صلیبیں اپنی اپنی (31)


” اپنے دل پر اور اپنے بازو پر مجھے نشان کی طرح رکھ، کیونکہ محبت موت سے بھی زیادہ پائے دار ہے۔ اس کی آگ ایسی شدید ہے کہ قبر بھی اسے نہیں روک سکتی۔ پانی کی بے شمار ندیوں سے بھی محبت بجھ نہیں سکتی، اور نہ ہی دریاؤں کا بہاؤ اسے ڈوبو سکے۔ اگر کوئی آدمی اپنی ساری دولت محبت کے بدلے دے دے تو یہ بے قدری سمجھی جائے گی۔“ سلیمان کا گیت 8 : 6۔ 7

ہوٹل اورینٹ کے چاندنی لاؤنج کے سحر انگیز ماحول میں سرمئی دیواریں تاریکی میں سیاہ لگتی تھیں۔ اُن پر جا بجا کمزور بلب مدہم روشنی کے دھبے ڈال رہے تھے، اور چھت پر ننھے ننھے بلب ستاروں کی طرح جَڑے تھے۔ لگتا تھا جیسے تاروں بھرے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوں۔ نوجوان جوڑوں کو دیکھ کر اندازہ کرنا مشکل تھا کہ وہ نوبیاہتا ہیں، منگیتر ہیں یا بس والدین سے چُھپ کر مل رہے ہیں۔ ہر میز پر روشنی کے لیے ایک مومی شمع تھی جس سے وہ صرف ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ دوسری میزوں پر بیٹھے ہوئے لوگ صرف دھندلے سائے لگتے تھے۔ ہال میں پھیلی ہوئی موسیقی اس قدر مدہم تھی کہ آواز صرف اُن تک پہنچتی تھی جو سننا چاہتے تھے :

تم ہی ہو محبوب میرے
میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں
تم ہی تو میری دنیا ہو
میں کیوں نہ اقرار کروں

اس رومانی فضا میں جب ہاتھ تھامے جاتے تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں، سانسیں گہری ہو جاتیں، گلوں میں گولے سے اٹک جاتے، اور باتیں سرگوشیوں میں ہونے لگتیں۔

اُس رات چاندنی لاؤنج میں بیٹھے ہوئے جوڑوں میں یوحنّا عارف اور مریم بھی تھے۔ عارف نے مریم کو کھانے پر مدعو کیا تھا۔ انکل شاہد اور آنٹی کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ عارف اپنے بچوں کی طرح ہی تھا۔ جب وہ پیدا ہوا تھا تو انہوں نے اسے گودوں میں کِھلایا تھا۔ عارف کے والد کا نام پیٹر عادل تھا اور وہ انکل شاہد کے بچپن کے دوست تھے۔ دونوں کا تعلق گوجرانوالہ کے قریب ایک غریب بستی سے تھا۔ دونوں نے جوں توں کر کے انٹر پاس کیا اور روزگار کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ دونوں کو زندگی نے بڑی ٹھوکریں کھلائیں۔ آخر کار انکل شاہد کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت مل گئی اور عادل قسمت آزمائی کے لیے مشرقی پاکستان چلے گئے جہاں انہیں پرانے بحری جہاز توڑنے کی ایک کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ ان تھک محنت کے بعد آخر کار وہ کمپنی عادل کی ملکیت میں آ گئی۔ عارف ان کے ساتھ ہی کام کرتا تھا اور ان کا دست راست تھا۔

کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب مریم نے چائے بنا کر عارف کو دی تو اس کی انگوٹھی میں جڑے ہوئے ہیرے شمع کی مدہم روشنی میں جگمگا اٹھے۔

”مریم، کیا میں سمجھ لوں کہ تم کسی کو زبان دے چکی ہو،“ عارف نے اس کی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ پہلے تو مریم کی سمجھ میں نہیں آیا کہ عارف کے سوال کا کیا مطلب ہے مگر جب اس نے اپنے ہاتھ پر نظر ڈالی جس کی طرف عارف اشارہ کر رہا تھا تو اس نے جلدی سے اپنا ہاتھ کھینچ کر اسے دوسرے ہاتھ سے چھپا لیا۔

”نہیں، نہیں۔ میں نے کسی کو زبان نہیں دی،“ مریم نے ہنستے ہوئے صفائی پیش کی۔
”میں یہی سمجھا کہ یہ منگنی کی انگوٹھی ہے،“ عارف نے کہا۔
”تھی تو منگنی کی انگوٹھی، مگر اب یہ صرف ایک دوست کا تحفہ ہے۔“

”مجھے یہ پوچھنے کا حق تو نہیں ہے کہ یہ کس دوست کا تحفہ ہے مگر سوچا کہ پوچھ ہی لوں،“ عارف نے مسکرا کر کہا۔

”تم سے چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ انگوٹھی مجھے دانی ایل نے دی تھی مگر میں نے اس کی پیش کش قبول نہیں کی۔“

”مگر تم اس کی انگوٹھی اب بھی پہن رہی ہو؟“

”میں نے اسے لوٹانے کی بہت کوشش کی مگر اس نے کہا کہ میں ایک دوست کا تحفہ سمجھ کر یہ انگوٹھی رکھ لوں۔“

”ایک بات پوچھوں؟“
”پوچھو۔“
”خیر چھوڑو،“ عارف نے کچھ سوچ کر کہا۔
”نہیں نہیں، پوچھو۔“
”پتہ نہیں پوچھنا بھی چاہیے یا نہیں؟“
”اگر پوچھو گے نہیں تو میں کیا کہہ سکتی ہوں۔“
”اچھا چلو پوچھ لیتا ہوں۔ لیکن اگر چاہو تو جواب مت دینا۔“
”منظور۔“
”اِس دانیال سے تمہاری کتنی دوستی ہے؟“
”دانیال نہیں، دانی ایل۔“
”ہاں، دانی ایل۔“
”دانی ایل مجھے بے حد عزیز ہے۔“
”تو کیا مجھے بھی دانی ایل سے دوستی کرنی پڑے گی؟“
”ضروری نہیں کہ تم میرے دوستوں کو پسند کرو یا میں تمہارے دوستوں کو پسند کروں۔“
”پھر بھی، میں دانی ایل سے دوستی کرنے کی کوشش کروں گا کیوں کہ وہ تمہیں اتنا عزیز ہے۔“
”شکریہ۔“
”اگر اجازت دو تو میں اپنے مطلب پر آؤں۔“
”اچھا! تو کوئی مطلب بھی ہے؟“ مریم نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
”یہ تو تم مانتی ہو کہ ہم بچپن سے اکٹھے رہے ہیں۔“
”ہاں، کون انکار کرے گا؟“
”اور تم یہ بھی مانتی ہو کہ کبھی ہماری لڑائی نہیں ہوئی۔“
”مجھے تو یاد نہیں کہ کبھی ہوئی ہو۔“
”تو کیا یہ ممکن ہے کہ ہم باقی زندگی بھی ساتھ گزاریں؟“

پہلے تو مریم کی سمجھ میں نہیں آیا کہ عارف کا کیا مطلب تھا، پھر چونک کر بولی، ”عارف، کیا تم مجھے شادی کی پیش کش کر رہے ہو؟“

”تم ٹھیک سمجھیں۔“

مریم سوچ میں پڑ گئی۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور وہ خاموشی سے اپنے سامنے طشتری میں رکھے ہوئے چائے کے خالی کپ کو گھمائے جا رہی تھی۔ پھر سر اٹھا کر بولی، ”مجھے منظور ہے، عارف۔“

عارف نے مریم کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کہا، ”مریم، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہیں گے۔“

گھر پہنچ کر دونوں نے انکل شاہد اور آنٹی کو اپنا فیصلہ سنایا تو ان کی خوشی کا ٹھکانا نہ تھا۔ انہوں نے مریم اور عارف کو گلے لگایا اور دعائیں دیں۔ اگلے روز عارف مریم کو منگنی کی انگوٹھی دلانے کے لیے باغبان جوئیلرز لے گیا۔ اس کے مالک ارشد چانڈیو نے فوراً مریم کو پہچان لیا کیوں کہ وہ دانی ایل کے ساتھ اس انگوٹھی کی فٹنگ کے لیے آئی تھی جو اس نے دانی ایل کو بیچی تھی۔ ارشد نے وہ تین ہیروں کی انگوٹھی پہچان لی جو مریم نے اب بھی پہنی ہوئی تھی مگر وہ سیدھے ہاتھ کی انگلی میں تھی۔ وہ سخت الجھن میں مبتلا ہو گیا مگر پھر سر جھٹک کر سوچا کہ اس کا کام زیور بیچنا ہے نہ کہ اس چکر میں پڑنا کہ گاہک اس زیور کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

***

مریم نے عارف کی شادی کی پیش کش کو قبول تو کر لیا، مگر سخت الجھن میں تھی۔ وہ رات بھر کروٹیں بدلتی رہی اور سوالات کی قطار اس کے سامنے سے گزرتی رہی۔

”میں نے بلا سوچے سمجھے ہاں کیوں کردی؟“
”دانی ایل کو انکار کرنے کی وجہ میری پڑھائی تھی تو اِس بار میں نے پڑھائی کے متعلق کیوں نہیں سوچا؟“
”میں دانی ایل کو کیسے بتاؤں گی کہ اب میں کسی اور کی ہو چکی ہوں؟“

پھر اس کے دماغ میں عجیب عجیب خیالات آنے لگے۔ اس کی ماں نے اسے بتایا تھا کہ منشّیات کی لت لگنے سے پہلے اس کا باپ بڑی پُر کشش شخصیت کا مالک تھا۔ جب وہ لوگوں کے ساتھ ہوتا تو ہر ایک کا مرکزِ نگاہ ہوتا تھا۔ اسے عارف کی شخصیت میں بھی وہی خصوصیات نظر آ رہی تھیں جو اس کی ماں کے مطابق اس کے باپ میں تھیں۔

اس نے سوچا کہ کیا وہ عارف کے روپ میں اپنے باپ کو اپنی زندگی میں واپس لا رہی تھی؟
کیا وہ اپنی ماں بن کر کام یاب ازدواجی زندگی گزارنے کے خواب دیکھ رہی تھی؟
کیا وہ تاریخ کے پہیے کو الٹا گھما کر نئے سرے سے زندگی کی ابتدا کرنا چاہ رہی تھی؟

اسے محسوس ہوا جیسے اس کا دماغ پھٹ رہا ہو۔ وہ ایک جھٹکے کے ساتھ بستر سے اٹھی اور پاؤں لٹکا کر چارپائی پر بیٹھ گئی۔ اس کے سر میں سخت درد ہو رہا تھا۔ وہ دیر تک دونوں ہتھیلیوں سے کنپٹیاں دبائے بیٹھی رہی۔ اچانک اسے دانی ایل کا ایک قول یاد آ گیا جو وہ اکثر دہراتا تھا، ”جب تم کسی سے کوئی عہد کرو تو تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں، سوائے اِس کے کہ تم اسے پورا کرو، خواہ وہ عہد پورا کرنے میں تمہاری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔“

اچانک اس نے محسوس کیا کہ اس کے سر کا درد بند ہو گیا۔ اس نے دوبارہ بستر پر لیٹتے ہوئے اپنے آپ سے کہا، ”ٹھیک ہے دانی ایل، میں نے عارف سے عہد کر لیا ہے تو میں پورا کروں گی، خواہ میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔“

Facebook Comments HS