کوتوال: امی کا خاکہ
پیار پیار یا پھر چھیڑ چھاڑ میں بہن بھائیوں اور دیگر خاندان والوں کی طرف سے عطا کیے گئے عرفی نام عموماً معنی خیز اور شخصی غماز ہوتے ہیں۔ عرفیت برجستہ اور با ربط ہو تو تمام عمر ساتھ جیتی ہے۔ کوتوال ایک عمدہ لفظی ترکیب تھی جو بڑے بہن بھائیوں یا شاید کسی خاندانی بزرگ کی طرف سے ودیعت ہوئی۔ برطانوی راج میں ذیلدار، تحصیلدار اور مختارِکار کو کوتوال پکارا جاتا تھا۔ کوٹ یعنی قلعہ اور وال کا مطلب حاکم۔ کوت انگریزی میں اسلحہ خانے کو بھی کہا جاتا ہے اور وال کا مطلب نگراں۔ اسم بامسمیٰ اختیار، حاکمیت اور عنانِ مطلق کا اظہار ہے، کوتوال۔ سن شاید درست شناخت نہ کیا جا سکے مگر قیاس ہے کہ اواخر چالیس کی دہائی میں موضع فتح آباد ضلع آگرہ کے محلہ پٹھاناں میں ہنستے کھیلتے دیا گیا یہ نام تا عمر اپنا رنگ جماتا رہا۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ نام ایک بچی، لڑکی یا خاتون کو اس وقت تفویض ہوا جب برصغیر میں ضلعی انتظامیہ یا پولیس میں خواتین افسرانِ مجاز کا دور دور تک نام و نشان یا امکان تک نہ تھا۔ یوں تو محترمہ نعیم کوثر اپنے بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھیں مگر مصدقہ بیانات اور شہادتوں کے مطابق کمانڈ اینڈ کنٹرول میں آپ کا دُور دُور تک کوئی ثانی نہ تھا۔ کوتوال کا خطاب تفویض ہونے کی یہی وجہ بنی۔
کوتوال کا لڑکپن یوپی کے ضلعے علی گڑھ کے مختلف علاقوں میں بھی گزرا کہ محکمہ پولیس میں ملازمت کے باعث ان کے والد مختلف تھانوں میں تعینات رہے۔ سماجی چلن کے تابع انہیں بھی والدہ کی تربیت اور قربت میسر رہی۔ امور خانہ داری بالخصوص سلائی کڑھائی میں دلچسپی لی اور مہارت حاصل کی۔ پھر یہ خاندان بتدریج پاکستان چلا آیا۔ 1964 میں جناب عبدالزاہد خان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ یقیناً یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ کائنات کی سوچی سمجھی تجویز ہوگی کہ ان کے ہاں اپنے وقت پر میں بھی پیدا ہو گیا۔ ماں پر اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں حیرت انگیز مماثلتیں اور قدریں مشترک ہیں جو اس موضوع پر مزید کچھ لکھنے کو مشکل تر بناتا ہے کہ ”مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں“ ۔
عرصہ قبل قدرت اللہ شہاب کا ”ماں جی“ پڑھا اور میکسم گورکی کی ”دی مدر“ سے متاثر رہا۔ دل تو چاہا کہ یہ سطور لکھنے سے پہلے ازسر نو نظر گردانی کی جائے مگر پھر گوارا نہ ہوا کہ کہیں اسلوب متجاوز اور بیان حد سے نہ گزر جائیں۔ منور رانا کا ناول ”ماں“ ، وقار بن الہٰی کا ”ماں میں تھک گیا ہوں“ اور پنجابی زبان کے میاں محمد بخش ”مائے نی میں کینوں اکھاں درد وچھوڑے دا“ کی گونج بھی محو نہیں۔ سوانح لکھنا مشکل کام ہے۔ سچ لکھنا اور مقدس رشتوں پر لکھنا بہت مشکل ہے۔ اس کا ادراک مجھے بالخصوص اپنی پہلی کتاب ”ڈیڈی“ کے تحریری کشٹ سے گزرتے وقت ہو چکا ہے، جو پاکستانی زبانوں میں والد کی واحد سوانح ہے۔ نصابی الفاظ اور انسانی سیرت کی فرشتہ وار پیشکش سے ہیچ قبولیت پر کوئی آمادہ نہیں۔ انسان مگر انسان ہی ہے۔ عصمت چغتائی نے بھی تو ”دوزخی“ لکھا ہے۔
گود سے باہر امی کا پہلا ہیولہ جو یادداشت میں باقاعدہ محفوظ ہے، جب وہ کسی پڑوسن کو میری عمر ڈھائی سال بتا رہی تھیں۔ کچھ اور مناظر میں تانگے پر سواری، دس تک گنتی ازبر سنانے پر ٹافی کے انعام کے ساتھ باہر گلی میں بھائی جان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت، تین بھائیوں کے لئے نقرئی جامہ وار کی دیدہ زیب شیروانی، ٹوپی اور سفید براق پاجامے جن کی دھوم محلے میں مچی رہی نیز ڈیڈی کے کیمرے سے لی گئی تصاویر اب تک محفوظ ہیں اور اسکول سے پہلے دن واپسی پر امی کی ڈی بریفنگ شامل ہیں۔ ایک روز میں نے یہ جان کر خود کو بہت بلند محسوس کیا کہ میرا قد روٹی پکاتے بیٹھی امی کے برابر ہونے والا ہے۔ میں اکثر امی سے لپٹا رہتا، بالخصوص حالت آرام میں جب کروٹ لیتیں تو ان کی ٹانگوں پر دراز ہو کر سکون پاتا تھا۔
امی انتہائی اعلیٰ درجے کی منتظم اور تربیت کار تھیں جو نظم و نسق، قاعدے قوانین کی پاسداری اور گفتگو کے آداب پر یقین رکھتی تھیں۔ ان کی یہ خوبی ارد گرد آباد گھرانوں کے لئے بھی مشعل راہ تھی۔ پڑوسی بصد اصرار اپنے بچوں کو امی کی صحبت میں وقت گزارنے اور بہتر تعلیم و تربیت کے لئے ہمارے گھر بھیجا کرتے تھے۔ اپنے سات بچوں کی اسکول میں باقاعدہ حاضری اس طرح ممکن بنانا کہ کوئی ایک بچہ بھی اسکول جاتے وقت رونا تو دُور، ناگواریت کا اظہار تک نہ کرے، امی ہی کا خاصہ تھا۔ ابتدائی جماعتوں سے بہترین نتائج کا سہرا امی ہی کو جاتا ہے۔ البتہ حساب کا مضمون پڑھاتے وقت ذرا کنی کترا جاتی تھیں لیکن یہ کسر ڈیڈی سے سودا سلف کی خریداری سے واپسی پر حساب لیتے وقت وہ نکال لیتی تھیں۔ مہینے کی ابتدا میں ڈیڈی کی تنخواہ کا بڑا حصہ روزمرہ اخراجات کے لئے امی کے حوالے ہوا کرتا تھا۔ رائج الوقت طریقے کے مطابق ڈیڈی بازار سے سامان لاتے تو حساب لیتے وقت امی کوتوال بن جاتیں اور کئی کئی دفعہ جمع تفریق کرتی تھیں۔ نیک سیرتی میں ڈیڈی کی شہرت کے باوجود امی کا حساب شکوک و شبہات کا مرقع رہتا اور دائمی رہا۔
اولاد کے بارے میں کوتوالی فرمان تھا کہ کھلاؤ گھوڑے کا نوالہ مگر دیکھو شیر کی نگاہ سے۔ شیر کی یہ نگاہ پہلی مرتبہ 100 تک گنتی ازبر کرتے بہت کام آئی۔ میں 79 کے ہندسے کی ادائیگی پر اٹک گیا مگر عین سامنے شیرنی کی طرح تنی بیٹھی گنتی سنتی بے رحم کوتوال نے 79 اچھی طرح ازبر ہونے اور 69 اور 89 کے ساتھ گڑبڑ مٹا دینے تک گلو خلاصی نہ کی۔ صرف کامیاب سانس پھولتے رٹے پر ہی ٹافی اور کھیلنے کی اجازت ملی۔ ”گھوڑے کا نوالہ“ پیتل کے بڑے تسلے میں تیار ہوتا تھا۔ بڑی مقدار میں آٹا گوندھتی اور کھلاتی جاتی تھیں کہ ہم گھوڑوں میں کسی کے بھوکا رہ جانے کا احتمال نہ ہو۔ یاد کے دریچے میں محفوظ پیتل کا وہ تسلہ بھی پیٹ بھر کر برکتی تھا، کبھی خالی نہ رہا۔ میں پراٹھے کھائے چلا جاتا تھا۔ پیٹ مکمل بھر جانے پر بھی سوالیہ ”اور؟“ پوچھتی تھیں۔ یہ ایک معاصرانہ عیاشی تھی کہ زیادہ تر گھرانوں میں عورتیں فی فرد ایک پراٹھا ہی پکانے یا چند پاپوں پر اکتفا کرتی تھیں۔ امی کے ہاتھ سے اتارے گئے لچھے دار پراٹھے پورے خاندان میں فرمائشی مقبول تھے۔
ایک دفعہ میں بغیر ناشتہ کیے اسکول روانہ ہو گیا۔ حیدرآباد کا ایف جی اسکول ہمارے سرفراز کالونی میں مکان سے کم از کم ڈیڑھ کلومیٹر دور تھا اور ہم روز پیدل جایا کرتے تھے۔ تھوڑی دیر بعد پہلی جماعت کے کمرے میں اخبار میں لپٹے دو کنگ سائز پراٹھے بمعہ انڈا آملیٹ کسی نہ کسی طرح امی نے مجھے سپلائی کروا دیے جو میں نے دوران ِسبق استاد کی نظر بچاتے ہوئے فوراً اڑا دیے۔ واللہ! طمانیت بلکہ طعمانیت بھرا وہ ذائقہ آج بھی غدودِ دہن میں زندہ ہے۔ 79 کے ہندسے پر امی کی محنت رنگ لائی اور عرصے بعد میں لانگ کورس میں شمولیت پر کاکول چلا گیا۔ پہلی چھٹی پر گھر آیا تو ڈیڈی نے کوتوال کے سامنے ”پیشی“ کروائی۔ ہوا یہ کہ گھر سے رخصت ہونے کے بعد امی نے فضیحتہ کرتے ہوئے ڈیڈی کو مورد الزام ٹھہرایا کہ انہوں نے مجھے روانہ ہونے کی اجازت کیوں دی؟ دراصل امی کے ذہن میں تھانے کے وہ رنگروٹ تھے جو اکثر بھوکے پائے جاتے تھے۔ وہ جنگ عظیم کا دور تھا اور دنیا بشمول ہندستان غذائی قلت کا شکار تھی۔ رنگروٹوں کو گنتی سے روٹی ملتی ہوگی۔ تھانے سے متصل گھر سے نانی گھر بچی کچھی خوراک انہیں بھجوا دیتی تھیں۔ میں نے ہر ممکن یقین دلایا کہ دوران تربیت اکیڈمی میں غذا کا خیال رکھا اور پیٹ بھر کر کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ میرے بیان پر کوتوال نے اعتبار کیا اور یوں پھر ہنسی خوشی بحال ہوئی۔ اس کے بعد تواتر سے گھر آنے پر امی میرے لیے ناشتے میں دو دو انڈوں والی اکادمی کی روایت کو جلا بخشتی رہیں۔
کوتوالی میں سات بچے پلتے رہے، آمدنی محدود تھی اور کسی بھی قسم کی اضافی امداد مفقود۔ ہجرت و نقل مکانی کے اپنے اثرات ہوتے ہیں جو بڑھ کر خدشات اور عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیتے ہیں۔ آبائی مکان چھوڑ کر اگلی گلی میں منتقلی بھی محنت طلب ہوتی ہے چہ جائیکہ دوسرے شہر منتقلی یا دوسرے ملک ہجرت۔ مسائل اور ذمہ داریوں کا احساس گھیرے رکھتا ہے۔ آبائی گھروں میں گزرے وقت کے ساتھ پرکھوں کی قبروں کی یاد دامن گیر رہتی ہے۔ ایسے میں انسان ہمت ہار کر ڈھیر ہوجاتا ہے یا کمر کس کے دشواریوں کے عبور پر آمادہ۔ امی اور ڈیڈی نے دوسری والی راہ چُنی۔ اپنی خواہشات، حاجات اور ضروریات پر اولاد کی بہتر پرورش کو ترجیح اور تعلیم اور تربیت کو فوقیت دیتے رہے۔ نتیجہ جلد سامنے آنا شروع ہو گیا۔ اعداد کے حساب میں بظاہر کمزور کوتوال لین دین میں محتاط اور خرید و فروخت میں محتاط تھیں۔ ایک ماہرِ زر کی طرح انہوں نے گھر کی معیشت چلائی اور اسے مستحکم کرتی چلی گئیں۔ اخراجات کو کبھی آمدنی سے بڑھنے نہ دیا۔ یہ ہرگز آسان نہ تھا۔ حیدرآباد شہر میں اپنے پہلے نیم پختہ مکان کو امی نے گملوں کیاریوں میں پودوں کی آبیاری و پرواخت سے سجایا۔ وہ پھولوں سے بہت محبت کرتی اور انہیں کھِلتے دیکھ کر بے اختیار کھلکھلا اُٹھتیں۔ چھوٹے مکان سے کراچی کے فراخ گھر منتقلی کے بعد بھی وہ حیدرآباد محبت سے یاد کرتی رہیں مگر یہ محبت شیر کی نگاہ والی تھی۔
پشتو سے شدبد نہ ہونے کے باوجود کوتوال ”نجیب الطرفین“ پٹھان تھیں جس کا اظہار ان کی عادات، انداز اور رویوں سے برملا کیا جاسکتا ہے۔ حلقۂ یاراں میں ریشم اور زمانے کے بدلتے انداز و اطوار کے سامنے فولادی مومنہ۔ رختِ سفر کے طور جاں سوزی خود جھیلتے امی نے مجھے بلند نگاہی اور دلنواز سخن سکھلائے۔ اہدافِ زندگی کے تعاقب کی دیوانگی ہو، رشتوں میں فرزانگی یا آدابِ فرزندی، کسی مکتب کی کرامت سے زیادہ امی کا فیضانِ نظر تھی۔ تخلیقی حسن کے ساتھ امی جمالِ سخن کی بھی پروردہ تھیں، پاؤل ولاسوف کی ماں نیوفنا فلسوفہ کی طرح (میکسم گورکی) ۔ اپنے نسب و حسب کے علاوہ رنگ و کسب پر بھی نازاں۔ ارد گرد بسی خواتین کے لئے مشعلِ راہ، سلیقہ شعار، شعائر کی دلدادہ لاکھوں میں یکتا نظر آتی تھیں۔ صناعیت کے ہنر، شعور کے وصف اور ظرفِ آگہی سے بھرپور ’فیصلہ ساز اور ان تھک۔ کوتوال نے بچوں کی پروگرامنگ اس انداز سے کی تھی کہ زندگی کی ریل پر سب آٹو دوڑ پڑے۔ جوان اولاد اگر دوسرے شہر یا گھر میں بستی ہو تو والدین کے لئے ان کے ہاں مستقل رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مرکزی ادارے میں ملازمت اور قریہ بہ قریہ منتقلی کے دوران وہ گاہے میرے ہاں چکر لگا کر عارضی قیام کرتیں اور باوجود اصرار واپسی پر مائل رہا کرتی تھیں۔
میری ترقی مگر تنخواہ میں برائے نام اضافہ سن کر ان کا بے لاگ تبصرہ تھا، بھرم بھاری، پٹارہ خالی۔ یہ ادبی تلازمے کی بہترین مثال تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اپنا عَلم (جھنڈا) میرے ہاں بلند کرنے کے ساتھ اُس گھر میں سرنگوں کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں جس کی آبیاری انہوں نے جانفشانی سے کی۔ تاہم 2011 تا 2017، چند سال سکھر، لاہور اور پشاور میں ازسرنو ان سے طبعی قربت نصیب ہوئی۔ عمر کے ماہ سال سے تگ و دو کرتی کوتوال بہانے تلاش کرتی تھیں کہ اڑ کر اپنے بسائے آشیانے پہنچ جائیں۔ گزشتہ چند سالوں میں سوشل میڈیا پر وسط ایشیا کے خوراک سے وابستہ چینل دیکھتے بے اختیار ان کی شبیہ ابھر آتی۔ ”ستان“ ممالک کی بزرگ خواتین گوشت سبزیاں کاٹتے، پکاتے اور رسوئی سنوارتے امی کا سا انداز رکھتی ہیں۔ کہیں نہ کہیں جنیاتی رشتہ داری ضرور ہے اور کوتوالی تفاخر اور شیر کی سی نگاہ قائم رہنا بے وجہ نہیں۔
انتقال سے چند روز قبل جب ان کو کھانا کھلایا جا رہا تھا تو انہوں نے اسی شیر نگاہی سے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ نرم پھلکوں کو کھیر سے ملاتے نوالے بنا بنا کر اپنے ہاتھ سے میرے منہ میں رکھتی رہیں۔ خبر ہی نہ ہوئی کہ یہ گھوڑے کے آخری نوالے کھلائے جا رہے ہیں۔ امی کے انتقال والے روز ان کے سامنے کھڑا تھا تو بے اختیار ان سے لپٹنے اور پہلو میں دراز ہو کر ٹانگوں سے چپٹنے پر دل مچلا۔ کئی ماہ سے صاحبہ فراش ہونے کی وجہ سے کمرے میں ان کا بستر ہسپتالی پلنگ پر تھا۔ دیگر افراد بھی موجود تھے۔ چارپائی کی گنجائش اور میرے وزن کو نہ سہار سکنے کے بے بنیاد گمان نے مجھے روکے رکھا۔ میری عادت رہی ہے کہ رخصت ہوتے وقت عمردار والدین کو اطلاع نہ دی جائے۔ خاموشی سے نکل جانا حکمت ہے تاکہ والدین پر اولاد کی موجودگی کا تاثر کچھ دیر مزید قائم رہ سکے۔ مگر زیرک و ذکی حس کوتوال نے شاید مجھے بھائی جان سے اجازت لیتے ہوئے سن لیا تھا۔ پھیپڑے نحیف ہوچکے تھے اور سانس دشوار تھی۔ میں نے پیشانی پر بوسہ لیا تو آنکھ کھولی اور حکم دیا کہ وقت سے چلے جاؤ مبادا ”ریل“ نہ نکل جائے۔ ہمارے ہاں ٹرین کے لیے لفظ ریل مستعمل رہا ہے۔ ابتداً مُصر رہا کہ میں ریل سے نہیں جا رہا مگر امی تکراری اصرار کرتی رہیں کہ ریل نہ چُھٹ جائے۔ پھر سرگوشی کی کہ میری ریل کا وقت بھی ہو رہا ہے۔ میں بھی ریل میں جاؤں گی۔ تم اپنی ریل پر وقت سے پہنچ جاؤ۔ تقریباً دو گھنٹے بعد امی پُرسکون اپنے سفر پر روانہ ہو گئیں۔
ان کی اپنی اصل عمر سے ماورا، میرے لئے تو وہ 55 سال چھ ماہ اور تین دن کی تھیں۔ دواؤں کے اثر میں انہوں نے ریل ادھار لی۔ ایک عرصے تک میں ریل سے گھر آتا جاتا رہا لہذا بکنگ اور روانگی کا ذکر ہوتا رہتا تھا۔ میری آنکھوں میں 6 اپریل 1987 کا منظر ابھر آیا جب رات ساڑھے بارہ بجے والی خیبر میل پر کاکول کے لئے روانگی پر امی ڈیڈی سمیت گھر والے مجھے چھوڑنے تانگے پر سوار اسٹیشن تک آئے۔ سواریوں کی تعداد گنجائش سے قدرے زیادہ تھی مگر کوچوان باہمت ہو تو منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ ڈیڈی نے کمال دانشمندی سے آتے وقت طے شدہ 5 روپے کے عیوض کوچوان کو واپسی کے لئے بھی پابند کر دیا۔ مصدقہ روایت کے مطابق واپسی پر امی خاموش، گھر میں ملول اور تادیر مغموم رہیں۔ شاید جلد چھٹی پر واپسی کے لیے منتظر بھی۔ اب وہ مجھے ہمیشہ کے لئے آزردہ منتظر، نڈھال و محزون روانہ ہو رہی تھیں۔
تدفین کے وقت قبرستان میں روایتی آوازیں، مشورے اور غیر ضروری ہدایات ہماری مستقل سماجی عادت بن چکے ہیں۔ 2016 میں ڈیڈی کی تدفین کے وقت میں کامیابی سے ان خرافات کو روکنے کا تجربہ کرچکا تھا۔ مگر امی کی دفعہ کچھ کرم فرما بھی ٹھان کر آئے تھے۔ ان کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے فرزند نامدار کی مدد سے کوتوالی کھٹولا قبر کے متوازی رکھ دیا۔ قبر میں اتارتے وقت بھی مفت مشوروں پر دھیان نہ دیا۔ امی کے جسد خاکی کو قبر میں اتارتے وقت بھائی جان سرہانے جبکہ نامدار پائنتی پر چوکس ہوئے۔ میری جگہ دونوں کے درمیان تھی۔ کمر کو اپنے ہاتھوں سہارا دیتے وقت دل ایک بار پھر مچلا کہ پہلو سے چمٹ سوئے خاک ہو جاؤں۔ رُوئے خاک، کائنات نے ایک خاص تدبیر سے مجھے کوئے خاک کیا تھا، اُس تخلیقی کوکھ کو خود اپنے ہاتھوں سپردِ خاک کرنے ولا تھا۔ بھائی جان جب چہرہ دیکھ چکے تو نامدار نے سفید گھونگھٹ واپس اُڑھا دیا۔ اب وہ مشکل ترین گھڑی تھی جو موت سے بھی زیادہ کرب ناک ہے۔ زمیں کیوں کر ہووے اپنا نشیمن اپنا آشیاں، ماواں ٹھنڈیاں چھاواں۔ میں نے قبر میں لپٹنے چپٹنے کی ہمت نہ پاکر ایکا ایکی قریب موجود منتظر گورکن کو اشارہ کیا کہ ”کوتوال“ کی لحد خاک پوش ہو سکے۔ جنازے کے شرکا نے بساط بھر مشت خاک سے مدد دی۔ پس میں کوتوال کے جسد خاکی کو قبر میں قبلہ رخ لٹا کر، خود سے لپٹائے چپٹائے امی کو ہمیشہ کے واسطے اپنے ساتھ لئے پلٹ آیا۔
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں، منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہلِ زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں، کم یاب ہیں ہم
ہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل دل بے تاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
(شاد عظیم آبادی)



اللہ تعالی تمام پڑھنے والوں کے والدین کی مغفرت فرمائے (جو وفات پاچکے)۔ بالخصوص صاحب تحریر اور میرے۔
سبھی ماؤں کی کہانیاں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔