پنجابی کہانیاں : ایک مطالعہ
”پنجابی کہانیاں“ ڈاکٹر سمیرا اکبر کی تازہ کتاب ہے جو تجزیہ پبلیکیشنز، فیصل آباد سے جنوری 2025 ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں اٹھارہ پنجابی افسانوں کو منتخب کر کے اُنھیں اُردو روپ دیا گیا ہے۔ افسانوں کا انتخاب ڈاکٹر صاحبہ کے ذوقِ مطالعہ پر منحصر ہے اگر کوئی صاحب اس کی تحقیقی اور تدوینی وجہ تلاش کرے تو اسے یقیناً مایوسی کا سامنا ہو گا۔ مذکورہ کتاب کے تمام افسانے انسان دوستی، رواداری اور محبت کے جذبے کی نمایندگی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف پنجاب کے لوک ادب میں بلکہ صوفیانہ روایت میں بھی موجود ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پنجاب کا خمیر خلوص، محبت، انسان دوستی اور آزاد خیالی سے اٹھا ہے جس میں مذہب، علاقہ، زبان اور نسل کے تعصبات کہیں حاشیے پر موجود ہیں۔ کتاب میں جن افسانوں کا انتخاب کیا گیا ہے اُن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پنجابی افسانے کو دنیا کی کسی بھی زبان کے ادب کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو وہ، موضوع، اُسلوب اور ہیئت کی بنیاد پر دنیا کے کسی خطے کے ادب سے کم نہ ہو گا۔
کتاب کا پہلا افسانہ ”رب اپنے اصلی روپ میں“ نانک سنگھ کی قلم کا کرشمہ ہے جس میں مذہبی ہم آہنگی اور انسان دوستی کا سبق دیا گیا ہے۔ دسہرا اور محرم ہندو ازم اور اسلام کے تہوار ہیں۔ اگر ان مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے دائروں میں رہتے ہوئے باہمی احترام کے جذبے سے یہ تہوار منائیں تو یوں سمجھیں کہ وہ خدا کو اس کے اصلی روپ میں دیکھ رہے ہیں۔ خدا کسی صورت میں زمین پر انسانوں کے درمیان فساد کا خواہاں نہیں۔ ”سادھو“ جوشو افضل کا افسانہ ہے جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ صوفی یا سادھو کو چاہیے کہ وہ تارک الدنیا ہو کر زندگی بسر کرنے کے بجائے خدا کی مخلوق کے درمیان زندگی گزارے کیوں کہ بھگوان پتھروں، پہاڑوں اور جنگلوں میں نہیں شہروں، بستیوں اور انسانوں کے دلوں میں رہتا ہے۔ بھگوان کو انسانوں کے درمیان تلاش کیا جانا چاہیے۔ ”غنی سائیں“ اکبر لاہوری کا افسانہ ہے جس میں راوی نے اپنے دوست غنی کے شخصی خاکے کی صورت میں اپنا پیغام قاری تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ غنی جو پہلے مالدار تھا پھر اس نے سب کچھ لٹا دیا اور فقیر بن کر پھرنے لگا۔ اس کے بعد سب اسے غنی سائیں کے نام سے یاد کرتے تھے۔ وہ دنیا سے بے نیاز صرف بنیادی انسانی ضروریات کے تحت زندگی گزارتا تھا، اسے دنیاوی خواہشات کی حاجت نہیں تھی۔ افسانے کا راوی اس کی شخصیت کے پردے میں قاری کو پیغام دینا چاہتا ہے کہ دنیا میں، دو لوگ غنی ہوتے ہیں ایک وہ جس کے پاس اپنی ضروریات کے لیے پیسا ہو اور دوسرا وہ، جس کو کسی چیز کی ضرورت ہی نہ ہو۔ ایک اور افسانہ ”پتھر دل“ کے نام سے اس کتاب میں شامل ہے۔ اس کے مصنف بھی اکبر لاہوری ہیں۔ اس میں دوستوں کی خود غرضی اور انسانی مایوسی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ”بنے چنے کے بھائی“ افضل احسن رندھاوا کی کہانی ہے جس میں خلوص، محبت اور بھائی چارے کو دکھایا گیا ہے۔ مذکورہ کہانی پنجاب کے زرعی سماج کی عکاس ہے جس میں ایک گھوڑی کی خرید و فروخت کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس دوران جو فریقین میں معاملات طے ہوئے اس میں پنجابی ثقافت کی مثبت اقدار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ صنعتی سماج میں اس طرح کے رویوں کو خواب میں بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔ ابا جی جس گھوڑی سے بھاری رقم کما سکتے تھے اسے انھوں نے معمولی قیمت پر چند اچکوں کے ہاتھوں فروخت کر دیا کیوں یہ زیادہ قیمت وصول کرنا ان کی اخلاقی اقدار کو زک پہنچاتا تھا۔ سماجی گراوٹ ان پیسوں کے نقصان سے زیادہ مہنگی تھی۔ ”کالی اینٹیں کالے روڑ“ انور علی کا افسانہ ہے جس میں انھوں نے تقسیم ہندوستان، مارشل لا کے حالات اور پاکستانی معاشرے کی بدلتی صورتِ حال کو پیش کیا ہے جس میں کمہاروں کی لڑکی، گھڑے، بھٹے والے اور ریل کی پٹڑی کی اینٹوں سے کہانی کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ ”چرخے کی موت“ حنیف باوا کا افسانہ ہے جس میں مائی جینو کے کردار کی چرخے سے محبت کو استعارہ بنایا گیا ہے۔ کنواں ہو یا چرخہ اس کے بغیر زرعی تہذیب نامکمل رہتی ہے لیکن اب نئی نسل صنعتی تہذیب میں داخل ہو چکی ہے جس کے باعث، اس کے لیے مذکورہ آلات بے کار ہیں۔ چودھری کرم دین کا بیٹا نئی نسل اور نئی تہذیب کا نمائندہ ہے اسی لیے اسے اب اس کی آواز اچھی نہیں لگتی اور وہ مائی جینو کے چرخے کو توڑ دیتا ہے۔ ”امن وقت ملیں گے“ افضل توصیف کا دل و دماغ کو گرفت میں لینے والا افسانہ ہے جس میں دو ملکوں کے فوجیوں کا المیہ دکھایا گیا ہے۔ دونوں ایک خطے، ایک تہذیب اور ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ملکی سیاست نے انھیں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ فوجی سپاہیوں کے المیہ پر اس سے بہتر کم ہی افسانے ملیں گے۔ ”سب کوڑا ہے“ فرخندہ لودھی کا ایک ایسا افسانہ ہے جس میں جنداں کے کردار کی داخلی اور خارجی صورتِ حال کو نمایاں کیا گیا ہے۔ جنداں کی سیاہ بختی میں اس کا کوئی قصور نہیں لیکن سماجی توہمات اور لوگوں کی اس کے بارے میں رائے اسے پاگل پن تک پہنچا دیتی ہے۔ معاشرہ عورت ذات کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے اس افسانے میں فرخندہ لودھی نے کمال مہارت اور فنکاری سے قاری کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ ”گہری شامیں“ نواز کا افسانہ ہے جس میں اس نے ایک لڑکی سے بچھڑنے کے منظر کو بیان کیا ہے لیکن جدائی کے لمحوں میں لڑکی جو ردِ عمل ظاہر کرتی ہے وہ بالکل انوکھا اور حیران کن ہے جس کی قاری توقع نہیں کر رہا ہوتا۔ اسے اگر رومانی افسانہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ”لفظوں کی موت“ پروین ملک کا افسانہ ہے جس میں جدید افسانے کے خد و خال نمایاں ہیں۔ اس افسانے میں انھوں نے تجریدیت کے عناصر شامل کیے ہیں۔ کہانی میں دو کردار سڑک کے کنارے پیدل چل رہے ہیں جو باپ اور بیٹا ہیں۔ وہ مناظر پر بات چیت کرنے کے بجائے محض دیکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ لفظ مر چکے ہیں اور مردہ لفظوں سے چیزوں اور مناظر پر بات نہیں ہو سکتی۔ اب دیکھنا ان کی ضرورت نہیں مجبوری بن چکی ہے۔ ”اکلاپے کا جنگل“ جمیل احمد پال کا افسانہ ہے جس میں ایک ایسا کردار دکھایا گیا ہے جو تنہائی کا شکار ہے۔ وہ اپنی تنہائی کو انٹر نیٹ پر چیٹنگ اور کتابوں کے مطالعہ سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کہانی میں آصف کے کردار کے ذریعے جدید دور کے انسان کے المیہ کو دکھایا گیا ہے۔ گھر والوں کے لیے وہ اس لیے اہم ہے کہ وہ ان کے لیے فائدے کی چیز ہے۔ اولاد کی تعلیم کا خرچہ، باورچی خانے کے اخراجات اور کئی دیگر اخراجات برداشت کرنے کی خاطر گھر والوں نے اسے قبول کیا ہوتا ہے۔ افرادِ خانہ نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ جو شخص گھر والوں کے لیے صبح سے شام تک فائلوں پر جھکا رہتا ہے، اس کے کچھ اپنے مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔ ”سانجھا درد“ محمد آصف خان کا افسانہ ہے جس میں میاں بیوی کے مابین رشتے کے خلوص کو دکھایا گیا ہے۔ وہ دکھ جو شادی سے قبل ذاتی تھے اب مشترکہ حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ ”گوتم کا گھر“ توقیر چغتائی کا افسانہ ہے جس میں انسانوں سے امن و امان اور محبت سے رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ خواہشات کی تکمیل کی خاطر جنگیں لڑنے سے کہیں اچھا ہے کہ خواہشات کو محدود کیا جائے۔ کہانی میں مذہبی رواداری اور مخالف نقطہ نظر کے احترام کا سبق دیا گیا ہے۔ خالد حسین تھتھال کی دو کہانیاں یہاں شامل ہیں۔ ایک ”سوکھا پیڑ“ جس میں ایک پیڑ کی مدد سے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح ہم اپنے بڑوں کی نشانیوں سے چمٹے رہ جاتے ہیں، جب کہ نئی نسل آ کر ان کو ختم کر دیتی ہے۔ یہاں فتح خان شیشم کے پیڑ کو اپنے باپ کی نشانی سمجھ کر اسے کاٹنے سے گریز کرتا ہے حالانکہ وہ سوکھ چکا ہے اور اس کی لکڑی بھی خراب ہو رہی ہے۔ کہانی کے آخر میں دکھایا گیا ہے کہ اس کا بیٹا اس پیڑ کو کاٹ دیتا ہے اور اس کی جگہ نیا پیڑ اگانا چاہتا ہے۔ دوسری کہانی کا عنوان ”نئی روشنی“ ہے جس میں بجلی کے آنے پر گاؤں والوں کے خدشات کو دکھایا گیا ہے۔ یہ انسانی جبلت ہے کہ وہ بجلی ہی نہیں ہر نئی چیز سے خوفزدہ ہوتا ہے لیکن بالآخر اسے استعمال کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ اس کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اس لیے نئی روشنی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس سے مستفید ہونا چاہیے۔ کتاب کے آخر میں زبیر احمد کی دو کہانیاں ”گزر گاہ جو ترک کر دی گئی“ اور ”وہ چپ شاہ نہیں تھا“ شامل ہیں۔ دونوں کہانیوں میں معاشرتی انتشار اور سماجی بے چینی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اوّل الذکر ایک ایسے راستے کی کہانی ہے جہاں سے اب لوگوں نے گزرنا اس لیے بند کر دیا ہے کہ وہ اپنے راہگیروں کی جان لے لیتا ہے۔ ثانی الذکر کہانی میں ایک صحافی کا حال بیان ہوا ہے جس نے اس ملک کو بگڑتے دیکھا ہے اور اب زندگی کے آخری دنوں میں اس کے دماغ میں کلوٹ آ گیا ہے اور وہ سچ بولنے لگ گیا ہے۔ اس کے خاندان اور ملک کی صورتِ حال ایک جیسی ہے جس پہ اب ہمدردی کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر سمیرا اکبر نے محنت اور لگن سے ان کہانیوں کو پنجابی سے اُردو میں ڈھالا ہے۔ کسی زبان سے کہانی جب دوسری زبان میں ترجمہ ہوتی ہے تو وہ اپنے ساتھ پوری ثقافت بھی لے جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے کہانیوں کا اردو ترجمہ کر کے نہ صرف پنجابی کہانیوں کے موضوعات کو اردو میں ڈھالا ہے بلکہ پنجابی ثقافت کی بھی ترجمانی کی ہے۔ نیز اردو زبان میں ڈھلنے سے ان کہانیوں کے قارئین کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ کہانی کاروں کے پیغام کو بھی وسعت ملی ہے۔ ترجمہ رواں اور عام فہم ہے اس میں کہیں بھی قاری کو قرات کے درمیان رکاوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ترجمہ شدہ ادب کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ترجمہ نگار کہانی کار کے مدعا سے دور چلا گیا ہے لیکن یہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ امید ہے کہ وہ اس تسلسل کو برقرار رکھیں گی۔


