پوٹھوہاری ڈرامہ نگاری۔ عہد بہ عہد جائزہ
پوٹھوہاری ڈرامے اور ٹیلی فلموں کے ارتقاء اور مقبولیت میں پہلے پہل ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن، پھر پاکستان ٹیلی وژن اسلام آباد سنٹر اور بعد ازاں نجی ٹی وی چینلز اور پروڈکشن ہاؤسز نے اہم کردار ادا کیا ہے، پوٹھوہاری زبان و ادب کے ارتقاء اور فروغ کی اگر بات کی جائے تو ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے، ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن یکم ستمبر 1950 میں قائم ہوا، اس کے پہلے اسٹیشن ڈائریکٹر محمود نظامی مرحوم تھے، ان کی خواہش پر پوٹھوہار کی نابغہ روزگار شخصیات سید اختر جعفری مرحوم المعروف راجہ جی، سید تصدق اعجاز، سید طارق مسعود (والد قرۃ العین حیدر، توثیق حیدر) اور باقی صدیقی نے ریڈیو پنڈی سے پوٹھوہاری ثقافت کی عکاسی کرتے ہوئے بہت سے خوبصورت اور لازوال پروگرام پیش کیے، جن میں ”جمہور نی آواز“ اور ”پوٹھوہار رنگ“ وغیرہ شامل ہیں۔ 15 نومبر 1950 کو پنڈی دیس (موجودہ جمہور نی واز) کے نام سے پوٹھوہاری پروگرام شروع ہوا، جس کے میزبان سید اختر جعفری اور سید تصدق اعجاز تھے، بالکل ابتدائی ایام میں تو نہیں البتہ کچھ عرصے بعد پوٹھوہاری فیچر نشر ہونا شروع ہوئے جنہیں باقی صدیقی اور سید تصدق اعجاز لکھتے تھے (کالم نگار جبار مرزا روایت کرتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان کو جب کارپوریشن بنا دیا گیا اور پنشن وغیرہ ختم کردی گئی تو سید تصدق اعجاز جیسے سنیئر سٹاف آرٹسٹ نے زندگی کے آخری ایام کسمپرسی میں گزارے ) ، بعد میں افضل پرویز نے جمہور نی واز کو بطور کمپیئر اور ڈرامہ نگار جوائن کیا، سید اختر امام رضوی نے ”راول رویل“ کے نام سے پوٹھوہاری پروگرام شروع کیا، فیچر اور ڈرامہ نگاری میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ فیچر عام طور پر کسی ایک موضوع کے گرد ہی گھومتا ہے جبکہ ڈرامے کا کینوس وسیع ہوتا ہے، شروع شروع میں صرف فیچر نگاری کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت زیادہ آرٹسٹ دستیاب نہیں تھے، ڈرامے کے کردار چونکہ زیادہ ہوتے ہیں اس لیے جب ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن کو پوٹھوہاری آرٹسٹ جیسے باجی نگہت اقبال (سید عابد علی عابد کی صاحبزادی اور شبنم شکیل کی بہن) ، تصدق اعجاز کے صاحبزادے عامر اعجاز، صدیق دوسا، شاہین اشتیاق (اصغر مال کالج کے سامنے چیچک ہسپتال کے ساتھ رہتی تھی) ، شہناز خان وغیرہ دستیاب ہونا شروع ہوئے تو پھر پوٹھوہاری ڈرامہ بھی لکھا جانے لگا۔ یاسمین رحیم جھانجر پروگرام کرتی تھیں۔ اس وقت (تادم تحریر دسمبر 2024 ء) میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی سیشن سے نشر ہونے والے پوٹھوہاری پروگراموں کی تفصیل کچھ یوں ہے، صبح سوا آٹھ سے نو بجے تک ”راول رویل“ ، نو سے دس بجے تک ”پوٹھوہار رنگ“ ، دن ایک سے ڈیڑھ بجے تک دینی پروگرام ”قرآن نی لو“ ، شام سوا چھ سے پونے سات بجے تک زرعی پروگرام ”وسنے رہنڑ گراں“ ، رات سات سے آٹھ بجے تک ”جمہور نی واز“ اور پندرہ روزہ ادبی پروگرام ”سخن مشالاں“ شامل ہیں۔
٭پوٹھوہاری فیچر نگاری٭
ریڈیو پر پوٹھوہاری ڈرامہ نگاری کی بات کرنے سے پہلے فیچر نگاری کا جائزہ لینا ضروری ہے، پوٹھوہاری میں فیچر نگاری کا آغاز ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے ہوا، سید طارق مسعود، افضل پرویز، باقی صدیقی، سید تصدق اعجاز، سید اختر جعفری (جمہور نی واز کے راجا صاحب) ، ریاض عشائی، اختر امام رضوی، سلیم رفیقی، الطاف پرواز، طاہر پرواز، نجمی صدیقی، شریف شاد، ماجد صدیقی، ابن آدم، شریف شاد، دلپذیر شاد نے ریڈیو کے لئے پوٹھوہاری فیچر لکھے، ان کے بعد عابد حسین جنجوعہ، یاسر کیانی، طالب بخاری، ظہیر چوہدری، سید آل عمران، عظمت مغل اور نئی پود میں سید منتظر امام رضوی، نعمان رزاق اور عبدالرحیم کے نام شامل ہیں، ان کے پوٹھوہاری فیچر ریڈیو پنڈی کے مشہور پروگرام ”جمہور نی واز“ اور دوسرے پروگراموں میں نشر ہوتے رہتے ہیں، نعمان رزاق کے ریڈیو کے لئے لکھے گئے پوٹھوہاری فیچرز کی کتاب ”مٹی مونہوں بولنی“ 2018 ء میں شائع ہو چکی ہے۔ ظہیر چوہدری کے ریڈیو پاکستان راولپنڈی پر نشر ہونے والے پوٹھوہاری فیچرز کی کتاب ”ماسی کیدو“ دسمبر 2021 میں شائع ہوئی۔ جس میں 27 پوٹھوہاری فیچرز شامل تھے۔ ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے پوٹھوہاری پروگرام ”راول رویل“ میں 2021 سے 2023 تک ”تہھرتی ناں مان“ کے عنوان سے سید منتظر امام رضوی کے مختلف پوٹھوہاری شخصیات پر لکھے ہوئے فیچر نشر ہوتے رہے ہیں۔ 2010 سے 2017 تک سید منتظر امام رضوی ”راول رویل“ کا سکرپٹ بھی لکھتے رہے ہیں۔
٭ریڈیو پنڈی پر پوٹھوہاری ڈرامہ نگاری٭
ریڈیو راولپنڈی پر پوٹھوہاری ڈرامہ نگاری کی بات کریں تو باقی صدیقی اور سید تصدق اعجاز اولین لوگوں میں شامل ہیں، ان کے ساتھ سید طارق مسعود، سید اختر جعفری، افضل پرویز، جبار مرزا، ضمیر نفیس، نثار ناسک، زاہد نوید، الطاف پرواز، نعمان رزاق بھی ریڈیو کے پوٹھوہاری ڈرامہ نگاروں کے قافلے میں شامل ہوتے گئے۔ شریف شاد کے بقول ریڈیو کے لئے اختر امام رضوی نے کوئی ڈرامہ نہیں لکھا۔ ”جمہور نی واز“ کے لئے انہوں نے کچھ موضوعاتی فیچرز ضرور لکھے ہیں۔ شریف شاد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جن دنوں وہ ”جمہور نی واز“ کے پروڈیوسر تھے ان دنوں انہوں نے باقی صدیقی کے تین اور سید تصدق اعجاز کا ایک پوٹھوہاری ڈرامہ ”دکھ سجناں نے“ دوبارہ ریکارڈ کروایا۔ باقی صدیقی کا ایک پوٹھوہاری ڈرامہ ”چِٹے ککھ“ ریڈیو راولپنڈی سے نشر ہوا تھا، جسے 2011 میں شعیب خالق نے انفرادی ٹی وی ڈرامے کے سکرپٹ میں ڈھالا، ڈرامے کے پروڈیوسر خالد لطیف ملک تھے۔ 1974۔ 75 کے دوران معروف کالم نگار اور شاعر جبار مرزا نے بھی ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے لئے ”شیفہ“ سمیت دو پوٹھوہاری ڈرامے لکھے تھے جو نشر بھی ہوئے۔
ریڈیو پنڈی کا پہلا ڈرامہ فیسٹیول 19 پریل سے 30 اپریل 1985 تک منعقد ہوا، سن 2000 کے ریڈیو پاکستان کے جشن تمثیل میں اختر جعفری کا پوٹھوہاری ڈرامہ ”چہھولی“ پیش کیا گیا، اس کے پروڈیوسر محمد فیاض کیانی تھے۔ 2000 میں پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں منعقدہ ریجنل ایوارڈ تقریب میں سید اختر جعفری کے لکھے ہوئے پوٹھوہاری ڈرامے چہھولی پر محمد فیاض کیانی کو بہترین پروڈیوسر کا ایوارڈ اور بابائے پوٹھوہار سید اختر جعفری کو بہترین ڈرامہ رائٹر قرار دیا گیا تھا۔
سن 2007 کے 14 تا 20 مارچ تک جاری رہنے والے جشن تمثیل میں بھی ایک پوٹھوہاری ریڈیو ڈرامہ پیش کیا گیا۔ ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن پر یاسر کیانی کے لکھے ہوئے 2 پوٹھوہاری ڈرامے ”ڈُھلے بیر“ اور ”بوٹی بن بن نی“ نشر ہوئے جن کے پروڈیوسر ارشد محمود تھے، ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن سے نعمان رزاق کے چار ریڈیو ڈرامے نشر ہوچکے ہیں۔ سید منتظر امام رضوی نے 2014۔ 15 میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے لئے ڈرامہ سیریل ”پہھولے بادشاہ“ لکھا جس کی پروڈیوسر ناہید یونس تھیں، اس کی ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ قسطیں ریڈیو راولپنڈی پر نشر ہوئیں۔ اس کے علاوہ ”چاچا پھیرو“ کے نام سے ان کے لکھے ہوئے پوٹھوہاری خاکے بھی 2015 سے 2022 تک ریڈیو پاکستان کے راولپنڈی کے پوٹھوہاری پروگرام ”راول رویل“ میں نشر ہوتے رہے ہیں۔
٭ریڈیو پنڈی کے معروف پروڈیوسر٭
جمہور نی واز، سجری سویل، وسنے رہنڑ گراں، گراں نی وسنی، پنجاب رنگ (اب پوٹھوہار رنگ) ، راول رویل، ویہڑہ، سخن مشالاں جیسے پوٹھوہاری پروگراموں کے باعث پوٹھوہاری زبان کو فروغ حاصل ہوا۔ پوٹھوہاری کے ان شہرہ آفاق پروگراموں کے پروڈیوسرز میں اختر امام رضوی (گوجر خان) ، محمد شریف شاد (ججہ/گوجر خان) ، سلیم محمود بٹ (مندرہ/گوجر خان) ، خالد محمود چوہان (آدڑہ عثمان زادہ/گوجرخان) ، اختر مرزا (گوجر خان) ، محمد فیاض کیانی (منگھوٹ/گوجرخان) ، خلیل انصاری، عبدالستار، ظہور ملک، انظر ملک، کنیز فاطمہ، مسرت شاہ رخ، ریاض منہاس، شاہد اختر چک، محمد اقبال اعوان، لطیف انور چوہدری، تنویر اقبال، برکت اللہ، ظفر اقبال رضوی، فیصل خان، محمد اورنگزیب، ناہید یونس، مہوش راجہ (دختر شریف شاد) ، محمد صادق، عبدالقیوم، ارشد محمود و دیگر شامل ہیں۔ اختر امام رضوی نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے کیا تھا، پوٹھوہاری کے ساتھ ساتھ اردو کے خوبصورت شاعر بھی تھے، انہوں نے مقبول عام پوٹھوہاری پروگرام راول رویل کا آغاز کیا اور اس کا سکرپٹ تقریباً 21 سال لکھا، اس کے ساتھ ساتھ وہ اس پروگرام کے پروڈیوسر بھی تھے، باجی نگہت اقبال راول رویل کی کمپیئر تھیں، اختر امام رضوی کے حوالے سے یہ بھی مشہور تھا کہ گوجر خان سے فورڈ ویگن کی عقبی نشست پر بیٹھتے اور راولپنڈی صدر پہنچنے تک اس دن پیش کیے جانے والے پروگرام کا سکرپٹ لکھ لیتے تھے۔ گوجر خان کے لئے راولپنڈی سے آخری ویگن رات آٹھ بجے نکلتی تھی، جبار مرزا روایت کرتے ہیں کہ اختر امام رضوی جب کسی محفل یا گوالمنڈی میں نیلاب پرنٹرز والوں کے ساتھ گپ شپ کی وجہ سے لیٹ ہو جاتے تو اکثر اوقات میرے پاس رات گزارنے کے لئے آ جاتے اور کہتے کہ ایک تو گپ شپ ہو جائے گی اور دوسرا میرا ریڈیو سکرپٹ بھی مکمل ہو جائے گا۔
٭پی ٹی وی پر پوٹھوہاری ڈرامہ نگاری ٭
پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر کی بدھ کو پیش کی جانے والی علاقائی نشریات میں معروف پوٹھوہاری ڈرامہ نگاروں کے لکھے ہوئے ڈرامے نشر ہوتے رہے ہیں، پی ٹی وی کی علاقائی نشریات کے دوران جو ڈرامے پیش کیے جاتے تھے وہ بہت سبق آموز اور معیاری ہوتے تھے، پی ٹی وی اسلام سنٹر ڈرامہ نگاری کی بات کریں تو انفرادی ڈراموں اور ڈرامہ سیریلز کے لکھاریوں میں پروفیسر شاہد چوہدری، اختر امام رضوی، افضل پرویز، شعیب خالق، ارشد چہال، جہانزیب عزیز، اصغر شاد، محمد الیاس اعوان، اسلم بھٹی، اسلم مغل، عرفان بیگ، طاہر صدیقی، سید اسجد امام، ڈاکٹر وقار عظیم اور ناہید ناز کے ناموں کا تذکرہ ہر طرف سنائی دیتا ہے، پوٹھوہاری ڈرامے، ربیع الاول اور یوم عاشور کے حوالے سے نعتیہ مشاعرے اور محافل مسالمہ بھی منعقد ہوتی تھیں، سید آل عمران نے پی ٹی وی پر پوٹھوہاری رہتل کے حوالے سے بہت سارے پروگرام کیے جن میں ”وسناں پوٹھوہار“ بھی شامل تھا جس میں میوزک، ڈاکومنٹری، انٹرویو اور ڈرامہ شامل ہوتا تھا، اس کے علاوہ سید آل عمران پی ٹی وی پر ”تہرتی نیں تارے“ کے نام سے بھی ایک پروگرام کرتے رہے ہیں، ”سُر پوٹھوار“ کے نام سے عظمت مغل بھی ایک پوٹھوہاری میگزین پروگرام کرتے رہے ہیں۔ 2019۔ 20 میں سید منتظر امام رضوی بطور میزبان و سکرپٹ رائٹر پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر سے ”وسنے کھلیان“ کے نام سے پوٹھوہاری ثقافتی و زرعی پروگرام پیش کرتے رہے ہیں، سکرپٹ ایڈیٹر ڈاکٹر رشید قمر نے بھی پوٹھوہاری کے حوالے سے بہت کام کیا ہے۔ مشرف دور میں جب نجی ٹی وی چینلز کو لائسنس ملنا شروع ہوئے تو ”اپنا چینل“ اور ”کے ٹو چینل“ نے لائسنس حاصل کرنے کے بعد دیگر علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ پوٹھوہاری زبان میں بھی متعدد پروگرام پیش کرنے شروع کیے۔ سید آل عمران کے انتقال کے بعد سید منتظر امام رضوی بطور میزبان و سکرپٹ رائٹر کے ٹو ٹی وی پر پوٹھوہاری میگزین پروگرام ”ست بسم اللہ“ پیش کرتے رہے ہیں۔
٭پی ٹی وی کے پوٹھوہاری ڈرامہ سیریلز٭
1987 میں پی ٹی وی چکلالہ راولپنڈی سے اسلام آباد شفٹ ہوا تو 1991 میں پروفیسر شاہد چوہدری کا لکھا ہوا 13 اقساط پر مشتمل پہلا پوٹھوہاری ڈرامہ ”پیا گھر آیا“ ٹیلی کاسٹ ہوا جس کے پروڈیوسر غضنفر بخاری تھے۔ پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر پر پیش ہونے والے 13 اقساط پر مشتمل دیگر پوٹھوہاری ڈرامہ سیریلز میں نیلی دھار از اختر امام رضوی، پروڈیوسر غضنفر بخاری تھے ( 1992 ) ۔ اُچے بوہے از اختر امام رضوی، پروڈیوسر غضنفر بخاری تھے ( 1993 ) ۔ چھپر ہوٹل از مصطفیٰ سجاد حیدر (چھپر ہوٹل کے اجراء کے حوالے سے طارق بٹ روایت کرتے ہیں کہ اس زمانے میں ہالیڈے ان ہوٹل کے پاس ایک چھپر ہوٹل ہوتا تھا جس پر سارے پروڈیوسرز اور اداکار آ کر بیٹھتے اور کھانا کھاتے تھے، اور اس چھپر ہوٹل کو ازراہ تفنن ”ہالیڈے آؤٹ“ کہتے تھے، مصطفیٰ سجاد حیدر کے ڈرامے کا مرکزی خیال یہی چھپر ہوٹل ہی بنا تھا) ، پروڈیوسر سلیم طاہر ( 1994 ) ۔ بُرد برآمد از شعیب خالق، پروڈیوسر سید شاکر عزیر ( 1998 ) ۔ سجری سویر از جہانزیب عزیز، پروڈیوسر سید توفیق حسین شاہ ( 1999 ) ، بھانبڑاز اصغر شاد، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2000 ) ، پلیار از ارشد چہال، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2002 ) ۔ پُھلاں نی خشبو از ارشد چہال، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2005 ) ۔ حویلی از اختر امام رضوی، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2005 ) ، لکیر نیں فقیر از اصغر شاد، پروڈیوسر خالد لکھن ( 2005 ) ، بھاگاں بھریاں از الیاس اعوان، پروڈیوسر خالد لکھن ( 2007 ) ، کُہگھیاں از اختر امام رضوی، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2009 ) ، گلیاں تے چوبارے از ارشد چہال، پروڈیوسر محمد حسنین ملک ( 2010 ) ، جگ سارا بُھلیا از سید اسجد شاہ، پروڈیوسر فاروق عباس راجا ( 2011 ) ، گلوجے از ارشد چہال، پروڈیوسر خالد لکھن ( 2014 ) ، سدھراں نیں دیوے از ارشد چہال، پروڈیوسر اقبال حسین بھٹی ( 2015 ) ، گُنجھل از اسلم بھٹی، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2016 ) ، شیشے نی اکھ از اسلم بھٹی، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2017 ) ، بہروپیا از اسلم مغل، پروڈیوسر فاروق عباس راجا ( 2017 ) ، آس از طاہر صدیقی، پروڈیوسرز عامر جدون، فواد وڑائچ ( 2018 ) شامل تھے۔ پی ٹی وی پر نشر ہونے والا آخری پوٹھوہاری ڈرامہ سیریل شعیب خالق کا تحریر کردہ ”براگ“ تھا جو 2021 میں ٹیلی کاسٹ ہوا جس کے پروڈیوسر مصباح یوسف راؤ تھے۔ پروڈیوسر نسیم احمد عارف کا آبائی تعلق ساگری سے ہے۔
٭پی ٹی وی کے انفرادی پوٹھوہاری ڈرامے ٭
پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر پر پیش ہونے والے پوٹھوہاری انفرادی ڈراموں کی بات کریں تو چوپال از افضل پرویز، پروڈیوسر تشبیہ الحسن۔ راول جگنی از افضل پرویز، پروڈیوسر عارف رانا۔ اُچے ٹبے از استاد سلیم رفیقی، پروڈیوسر اظفر عالم۔ چور مور از استاد سلیم رفیقی، پروڈیوسر اظفر عالم۔ سچی مُچی از استاد سلیم رفیقی، پروڈیوسر اظفر عالم۔ پُھل تے کنڈے از ارشد چہال، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2002 ) ۔ تھیلا نوٹاں ناں از ایم الیاس اعوان، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2003 ) ۔ سوہنی از ایم الیاس اعوان، پروڈیوسر فاروق عباس راجا ( 2004 ) ۔ بنگاں از ارشد چہال، پروڈیوسر حمیدقاضی ( 2009 ) ۔ واپسی از ایم الیاس اعوان، پروڈیوسر اقبال حسین بھٹی ( 2009 ) ، سزا از ایم الیاس اعوان، پروڈیوسر غلام رسول بروہی ( 2009 ) ۔ سویر از ڈاکٹر وقار عظیم، پروڈیوسر شاہد محمود چیمہ ( 2009 ) ۔ جنڈی نیں کنڈے از ناہید ناز، پروڈیوسر اقبال حسین بھٹی ( 2010 ) ، چاننی از ارشد چہال، پروڈیوسر حمیدقاضی ( 2010 ) ۔ سرگی نا تارا از ناہید ناز، پروڈیوسر اقبال حسین بھٹی ( 2010 ) ۔ ست رنگا پرندہ از شعیب خالق، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2010 ) ۔ اِک سا پلھو از عرفان بیگ، پروڈیوسر نسیم احمد عارف ( 2010 ) ۔ مٹی نیاں مورتاں از ناہید ناز، پروڈیوسر اقبال حسین بھٹی ( 2010 ) اس ڈرامے پر ناہید ناز کو پی ٹی وی ریجنل ایوارڈ بھی مل چکا) ۔ پُھلاں ناں ہار از ناہید ناز، پروڈیوسر ایس ایم ادریس ( 2010 ) اور چِٹے ککھ از شعیب خالق، پروڈیوسر خالد لطیف ملک ( 2011 ) شامل تھے۔ پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر سے الیاس اعوان کے ایک پوٹھوہاری ڈرامے ”اُڈیک“ کی منظوری ہو گئی تھی، پروڈیوسر اظفر عالم تھے اور اس کی کاسٹنگ کی جا رہی تھی لیکن اسی دوران حکمنامہ جاری ہو گیا کہ اسلام آباد سنٹر سے علاقائی ڈرامے بند کر دیے گئے ہیں جس پر یہ ڈرامہ نہ بن سکا۔ یاسر کیانی نے پروڈیوسر نسیم احمد عارف کے کہنے پر پی ٹی وی کے لیے ایک ڈرامہ ”پہھیڑ“ کے نام سے لکھا تھا لیکن وہ ریکارڈ نہیں ہوسکا، سکرپٹ ایڈیٹر پی ٹی وی سید علی اکبر گیلانی نے یاسر کیانی سے دو خاکے ”مہنگپہھائی“ اور ”تاولی“ لکھوائے تھے جو ریکارڈ نہیں ہو سکے۔ سید منتظر امام رضوی نے پی ٹی وی اسلام سنٹر کے لئے 2013 اور 2014 کے درمیان انفرادی ڈرامے ”ٹھریاں سدراں“ اور ”کُوکاں“ لکھے جن کے پروڈیوسرز حسنین ملک اور اقبال بھٹی تھے۔ سید منتظر امام رضوی نے 2012۔ 13 کے درمیان پی این سی اے ڈرامہ فیسٹیول میں پوٹھوہاری ڈرامے ”سانگ“ ، ”چِترا“ اور ”کُوکاں“ پیش کیے۔ اس کے علاوہ سید منتظر امام رضوی 2010 سے 2022 تک ایف ایم ریڈیو 102 گوجر خان سے پوٹھوہاری پروگرام ”سنجھالیاں“ پیش کرتے رہے ہیں۔
٭پی ٹی وی کے اہم پوٹھوہاری ڈرامہ نگار٭
پی ٹی وی کے اہم پوٹھوہاری ڈرامہ نگاروں کی فہرست میں پروفیسر شاہد چوہدری، اختر امام رضوی، افضل پرویز، شعیب خالق، ارشد چہال، جہانزیب عزیز، اصغر شاد، محمد الیاس اعوان، اسلم بھٹی، اسلم مغل، عرفان بیگ، طاہر صدیقی، سیداسجد امام، ڈاکٹر وقار عظیم اور ناہید ناز کے ناموں کا تذکرہ ہر طرف سنائی دیتا ہے، جن میں سے چند ایک کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔
٭اختر امام رضوی٭
اختر امام رضوی مرحوم ایک لمبے عرصے تک پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر پر ہفتہ وار پوٹھوہاری پروگرام ”سانجھاں“ پیش کرتے رہے، اس پروگرام میں پوٹھوہار کی معروف شخصیات کے انٹرویوز، گیت اور بیت پیش کیے جاتے تھے، ان کے لکھے 13 اقساط پر مشتمل 4 ڈرامہ سیریلزنیلی دھار ( 1992 ) ، اُچے بوہے ( 1993 ) ، حویلی ( 2005 ) اور کُہگھیاں ( 2009 ) پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر پر ٹیلی کاسٹ ہوچکے ہیں۔
٭ارشد چہال٭
ارشد چہال نے پی ٹی وی اسلام آباد کے لئے 5 پوٹھوہاری ڈرامہ سیریلز لکھے جن میں پَلیار ( 2002 ) اس ڈرامے پر انہیں بیسٹ ڈرامہ رائٹر کا پی ٹی وی ریجنل ایوارڈ بھی ملا، پُھلاں نی خشبو ( 2005 ) ، گلیاں تے چبارے ( 2010 ) ، گلوجے ( 2015 ) ، سدھراں نیں دیوے ( 2015 ) شامل تھے، ”گلیاں تے چوبارے“ بھی پی ٹی وی پر نشر ہونے والا ایک مقبول ڈرامہ تھا، ڈی ایم ڈیجیٹل ٹی وی مانچسٹر یوکے کے لئے 13 اقساط پر مشتمل پوٹھوہاری ڈرامہ سیریلز برف بنیرے ( 2006 ) اور چبارے ( 2007 ) لکھیں۔ ارشد چہال کی 5 ٹیلی فلمیں ”چن پردیسی“ ، ”چن مہھاڑا چڑھیا“ ، ”اُچے شملے“ ، ”کنکاں پکی گئیاں“ ، ”مائے نی مائے“ برطانیہ سے ریلیز ہوئی ہیں۔ پی ٹی وی پر چلنے والے پوٹھوہاری پروگراموں ”سنجھالیاں“ ، ”گجرے“ ، ”پھلاں بھری چنگیز“ ، ”سُر پوٹھوہار“ میں ارشد چہال کے لکھے ہوئے متعدد پوٹھوہاری گیت ٹیلی کاسٹ ہوئے ہیں، اس کے علاوہ ان کے لکھے گیت ”جدوں ناں بنیریاں تے کاں پیا بولناں“ پر انہیں پی ٹی وی ریجنل ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ ارشد چہال کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے 2004 میں ”کوکن بیر“ کے نام سے پہلا پوٹھوہاری ناول بھی لکھ رکھا ہے۔
٭شعیب خالق٭
شعیب خالق کے ڈرامہ سیریل ”بُرد برآمد“ نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے، مہھاڑی، تہھاڑی لہجے میں لکھے اس ڈرامے کو 9 پی ٹی وی ایوارڈ ملے، جن میں بہترین ریجنل ڈرامہ رائیٹر کا ایوارڈ بھی شامل تھا، جس سال ”بُرد برآمد“ کو 9 ایوارڈ ملے اس سال پی ٹی وی پر اور کوئی پوٹھوہاری ڈرامہ نہیں چلا تھا جس کی وجہ سے تمام 9 کی 9 کیٹیگریز ریجنل ایوارڈز ”بُرد برآمد“ کے حصے میں آئے۔ اس کے علاوہ شعیب خالق کا ڈرامہ سیریل ”پرچھانواں“ جو گھیبی اور پوٹھوہاری لہجے میں تھا، وہ بھی پی ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوا، گلدستہ ڈرامہ سیریز ( 2000 ) میں شعیب خالق کا ایک ڈرامہ ”چاچا واقف“ تھا جو کئی بار ٹیلی کاسٹ ہوا۔
٭محمد الیاس اعوان٭
محمد الیاس اعوان کے لکھے کئی پوٹھوہاری ڈرامے پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر سے ٹیلی کاسٹ ہوتے رہے ہیں، ان کا 13 قسطوں پر مشتمل ایک ڈرامہ سیریل ”بھاگاں بھریاں“ ریجنل ایوارڈ بھی حاصل کر چکا ہے، اس کے علاوہ ”تھیلانوٹاں ناں“ ، ”سوہنڑی“ ، ”واپسی“ اور ”سزا“ بھی ان کے معروف پوٹھوہاری ڈرامے ہیں، الیاس اعوان روایت کرتے ہیں کہ ”سنگی“ بھی ان کا پی ٹی وی کے لئے لکھا ہوا ڈرامہ تھا جس کی ادائیگی بھی پی ٹی وی نے انہیں کر دی تھی، ڈرامے کی ستر فیصد ریکارڈ نگ بھی ہو چکی تھی لیکن اسی دوران ڈرامے کی اداکارہ اور پروڈیوسر کے مابین ہراسمنٹ کا کیس بن گیا، انکوائری میں یہ سیریل روک دیا گیا اور پھر آج تک مکمل نہ ہوسکا، الیاس اعوان کے بقول پی ٹی وی کی راہداریوں میں یہ بات عام تھی کہ پروڈیوسر کو سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔ الیاس اعوان نے مبینہ طور پر یہ الزام بھی لگایا کہ مجھ سے ایک مرحوم اداکار جو اکثر لندن کے چکر بھی لگاتے تھے انہوں نے ایک پوٹھوہاری ٹیلی فلم لکھوائی، جس کا ایڈوانس بھی انہوں نے پانچ ہزار روپے مجھے دیدیا لیکن بعد میں بقایا رقم دس ہزار روپے ادا نہ کی اور جب ٹیلی فلم لانچ ہوئی تو اس پر انہوں نے تحریر و ہدایات میں بھی اپنا نام لکھا ہوا تھا، اس واقعہ کے بعد میں نے تمام عمر ان کا بائیکاٹ کیے رکھا اور بول چال بند رکھی۔
٭مقامی اداکاروں کی تحریک اور فرمان اللہ جان ٭
پی ٹی وی پر پوٹھوہاری ڈراموں میں اردو اور پنجابی سپیکنگ فنکار اداکاری کرتے تھے جو پوٹھوہاری زبان کا حق ادا نہیں کر پاتے تھے جس پر عرفان بیگ، سید آل عمران، طاہر چوہدری اور حمید بابر نے یہ تحریک چلائی کہ پوٹھوہاری ڈراموں میں پوٹھوہاری بولنے والے اداکار ہی ٹیلی کاسٹ کیے جائیں تاکہ پوٹھوہاری زبان کی درست ادائیگی ہو سکے، ان چاروں احباب نے اس وقت کے جی ایم پی ٹی وی ہوم فرمان اللہ جان سے ملاقاتیں کر کے انہیں قائل کیا کہ مقامی پوٹھوہاری اداکاروں کو ہی کردار دیے جائیں۔ شعیب خالق روایت کرتے ہیں کہ ”میں نے فرمان اللہ جان جیسا علاقائی زبانوں کے پروگرامز کو اہمیت دینے والا کوئی اور نہیں دیکھا، پشتو زبان سے تعلق کے باوجود اسلام آباد کے علاقائی لہجوں اور پروگراموں کو جس قدر انہوں نے اہمیت دی وہ ایک مثال ہے، بُرد برآمد بھی انہیں کی دلچسپی کے باعث سامنے آیا، انہوں نے سید شاکر عزیر اور مجھے آفس میں بلایا اور کہا کہ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ علاقائی ڈرامہ ایک سب سے اچھا ڈرامہ نگار اور پروڈیوسر مل کر بنائیں، تم دونوں یہ کام کرو گے، یوں بُرد برآمد جیسا لاجواب علاقائی ڈرامہ سیریل ان کی دلچسپی کے باعث سامنے آیا۔“
٭پی ٹی وی کے پوٹھوہاری اداکار٭
پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر کے پوٹھوہاری فنکاروں کی بات کریں تو اولیت کا تاج طارق بٹ کے سر ہی سجتا ہے، کیونکہ پی ٹی وی پر 1991 میں ٹیلی کاسٹ ہونے والے پہلے پوٹھوہاری ڈرامہ سیریل ”پیا گھر آیا“ میں مرکزی کردار طارق بٹ نے ہی ادا کیا پھر ڈرامہ سیریل ”اُچے بوہے“ اور ”نیلی دھار“ میں بھی انہوں نے اداکاری کی۔ 1992.93 میں جب ”سانجھاں“ پروگرام کا نام تبدیل کر کے ”سواں رنگ“ رکھا گیا تو اس کے لکھاری و میزبان بھی طارق بٹ تھے اور ان کے ساتھ معاون میزبان نازو شکور تھیں، یہ پروگرام مسلسل تین سہ ماہیاں چلتا رہا۔ طارق بٹ 1981 میں پہلی بار چکلالہ میں پی ٹی وی کے پروگرام سانجھاں میں شریک ہوئے، طارق بٹ نے بعد ازاں برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈی ایم ڈیجیٹل ٹی وی مانچسٹر یوکے سے ”اساں ناں کشمیر“ کے نام سے پروگرام شروع کیا جس میں پوٹھوہار اور آزاد کشمیر کی اہم شخصیات کے انٹرویوز وغیرہ نشر ہوتے تھے، سٹیج ڈراموں میں پوٹھوہاری بولنے والا پہلا مستند اداکار حمید بابر (ساگری) تھا، اس سے قبل رفعت علی قیصر اور شہباز مغل آف چہاری اور عرفان بیگ (مندرہ) سٹیج ڈراموں میں ایک آدھ انٹری والا کردار ادا کرتے تھے، حمید بابر نے آ کر صرف ایک آدھ انٹری کی بجائے پورا پورا ڈرامہ ہی پوٹھوہاری میں بولنا شروع کر دیا۔ حمید بابر کو پہلی دفعہ 2002 میں پی ٹی وی پر ارشد چہال کے پوٹھوہاری ڈرامہ سیریل ”پلیار“ سے بھی کئی سال پہلے 1993 میں ڈرامہ سیریل ”اُچے بوہے“ میں اداکاری کا موقع مل چکا تھا۔ پی ٹی وی اور نجی سیکٹر کی پوٹھوہاری ڈرامہ انڈسٹری میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے چند بڑے ناموں میں طارق ملک بھی شامل تھے، طارق ملک جیسا ورسٹائل اداکار صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے، طارق ملک (جی ٹی ایس میں ملازمت بھی کرتے رہے، بعد ازاں نوکری چھوڑ دی) نے ریڈیو سمیت پی ٹی وی پر بھی اداکاری کے جوہر دکھائے، ڈرامہ سیریل ”اُچے بوہے“ میں طارق ملک کا بھی اہم کردار تھا۔ اعجاز بیگ (سٹیٹ بینک راولپنڈی میں ملازمت بھی کرتے رہے ) ، جان ریمبو، شبیر مرزا (جھنڈا چیچی) ، سجاد کشور، مرید عباس بخاری (حیال۔ اڈیالہ، پی پی پی رہنما جعفر شاہ ایڈووکیٹ کے چچا زاد بھائی ہیں ) ، شاہد قیوم مغل (کلرسیداں۔ سی ڈی اے پاشا یونین کے مرحوم قائد فرحت کمال پاشا کے قریبی عزیز ہیں ) ، خان محمد رانا المعروف کے ایم رانا (راولپنڈی) ، انجم ملک (راولپنڈی) ، انجم حبیبی (سٹیٹ بینک اسلام آباد میں ملازمت کرتے رہے ) ، زینت عباسی (راولپنڈی) ، غزالہ بٹ، عفت چوہدری (راولپنڈی) ، شہناز خان، حمید بابر (ساگری) ، شہزادہ غفار (گلستان کالونی راولپنڈی) ، ارشد منہاس لوہدرہ، افضال لطیفی (چکوال) ، امجد چوہدری (راولپنڈی) بھی نامور پوٹھوہاری اداکاروں میں شامل تھے۔
٭پوٹھوہاری ٹیلی فلمیں /ڈرامے ٭
نجی ڈرامہ گھر (پرائیویٹ پروڈکشن ہاؤس) اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں قائم ہوئے جنہوں نے کمرشل بنیادوں پر پوٹھوہاری ڈرامے اور ٹیلی فلمیں بنائیں، یہ ڈرامے اور ٹیلی فلمیں زیادہ تر انگلینڈ میں رہنے والی پوٹھوہاری کمیونٹی کے ساتھ ساتھ اندرون و بیرون ملک پوٹھوہاری بولنے والوں کے لئے بنائے جاتے تھے، ان ڈراموں میں ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح بھی ہوتا تھا، ان ڈراموں نے پوٹھوہاری زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ پرائیویٹ سیکٹر میں سب سے پہلا ڈرامہ سیریل ارشد چہال کا لکھا ہوا ”چبارے“ تھا جسے طاہر چوہدری نے بنایا تھا، اس سے پہلے نجی سیکٹر میں کوئی پوٹھوہاری ڈرامہ سیریل نہیں بنا تھا، اس کے علاوہ پہلی ٹیلی فلم پرائیویٹ سیکٹر میں ”اللہ دتہ“ بنی تھی جو ارشد چہال کی لکھی تھی جسے شہاز مغل نے انگلینڈ سے آ کر بنایا تھا، میکی کھڑو انگلینڈ اس کے بعد بنی لیکن ریلیز پہلے ہو گئی تھی اور اللہ دتہ بعد میں ریلیز ہوئی۔ ”اللہ دتہ“ سال ڈیڑھ سال پہلے بن کر تیار تھی۔ دوسری طرف عرفان بیگ دعویدار ہیں کہ انہوں نے سب سے پہلے ”رولا رپا“ کے نام سے پوٹھوہاری ڈرامہ سیریل کا آغاز کیا، جس کا پہلا ڈرامہ ”میں وی ککڑ کھاساں“ تھا، ”رولا رپا“ میں کل دس پوٹھوہاری ڈرامے پیش کیے گئے، عرفان بیگ کے بقول ”میں وی ککڑ کھاساں“ کی جن دنوں عکس بندی ہو رہی تھی ان دنوں انجم ملک بھی اپنا ڈرامہ ”میکی کھڑو انگلینڈ“ تحریر کر رہے تھے، بعد میں حالات ایسے ہو گئے کہ یہ دونوں ڈرامے ایک ساتھ ہی لانچ ہو گئے ”ان تینوں ڈراموں نے پوٹھوہاری ٹیلی فلموں کی بنیاد رکھی، عرفان بیگ کا لکھا ہوا ڈرامہ“ میں وی کُکڑ کھاساں ”رجحان ساز ثابت ہوا، جس کے مکالمے بچے بچے کی زبان پر ہوتے تھے۔ ڈرامے کے ایک کردار میں شہزادہ غفار کا یہ مکالمہ“ ایہے کُکڑ کِسراں دینڑیں او؟ ”“ پوڑنے آں، تولنے آں، چائی دینڑیں آں ”تو دنیا بھر میں پوٹھوہاری بولنے والوں کی زبان پر تھا، عرفان بیگ کی“ رولا رپا ”سیریل میں“ میں وی افسر بنڑساں ”،“ میں وی تھندار بنڑساں ”اور“ میں وی پاغل آں ”سمیت دس ڈرامے شامل تھے۔ عرفان بیگ کے دیگر پوٹھوہاری ڈراموں میں“ کڑمائی ”،“ تو تاں نی چھاں ”،“ باہواں نال پہھرانواں ”اور“ نکمے پُتر ”شامل ہیں، پی ٹی وی پر اِک سا پلھو ( 2010 ) ڈرامے کی وجہ سے عرفان بیگ کی بیسٹ رائٹر کیٹیگری میں پی ٹی وی ایوارڈ کے لئے بھی نامزدگی ہوئی تھی، یار محمد خان کا“ راجے پُتر ”بھی خوبصورت پوٹھوہاری ڈراموں میں شامل تھا، سید آل عمران نے 2006 ء میں ٹیلی فلم“ پہاپا آیا پاکستان ”بنائی تھی، جس میں جان ریمبو نے بھی اداکاری کی تھی، الیاس اعوان کی لکھی ہوئی پوٹھوہاری ٹیلی فلمیں“ اچھو چاہ پلاں، ”ہک ہور فِلو“ بھی سامنے آ چکی ہیں۔ سید منتظر امام رضوی پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے ڈرامہ فیسٹیول میں مختصر دورانیے کے دو ڈرامے ”چترا“ اور سانگ پیش کر چکے ہیں۔
٭ٹیلی فلموں کی مقبولیت٭
عرفان بیگ روایت کرتے ہیں کہ ”ان ٹیلی ڈراموں نے ملک بھر کے پوٹھوہاری بولنے والوں کے ساتھ دیگر زبانیں بولنے والے اداکاروں اور فنکاروں کو بھی متاثر کیا، ان ڈراموں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ طاہر چوہدری کو لیجنڈ اداکار سہیل احمد نے لاہور سے کال کی کہ میں پوٹھوہاری سیکھنا چاہتا ہوں میری مدد کرو تاکہ میں بھی پوٹھوہاری ڈراموں میں کام کر سکوں۔“ لیکن بعد میں افسوس ناک صورتحال اس وقت پیدا ہو گئی جب غیر پیشہ ور لوگوں نے پوٹھوہاری ڈرامے بنانا شروع کر دیے جو مقدار میں تو زیادہ تھے لیکن ان کا معیار نہ ہونے کے برابر تھا۔ یعنی پروفیشنل ازم کے فقدان کے باعث صورتحال اتنی حوصلہ افزا نہ رہی۔
٭پوٹھوہاری فیچرز اور ڈراموں کی مطبوعہ کتب٭
مطبوعہ پوٹھوہاری ڈراموں اور ٹیلی فلموں کی بات کریں تو شیراز طاہر مرحوم نے جنوری 2018 ء میں اپنا لکھا ہوا پوٹھوہاری ڈرامہ ”سنہے مہھاڑیاں اَکھیاں نیں“ شائع کرایا تھا، یہ پہلا پوٹھوہاری ڈرامہ تھا جو کتابی شکل میں شائع ہوا، عرفان بیگ نے بعد ازاں 2021 میں اپنے 3 پوٹھوہاری ٹیلی ڈراموں ”میں وی کُکڑ کھاساں“ ، ”میں وی افسر بنڑساں“ اور ”موبائل محبتاں“ کا مجموعہ ”میں وی کُکڑ کھاساں“ کے عنوان سے شائع کرایا، ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن سے نشر ہونے والے نعمان رزاق کے 4 ریڈیو ڈراموں کا مجموعہ ”وِیر مہھاڑا کہھوڑی چڑھیا“ کے نام سے 2023 میں شائع ہوا، اس مجموعے میں ”وِیر مہھاڑا کہھوڑی چڑھیا“ کے علاوہ ”دُکھاں سکھاں نیں بشکار یہھاتی نیں رنگ“ ، ”نوّیاں سوچاں نی پھوٹک“ اور ”موقعے ناں گواہ،“ شامل ہیں۔ نعمان رزاق کے ریڈیو کے لئے لکھے گئے پوٹھوہاری فیچرز کی کتاب ”مٹی مونہوں بولنی“ 2018 ء، ظہیر چوہدری کے ریڈیو پاکستان راولپنڈی پر نشر ہونے والے پوٹھوہاری فیچرز کی کتاب ”ماسی کیدو“ دسمبر 2021 میں شائع ہو چکی ہیں۔

