گدھے اور شاعر کی کہانی
ایک گدھے اور ایک شاعر کی دوستی ہو گئی۔ شاعر کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی، اور گدھے کو جھوٹ ڈھونے کی۔ ایک دن شاعر نے کہا: ”خبیث سفلہ کی قسم، میں منافق ہوں! میں نے ہمیشہ جھوٹ بولا، صرف اپنا مفاد سوچا، اور تعلق داری کو اپنی غرض کے تابع رکھا۔ اب جب کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میرے پھیپھڑے سگریٹ کے دھویں سے سیاہ ہو گئے ہیں، میں پہلا سچ بولنا چاہتا ہوں تاکہ اپنے اندر کی گندگی کو صاف کر سکوں۔“ گدھے نے خاموشی سے شاعر کی بات سنی اور پھر حسبِ عادت زور سے ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے لگا۔ شاعر کو امید تھی کہ گدھا اس کی حوصلہ افزائی کرے گا یا کوئی مشورہ دے گا، لیکن گدھے کا کیا! شاعر نے مایوسی سے دوبارہ کہا، اس بار لہجہ میں ایک عجیب رقت تھی:
”مجھے ہاتھی کی سونڈ جیسے اپنے لمبے بالوں کی قسم، مجھے زوالِ سخن کونسل سے ملنے والی معمولی سیلری کی قسم، اور اس بے قیمت سرخ لپ اسٹک کی قسم، جو ہر وہ عورت اپنے ہونٹوں پر لگاتی ہے جو معاشرتی جبر، غربت، اور تنگ نظری کے باعث خواب دیکھنے سے قاصر ہو گئی ہو۔ وہ عورت، جو محرومیوں کے بوجھ تلے دب کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے بانجھ ہو چکی ہو۔ مجھے ان بوڑھے شاعروں کی قسم جنہوں نے سچ کو ہمیشہ ٹھکرا دیا اور عمر بھر اسٹیج پر اپنے آپ کو سنورتا دیکھا، مجھے نفاق کے شہنشاہ، طاعون مسخرے کی قسم! سچ ہمیشہ میرے سامنے رہا، لیکن میں نے اسے دیکھنے، سننے اور ماننے سے انکار کیا۔ میں نے جھوٹ کی حمایت کی، سچ بولنے والوں کو جھوٹا کہا، اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا تاکہ وہ عبادت میں شمار ہو اور مجھے اپنے شیطانی دیوتا سے انٹرنیشنل وفاداری کی سند ملے۔“
اب کی بار گدھا چپ رہا۔ اس کی آنکھیں نم تھیں، اور دل میں شاعر کی ندامت پر ایک گونہ ترس جاگا۔ جب کوئی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے، تو اسے معاف کرنے کا رجحان پیدا ہوتا ہے، اور یوں غلطیوں کو دہرانے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ ارے ارے، یہ بھاشن کہاں سے آ گیا؟ بات ہو رہی تھی گدھے کی۔
گدھے نے دلگیر لہجے میں کہا: ”اے علمِ عروض کے بے تاج بادشاہ! اے لفظوں کے سوداگر! اے جھوٹ کے استاد اور ادب کے ہڈ حرام شاعر! تم نے اپنی رام کہانی تو کہہ دی، اب ذرا میری سنو۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں تمہارا رفیق نہیں تھا۔ آسمان جامنی تھا، سمندر پر ڈائینوسار کا راج تھا، اور زمین پر مچھلیاں دوڑتی تھیں۔ انہی دنوں میں، میں ایک گاؤں کی قدیم پگڈنڈی پر اپنی سست چال سے جا رہا تھا کہ اچانک خبیث سفلہ کے آدمی آ گئے۔ انہوں نے مجھے خوب پیٹا اور پھر اپنے ساتھ شہر لے گئے۔
شہر میں انسانوں اور جانوروں کا ہجوم تھا۔ بندر، بن مانس، نیک گینڈے، نیک ریچھ، برے مرد، بری عورتیں ؛ ہر قسم کی مخلوق تھی۔ وہاں میں نے پہلی بار شہر دیکھا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اسی دن خبیث سفلہ کے حکم پر کچھ بطخوں کو ذبح کیا گیا، کیونکہ ان سے بدبو آتی تھی۔ وہ بطخیں اسی سِفلہ کی پالتو تھیں جس کی قَسَم تم کھا رہے ہو۔ میں نے ہجوم کو موقع جان کر فرار اختیار کیا اور اپنی راہ لی۔ لیکن چند دن بعد مجھے وہی خبیث سِفلہ کے آدمی ایک ویران علاقے میں مل گئے۔ ان کے ہاتھ میں ہتھیار تھے، اور میں سمجھا کہ یہ مجھے مار ڈالیں گے۔ لیکن اچانک ان کے سردار نے کہا، ’یہ گدھا وہی ہے جو ہماری کامیابیوں کا نشان بن سکتا ہے۔ ‘ پہلے تو میں سمجھا کہ وہ مذاق کر رہے ہیں، لیکن پھر انہوں نے میری تعریفوں کے پل باندھنے شروع کر دیے۔ مجھے ”بصیرت کا استعارہ“ اور ”انقلابی روح“ جیسے القابات دیے۔ ان کے سردار نے آگے بڑھ کر میرے قدموں میں جھک کر معافی مانگی اور کہا: ’ہم نے تمہیں سمجھنے میں غلطی کی، آج سے تم ہمارے مرشد ہو۔‘
میں حیرت کے مارے خاموش رہا، لیکن ان کی باتوں سے متاثر ہو کر ان کے ساتھ سیاست میں شامل ہو گیا۔ جب ناکام ہوا تو تمہاری شاعری سننے اور تمہارا حوصلہ بڑھانے کے لیے رفیق بن گیا۔ تمہاری طرح، مجھے بھی خبیث سفلہ اور اس کے ننگے قبیلے سے محبت ہے، کیونکہ اس محبت میں فائدہ ہے۔ ”شاعر، جو گدھے کی یہ داستان سن کر حیرت زدہ تھا، کچھ لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے گلا کھنکار کر کہا:“ آج سے آپ میرے بھی مرشد ہیں۔ مجھے بتائیں، میں آپ کو کس نام سے پکاروں؟ ”گدھے نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:“ برخوردار، تم مجھے ابا حضور کہہ سکتے ہو۔ ”یہ کہہ کر گدھا دوبارہ ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے لگا۔



