عبدالرحیم مجذوب: شاعر خوش نوا ( 1 )
پشتو رومانوی شاعری کے اپنے ہی سبک کے سرخیل، یونانی، ہندی اور انگریزی اساطیری داستانوں کے مترجم اور شاعر بے بدل عبدالرحیم مجذوب ( 14۔ جنوری 1935۔ 23 اکتوبر 2021 ) ، لکی مروت، نار صاحبداد میداد خیل میں عبدالکریم خان کے ہاں متولد ہوئے۔ برصغیر کے باقی علمی گھرانوں کے تتبع میں ابتدا ہی سے، بٹوارے سے قبل ایک ہندو اتالیق گھر پر آ کر انہیں پڑھاتے رہے جس سے انہیں ہندو اساطیری داستانوں سے شناسائی ہوئی۔ ایک مقامی عالمِ دین مولانا عالم شاہ لنگر خیل کی مذہبی علوم اور فارسی زبان کی تدریس سے انہیں فارسی نظم، گلستان، بوستان، نظامی گنجوی کے سکندر نامہ، اور عبدالرحمان جامی کے ’یوسف و زلیخا‘ میں درک و دسترس حاصل ہوا۔ نتیجتاً ان کی شاعری میں نیم متصوفانہ خیالات اور منفرد جمالیاتی محاسن کے عکس و نقش وافر مقدار میں ملتے ہیں۔ گھر پر اپنی پھوپھی کا قرآن کریم اور باقی مذہبی کتابیں خوش الحانی سے پڑھنا بھی مجذوب کو شاعری کی طرف مائل کرنے میں ایک محرک رہا۔ سیاسی فکر کی پختگی اور بالیدگی میں سکول کے ایک استاد خان بادشاہ، جو کہ خاکسار اور ترقی پسند تحریک سے وابستگی رکھتے تھے، مجذوب کے ادبی فکر کو جلا بخشتے رہے۔ عمر دراز وزیر کے ساتھ ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ ’ان کی شاعری میں انقلابی افکار شاید اس استاد کے تتبع میں نظر آتے ہیں‘ ۔
1950 میں دسویں تک کی ابتدائی رسمی علوم کی تحصیل اپنے گاؤں، پھر اپنے علاقہ سرائے نورنگ اور بعد میں ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے تعلیمی اداروں سے اکتساب کرتے رہے۔ منفرد غزل گو شاعر پروفیسر رحمت اللہ درد اور محقق سید محمد تقویم الحق کاکا خیل کے انہیں پشتو شاعری کی طرف راغب کرنے کے بعد ان کی تخلیقات کا یہ سلسلہ پھر رکا نہیں۔ انیس سو پچاس میں شاعری کی ابتدا کرنے والے مجذوب 1953 میں اسلامیہ کالج، پشاور میں داخلہ لینے کے بعد 1956 میں یہاں سے بی اے اور 1958 میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر گئے۔ بی اے کے مضامین سے متعلق کہتے ہیں ’سیاسیات، فارسی اور تاریخ کے مضامین کا انتخاب کیا‘ ۔ اردو شاعری میں مرزا اسد اللہ خان غالب اور ڈاکٹر محمد اقبال کا ابتدا ہی سے مطالعہ رکھنے والے مجذوب اپنے دانشور صاحبزادے ڈاکٹر فضل الرحیم مروت کو دیے گئے ایک مصاحبہ میں فرماتے ہیں کہ ’غالب ہر لمحہ ایک نیا ظہور رکھنے کی بدولت نئی شکل میں جلوہ گر ہوتے ہیں کہ ان کے ہاں تخیلاتی رفعت ہے‘ ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مجذوب انگریزی اور فارسی ادب کے رسیا ہونے کے ساتھ ساتھ اردو شعر و ادب کا بھی قابلِ رشک مطالعہ رکھتے تھے۔
پشاور میں دورانِ تعلیم اپنے معاصرین صاحبزادہ محمد ادریس، قلندر مومند، پروفیسر ڈاکٹر محمد اعظم اعظم، مہدی شاہ باچا، دوست محمد خان کامل، امیر حمزہ خان شنواری، حافظ ادریس، یوسف اورکزئی، اجمل خٹک، ڈاکٹر اسرار، سید اختر اور دیگر سے علمی اور ادبی صحبتیں رہیں۔ مقامی ادبی تنظیم ’اولسی ادبی جرگہ‘ کی علمی نشستوں نے انہیں نئے ادبی رجحانات اور معیارات سے شناسائی دلائی۔ ڈاکٹر فضل الرحیم مروت کے بقول کچھ عرصہ مستند محقق دوست محمد خان کامل کی نگرانی میں قانونی معاملات میں عملی تربیت بھی لیتے رہے اور شاید اسی بات کو ذہن میں رکھ کر مجذوب صاحب ایک انٹرویو میں کہتے ہیں ’دوست محمد خان کامل مجھے شاگرد پکارا کرتے تھے‘ ۔ اپنے ایک معاصر شاعر، مجسمہ تراش، مصور اور فلسفی غنی خان کی شاعری سے متعلق کہتے ہیں کہ ”غنی خان رومانی شاعر ہیں، دل کی بات زباں پر رکھنے والے تھے ’۔
1957 میں پشاور یونیورسٹی کے ہوسٹل میں ان کے کمرہ میں ’زلمی لیکوال ادبی ٹولنہ‘ (جوان لکھاریوں کی ادبی تنظیم) کے نام سے ایک تنظیم بنائی گئی اور اسی تسلسل میں دورانِ وکالت، بنوں میں اپنی نگرانی میں ’اولسی ادبی ٹولنہ‘ (عوامی ادبی تنظیم ) کو متحرک کیے رکھا لیکن 1963 میں مستقلاً لکی مروت منتقل ہونے کے بعد ایک اور ادبی تنظیم ’ادبی تنقیدی ٹولنہ‘ (ادبی تنقیدی تنظیم) کی بنیاد رکھی۔ اسی حوالے سے اسی تنظیم کو پشاور کے ابتدائی ادبی تنظیم ’اولسی ادبی جرگہ‘ سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں ’کہ شاید یہ اولسی ادبی جرگہ ہی کا تسلسل ہو‘ ۔
آپ کی تصنیفات میں زیڑ گلونہ (زرد پھول ) ، لال او کوتی لال، د مینے تندہ (محبت کی پیاس۔ انگریزی سے منظوم پشتو ترجمہ۔ 1958۔ 59 اشاعت 1979، دارالاوہام 1980، مجذوب کی نئی شاعری 1999، دو آتشہ ’کے نام سے جان کیٹس کی لیمیا اور کیتھ ایف بی کے شہ پارہ کا منظوم پشتو ترجمہ 2005، کلیات مجذوب 2013، د نورمظھرونہ (نور کے مظاہر۔ 2016 منظوم تراجم اور منثور آثار قابل ذکر ہیں۔
مزید بر آں افسانہ نگاری اور صحافت میں امیر نواز مروت کی تحقیق کے مطابق ادبی جرائد ’قند‘ ننگیالے ’میں متعدد پشتو افسانے اور روزنامہ شہباز اور رہبر کے لئے مضامین، فیچرز، کالم اور رسائل‘ پختو، قند، نورنگ، ننگیالے اور جرس کے لئے تحقیقی مقالے بھی تحریر کرتے رہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد ہمایون ہما کے خیال میں ’مجذوب‘ قند ’کے مستقل لکھنے والوں میں سے تھے اور ان کی تحاریر میں علمیت، ندرت او ر جدت کی جھلک دکھائی دیتی تھی‘ ۔
ان کی شاعری سے متعلق ڈاکٹر محب وزیر نے ’مجذوب کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ‘ کے نام سے لکھی گئی اپنی اہم کتاب میں موصوف کی شاعری پر علمی و فنی بحث کی ہے مگر ان کی شاعری کی کئی پوشیدہ جہتیں آشکارا کرنے کے لئے محققین کو مغربی اور مشرقی علوم اور ادبی رجحانات سے لیس ہونا چاہیے۔ نادر خان علیل کے ایک مقالے کو بھی اسی ضمن میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی سے ابوالفتح پختون نے مجلہ ’پلوشہ‘ مجذوب نمبر ’مختلف مقالات کی شکل میں مجذوب کے فکر و فن کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ کہنہ مشق ادیب اور مترجم احمد جان مروت نے پروفیسر رحمت اللہ درد اور عبدالرحیم مجذوب کی شاعری سے متعلق‘ درد او مجذوب (درد اور مجذوب ) کے نام سے کتاب میں دونوں معاصرین کی شاعری کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔ مجذوب کے فکر و فن کی مزید تشریح کی خاطر نادم خٹک، گل محمد بیتاب اور پروفیسر قاسم محمود کی وقتاً فوقتاً ان سے ادبی نشستیں رہی ہیں۔ ناول نگار اور مترجم مرحوم ڈاکٹر شیر زمان طائزی ’سیلیبرٹیز آف این ڈبلیو ایف پی‘ میں مجذوب کے حوالے سے بزبان انگریزی چودہ صفحات پر مشتمل ایک طویل علمی مقالہ میں ان کے سوانح زندگی کے علاوہ طائزے صاحب مجذوب کی سیاسی وابستگی، مذہبی میلانات، ادبی کامیابیوں، ترجمہ نگاری، اور شاعری زیر بحث لائے ہیں۔ عرق ریزی اور تمام موضوعات پر علمی بحث کرنے والی یہ تحریر شاید مجذوب صاحب کے فکر و فن پر تاحال سب سے مستند تحریر ہے۔ اس کے علاوہ امیر نواز مروت نے ڈپارٹمنٹ آف پاکستان سٹڈیز، پوسٹ گریجویٹ کالج مانسہرہ، سے 1994۔ 1996 میں عبدالرحیم مجذوب کے فکر و فن پر ایم اے کے تھیسس لکھے تھے۔ جو ایک بنیادی ماخذ ہے اور مجذوب کی زندگی کے حوالے سے اساسی معلومات پر مشتمل ہے۔ محقق اور فارسی زبان و ادب کے استاد اسلم میر نے مجذوب کے کئی پشتو نظموں کے معیاری انگریزی تراجم کیے ہیں جس میں شاعر کی گہرائی اور گیرائی فکر بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ مجذوب صاحب اپنی نظم ’زما زَڑہ انیا وہ‘ (میری بوڑھی دادی ) کو ’اپنی پسندیدہ نظم‘ قرار دیتے ہیں اور ’اپنی شاعری کی سلاست کو اپنی دادی اماں کی فصاحت اور فن قصہ گوئی سے جوڑتے ہیں‘ ۔


