سن رسیدہ بھنورا
دفتر سے واپسی پر اپنی سوچوں میں گم تیزی سے چلتی وہ گھر کی طرف گامزن تھی، دن بھر کی تھکا دینے والی تگ و دو کے بعد گھر جا کر ابھی کھانا بھی پکانا تھا، بچوں کو ہوم ورک بھی کروانا تھا، راستے سے انڈے اور سبزی بھی لیتے ہوئے جانا تھا۔ کوئی مزید چیز تو نہیں جو راستے سے خریدنی ہو، ایک مرتبہ گھر جا کر دوبارہ نہیں نکلا جاتا، یہی سوچتی اپنی دھن میں مگن جب وہ بینک کے پاس سے گزری تو ہر طرف گہما گہمی دکھائی دی، نئے سال کی آمد پر بازار میں کہیں بچے ماں باپ سے فرمائشیں کرتے نظر آ رہے تھے تو کہیں بیویاں شوہروں کو خریداری کے لیے زبانی رٹی ہوئی فہرست بتا رہی تھیں۔ اپنے لیے رستہ بناتے وہاں سے گزرتے ہوئے ان ملی جلی آوازوں میں ایک آواز آئی، چلو پزِا کھانے چلتے ہیں۔
وہ ذرا آگے بڑھی تو آواز دوبارہ کانوں سے ٹکرائی، وہ دل ہی دل میں مسکرائی کہ شاید کوئی گھر کا سربراہ اپنے اہلِ خانہ کو پزا کھلانے کی دعوت دے رہا ہے۔ اسی طرح تیز قدموں سے چلتے ہوئے اس نے دوہری سڑک پار کی، جہاں دونوں جانب سے گاڑیوں کی قطاریں رواں دواں تھیں۔ وہ ابھی چند قدم ہی آگے بڑھی ہو گی کہ اس آواز نے پھر پیچھا کیا کہ پہلے پزا کھا کر پھر ہوٹل چلتے ہیں۔ اب کی بار اس کے اندر کی عورت بھانپ گئی کہ مخاطب کوئی اور نہیں وہی کوتاہ نصیب ہے۔ اس کی خشمگیں نگاہ نے آواز کا پیچھا کیا تو خود سے کچھ فاصلے پر ایک معمر شخص کو دیکھ کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ وہ اپنے حلیے سے ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھتا سفید بالوں والا معتبر شخص معلوم ہوتا تھا۔
اس نے اپنے غصے پر قابو پایا اور لوگوں کے ہجوم میں تیزی سے آگے بڑھ گئی، چلتے چلتے پیشکش میں مزید اِضافہ کیا گیا کہ پہلے جتنی چاہو شاپنگ کرواؤں گا۔ اب کی بار اس کا غصہ عروج پر جا پہنچا لیکن اس نے خود پر قابو رکھا اور ایک شاپنگ مارٹ میں چلی گئی۔ اپنے اعصاب کو بحال کرتے ہوئے وہ ضرورت کی چیزیں خریدنے لگی، اسی دوران اچانک شیشے سے پار نظر پڑی تو وہ فون پر مصروف مارٹ کے دروازے پر نظریں جمائے دکھائی دیا۔ اب کی بار اس نے اپنے حلیے پر غور کیا کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیا اس کا حلیہ دعوتِ نظارہ دے رہا ہے، لیکن سر ڈھانپے، بڑی چادر میں لپٹے سراپے، میک اپ سے عاری چہرے نے اس شخص کو کیوں اپنی طرف متوجہ کیا، اس سوال نے مزید الجھا دیا۔
اس نے ٹھان لیا کہ اگر اب بھی اس نے پیچھا کیا تو اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر چڑھا دے گی تاکہ اس کے گھر والے بھی دیکھیں کہ بزرگوار باہر کیا کارنامے سر انجام دے رہے ہیں لیکن جانے کیا سوچ کر اس نے خریداری مکمل کی اور مارٹ کے باہر سکیورٹی گارڈ سے کوئی بات کرتے ہوئے کن اکھیوں سے دیکھا تو وہ ہڑبڑا کر وہاں سے تیز قدموں سے دور جاتا دکھائی دیا۔ شاید رسوائی کے ڈر سے الٹے قدم بھاگا تھا، ممکن تھا کہ کوئی دوسرا شکار تلاش کرتا۔ خیر، اس نے ان ڈرائیو منگوائی اور گھر کی راہ لیتے ہوئے سوچنے لگی کہ اس بظاہر شریف اور سادہ دکھائی دیتے شخص کو مناہی کاموں کی طرف بڑھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہو گی؟ وہ کون سی وجوہات ہو سکتی ہیں جو ایک معمر شخص کو وقار کی بلندیوں کو پسِ پشت ڈال کر پستیوں کی جانب دھکیل دیتی ہیں۔
ایسے میں ایک مرتبہ پھر معاشرتی اقدار، مذہب اور قانون پر بھاری پڑتی دکھائی دیں کہ جہاں ایک طرف بیوی کے مر جانے پر مرد کو اس لیے دوسری شادی کی اجازت نہیں ہوتی کہ بچے جوان ہیں، لوگ کیا کہیں گے، بڈھا اپنی شادی کا سوچ رہا ہے، چوزوں میں بلی لائے گا کیا، بس اب بچوں کا سوچے۔ ایک طرف یہی معاشرتی قانون بیوہ یا طلاق یافتہ افراد کے لیے بھی ہے۔ تو دوسری طرف اگر بیوی زندہ بھی ہے تو میاں بیوی کا ایک دوسرے کو وقت دینا مڈل کلاس طبقے میں عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ طرح طرح کے جملے کسے جاتے ہیں جس کی وجہ سے والدین کے مابین فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ جبکہ اولاد اپنی دنیا میں مگن سوشل میڈیا پر سرگرم رہتی ہے۔
دورِ حاضر کے انسان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاشرے میں پنپنے والی خودساختہ روایات کے پرچار کو پسِ پشت ڈال کر مذہب و قانون کی روشنی میں اپنے مسائل کا حل تلاش کریں۔ ڈیڈ ہارس تھیوری کے علمبردار نہ بنیں۔ اس نظریہ سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ کیسے لوگ حقیقت سے انکاری رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، شروع سے ہی مسئلہ کو تسلیم کرنے اور حل کرنے کی بجائے فضول کوششوں میں اپنا وقت اور محنت ضائع کرتے ہیں
معاشرے کی دیگر انسان دشمن روایات کے بارے میں سوچنے ہی لگی تھی کہ فون کی گھنٹی نے چونکا دیا اور فون اٹھانے پر بیٹے نے بتایا کہ کچھ مہمان آ رہے ہیں۔ آپ کب تک گھر پہنچ رہی ہیں۔ اب دیسی مفکر کی سوچ کے زاویے نے یو ٹرن لیا اور معاشرے کی خودساختہ روایات کی فہرست بنانے کے خیال کو آئندہ پہ ٹال کر مہمانوں کی آؤ بھگت کے لیے لوازمات کی فہرست ترتیب دے ہی رہی تھی کہ منزل آ گئی اور پھر وہ اپنی سلطنت کے اہم امور میں گم ہو گئی۔


