اسرائیل حماس گٹھ جوڑ؟


فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں جب دنیا کی جمہوری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سر جوڑ کر فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لئے یکَسو تھیں تو عین اس وقت یعنی 1987 میں فلسطین میں شیخ یاسین کی سربراہی میں شدت پسند تنظیم ”حماس“ کو بنوایا گیا اور طویل عرصے سے فلسطین کی آزادی کے لئے جمہوری تقاضوں کے مطابق جدوجہد کرنے والی ”الفتح“ کے مقابل ”حماس“ کے ذریعے تشدد کی سیاست کو روشناس کروایا گیا، حماس دو مختلف سمتوں (جنگ اور تعمیر) کے تحت آج بھی فلسطین کی حکومت کے زیر اثر خود کی آزادانہ حکمت عملی اپناتی ہے، کم و بیش 13 ماہ قبل جب فلسطین میں شدت پسند تنظیم ”حماس“ نے کسی حد تک جنگ سے پاک فلسطین کی سرزمین سے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس وقت بھی فلسطین کی موجودہ حکومت کو حماس نے اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ حماس کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان اور جشن منانے پر ہمارے ترقی پسند اور سیاسی دانش رکھنے والے دوست فاروق احمد کا برجستہ تبصرہ دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے

”جنگ شروع کی تھی تو سمجھتے کیا تھے کہ جیت جائیں گے؟ حالانکہ نتیجہ سامنے کی بات تھی۔ پھر ہوا کیا؟ اپنی ساری لیڈرشپ ملیامیٹ ہو گئی۔ اپنے فنڈز اور آرمامنثس پوزیشن کمزور ہو گئی۔ اپنی تمام مددگار حکومتیں ختم ہو گئیں یا کمزور پڑ گئیں اور اندرون خانہ اسرائیل سے جا ملیں۔ سوال یہ کہ جب نتیجہ یقینی ہی ٹھہرا تو پھر یہ سارا کھٹراگ کیوں اور کس لئے کیا گیا تھا“ ۔

اس سوال کو دیکھنے کے لئے ہمیں 13 ماہ پہلے حماس کی جانب سے اسرائیل پر اچانک حملے کا پس منظر نظر میں لانا ہو گا اس وقت ہی میں نے لکھا تھا کہ ”حماس کی جانب سے یہ حملہ پینٹاگون کی آشیرباد سے کروایا گیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے اہم ترین ملک سعودی عرب ایران روس اور چین کے ممکنہ بلاک بننے کے عمل کو رکوا کر سعودی عرب اور دیگر ممالک کو“ اسرائیل ”کی جنگی طاقت کا جنون دکھا کر امریکی بلاک کے مقابل روس چین سعودی عرب اور ایران ممکنہ بلاک بننے اور ان کی قربتوں کو کمزور کر کے مشرق وسطیٰ اور ایشین ممالک کے مابین اس اہم اتحاد کو بلاک کیا جائے تاکہ ایشیا اور مشرق وسطیٰ مل کر معاشی طور سے امریکی خرمستیوں سے چھٹکارا پا کر خطہ کے معاشی استحکام کی بنیاد بنیں تاکہ امریکی لوٹ کھسوٹ خطے کے لئے مستقبل کا خطرہ نہ بن سکے۔

دوسری جانب اسرائیل، حماس اور کسی قدر ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے امریکی مقاصد کے لئے وہ کام کیا جس کے لئے نئے بلاک بننے کی اہم پیش رفت کو روکنے کی شدید ضرورت تھی، اس تناظر میں اسرائیل نے امریکی جدید ہتھیاروں کی مدد سے ایک ایسے لے پالک بیٹے کردار ادا کیا جس نے مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے مستحکم بننے والے اتحاد میں وقتی دوری پیدا کردی جس کے لئے ان مذکورہ ممالک کو دوبارہ ازسرنو کوششیں درکار ہوں گی، اسرائیل کے جنگی جنون سے لاکھوں فلسطینی اور غزہ کے باشندوں کی بلا جواز ہلاکت بے گھری اور غزہ کے اپاہج ہو جانے والے افراد کی داد رسی کیسے ہوگی یا جنگ مسلط کرنے کی سزا اسرائیل یا دیگر گروپس کو عالمی دنیا یا عالمی انصاف کیسے دے گا، یہ آج کا سب سے اہم سوال ہے۔ ؟

یاد کیجیے بقول مذہبی جنونی جب یہ معرکہ ”حق و باطل“ حماس نے شروع کیا تو اس وقت خطے کی صورتحال میں چائنا کی ڈپلومیسی زوروں پر تھی۔ چائنا افغانستان حکومت کو ساتھ ملا کر امریکہ ابوظہبی انڈیا ٹرائیکا کے افغانستان میں تجارتی اور فوجی تعلقات کے محاذ پر پسپا ہو چکا تھا۔ ایران اور پاکستان مل کر انڈین پشت پناہی پر چلنے والی بلوچ انسرجنسی اور کیمپس کو ایکسپوز کر رہے تھے یعنی سی پیک روٹ کو کلیئر کیا جا رہا تھا، گوادر تک پہنچنے والے راستے صاف کیے جا رہے تھے۔ جس وقت اسلام آباد میں بلوچ مسنگ پرسنز کی تصاویر اٹھائے دھرنا ہو رہا تھا عین اس وقت ایران ان ”مسنگ پرسنز“ کی فہرست مع تصاویر جاری کر رہا تھا جو ایرانی علاقے میں بلوچ سرحد کے قریب دہشت گردی تربیتی کیمپ جمائے بیٹھے تھے۔ دوسرے روز پاکستانی فوج ایران کی حدود میں اس کیمپ پر بمباری کرتی رہی اور ایرانی حکومت خاموش احتجاج بھی نہیں کر پائی۔ عقلمند کو اشارہ کافی ہے۔ دونوں حکومتوں میں اس تعاون کی ماضی قریب میں کوئی دیگر مثال نہیں ملتی۔ ایران سعودیہ باہمی سفارت بحال کروا کر تجارتی روابط اور ”دوستی“ بحال کروائی جا رہی تھی۔ یاد کیجیے وہ تصویر جس میں چینی صاحب درمیان میں کھڑے ہو کر ایران اور سعودی مندوبین کا مصافحہ کروا رہے تھے۔ روس اور چین نیا علاقائی بلاک تقریباً بنا چکے تھے اور امریکہ کے لیے خطے کے تمام انٹری پوائنٹس یکے بعد دیگرے بند کرتے جا رہے تھے۔ لیکن پھر اچانک ایک روز حماس اسرائیل معرکے کا آغاز ہوجاتا ہے۔ چائینیز گریٹ گیم جہاں تھا وہیں رک جاتا ہے۔ ایران سعودیہ دور ہو جاتے ہیں۔ سارا پروسس ٹھپ ہو جاتا ہے۔ اور پھر اس پروسس کو ٹھکانے لگانے کے بعد ایک روز حماس اور اسرائیل میں جنگ بندی معاہدہ ہو جاتا ہے۔ اس پوری کہانی کے بعد دہشت گرد کہلائی جانے والی ”حماس“ غزہ اور فلسطین کے لاکھوں بے گناہ مارے جانے والوں اور بے گھر اور دربدر ہو جانے والوں کے رستے زخموں پر ”جشن“ منا کر بھی دہشت گرد اسرائیل کی بمباری نہ رکوا سکی؟ آج جنگ بندی کے وقت گزر جانے تک بھی ”حماس“ قیدیوں کی فہرست دینے میں ناکام رہی جس کے نتیجے میں رد عمل دیتے ہوئے اسرائیلی ترجمان نے اشارہ دیا ہے کہ جنگ بندی کی شرائط پوری نہ ہونے پر جنگ جاری رکھی جائے گی، گویا غزہ کے عوام اور فلسطینیوں پر اب بھی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں جس کی بظاہر ذمہ دار ”حماس“ نظر آتی ہے جبکہ بادی النظر میں ”حماس“ کی اسرائیلی مدد کے شاخسانے دیکھے جا سکتے ہیں، اس اہم موڑ پر غزہ کی جنگ بندی کیا ہمارے ہاں کی جھوٹ اور اسلامی ٹچ کی سیاست کا وہ عکس تو نہیں جو 190 ملین کرپشن کے مجرم کو سوشل میڈیا اور اسلامی ٹچ پروپیگنڈا کے ذریعے ”ثاقبی صادق و امین“ قرار دلوانے پر تلا ہوا ہے؟ جنگ سیاست کی ہو یا خطے کی، یہ بات طے ہے کہ!

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی

Facebook Comments HS

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 56 posts and counting.See all posts by waris-raza