اصغر ندیم سید کے ناول ”جہاں آباد کی گلیاں“ میں تاریخی شعور

تاریخ، واقعات کو محفوظ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایسے سوالات کا نام ہے جو واقعات کے نتائج سے برآمد ہوتے ہیں۔ ماضی کا دھارا حال میں موجود ہوتے ہوئے، مستقبل کی خبر دے رہا ہوتا ہے۔ تاریخ کے ذریعے قومیں اپنے اعمال کا موازنہ اپنے رفتگاں سے کرتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتی ہیں کہ کیا وہ فاتح قرار پائیں گی یا شکست ان کا مقدر ٹھہرے گی۔ یوں محاسبے کے عمل سے گزرتے ہوئے، وہ حال میں تبدیلی لانے اور مستقبل کو اپنے پسندیدہ نتائج میں بدلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تاریخ کو ہمیشہ کئی طرح کے مسائل کا سامنا رہا۔ کبھی یہ محض فاتح کے قلم سے لکھی جاتی رہی تو کبھی مؤرخ کے مخصوص ثقافتی، سماجی اور مذہبی پس منظر کی وجہ سے بعض حقائق مسخ کیے جاتے رہے۔ مگر ان سب مسائل کے باوجود، تاریخ نے عوامی آوازوں کا سہارا لیتے ہوئے خود کو فنونِ لطیفہ خصوصاً ادب میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ یوں وہ شاعری، ناول، افسانے اور ڈرامے وغیرہ میں خود کو محفوظ کرنے میں کامیاب رہی۔ مگر یہاں اسے ایک نئی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ادیب معاشرے کا فرد ہوتا ہے، اس کا اپنا مخصوص پسِ منظر ہوتا ہے جو اسے چیزوں کو ایک خاص زاویے اور نظریے سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی دور میں رہتے ہوئے، دو ادیب ایسا ادب تخلیق کرتے ہیں جو ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے تاریخ کے ایک دور کو سمجھنے کے لیے تاریخی کتب کے ساتھ ساتھ، اسی دور کے مختلف ادیبوں کو پڑھنے سے ہی، تاریخ کے رازوں سے آگاہی ممکن ہے۔ محض تاریخی کتب، یا صرف ایک لکھاری کی تحریریں پڑھنے سے حقائق تک رسائی ممکن نہیں۔ مگر یہاں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ادیب جس معاشرے کا فرد ہوتا ہے، اسے اس کا گہرا شعور ہوتا ہے۔ اس شعور کو نقادوں نے تاریخی اور سماجی شعور کا نام دے کر دو مختلف خانوں میں بانٹ رکھا ہے۔ تاریخی شعور کے معانی ماضی پن کا احساس ہونے کے نہیں ہیں بلکہ اس کے معانی یہ ہیں کہ ماضی کے واقعات کو حال میں بنتے بگڑتے محسوس کیا جائے۔ حال میں ماضی کو زندہ دیکھنے کا نام تاریخی شعور ہے۔
اصغر ندیم سید کے نزدیک تاریخ مسلسل حرکت کا نام ہے۔ یوں ان کے نزدیک تاریخ کسی بھی چیز کو جمود کا شکار نہیں ہونے دیتی۔ البتہ انسان کی انفرادی زندگی ایسی ہے کہ اس پر جمود طاری ہو جایا کرتا ہے۔ اصغر ندیم سید کے مطابق تاریخ صرف ان چیزوں کی ہوا کرتی ہے جو تغیر پذیر ہوتی ہیں، جو اشیاء جامد ہوں وہ تاریخی عمل سے باہر رہتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ تاریخ انسان کے اندر اتر جاتی ہے لٰہذا جب وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے ہیں تو وہ اپنے ہمراہ تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ تاریخی ورثے بھی لے کر جاتے ہیں۔ تاریخ بڑی کٹھور ہے اور وہ اپنا انتقام صدیوں میں لیا کرتی ہے۔ تاریخ کے پاس ایسے کئی چور دروازے ہوتے ہیں، جن کے توسط سے قومیں اپنی شکست کو فتح کے روپ میں تبدیل کرتے ہوئے احساسِ تفاخر میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ مگر ایک خاص عہد کے بعد تاریخ، حقیقت کو آشکار کر کے جھوٹ کے تمام بت پاش پاش کر دیا کرتی ہے۔
ہر تخلیق کار کا ایک خاص نظریہ ہوتا ہے جس کے تحت وہ چیزوں کو دیکھتے ہوئے پوزیشن لیتا ہے اور اپنی بات عوام تک پہنچاتا ہے۔ اصغر ندیم سید ایک نظریاتی تخلیق کار ہیں۔ ان کا نظریہ ترقی پسندی ہے۔ ان کے نزدیک ترقی پسندی مارکسسٹ یا سوشلسٹ ہونا نہیں بلکہ یہ ایک progressive سوچ کا نام ہے۔ اصغر ندیم سید کی زندگی کا پہلا بڑا شعوری واقعہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور جنرل ضیاءالحق کا مارشل لاء نافذ کرنا تھا۔ اس واقعے نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔ انہوں نے ضیاءالحق کے بھاری دور میں روا رکھے جانے والے مظالم کا تجزیہ کیا اور انہیں ”جہاں آباد کی گلیاں“ میں موضوع بنایا۔ ناول ”جہاں آباد کی گلیاں“ کا پہلا بڑا تاریخی حوالہ ضیاءالحق کا مارشل لاء ہے۔ باقی تمام موضوعات اسی کے گرد گھومتے ہیں۔ ناول میں ماضی اور حال باہم یکجا ہو کر مستقبل کی خبر دینے لگتے ہیں۔ تاریخی شعور کا بھی یہی مطلب ہے کہ ماضی اور حال کے درمیان وقت کی حائل دیوار گر جائے اور ماضی لمحۂ موجود میں سانس لیتا محسوس ہو۔ ضیاء الحق کا دور ایک ایسا دور تھا جو ادیبوں کے لیے بڑا بھاری ثابت ہوا۔ اس دور میں حکومت کے خلاف بولنے پر پابندیاں عائد تھیں اور حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں کو ریاست سے غداری کے جرم میں، جیلوں میں بند کر دیا جاتا تھا۔ اصغر ندیم سید نے ناول میں یہ موقف اپنایا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء نے ملک کو ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنے میں اسے کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔ ناول میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے ان لوگوں کو سزائیں دی گئیں اور انہیں جلاوطن کر دیا گیا جنہوں نے ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف آواز اٹھانا چاہی۔ جہاں ایک طرف ادیبوں کا ایسا طبقہ تھا جنہوں نے آمریت کے خلاف آواز اٹھائی تو دوسری طرف ایسے بھی ادیب تھے جنہوں نے آمر سے مفاہمت کرنا بہتر سمجھا۔ اصغر ندیم سید نے اس کے پیچھے کے محرک پر بھی بات کی ہے کہ دراصل ان کی فیملی پاکستان میں تھی، اگر وہ مفاہمت نہ کرتے تو خود بھی مصیبت کا شکار ہوتے اور اپنے خاندان کو بھی ظلم کا شکار بنتے دیکھتے۔ یوں اصغر ندیم سید نے تاریخی تعصب کے بجائے تاریخی حقیقت کو سامنے لانے کی سعی کی ہے۔
ناول میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ضیاء الحق کے دور میں ملک کو مذہبی، لسانی، ثقافتی اور صوبائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی اور مذہبی جماعتوں کی حکومتی سطح پر سرپرستی کرتے ہوئے انتہا پسندی کو ہوا دی گئی۔ ضیاءالحق کے دور میں ملک کو مذہبی جماعت کے حوالے کر دیا گیا۔ بارڈر پر کھڑے ہونے والے جوان، مُصلّوں پر کھڑے نظر آنے لگے۔ محافظ کے ہتھیاروں کی جگہ تسبیح نے لے لی۔ جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کو دنیا کی نظر میں دوسرے سعودی عرب کے طور پر شو کیس کر دیا۔
پاکستانی حکومت حقیقی معنوں میں کبھی جمہوریت کو اپنا ہی نہ سکی۔ ملک کو پہلے دن سے ہی فوجی اشرافیہ کے حوالے کر دیا گیا جس نے کبھی براہ راست تو کبھی بالواسطہ حکومت کرتے ہوئے، اپنا تسلط قائم رکھا۔ اسی فوجی تسلط میں وہ سب راز پوشیدہ ہیں جو پاکستانی تاریخ پر سیاہ ادوار کے مسلّط ہونے کا سبب بنے اور ابھی تک وہی سیاہ دور چل رہا ہے۔ یہ اصغر ندیم سید کا تاریخی شعور ہے جو بیک وقت ماضی، حال اور مستقبل کو باہم یکجا کر دیتا ہے اور اس سے تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے۔
ضیاء الحق کے دور میں جہاں دوسرے ملکوں جانے کا رجحان بڑھا وہاں ڈرگز کی سمگلنگ اور عورتوں کے استحصال کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔ جو لوگ لندن پہنچ جاتے وہ پاکستانیوں کی نظر میں وائسرائے قرار پاتے اور جب وہ پاکستان رشتہ بھیجتے تو والدین اپنی بیٹی کو عروسی جوڑے میں جہاز میں بٹھا لندن روانہ کر دیتے۔ وہ یا تو ڈرگز کی سپلائی میں مجرم قرار پاتی اور جیل بھیج دی جاتی یا شوہر کی جبریت کا شکار ہو کر جسم فروشی کے دھندے میں جھونک دی جاتی۔
ضیاء الحق کے دور میں اخبارات پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ کوئی بھی ایسی خبر شائع کرنے کو ملک کے خلاف غداری قرار دے دیا گیا جو مارشل لاء کے خلاف ہو۔ یوں اخبارات پر بڑی ذمہ داری آن پڑی کہ وہ کوئی ایسا طریقہ استعمال کریں کہ خبر بھی پہنچ جائے اور اخبار پر حکومت کی طرف سے بین بھی نہ لگایا جائے۔ یوں اخبارات کے مالکان نے کالم نویسی کو فروغ دیا کیونکہ کالم نویس کے پاس زبان کے ایسے چور دروازے ہوتے ہیں جن سے جھانک کر وہ اندر کی خبر پہنچا دیا کرتا ہے۔
ناول کا آغاز بھٹو کی پھانسی کے واقعے سے کرتے ہوئے اصغر ندیم سید نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ بھٹو کی پھانسی آنے والی کئی دہائیوں کے منظرنامے کو متاثر کرتی رہے گی اور حقیقی جمہوریت کو اب کئی سالوں تک کا لمبا انتظار کرنا پڑے گا۔ بھٹو کی پھانسی پاکستانی تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ اگر عوام کوشش کرتی تو بھٹو کو پھانسی سے بچایا جا سکتا تھا۔ مگر پاکستانی قوم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی سے بچانے کے لیے، عملی کوشش کرنے کے بجائے، کسی ایسے معجزے کی تلاش میں تھی کہ عرب ممالک سے ایک ہیلی کاپٹر آئے گا اور ذوالفقار علی بھٹو کو اڈیالہ جیل سے لے کر سعودی عرب چلا جائے گا۔ یوں نہ ہی معجزہ ہوا اور نہ ہی بھٹو پھانسی سے بچ سکے۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد ، سڑکوں پر دو چار لوگوں نے خود کشیاں کرنے کی کوشش کی۔ اس سے ترقی پسند انقلابیوں نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ انقلاب آنے والا ہے جس کی انہوں نے ہمیشہ تمنا کی۔ مگر وہ اس قربانی کے لیے تیار نہ تھے جو انقلاب کے لیے ضروری ہوا کرتی ہے۔ کسی بھی ملکی کی ادبی بیٹھکیں ہی وہ جگہیں ہوا کرتی ہیں جہاں نئے نظریات پر بات ہوتی ہے اور نئی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ اس لیے جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی تو تحریری صورت میں جو احتجاج سامنے آیا وہ ترقی پسند تحریک کے ان انقلابی کی طرف سے تھا جو پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھا کرتے تھے۔
بھٹو کی پھانسی کے بعد بھٹو کی پارٹی کو عوامی حمایت حاصل ہو گئی۔ کیونکہ عوام ضیاء الحق کے خلاف ہو چکے تھے۔ بھٹو کی پارٹی نے بھٹو کی پھانسی کو ذریعہ بناتے ہوئے، خود کو ایسا مظلوم پیش کیا کہ عوام کے پاس کوئی دوسرا آپشن ہی موجود نہ رہا۔ یوں بینظیر بھٹو پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں مگر ان کی حکومت بھی کسی اور ادارے کے اشاروں پر عمل کرتی ختم ہو گئی۔ ناول میں سیاسی صورتحال کے ساتھ ساتھ تہذیب و معاشرت اور ثقافت کو بھی موضوع بنایا گیا ہے جس حوالے سے طوائف کی کہانی کو شامل کیا گیا ہے کہ کیسے طوائف کا کوٹھا تربیت گاہ سے محض جسم فروشی کا اڈا قرار پایا۔ ناول کا مرکزی کردار اور دیپتی کے کتھک کی کہانی کو بھی پیش کیا گیا ہے کہ فنونِ لطیفہ سے وہ باتیں بھی پہنچائی جا سکتی ہیں جو کسی دوسری صورت کہنے پر پابندی ہوا کرتی ہے۔
اصغر ندیم سید نے براہ راست تاریخ کو موضوع بنانے کے بجائے، کرداروں کے ذہنوں سے پیوست کرتے ہوئے ان کے اعمال کے ذریعے سے تاریخی حقیقت کو پیش کیا ہے۔ تاریخی شعور کا بھی یہی مطلب ہے کہ ماضی کی محض کہانی سنانے کے بجائے اسے ایسے پیش کیا جائے کہ واقعات حال میں بنتے بگڑتے نظر آئیں اور دیکھنے والوں کو محسوس ہو کہ وہ ماضی میں چلے گئے ہیں یا ماضی زندہ ہو کر ان پر گزر رہا ہے۔ ناول کی پڑھت کرتے ہوئے قارئین محسوس کرتے ہیں کہ یہ ناول کا مرکزی کردار نہیں ہے جس پر واقعات گزر رہے ہیں بلکہ یہ خود قارئین ہیں جو تاریخ کو اپنے سامنے جنم لیتا محسوس کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مرکزی کردار نے ہماری روح کو تسخیر کرتے ہوئے ہمیں ناول کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ ہم ہیں جو ناول کا ایک کردار بن گئے ہیں اور تاریخ ہم پر گزر رہی ہے۔

