپنے نشترِ خونیں ادا سے کار فرما ہے
قدرت کی جانب سے نعمت وطن
ہے سایہ فگن ابرِ رحمت وطن
مولانا عبدالخالق ابابکی کی شاعری میں ان کی شخصیت، علم، اور فکر کی جھلک واضح ہے۔ ان کا کلام مشرقی تہذیب کے درد، تصوف کی گہرائی، فلسفہ و حکمت، اور حب الوطنی، قرم کی بلندیوں کا آئینہ دار ہے۔ مولانا ابابکی کی ادبی خدمات بلوچستان کے ادب کے لیے ایک انمول سرمایہ ہیں۔ ان کا تخلیقی ورثہ نہ صرف اس خطے کی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ زبان و ادب کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ آئندہ نسلوں کے لیے تحقیق اور شعری ذوق کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے، جس کے لیے ان کا کام بڑے پیمانے پر لوگوں کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ یہ کام فضل تنہا غرشین صاحب نے بڑے احسن طریقے سے مکمل کر کے ان کا حق ادا کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ فضل الرحمن صاحب کی اس کاوش کا اعتراف ڈاکٹر ایم صلاح الدین مینگل صاحب (چیئرمین براہوی اکیڈمی رجسٹرڈ پاکستان، کوئٹہ) ان الفاظ میں کرتے ہیں :
”سید فضل الرحمن غرشین نے جو قدم اٹھایا ہے، جو بہترین کاوش ہے اور دیگر ادیب و شاعروں کو بھی ان کی تقلید کرنی چاہیے۔“

