مولانا عبدالخالق ابابکی کی شاعری سید فضل الرحمن تنہا غرشین کی نظر میں

  یہاں پیش کردہ خیالات میرے اپنے نہیں ہے بلکہ میرے استادِ محترم و مکرم سید فضل الرحمن تنہا غرشین کے ہیں، جو ان کی ماسٹرز کے تحقیقی مقالے ”مولوی عبدالخالق ابابکی کا تعارف اور ان کی فکری و فنی جہتیں“ پر مشتمل ہے۔ یہ مقالہ 2016 میں برا ہوئی اکیڈمی کوئٹہ، پاکستان سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ یہ مقالہ چار مختلف ابواب میں تقسیم ہے۔ پہلے باب میں مولوی ابابکی صاحب کا ذاتی اور ادبی تعارف بیان کیا

Read more

غالب کی جدیدیت اور دانیال طریر

  جدیدیت سے مراد رائج الوقت اعتقادات، معروف نظریات، تسلیم شدہ اقدار اور رسمی روایات کو رد کرنا اور ان کے متبادل میں نئے اعتقادات، نظریات، اقدار اور روایات کی داغ بیل ڈالنا ہے۔ یعنی ان تمام روایات کی نفی و تردید ہے جو تخلیق کار کے نزدیک انفرادی و اجتماعی بدحالی و پستی کے باعث ہیں، اور ان کی جگہ نئی روایات کو تشکیل دینا ہے، جو خارج سے متاثر ہو کر تخلیق کار کے داخلی تجربے کے تحت

Read more

کیا واقعی وہاں ڈریکولا موجود تھا؟

آغا گل سے میرا تعلق ان کے ناول ”بابو“ پڑھنے کی بنیاد پر بنا۔ اس کتاب کا تاثر اتنا مضبوط اور پختہ تھا کہ اس کی وجہ سے میں نے ان کی تمام تخلیقات سلسلہ وار پڑھنے کا ایک مصمم ارادہ کیا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کا ایک افسانہ ہے جو ان کے افسانوی مجموعہ ”گوانکو“ میں موجود ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ مکتبۂ الحمراء لاہور سے 2005 ء میں شائع ہوئی۔ نند کشور وکرم نے آغا گل

Read more

بابو: آغا گل کا ایک شاہکار ناول

آغا گل بلوچستان کے مشہور افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر، ادیب اور محقق ہیں۔ انھوں نے اردو ادب میں اپنا ایک الگ مقام بنایا ہے اور ان کی ہر تخلیق اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ ان کی مشہور تخلیقات میں ”بابو“ (ناول) ، ”بیلہ“ (ناول) ، ”راسکوہ“ (افسانوی مجموعہ) ، ”عکسِ قمر“ (منتخب غزلیں ) ، ”آبِ حیات“ (افسانوی مجموعہ) ، ”دشتِ وفا“ (ناول، اور اسے بلوچستان میں اکیسویں صدی کا پہلا ناول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے

Read more

میر تقی میر کے ساتھ ایک نشست

فانی: معزز خواتین و حضرات السلام علیکم! آج ہمارے درمیان ایک ایسی شخصیت موجود ہے جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں نے ان کا نام سنا ہو گا اور کافی لوگ ان کے کلام سے واقف بھی ہوں گے۔ بہر حال میں اپنی اس تحریری انٹرویو کو آگے بڑھاتے ہوئے جناب میر تقی میر کو اکیسویں صدی میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ میر صاحب! سب سے پہلے میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کو

Read more