لوگ فحش لٹریچر پڑھنا اور فحش ویڈیوز دیکھنا کیوں پسند کرتے ہیں؟
فحش ادب ہمیشہ سے ایک پیچیدہ، حساس اور لوگوں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ لوگ فحش ادب اور ویڈیوز پڑھنا یا دیکھنا کیوں پسند کرتے ہیں؟ وہ اس شہوت انگیزی سے کیوں لطف اندوز ہوتے ہیں؟ اگرچہ قدیم زمانے میں یہ پرائیویٹ موضوع تھا لیکن دور جدید میں یہ نصاب کا حصہ کیوں بن گیا ہے؟ کیا یہ کوئی ذہنی بیماری ہے یا ذہنی تسکین یا ذہنی عیاشی کی ایک قسم ہے؟ کیا یہ ایک معاشی صنعت بن چکی ہے؟ کیا یہ جنسی تشدد کی آبیاری کی اہم وجہ ہے؟ کیا شہوانی ادب اور پورن ویڈیوز انسانی دماغ اور صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے؟ مزید یہ کہ پورن دیکھنے والے ٹاپ 10 ممالک کون سے ہیں؟ راقم اس کالم میں ان سب سوالات کی گتھی سلجھانے کی کوشش کرتا ہے
میں کئی مہینوں سے اس موضوع پر لکھنے کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اس موضوع نے میرے ذہن میں اس وقت مزید گردش کی جب میں نے ہم سب ویب سائٹ کے لیے دو اردو کالم لکھے دونوں کالم دو کتابوں کے ریویو تھے جن کا موضوع سیکس سے متعلق تھا۔ ان دونوں کالموں کے ویورز بالترتیب 25000 اور 13000 سے زیادہ تھے۔ جبکہ اسی ویب سائٹ کے لیے میں نے سماجی، سیاسی، معاشی، بک ریویو اور دیگر موضوعات پر 80 کے قریب کالم لکھے ہیں۔ ان کالموں پر ویورز کی تعداد 300 سے 1500 کے لگ بھگ رہی ہے۔
ایک ہی مصنف، ایک ہی طرز تحریر، اور ایک ہی ویب سائٹ پر قارئین کا ہزاروں سے سینکڑوں پر آنا میرے لیے ایک حیران کن تھا۔ میں نے ہم سب پر سیکس سے متعلق لکھے گئے مزید کالم بھی تلاش کیے جن کے پڑھنے والوں کی تعداد اوسطاً 5000 سے تجاوز کرتی تھی جبکہ دوسری طرف ایک معروف اور مشہور صحافی جن کے کالم ہم سب میں شائع ہوتے رہتے ہیں کے ویوورز کی تعداد شاذ و نادر ہی 5000 سے تجاوز کر جاتی ہیں۔
ہم سب ویب سائٹ میں میری کالم کو ویب سائٹ کے منتظمین نے ’میرے مطابق‘ کے کیٹیگری میں رکھا ہے جو کہ نسبتاً ایک غیر معروف کیٹیگری ہے دوسری طرف اسی ویب سائٹ میں بہترین کیٹیگری کو ’کالم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں، میں نے ہم سب انتظامیہ کو ای میل کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ میری رہنمائی کریں تاکہ میں اپنی لکھنے کی مہارت کو بہتر بناؤں اور ’میرے مطابق‘ کی جگہ ’کالم‘ کی کیٹیگری میں جگہ بنا سکوں۔
میرے ای میل کے جواب میں ہم سب انتظامیہ کا جواب تسلی بخش نہیں تھا ان کے بقول میرے آخری 8 کالمز کے ویورز کی تعداد انتہائی کم تھی جو میرے موضوعات میں قارئین کی عدم دلچسپی کو ظاہر کرتی تھی۔ اس جواب نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مجبور کیا جس پر میں مہینوں پہلے لکھنے کا سوچ رہا تھا۔ یاد رہے کہ میرے مذکورہ 8 کالمز کے موضوعات سیکس سے متعلق نہیں تھے۔
ماریا کریکسنبرگر، کرسٹین اے نوپ، اور ونفریڈ میننگہاؤس لکھتے ہیں کہ ہمارے سروے کا جواب دینے والے شہوت انگیز ناولوں کے زیادہ تر قارئین خواتین تھی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی، جو اپنے پڑھنے کے تجربات کو دوسروں کے ساتھ بانٹنا پسند کرتی تھی۔
یہ عورتیں کیوں شہوت انگیز ناول پڑھتی تھی اور اپنے تجربات کو دوسروں کے ساتھ کیوں بانٹنا پسند کرتی تھی۔ اس سلسلے میں مختلف آرا ہیں۔ کوئی اسے ذہنی تسکین کہہ کر پکارتے ہیں جبکہ کوئی اسے ذہنی بیماری۔ اور کوئی اسے معاشی مجبوری سے تعبیر کرتا ہے۔
جہاں تک پورن ویڈیوز دیکھنے والے ٹاپ ٹین ممالک کا تعلق ہے، پاکستان 2022 میں پورن سرچ کرنے والے ممالک کی فہرست میں ٹاپ 10 میں شامل ہے۔ اس فہرست میں پاکستان، مصر، ایران، مراکش، انڈیا، سعودی عرب، ترکی، فلپائن، پولینڈ اور ویتنام شامل ہیں۔ Salon ویب سائٹ کے مطابق ملک میں پورن سرچ کرنے والے اکثر سور، بلی، کتے، گدھے اور سانپ جیسے جانوروں کی فحش ویڈیوز میں بھی سرفہرست ہے۔ 2015 میں، پاکستان کے مشہور انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان فحش ویب سائٹ سرچ کرنے والے ٹاپ 10 ممالک میں چھٹے نمبر پر تھا۔ جبکہ، 2015 میں، پونہ، چنائی، بنگلور، ڈھاکہ، اور ہاوڑہ، ٹاپ 5 فحش ویب سائٹس دیکھنے کرنے والے شہر تھے۔ اگرچہ پاکستان میں، فحش ویب سائٹس پر واضح پابندی ہے، جب کہ دوسری طرف، لوگ متعلقہ جنسی ویب سائٹس سرچ کرنے کے لئے مختلف پراکسی ایپس کا استعمال کرتے ہیں۔
جیمز میک ٹاوش اپنے تحقیقی مقالے انٹرنیٹ پورنوگرافی: کچھ طبی اور روحانی پہلو کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ، پورن ویب جو کہ سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی پورن ویب سائٹ ہے کی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ صرف 2019 میں، 42 ملین افراد نے Pornhub ویب سائٹ کو وزٹ کیا۔
جنسی تعلیم اور نصاب یورپی یونین، کینیڈا اور دنیا بھر کے بے شمار ممالک کے تعلیمی نظام کا حصہ ہیں۔ مذکورہ نصاب جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں، جماع، جنسی اناٹومی، جنسی تولید، جذباتی تعلقات، پیدائش پر قابو پانے کے طریقے، انسانی جنسی رویہ، جنسی تشدد، وغیرہ جیسے موضوعات پر مشتمل ہیں
کیا شہوت انگیزی انسانی جسم کے لیے نقصان دہ ہے؟ محققین اس بات پر متفق ہیں کہ جنسی مواد کے پڑھنے سے انسانی دماغ میں کیمیائی رد عمل پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ان کے رویوں میں غصہ پن آ جاتا ہے۔ کیا یہ شہوت انگیزی انسان کی فیصلہ سازی کی قوت کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے؟ Ariel and Lowenstein کی 2006 کی ایک تحقیق نے اس تعلق کی حوالے یہ نتیجہ آخز کیا کہ شہوت انگیزی جنسی طور پر خطرناک اور جارحانہ رویے میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ Hald GM، Malamuth NM، اور Yuen C اپنے تحقیقی مقالے ’فحش نگاری اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد کی حمایت کرنے والے رویہ، کے عنوان میں لکھتے ہیں کہ فحش نگاری خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے رویے کو جنم دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، محققین نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ بچوں کے جنسی استحصال کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔
بہت سے تحقیقی مقالات سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ فحش ویڈیوز پوری دنیا میں جنسی استحصال کا ایک ذریعہ ہیں۔ راکیل کینیڈی برگن؛ کیتھلین اے، اور بوگل نے جنسی تشدد اور پورنوگرافی کے درمیان تعلق کے بارے میں اپنے ریسرچ آرٹیکل ’ایکسپلورنگ دی کنکشن بیٹوین پورنوگرافی اور جنسی تشدد‘ میں اپنی ایک سروے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 100 عورتوں میں سے اٹھائیس فیصد نے کہا کہ ان کے ساتھ جنسی بدسلوکی کرنے والوں نے پہلے فحش مواد کا استعمال کیا تھا۔ تاہم، سروے کی اکثریت ( 58 فیصد) نے جواب دیا کہ وہ اپنے بدسلوکی کرنے والوں کے فحش مواد کے استعمال کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔
فحش نگاری اور معاشی ترقی کے درمیان کیا تعلق ہے؟ ایلس TAN نے 2021 میں اپنے تحقیقی مضمون میں لکھا ہے کہ ترقی کے لیے جنس اور جنسیت متعلقہ موضوعات کیوں اہم ہیں؟ تجرباتی شواہد بتاتے ہیں کہ جنس، جنسیت اور معاشی ترقی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ Thebusinessresearchcompany۔ com کا اندازہ ہے کہ، حالیہ برسوں میں پورن انڈسٹری کے سائز میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق 2023 کی پورن انڈسٹری 60.62 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 65.95 بلین ڈالر تک 8.8 فیصد کی سالانہ شرح نمو پر پہنچ جائے گی۔
لوگ سائنسی اور دیگر معلوماتی ویب سائٹس کے مقابلے میں شہوت انگیز لٹریچر پڑھنے اور فحش ویب سائٹس دیکھنے کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ Statitica ویب سائٹ کے 2019 کی رپورٹ کے مطابق
دو ریسرچوں میں جن میں سے ایک بوسٹن یونیورسٹی کے کمپیوٹیشنل نیورو سائنسدانوں اوگاس اور گڈم کی طرف سے اور دوسری گوگل اور کولمبیا یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں کی گئی تھی میں لکھا گیا ہے کہ تمام ویب سائٹس میں پورن ویب سائٹس کا حصہ صرف 4 فیصد ہے، لیکن ویب سائٹ اور موبائل سرچ بالترتیب 13 اور 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف Semrish۔ com کی تحقیق جو کہ نومبر 2024 کو اپ ڈیٹ کی گئی کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی ٹاپ 10 سائنس ویب سائٹس کے ویورز کی مجموعی تعداد تقریباً 57 ملین تھی۔
لوگ شہوت انگیز لٹریچر اور فحش ویڈیوز کیوں پڑھنا اور دیکھنا پسند کرتے ہیں؟ فیصلہ اگرچہ قارئین کی پسند پر چھوڑتا ہوں لیکن میرے نزدیک زیادہ تر لوگ ذہنی تسکین کے لیے ایسا کرتے ہیں اور جب لوگ اس کے عادی ہو جاتے ہیں تو یہ ذہنی بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہیں دوسری طرف، سائنسی اور تعلیمی ویب سائٹس کو دیکھنے کا تناسب فحش ویب سائٹس کے مقابلے میں مایوس کن ہے۔ یہ اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی اکثریت آج بھی سائنس، ٹیکنالوجی، سماجی اور سیاسی شعور سے ناواقف ہے۔ اور ان اہم موضوعات کی بجائے سیکس سے متعلق موضوعات کو پڑھتے اور دیکھتے ہیں۔


