مصنوعی ذہانت ابھی پنگھوڑے میں ہے – مکمل کالم
”مصنوعی ذہانت بمشکل ابھی دس سال کی ہوئی ہے، اور یہ اگلے کئی سو سال بلکہ ہزاروں، لاکھوں سال تک ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہوتی چلی جائے گی، گویا جانداروں کے ارتقاء کی طرح اب ہمیں اِس غیر جاندار مصنوعی ذہانت کے ارتقائی عمل کا سامنا ہے اور یہ فقط آغاز ہے۔ اسے یوں سمجھیے کہ جانداروں کو امیبا (حیات کی سادہ ترین شکل) سے ڈائنوسار اور انسان بننے تک اربوں سال لگے لیکن اِس کے مقابلے میں ڈیجیٹل ارتقاء لاکھوں گنا تیز ہے۔ سو آج کل کے چیٹ جی پی ٹی اور جی پی ٹی 4 اور اِس نوع کے تمام سوشل میڈیا الگورتھم دراصل ابھی اپنی ابتدائی شکل میں ہیں جنہیں آپ امیبا کہہ سکتے ہیں۔ ذرا اُس وقت کا تصّور کریں جب یہ مصنوعی ذہانت ارتقائی سفر طے کر کے ڈیجیٹل ڈائنوسار میں تبدیل ہو جائے گی، اور اِس بات کا قوی امکان ہے کہ آج کی مصنوعی ذہانت کو ڈیجیٹل ڈائنوسار بننے میں دو ارب سال نہیں بلکہ بیس سال ہی لگیں کیونکہ ڈیجیٹل ارتقاء کی رفتار جانداروں کے ارتقائی عمل سے بالکل مختلف اور بے حد تیز ہوتی ہے۔“ یوال نوحا حراری۔
یہ گفتگو چونکہ ایک بے حد سیانے آدمی کی ہے اِس لیے اِس سے اختلاف مشکل ہے، یوال نوحا حراری کا شمار موجودہ صدی کے چند بڑے دانشوروں میں ہوتا ہے جن کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔ تاہم اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اُن کی ہر پیش گوئی ٹھیک ثابت ہو، کووڈ کے دنوں میں اُن سے پوچھا گیا تھا کہ وبا کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی تو جواب میں انہوں نے جن تبدیلیوں کا ذکر کیا تھا وہ رونما نہیں ہوئیں، دنیا تقریباٴ ویسی ہی ہے جیسی کووڈ سے پہلے تھی، بے انصافی پر کھڑی ہوئی! مصنوعی ذہانت کے بارے میں بھی مسٹر حراری مسلسل پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اگر اِس ٹیکنالوجی کو لگام نہ ڈالی گئی تو یہ بے حد خطرناک ثابت ہوگی اور عین ممکن ہے کہ اِس کے غلط استعمال سے انسانوں کی آزادی سلب ہو جائے۔ دیکھا جائے تو مسٹر حراری کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں، اگر اِن کا تصّور کرنا ہو تو نیٹ فلکس پر بلیک مِرَر دیکھ لیں، اِس سیریز میں مستقبل کی خوفناک تصویر کشی کی گئی ہے، ایسا مستقبل جس میں ٹیکنالوجی انسانوں پر راج کرے گی اور انسان اُس کے سامنے بے بس ہوں گے۔
مثلاٴ اگر اِنسانوں کے دماغ میں ایسی چِپ لگا دی جائے جس کی مدد سے اُس کی تمام سرگرمیوں کا ریکارڈ رکھا جا سکے تو کیا ہو گا؟ اگر کسی انسان کے مرنے کے بعد اُسے روبوٹ کی شکل میں یوں ’زندہ‘ کر دیا جائے کہ وہ جیتا جاگتا انسان ہی لگے تو ایسی صورت میں کس نوعیت کی مشکلات درپیش ہوں گی؟ اگر کسی کو سنگین جُرم میں سو سال قید کی سزا سنا دی جائے اور ہر روز اسے یوں اذیت دی جائے کہ رات کو اُس کی یادداشت صاف کر دی جائے تاکہ اگلے دن جب وہ صبح اٹھے تو اُسے دوبارہ ویسی ہی اذیت دی جا سکے تو کیا ’قانونی‘ ہو گا؟ اگر کسی کی بیوی لا علاج مرض کا شکار ہو کر کُومے میں چلی جائے اور سائنس دان شوہر کو پیشکش کریں کہ ہم آپ کے دماغ میں بیوی کا شعور ’امپلانٹ‘ کر کے رکھ دیتے ہیں تاکہ آپ اُس سے بات چیت کر سکیں اور آپ دونوں کا تعلق قائم رہ سکے تو ایسی شدید محبت کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ یہ تمام کہانیاں بظاہر سائنس فکشن ہیں مگر جس رفتار سے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، مستقبل بے حد قریب میں یہ کہانیاں حقیقت بن جائیں گی اور تب ہمیں مسٹر حراری کی پیش گوئیاں یاد آئیں گی۔
آپ میں سے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر سائنس نے اتنی ترقی کی بھی تو اُس میں کئی سو سال لگیں گے، اُن کی خدمت میں آج کی خبر پیش ہے۔ خبر کے مطابق امریکہ سے لے کر اٹلی، برطانیہ اور پاکستان تک، خواتین سیاست دان تیزی سے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ڈیپ فیک پورنوگرافی کا شکار ہو رہی ہیں جو کہ بہت خطرناک رجحان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی فوٹو ایپس کی مدد سے، جو سَستے داموں مارکیٹ سے باآسانی مل جاتی ہیں، ڈیجیٹل طور پر خواتین کو برہنہ دکھایا جا سکتا ہے اور یہ سب کچھ عوام میں خواتین کی ساکھ کو داغدار کرنے، اِن کے کیریئر کو خطرے میں ڈالنے اور انہیں بلیک میل یا ہراساں کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں قائم ایک تحقیقی ادارے نے اِس قسم کے ڈیپ فیک مواد کی پڑتال کر کے بتایا ہے کہ اِس میں کانگریس کے 26 اراکین، جن میں سے 25 خواتین ہیں، کو فحش سائٹس پر دکھایا گیا ہے۔
یہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں تصویر کا ایک رُخ ہے، دوسرا رُخ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت میں اپنے طور پر پنپنے کی صلاحیت نہیں ہے، اسے جو کچھ سکھایا جاتا ہے یا فیڈ کیا جاتا ہے یہ اسی کے مطابق کام کرتی ہے، انسانوں کی طرح یہ سوچ بچار نہیں کر سکتی، بظاہر جب یہ ’سوچ‘ رہی ہوتی ہے اُس وقت دراصل یہ اپنا ڈیٹا کھنگال رہی ہوتی ہے تاکہ اُس ڈیٹا میں سے، جو انسانوں کا ہی مرتب کردہ ہے، آپ کو تسلی بخش جواب دے سکے۔ گویا مصنوعی ذہانت روز مرہ کے دفتری امور نمٹانے میں تو مدد کر سکتی ہے یا وہ کام بھی سر انجام دے سکتی ہے جس کے لیے ملازمین کی فوج ظفر موج رکھنی پڑتی ہے مگر یہ اُس پائے کا اعلیٰ تخلیقی کام نہیں کر سکتی جس پر صرف انسانوں کی اجارہ داری ہے۔ مثلاٴ میں نے ابھی چیٹ جی پی ٹی کو کہا کہ غالب کے انداز میں کوئی شعر کہہ کر دکھاؤ تو جواب آیا: ”کہاں سے لاؤں وہ دل کی تڑپ، وہ شوقِ نظر، جو ہر سخن میں ہو تازہ وہی اثر پیدا کرے۔“ بے شک یہ ایک بیکار شعر ہے مگر جیسا کہ مسٹر حراری نے کہا کہ یہ تو محض ابتدا ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ آپ چیٹ جی پی ٹی کو سکھا دیں کہ نہیں بی بی یہ غالب کا رنگ نہیں اور شعر بھی تم نے فضول سا ہی بنایا ہے تو وہ دوبارہ کوشش کرے گی، آپ اُس کی تصحیح کرتے جائیں وہ شکریہ ادا کر کے ہر مرتبہ ایک نیا شعر تخلیق کر کے آپ کے سامنے رکھ دے گی اور اُس وقت تک یہ کام کرتی رہے گی جب تک آپ تھک نہیں جائیں گے یا مطمئن نہیں ہو جائیں گے۔
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج میں کس کے ساتھ ہوں، یوال نوحا حراری کی پیش گوئی سے متفق ہوں یا اُس نقطہ نظر کا حامی ہوں کہ مصنوعی ذہانت انسانی مدد کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ تو گزارش ہے کہ آج اِس فقیر کی رائے بی بی سی کے اُس مبصر جیسی ہے جو غیر جانبداری برقرار رکھنے کے چکر میں neither this nor that قسم کی رپورٹنگ کرتا ہے، یعنی اگر موسلادھار بارش بھی ہو رہی ہو گی تو یہ بات محکمہ موسمیات کے ترجمان کے منہ سے کہلوائے گا، کھڑکی سے باہر دیکھ کر نہیں بتائے گا کہ بارش ہو رہی ہے۔
مجھے یوں لگتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بارے میں کسی بھی قسم کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، 1969 ء میں جب انسان نے چاند کو مُسَخّر کیا تھا تو اُس وقت کے اخبارات میں یہ پیش گوئیاں شائع ہوئی تھیں کہ اب فقط چند سال کی بات ہے کہ انسان اپنے نظام شمسی کی سیر کو نکلا کرے گا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اِس کے برعکس جس ایجاد نے دنیا کا نقشہ اور انسان کا رہن سہن تبدیل کر کے رکھ دیا اُس کے بارے میں کسی اخبار نے کبھی پیش گوئی نہیں کی اور وہ ایجاد تھی انٹرنیٹ۔ سو، یہ بتانا مشکل ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں کیا گُل کھلائے گی مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ خود انسان ہو گا جو اپنی تباہی اور ہلاکت کا باعث بنے گا۔ خسارا ہر صورت انسان کا ہی ہے۔


