محمد فاروق بمبے والا: چوتھی قسط


” کچھ بمبئی کے فلمی شاعروں پر بات ہو جائے۔ جیسے مجروحؔ سلطان پوری، راجہ مہدی علی خان، ساحرؔ لدھیانوی، شکیلؔ بدایونی، حسرتؔ جَے پوری، شیلندر، آنند بخشی وغیرہ“ ۔

” آپ جن کا نام لے رہے ہیں ان میں ساحر، شکیلؔ بدایونی، حسرتؔ جَے پوری، شیلندر، وغیرہ سے میرا تعلق رہا البتہ راجہ مہدی علی خان صاحب اور مجروحؔ صاحب سے ملاقاتیں نہیں ہوئیں۔ حسرتؔ جَے پوری سے میری دوستی تھی۔ ساحرؔ صاحب بھائی اور شکیلؔ بدایونی بڑے بھائی کی طرح تھے۔ تنویرؔ نقوی صاحب سے بمبئی میں میری ملاقات نہیں تھی البتہ لاہور میں رہی“ ۔

ساحرؔ، قتیلؔ اور روی چوپڑا

” ایک روز ساحرؔ لدھیانوی صاحب نے مجھے کہا کہ کل صبح ساڑھے نو بجے میرے گھر آ جانا ہم روی چوپڑا کے پاس کاردار اسٹوڈیوز چلیں گے“ ۔

روی چوپڑا ( 1946 سے 2014 ) بھارتی فلمی دنیا کے نامور فلمساز و ہدایت کار تھے۔ یہ نامور فلمساز و ہدایت کار بی آر چوپڑا کے بیٹے، یش چوپڑا کے بھتیجے اور یش جوہر، کَرَن جوہر، ادیتیا چوپڑا اور اُودے چوپڑا کے کزن تھے۔ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ مل کر بھارتی ٹیلی وژن کا مشہور شو مہابھارت ( 1988 سے 1990 ) بھی پیش کیا۔

” جب میں ساحرؔ صاحب کے ہاں پہنچا تو دروازہ پتا ہے کس نے کھولا؟“ ۔
” کس نے کھولا؟“ ۔ میں نے پوچھا۔

” قتیلؔ شفائی صاحب نے! ہم ایک دوسرے کو عرصے سے جانتے تھے۔ کہنے لگے کہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ میں نے کہا کہ میں یہاں ریڈیو پروگرام کرتا ہوں پھر فلموں کا بھی کام ہے اور اسی سلسلے میں ساحرؔ صاحب کے ساتھ چوپڑا صاحب سے ملنے جا رہے ہیں۔ قتیلؔ صاحب نے بتایا کہ ساحر ؔ نہا رہے ہیں۔ تھوڑی دیر میں وہ بڑا تولیہ لپیٹ کر آ گئے۔ ساحرؔ کی والدہ بہت سادا خاتون تھیں جنہیں میں بے بے کہتا تھا“ ۔

شنکر اور جَے کِشن

” بمبے والا صاحب! کچھ ذکر شنکر اور جَے کِشن صاحبان کا بھی ہو جائے! “ ۔

” یہ دونوں بہت اچھے آدمی تھے۔ جَے کِشن اکارڈین بجاتا تھا۔ شنکر میرا اچھا دوست تھا۔ ایک دن ہم فیمَس اسٹوڈیوز میں بیٹھے ہوئے تھے۔ شنکر نے گانے کا مُکھڑا بنایا۔ وہاں شیلندر صاحب بھی موجود تھے۔ شنکر مجھے کہنے لگا کہ فاروق بھائی اگر یہ مکھڑا نورجہاں گائے تو کیسا لگے گا؟ میں نے کہا کہ شنکر بھائی آپ کو تو پتا ہے کہ نورجہاں اچھا گاتی ہے۔ لتا کا اپنا مقام ہے نورجہاں کا اپنا! اب آپ دیکھیں لطیف صاحب! کیا شنکر کوئی عام آدمی تھا؟ بہت سے موسیقار تو شنکر جے کشن کے نزدیک سے بھی نہیں گزرے! میں تو اِدھر پاکستان میں آ کر برباد ہو گیا!“ ۔

” شنکر اور جے کشن کے مزاج کا بھی بتائیں! “ ۔

” شنکر حیدرآباد دکّن کا رہنے والا تھا۔ بہت میٹھا اور سمجھ دار آدمی تھا۔ مجھے کہتا کہ فاروق صاحب! آپ کی کچھ ریکارڈنگ کرنی ہیں۔ میں ہنس کر کہتا کہ تم نے مجھے بلانا نہیں اور میں نے آنا نہیں! جے کشن سے میری زیادہ بات نہیں ہوتی تھی۔ وہ خاصا سنجیدہ آدمی تھا۔ میں اُن سب ہی کا لاڈلا تھا۔

گلوکارہ اور اداکارہ ثریا

”ثریا ( 1929 سے 2004 ) سے میں شادی کر سکتا تھا“ ۔ ہاں وہ اس وقت اکیلی تھیں۔
یہ بات بھی بتا ہی دیتا ہوں۔ ثریا جمال شیخ المعروف ثریا کی رنجیت اسٹوڈیوز میں فلم ’شمع‘ ( 1961 ) کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ اس میں نِمّی بھی تھی۔ ثریا کی نانی بیٹھی ہوئی تھیں۔ یہ سب میں نے بتانا نہیں تھا لیکن آپ اور شہباز ؔکے آنے پر پتا نہیں میں کیوں یہ سب بتا رہا ہوں۔ بہرحال اُس منظر میں ثریا دلہن کے روپ میں بیٹھی ہوئی تھی۔ کھانے کا وقفہ ہو گیا۔ ثریا کی نانی 555 کے سگریٹ کا ڈبہ پکڑے بیٹھی تھیں۔ اتنے میں، میں بھی آ گیا۔ میں نے اس کی نانی سے کہا کہ کیا ہر وقت 555 کے سگریٹ پھونکے جاتی ہو۔ مجھے ہنستے ہوئے کہا کہ چُپ کر کے ایک طرف بیٹھ، تنگ نہیں کر! بتا کیا کھانا پینا ہے؟ اس فلم کے میوزک ڈائریکٹر غلام محمد میرے دوست تھے وہ بھی آ گئے۔ میں نے ثریا کی نانی سے کہا کہ بے جی! اس بی جی (ثریا) کی شادی کب کرنا ہے؟ مجھے کہنے لگیں کوئی لڑکا ہی نہیں ملتا۔ اس پر میں نے کہا کہ کیا میں مر گیا ہوں؟ ابھی شادی کر لیتا ہوں! نانی قہقہے لگا کر ہنس پڑیں۔ ان کے قہقہوں پر ثریا نے کہا کہ کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ کچھ نہیں بس گپ شپ ہو رہی تھی۔ ثریا کی ماں ممتاز اور ثریا کا ماموں ظہور موہنی روڈ، لاہور میں رہتے تھے۔ میں سنگر تو تھا ہی پھر میری بمبئی میں شروعات بھی ٹھیک تھیں لہٰذا اگر میری ثریا سے شادی ہوجاتی تو پتا نہیں کیا کیا کر جاتا! ”۔

ریڈیو پاکستان لاہور سے گانا
” آپ نے کب تک ریڈیو پاکستان لاہور سے گایا؟“ ۔

” میں نے ریڈیو پاکستان لاہور میں 1970 سے گانا شروع کیا اور 50 سال گایا لیکن میرا کبھی یہاں گانے کو دل نہیں کیا! اس وقت یہاں چوہدری بشیر صاحب اسٹیشن ڈائریکٹر تھے۔ نزاکت اور سلامت علی خان کا چھوٹا بھائی تصدق علی خان میرا دوست تھا۔ سب سے بڑا نزاکت پھر سلامت، پھر تصدق پھر اختر علی اور ذاکر علی۔ یہ پانچ بھائی تھے۔ ان کی کوئی بہن نہیں تھی۔ خود نزاکت علی خان اور سلامت علی خان میرے دوست تھے۔ یہ دونوں سال میں ایک مرتبہ بمبئی آتے تھے۔ آج کل اس کا بیٹا ثروت ریڈیو پر ہے۔ ثروت میرے بیٹوں کی طرح ہے۔ ریڈیو پروڈیوسر محمد اعظم خان کے بھی میں نے کئی پروگرام کیے۔ کوئی دو ڈھائی سال ہوئے جب میں نے ریڈیو پر پروگرام کرنا بند کر دیا۔ میں نے پی ٹی وی پر بھی بڑے پروگرام کیے ہیں“ ۔

گراموفون کمپنی آف پاکستان میں آرٹسٹ بننا

” کیا کبھی آپ کی آواز میں کوئی گانا گراموفون کمپنی آف پاکستان لاہور اسٹوڈیوز میں ریکارڈ ہوا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” میں 25 ستمبر 1955 کو گراموفون کمپنی آف پاکستان لاہور کا آرٹسٹ بنا تھا“ ۔
” اچھا!“ ۔ میں نے حیرت سے کہا۔

” تب وہاں کے منیجر الطاف حسین ہوتے تھے جو پہلے فوجی تھے۔ عنایت حسین بھٹی مجھ سے دو مہینے پہلے آئے تھے“ ۔

……………………

محمد فاروق بمبے والے صاحب سے کچھ بات چیت محمد رفیع صاحب کو گانے والے گلو کار سکندر رفیع کے گھر بھی ہوئی۔ گاہے بگاہے لاہور کی فلمی شخصیات کے ساتھ شہر کے صاحبِ ذوق ان کے ہاں جمع ہوتے رہتے ہیں۔ مجھے بھی ایسی محافل میں بیٹھنے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں فاروق بمبے والا سے سوال جواب کی ایک نشست رہی۔

مہدی حسن، مہدی حسن بننے سے پہلے

” فاروق صاحب! کچھ مہدی حسن صاحب کے بارے میں بھی بتائیں! “ ۔ میں نے پوچھا۔

” مہدی حسن میرا 1953 کا دوست ہے۔ اُس زمانے میں مہدی حسن ( بطور گلوکار) کا نام فلم انڈسٹری اور ریڈیو پاکستان میں نہیں تھا۔ میں تو انہیں بعد تک بھی دولہا بھیّا کہہ کر بلاتا تھا۔ یہ جو میں آپ سے باتیں کر رہا ہوں یہ میرے دل کی باتیں ہیں“ ۔

فاروق بمبے والے صاحب نے شہبازؔ تنویر نقوی، سکندر رفیع اور مجھے مخاطب کر کے کہا، ”اب میں کس کس کی بات کروں! اب تو گانے کا مزہ ختم ہو گیا ہے۔ مہدی حسن کو انسان کی اچھی پہچان تھی۔ اللہ پاک نے اسے بے حد عزت دی۔ کوئی 15 سال پہلے کی بات ہے۔ مہدی حسن کے بیٹے شہزاد مہدی کو میں نے ٹیلی فون کیا کہ شہزاد تمہارا ابو کدھر ہے؟ کہنے لگا کہ میں اُن کو بتاتا ہوں۔ اس کی آواز آئی کہ سنگر انکل بمبے والوں کا فون ہے۔ فوراً مہدی حسن کی آواز سنائی دی کہ ان سے کہو جب مرضی ہو آ جائیں! میں نے کہا کہ کل اتوار ہے، کل آ جاؤں گا! یہ ٹاؤن شپ میں رہتے تھے۔ میں اگلے روز وہاں چلا گیا۔ وہیل چیئر پر تھے لیکن بڑے پیار سے ملے اور گپ شپ لگائی۔ میں نے ان کی موجودگی میں شہزاد مہدی سے پوچھا ( وہ اس وقت لاہور میں ڈی ایس پی تھا) کہ تمہارے والد کا آئیڈیل کون ہے؟ دونوں ہی خاموش رہے۔ تب میں نے کہا اِن کا آئیڈیل پتا ہے کون تھا؟ طلعت محمود تھا۔

مہدی حسن کے فن کا ابتدائی مظاہرہ

” مہدی حسن 11 نَیلسَن روڈ، گنگا رام اسپتال کی پچھلی طرف، میاں شفیق اور میاں رفیق کے پاس رہتا تھا، وہاں یہ ڈرائیور تھا۔ لیکن بحیثیت انسان بہت اچھا شخص تھا! 1953 کے کسی مہینے کی بات ہے، لالہ گوگیا ناتھ انڈین ہائی کمشنر تھا۔ میں ان کے گھر گانے کے لئے اکثر جاتا۔ میرے دوست سُنبُل لال بجاج انڈین ہائی کمیشن کا سیکریٹری تھا جو گانا بھی گاتا تھا۔ ایسے ہی ایک پروگرام کے دوران میں گا رہا تھا۔ میں بیگم اختر اور زہرہ جان انبالے والی کی غزلیں گا تا تھا۔ ایسے میں میاں رفیق، مہدی حسن کو لے کر آیا۔ کہنے لگا کہ فاروق صاحب اگر اجازت ہو تو ایک لڑکا گاتا ہے۔ اس کو بہت شوق ہے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر پوچھا کہ باجا بجا لیتے ہو؟ جواب دیا کہ ہاں تھوڑا بہت بجا لیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ پھر آؤ باجا پکڑو! اُس نے شکیلؔ بدایونی صاحب کا لکھا اور نوشاد صاحب (جو اس فلم کے فلمساز بھی تھے ) کی موسیقی میں طلعت محمود کی آواز میں فلم ’بابل‘ ( 1950 ) کا یہ گانا سنایا: ’حسن والوں کو نہ دل دو یہ مٹا دیتے ہیں، زندگی بھر کے لئے روگ لگا دیتے ہیں‘ ۔ اس کے بعد اس نے طلعت کا ایک اور گانا بھی سنایا۔ میں نے کہا کہ واقعی یہ تو بہت اچھا سنگر ہے! اس کے بعد اس کی مجھ سے کافی گَپ شَپ ہو گئی۔ کافی عرصہ گزر گیا۔ ایک دو جگہ گانے کی محفل میں ملاقات ہوئی۔ میں نے اس سے کہا کہ تم طلعت کو بہت اچھا گاتے ہو! پھر میں 1957 میں بمبئی چلا گیا۔ جب وہاں طلعت محمود میرے دوست ہوئے تب میں نے طلعت محمود کو کہا کہ طلعت بھائی! میرا ایک دوست ہے مہدی حسن، وہ آپ کو بہت اچھا گاتا ہے۔ اس پر طلعت محمود نے کہا کہ جب تم کہتے ہو تو اچھا ہی گاتا ہو گا۔ میں نے کہا کہ واقعی وہ بہت اچھا گاتا ہے۔ پھر جب مجھے مہدی حسن لاہور میں ملا تو میں نے اُس سے کہا کہ یار میں نے طلعت محمود سے تمہاری بڑی تعریف کی ہے۔ یوں پھر میری مہدی حسن سے کافی دوستی ہو گئی۔ مہدی حسن پھر ریڈیو سے بھی گانے لگا“ ۔

” یہ بتائیے کہ جب مہدی حسن نے ریڈیو پر گانا نہیں گایا تھا کیا تب آپ آل انڈیا ریڈیو پر گاتے تھے؟“ ۔
” نہیں! میں نے تو 1957 کے بعد آل انڈیا ریڈیو بمبئی سے گایا“ ۔

میرا آل انڈیا ریڈیو بمبئی میں آڈیشن

” کیا آل انڈیا ریڈیو بمبئی پر آپ کا کوئی آڈیشن ہوا؟ آپ نے کیسے گانا شروع کیا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” ہم نہیں رہیں گے ہماری باتیں تو یاد کیا کرو گے! “ ۔
” کیسی بات کہہ رہے ہیں بمبے والا صاحب؟“ ۔ ہم سب تقریباً ایک ساتھ بولے۔

” میں لاہور سے جب بمبئی گیا تو وہ ایک اور ہی دنیا تھی! ہالی ووڈ کے بعد یہ سب سے بڑی فلم انڈسٹری تھی۔ جلد ہی وہاں کے حلقوں میں میری پذیرائی ہوئی اور مجھے بہت فنکشن ملنے شروع ہو گئے۔ وہاں میرے ایک دوست عزیز حسن جو طلعت محمود کے فرسٹ کزن تھے۔ وہ اشوک پروڈکشنز میں ہدایت کار راکھن خان کے اسسٹنٹ تھے۔ جب انہوں نے میرا گانا سنا تو کہا کہ آپ تو بہت اچھے گانے والے ہیں اگر آپ ریڈیو سے گائیں تو کیا ہی اچھا ہو! پھر انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے پروڈیوسر حفیظ خان سے ملوایا جو اُن کے دوست تھے اور کہا کہ یہ ہمارے دوست فاروق بڑے اچھے سنگر ہیں ان کا گانا ریڈیو سے ہونا چاہیے۔ حفیظ صاحب نے مجھے سنا اور کہا کہ فاروق صاحب آپ ہمارے پروگرام کِیا کریں! اس طرح میری آل انڈیا ریڈیو بمبئی سے شروعات ہوئیں! “ ۔

” آپ کا کون سا پہلا گیت یا غزل یہاں سے نشر ہوئی“ ۔ میں نے پوچھا۔

” شاید غالبؔ کی کوئی غزل تھی۔ میں بھی آپ کی دعا سے عام سنگروں میں نہیں شمار ہوتا تھا۔ میں نے تو بمبئی ریڈیو پر استاد بڑے غلام علی خاں صاحب کے ساتھ تان پورا چھیڑنے کا بھی اعزاز حاصل کیا ہے“ ۔

طلعت محمود اور منّا ڈے

” آپ ریڈیو سے ہفتے میں کتنے پروگرام کرتے تھے؟“ ۔

” مہینے میں ایک دو پروگرام کرتا تھا۔ میں نے دہلی اور بمبئی دونوں جگہ ریڈیو پر گایا لیکن میری لائن در اصل کچھ اور ہی تھی۔ ہمارا کام فنکشن اور تقریبات میں زیادہ ہوتا۔ اُس زمانے میں طلعت محمود بھی فلمی پلے بیک گانوں سے دور ہو چکا تھا، زیادہ کام رفیع صاحب کا تھا۔ پھر کشور بھی کم نہیں تھا۔ یوں میں، طلعت محمود اور منّا ڈے تینوں ایک ساتھ تقریبات میں گاتے“ ۔

واضح ہو کہ پرابُدھ چندرا ڈے المعروف منّا ڈے ( یکم مئی 1919 سے 24 اکتوبر 2013 ) یہ صرف بھارتی نامور فلمی پلے بیک سنگر ہی نہیں بلکہ خود بہت اچھے میوزیشن اور میوزک ڈائریکٹر بھی تھے۔

” طلعت محمود نے مجھے بتایا کہ میں 1948 میں گانے کے لئے لاہور گیا جہاں میں 1950 کے وسط تک رہا تب پاسپورٹ وغیرہ کا کوئی تکلف نہیں تھا لیکن مجھے یہاں کام نہیں ملا۔ پھر میں کلکتہ چلا گیا۔ یہاں سب سے پہلے موسیقار انیل بِسواس صاحب نے مجھے سُنا اور کہا کہ آپ میرا یہ گانا گائیں : ’تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی۔‘ (فیاض ؔ ہاشمی کی لکھی) یہ غزل بہت مقبول ہوئی۔ انیل صاحب نے پھر مجھے کہا کہ طلعت! تم بمبئی چلے جاؤ۔ اس طرح وہ بمبئی آ گئے۔ یہاں فلم ’آرزو‘ ( 1950 ) کا گانا ’اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو۔‘ ۔ (اس فلم کی کہانی عصمت چغتائی صاحبہ نے لکھی اور ہدایات شاہد لطیف صاحب نے دیں۔ جب کہ گیت مجروحؔ سلطان پوری، پریم بھوَّن اور جانثارؔ اختر صاحبان نے لکھے اور موسیقار انیل بِسواس تھے۔ یہ گانا دلیپ صاحب پر فلمایا گیا )“ ۔

پھر بمبے والے صاحب نے شہبازؔ تنویر نقوی کو مخاطب کر کے کہا:

” آج تنویرؔ نقوی صاحب کے بیٹے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ میں ان سے بڑا پیار کرتا ہوں۔ ارے بھئی شہبازؔ! اس کے بعد پھر طلعت محمود نے بتایا کہ میں نے فلم ’بابل‘ کی۔ پھر فلم ’داغ‘ ( 1952 کی اس فلم کے موسیقار شنکر جے کشن صاحبان تھے اور گیت شیلندر اور حسرتؔ جے پوری صاحبان نے لکھے ) کی۔ پھر تو بقول طلعت محمود کافی فلمیں ملنے لگیں“ ۔

” موسیقار انیل بسواس پر کچھ روشنی ڈالیں“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” لطیف صاحب! انیل بسواس جیسا میوزک ڈائریکٹر کوئی دوسرا نہیں دیکھا! اداکار ہیرا لال انہیں اکثر کہتا کہ فاروق اچھا سنگر ہے آپ اس سے کوئی ریکارڈنگ کروا لیں۔ ایک مرتبہ یہی ہیرا لال، کنول کپور (راجکپور کا فرسٹ کزن ) اور ششی کپور تینوں کھڑے تھے۔ ششی مجھے کہنے لگا کہ فاروق صاحب! تم اپنا نام چمن لال رکھ لو تو میں تمہیں لکھ کے دے دوں کہ ساری فلمیں تمہارے ہی پاس آئیں گی! میں نے ہیرا لال سے کہا کہ میرے لئے سب ہی نام محترم ہیں کیا ہندو کیا مسلم! اس پر ہیرا لال کہنے لگا کہ فاروق ٹھیک کہتا ہے! انیل میرے قریب جوہی میں رہتا تھا۔ کے آصف بھی میرے پاس، کشور کمار اور دیو آنند بھی اُدھر ہی رہتے تھے۔ ہیلن سے پہلے کی ایک نامور ڈانسر کُکُو بھی میرے پڑوس میں تھی“ ۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS