ابسولیوٹلی ناٹ سے ابسولیوٹلی یس تک کا سفر


پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ہمیشہ اپنے بیانیے کے ذریعے عوام کو متوجہ کیا ہے، لیکن اس بیانیے میں موجود تضادات اور وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے موقف نے اس کی سیاسی ساکھ پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ”ابسولیوٹلی ناٹ“ کا نعرہ، جو سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے امریکی مطالبات کے جواب میں دیا تھا، پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک خودمختار اور آزاد سوچ کا مظہر سمجھا گیا۔ تاہم، وقت کے ساتھ یہ بیانیہ داخلی اور خارجی چیلنجز کے ساتھ تضادات کا شکار ہوتا گیا، اور آج کی صورتحال اس تضاد کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

”ابسولیوٹلی ناٹ“ کا نعرہ اُس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں امریکی مطالبات کے جواب میں دیا، جہاں ان سے ڈرون حملوں کے لیے پاکستان میں فوجی اڈے دینے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ عمران خان نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کسی صورت اپنی زمین کو امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ موقف پاکستان کی خودمختاری اور غیرملکی دباؤ کے خلاف ایک مضبوط پیغام کے طور پر پیش کیا گیا۔

اسی بیانیے کو تقویت دینے کے لیے عمران خان نے عوامی جلسوں میں بارہا یہ جملہ دہرایا کہ ”ہم کوئی غلام ہیں۔“ یہ نعرہ پاکستانی عوام کے دلوں میں گونجنے لگا کیونکہ یہ تاریخی طور پر انگریزوں کی غلامی کے خلاف قومی غیرت کے جذبات کو اجاگر کرتا تھا۔ تاہم، یہ موقف صرف باتوں تک محدود رہا کیونکہ عملاً پی ٹی آئی حکومت نے کئی مواقع پر امریکی دباؤ کو تسلیم بھی کیا، جس میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اور دیگر سفارتی معاملات شامل ہیں۔

جب اپوزیشن کی تحریک اور اندرونی چیلنجز کی وجہ سے پی ٹی آئی کی حکومت مشکلات کا شکار ہوئی، تو عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی سازش قرار دیا۔ انہوں نے ایک جلسے میں مبینہ ”سائفر“ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ثبوت ہے کہ امریکی حکومت نے پاکستان میں رجیم چینج کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو مدد فراہم کی۔

اس موقع پر عمران خان نے عوام کو باور کرانے کی کوشش کی کہ ”ابسولیوٹلی ناٹ“ کہنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، امریکی حکومت ان کے آزاد خارجہ پالیسی کے موقف سے ناخوش تھی اور اسی لیے ان کی حکومت کو گرانے میں کردار ادا کیا گیا۔ اس بیانیے نے عوام میں ایک نیا جوش پیدا کیا، لیکن اس کے حقائق پر کئی سوالات اٹھائے گئے۔ سائفر کے حوالے سے جو شواہد پیش کیے گئے، وہ مبہم تھے اور ان کی بین الاقوامی سطح پر کوئی توثیق نہیں ہوئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر رچرڈ گرینیل کے حالیہ بیانات نے پی ٹی آئی کے بیانیے میں ایک اور تضاد کو اجاگر کیا ہے۔ گرینیل نے عمران خان کے حق میں کچھ سوشل میڈیا پوسٹس کیں اور ایک انٹرویو میں ان کی حکومت کے خلاف ہونے والے واقعات پر تنقید کی۔

پی ٹی آئی نے ان بیانات کو اپنے حق میں پیش کیا اور انہیں بین الاقوامی حمایت کا اشارہ قرار دیا۔ لیکن یہ وہی رچرڈ گرینیل ہیں جو اس امریکی حکومت کا حصہ رہ چکے ہیں جسے عمران خان اپنی تقاریر میں غلامی کی علامت قرار دیتے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت اور حامیوں کا یہ رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب تک بیانات ان کے حق میں ہوں، وہ قابلِ قبول ہیں، چاہے وہ بیانات انہی طاقتوں کی طرف سے کیوں نہ آئیں جن کے خلاف پہلے کھڑے ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی کی سیاسی تاریخ تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر : ایک طرف عمران خان ”ابسولیوٹلی ناٹ“ کہہ کر امریکہ کی مخالفت کرتے ہیں، اور دوسری طرف رچرڈ گرینیل جیسے شخصیات کے بیانات کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ حالات کے مطابق تبدیل ہوتا رہا ہے۔

عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا تھا اور عوام سے کہا تھا کہ وہ بجلی کے بل ادا نہ کریں۔ اس وقت اس اقدام کو عوامی حمایت حاصل ہوئی، لیکن جلد ہی یہ تحریک دم توڑ گئی کیونکہ اس کا کوئی ٹھوس منصوبہ یا عمل درآمد کا طریقہ موجود نہیں تھا۔

دھرنے اور احتجاج پی ٹی آئی کی سیاست کا اہم حصہ رہے ہیں، لیکن ان کا کوئی مستقل اثر نظر نہیں آیا۔ حکومت میں رہتے ہوئے دھرنے دینا اور اپوزیشن میں آ کر احتجاج کو عوامی تحریک کا نام دینا، پی ٹی آئی کے متضاد سیاسی رویے کو ظاہر کرتا ہے۔

”ہم کوئی غلام ہیں“ عمران خان کا ایک مقبول نعرہ تھا، جو عوامی جذبات کو ابھارنے میں کامیاب رہا۔ لیکن موجودہ حالات میں، جب پی ٹی آئی امریکی بیانات کو اپنی سیاسی حمایت کے طور پر پیش کر رہی ہے، یہ نعرہ اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت نے ایک وقت میں امریکہ کو غلامی کی علامت قرار دیا اور اپنی حکومت کے خاتمے کو امریکی سازش سے جوڑا۔ لیکن آج، جب رچرڈ گرینیل جیسے امریکی عہدیدار عمران خان کے حق میں بات کرتے ہیں، تو پی ٹی آئی انہیں اپنی سیاسی طاقت کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ”ہم کوئی غلام ہیں“ جیسے نعرے صرف عوامی حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ تھے، جنہیں بدلتے حالات کے ساتھ ترک کر دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کا بیانیہ وقت کے ساتھ ساتھ تضادات کا شکار ہوتا گیا ہے۔ ”ابسولیوٹلی ناٹ“ اور ”ہم کوئی غلام ہیں“ جیسے نعروں کو جس انداز میں پیش کیا گیا اور بعد میں ان کی نفی کی گئی، اس نے عوام میں مایوسی اور الجھن پیدا کی ہے۔

تحریک انصاف کو اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کے لیے اپنے بیانیے میں تسلسل اور صداقت لانی ہوگی۔ موجودہ رویہ نہ صرف پارٹی کے حامیوں بلکہ عوامی رائے کو بھی تقسیم کر رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی سیاست اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنے ماضی کے تضادات سے سبق نہ لے اور ایک واضح اور مستقل موقف نہ اپنائے۔ عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے مستقل مزاجی اور شفافیت ہی وہ راستہ ہے جس پر عمل کر کے تحریک انصاف ایک بار پھر خود کو مضبوط کر سکتی ہے۔

موجودہ حالات میں جو مضبوط عمارت انصاف کی بنیاد پر ابسولیوٹلی ناٹ کی پختہ اینٹ سے تیار کی گئی تھی اس میں دراڑ ابسولیوٹلی یس کی وجہ سے آ چکی ہے اور اس کا نقصان صرف اور صرف پی ٹی آئی کو ہو رہا ہے۔

Facebook Comments HS