خیر الدین کشتی سے ملاقات ( ایک فرضی قصہ )
کشتی صاحب نے مہربانی کی۔ علیل و زرد کو ہسپتال لے گئے۔ جب بھی ملتے ہیں دقائق معارف پر گفتگو ہوتی ہے۔ بس کوئی سوال پوچھتے ہیں تو ہم رواں ہو جاتے ہیں۔ دقائق معارف کا ہم تو ذکر نہیں کرتے۔ وہ پسندیدہ کتاب کا پوچھنے لگے۔ ہم نے کلام مجید کا بتایا۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ دقائق معارف کے زمرے میں آتی ہے، اس سے گریز کرتے ہیں۔ اور کتابوں کا پوچھنے لگے تو ہم نے برٹرینڈ رسل کی ہسٹری آف فلاسفی کا بتایا۔ بعد میں زیادہ پڑھنے سے اور تھوڑا خود سوچنے سے برٹرینڈ سے بھی اختلافات ہو گئے لیکن ان کا خیالات کی وضاحت اور منطقی طرز فکرو بیان کے حوالے سے اثر کافی دیرپا ہے۔ آپ یہ بات ہماری تحریروں میں دیکھتے رہتے ہوں گے۔
اب وہ بے چارے تائید ہی کر سکے۔ پھر سعادت حسن منٹو کا پوچھنے لگے۔
ہمارے خیال میں تین چار افسانے تو واقعی بہت اچھے ہیں منٹو کے۔ منٹو تعفن کی دریافت بہت عقیدت اور کثرت سے کرتے ہیں کہ الٹیاں بھی کارنامہ سا لگتی ہیں۔ بہت سے صحافی ان کی پیروی عقیدت سے کرتے ہیں اور دولت و شہرت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ منٹو کے ہاں۔ سنسنی خیزی بہت ہے۔ تفہیم کی بہت کمی ہے اور معاشرے پر طعنہ زنی بہت زیادہ ہے۔ صحافیوں پر بہت گہرے اثرات ہیں منٹو کے۔ ہمیں غلام عباس بہت پسند ہیں۔ بطور موضوع فریب کی تکرار بہت کرتے ہیں لیکن ان کے ایک افسانے میں دور بینی پائی جاتی ہے۔ اس میں وہ مستقبل میں وہ مذہبی انتہا پسندوں کے جتھے دیکھ رہے تھے۔
کشتی صاحب کہنے لگے ان کا تو سنا ہی نہیں ہے۔ لیکن بڑی بات ہے انھوں نے مستقبل میں جھانک لیا۔ ہم نے کہا وجہ بھی تھی۔ جن دنوں انھوں نے یہ افسانہ لکھا تھا ان دنوں انسان چاند پر بھی جا رہا تھا اور جماعت اسلامی ہمارے ہاں جتھے بھی بنا رہی تھی۔ انھیں اندازہ ہو گیا کہ جتھوں کا رجحان مستقبل میں بڑھے گا۔ انھوں نے اس تفہیم کے ارد گرد بہت شاندار سا تخلیقی تجربہ کر لیا۔ ہمیں بہت اچھا لگا۔ اس وجہ سے غلام عباس کا ہمارے ذہن میں ایک مقام سا بن گیا۔
پھر کہنے لگے آپ کی اپنی واکس سے متعلق تحریر بہت اچھی لگی۔ ایسے لگا کہ آپ کے ساتھ ہی سیر کر رہے ہیں۔ ہم خوش ہو کر اور ان کے شکر گزار ہو کر کہنے لگے۔ اس طرح کی تحریریں ہم کم لکھتے ہیں اب۔ کبھی کچھ لوگوں کے خاکے لکھنے کا دل کرتا ہے لیکن ترک کرتے رہتے ہیں کہ دوست ہیں، معشوقائیں ہیں، کچھ جان پہچان والے معززین۔ ان کے بارے میں کچھ ایسے حقائق لکھ دیے جو وہ منظر عام پر نہیں لانا چاہتے تو ناراض ہو جائیں گے۔ کبھی آپ بیتی سی لکھنے کا ذہن بنتا ہے، وہ بھی ملتوی کر دیتے ہیں۔ کبھی سوچتے ہیں کہ سچ ہی تو ہے کہنا تو چاہیے۔ اس معاملے میں الجھن میں ہیں۔
اور پھر پڑھنے پر بات ہوئی۔ ہم نے کہا عقیدت مند کی طرح نہیں پڑھنا چاہیے۔ اور راکٹ کی طرح شدید جذباتی کیفیات کے زیر اثر بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔ معاملات سمجھنے کے لیے ہی پڑھنا چاہیے۔ اور یہ تفہیم و تخلیق حقائق پر ہی مبنی ہونی چاہیے۔ مشکل کام ہوتا ہے لیکن بنتا یہی ہے۔
اس کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ ہم تو انھیں لیکچر سا دے رہے ہیں۔ اس کے بعد ان معاملات پر ان کی آرا سنتے رہے۔ پڑھے لکھے منئی ہیں، زندگی کا تجربہ بھی ہے۔ بات چیت کا سلیقہ بھی ہے۔ لیکن کسی مرشد کے مرید سے ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے خیال میں شاید تجلیات سے محظوظ ہو رہے ہوں، ہمیں لگتا ہے ویسے ہی وقت ضائع کر رہے ہیں۔ پھر ہم مریدی کو بہت بڑی خامی بھی سمجھتے ہیں۔ یہی بات ہے ناں، وہ ناراض ہی ہو جائیں گے۔
پھر ہسپتال چلے گئے۔ وہاں ایک نیک سی بی بی معائنے کرنے لگیں۔ وہ رنگ برنگی ہدایات دیتی رہیں۔ اب ہمارا معاملہ ٹیڑھا سا ہے۔ نئی جگہ پر بری طرح سے بوکھلا جاتے ہیں۔ وہ ہدایات دیتی رہیں اور ہم بوکھلاہٹ کے زیر اثر ان ہدایات کے بالکل الٹ حرکات کرتے رہے۔ اس کی تفصیل بتائیں تو اچھی خاصی چھوٹی سی مزاحیہ فلم بن جائے۔
یہ انگلی ہے، دیکھ رہے ہو۔ میں چاہتی ہوں تمھاری نگاہیں اس کی پیروی کریں۔
لیکن یہ اردو شاعری کے بھس سے بھرا سر ہے، نگاہوں کی طرح یہ بھی لٹو کی طرح گھومنے لگتا ہے۔ پھر وہ معائنے کے نام پر بہت سی الٹی سیدھی حرکات کی ہدایات دیتی رہیں۔ کچھ کی پیروی ہم نے کر لی۔ کچھ کی دوبارہ کوشش سے کر لی۔ کچھ کی نہ ہو سکی۔ ان کو کچھ اندازہ ہوا کہ یہ تو بوکھلائے ہوئے ہیں۔ یہ تم اتنے گھبرائے، ڈرے اور بوکھلائے ہوئے کیوں ہو۔ ابھی تو کوئی تشخیص ہی نہیں ہوئی۔ کہیں میں ڈراؤنی تو نہیں پھر ہم نے بتایا ارے نہیں، تم تو دل کش ہو۔ بس میں ہوں ہی ایسا۔ تشخیص کا کوئی خوف نہیں ہے، نئی جگہ کے حساب سے اس وقت مجھے بہت ساری چیزیں یک دم پریشان کر رہی ہیں۔ ہم نے وہ وجوہات بتائیں۔ اس کے بعد ہم ایک دوسرے کی بات بہتر سمجھنے لگے۔ ابلاغ کے آڑے کچھ ان کا ناز نخرہ بھی آتا رہا۔ ہم اپنا کچھ مسئلہ بتانے لگیں تو وہ جتانے لگیں کہ وہ بڑی لائق فائق ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد یہ معاملہ بھی سلجھ گیا۔ ہمیں تھوڑی ترتیب الٹی کرنی پڑی۔ ہم نے ان کی لیاقت کی تعریف پہلے کی اور اپنا مسئلہ پھر بتایا۔ اس ترتیب سے وہ خوش ہو گئیں۔ پھر انھوں نے تشخیص کی اور خوش گوار سے الوداعی کلمات کے ساتھ ہمیں انھوں نے جانے کی اجازت دی۔
اس کے بعد ایک دوست کے سنگ کشتی صاحب ہمیں اپنے ساتھ لے گئے۔ کھانا کھلایا جو کافی لذیذ تھا اور ہمیں ہاتھ روکتے کافی دشواری پیش آئی۔ کچھ نفسیات دان کہتے ہیں آدمی ذائقوں سے بندھا ہوتا ہے۔ ذائقے ہڑش سی کرتے ہیں اور آدمی کتوں کی مانند بے بس سا ہو کر ان پر لپک پڑتا ہے۔ لیکن ہمیں ٹیسٹ بڈز کی ہڑش سے جھگڑ کر جیتنے کا اک ہنر سا آ گیا۔ جب جیت نہیں پاتے تو اور زیادہ علیل و زرد ہو جاتے ہیں اس لیے یہ ہنر کافی ضروری ہے۔ پسندیدہ اشیا کی طلب سے ہار بھی جاتے ہیں لیکن لڑتے رہتے ہیں۔
لیجیے ہم تو پھر اپنا دکھڑا لے بیٹھے۔ وہ بہت یاد آئیں۔ بات بے بات دکھڑا لے بیٹھتی تھیں۔ ہم سنتے تو رہتے لیکن تنگ آ کر سچی بات بھی کہہ دیتے۔ دیکھو یار، ہمارے ذہن میں شہوت و ہوس، بوس و کنار، بادہ پیمائی، کوہ پیمائی کی سکیمیں ہوتی ہیں، جن کی آرزو تمھارے دکھڑے بجھا دیتے ہیں۔ یہ مسکینوں اور یتیموں والا عشق ہم سے نہیں ہو پائے گا۔ اور وہ کہتیں کہ اب کیا کروں دکھڑے ہیں اور تمھارے سوا سنتا بھی کوئی نہیں ہے، اس لیے کہنے پڑتے ہیں۔ وہ تو ہے لیکن قصہ غم میں ان کی سی طوالت و تسلسل سے ہم اب بھی گریز کر جاتے ہیں۔
ویسے علالت سے خوش اسلوبی اور زندہ دلی سے معاملہ کرنے پر ہمیں لوگ سراہتے بہت ہیں۔ کشتی صاحب نے بھی بہت سراہا۔ پھر کشتی صاحب اور ان کے دوست ہمیں گھر ڈراپ کر گئے۔ ان کی مہربانی۔

