متبادل دیکھ بھال: ماں یا باپ کے بغیر بچوں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں


اکتوبر 2024 میں، میری پہلی ملاقات ڈاکٹر ایم اے صوفی فاؤنڈیشن لاہور کے توسط سے لاہور کے پانچ روزہ مطالعاتی دورہ پر صوبہ خیبر پختونخوا سے آئے والد کی اپنائیت سے محروم تقریباً ستر ( 70 ) بچوں سے ہوئی۔ یہ بچے ”متبادل دیکھ بھال کے گھروں“ سے باقاعدہ طور پر منسلک نہیں تھے بلکہ اپنی ماؤں یا قریبی رشتہ داروں کے ساتھ رہائش پذیر تھے، جبکہ ان کی تعلیم، صحت، اور دیگر ضروریات دونوں تنظیمیں (الخدمت فاؤنڈیشن، لاہور اور ڈاکٹر ایم اے صوفی فاؤنڈیشن، لاہور ) مشترکہ طور پر پوری کر رہی تھیں۔ اور پھر اگلے ماہ پشاور میں ہی الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت ایک ایسے تعلیمی مرکز، جو کہ صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا، وہاں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایسے بچوں سے ملاقات ہوئی جو دن بھر مختلف جگہوں پر محنت مزدوری کرتے تھے اور پھر شام کو تھوڑی دیر کے لئے پڑھنے کے لئے اس تعلیمی گھر میں آتے تھے۔

ان بچوں سے ملاقات کے بعد میں نے صوفی فاؤنڈیشن کے تعاون سے ہی لاہور، پشاور، چارسدہ، لوئر دیر، اور مانسہرہ وغیرہ میں قائم مختلف تنظیموں کے باپ کی شفقت سے محروم بچوں کے آغوشوں کو بھی دیکھنے کا موقع ملا، جہاں مقامی منتظمین اور بچوں سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔ میں ان تمام جگہوں کا جائزہ بطور ایک قانون اور عمرانیات کے طالب علم کے طور پر کرتا رہا۔ ان اداروں میں بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات، رہائش، اور دیگر انتظامات دیکھ کر خوشی ہوئی۔ لیکن کئی معاملات پر غور و فکر بھی ضروری محسوس ہوا۔ وہ کیا کہتے ہیں محسن بھوپالی کی زبان میں کہ:

ہماری جان پہ دہرا عذاب ہے محسن
کہ دیکھنا ہی نہیں ہم کو سوچنا بھی ہے

مجھے ان تمام ملاقاتوں میں ایک اہم کمی شدت سے محسوس ہوئی، اور وہ تھی بچوں کے لیے والد جیسی شخصیت کا فقدان۔ یہ بچے، جن کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا تھا، اکثر ایک ایسے سرپرست کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہیں جسے وہ باپ کہہ سکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان بچوں کی یہ کفالت گاہیں معاشرے کے لیے در دل رکھنے والوں افراد کے مالی تعاون کے بغیر بالکل نہیں چل سکتیں اور لوگ ایک کثیر رقم ان تمام بچوں کے ہمہ قسم کے اخراجات کے لئے دل کھول کر خرچ بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مالی امداد سے ان بچوں کی بنیادی ضروریات تو پوری ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی نفسیاتی، ذہنی اور جذباتی ضروریات ہرگز نہیں۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ مخیر حضرات ان بچوں کو صرف مالی امداد تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنے وسیع خاندان کا حصہ سمجھتے ہوئے ان بچوں کے ساتھ وقت گزاریں اور انہیں اپنی اپنائیت کا احساس بھی دلائیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 2009 کی قرارداد برائے ”متبادل دیکھ بھال“ اور 2019 کی قرارداد بچوں کی نگہداشت میں ادارہ جاتی نظام کی بجائے خاندان اور کمیونٹی پر مبنی ماڈلز کو فروغ دینے پر زور دیتی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق خاندانی دیکھ بھال کو ترجیح دینی چاہیے اور بچوں کو اپنے موجود والدین میں سے ہی کسی ایک کے پاس یا قریبی رشتہ داروں کے پاس رکھنے کی بنیادی کوشش ہونی چاہیے۔ کیونکہ خاندان معاشرے کا بنیادی عنصر ہے جو کہ بچوں کی نشوونما، بہبود اور تحفظ کے لئے قدرتی ماحول ہے، اس لئے کوششیں بنیادی طور پر بچے کو اپنے والدین یا قریبی خاندان کے افراد کی دیکھ بھال میں رہنے یا واپس آنے کے قابل بنانے کی طرف ہونی چاہئیں۔ مزید براں، ریاستوں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ان خاندانوں کو اس قسم کے بچوں کی بہترین دیکھ بھال میں مدد کے مختلف طریقوں تک رسائی حاصل ہو۔

اس کے علاوہ جہاں ممکن ہو، غیر رسمی دیکھ بھال (رشتہ داروں یا دوستوں کے ذریعے ) کو بھی ترجیح دی جا سکتی ہے۔ اور مسلم ممالک میں اسلامی تصور ”کفالت“ کے تحت ماں یا باپ کے بغیر رہنے والے بچوں کے لیے مستقل سرپرستی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ سب سے اہم بات جو ان قراردادوں میں ہے کہ ان میں کسی بھی جگہ ’یتیم یا آرفن‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے بلکہ ان کو ہر جگہ ”والدین کی دیکھ بھال کے بغیر بچے“ ہی لکھا گیا ہے۔

متبادل دیکھ بھال سے متعلق تمام فیصلوں میں اس بات کا مکمل خیال رکھنا چاہیے کہ بچے کو اس کی ماحول کے مطابق رہائش کے مقام کے قریب رکھنا بنیادی طور پر کتنا ضروری ہے تاکہ اس کے خاندان کے ساتھ رابطہ اور ممکنہ دوبارہ انضمام کو آسان بنایا جا سکے اور اس کی تعلیمی، ثقافتی اور سماجی زندگی میں خلل کو کم سے کم کیا جا سکے۔ خاندان کی دیکھ بھال سے بچے کو نکالنا آخری چارہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور جب بھی ممکن ہو، یہ عارضی اور ممکنہ طور پر سب سے کم مدت کے لیے ہونا چاہیے۔

ان بچوں کو اپنے خاندان کے افراد کی صورتحال کی معلومات تک رسائی بھی حاصل ہونی چاہیے۔ مقامی کمیونٹی میں بچوں اور دوسروں کے ساتھ رابطے کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ متبادل دیکھ بھال کی فراہمی کبھی بھی فراہم کنندگان کے سیاسی، مذہبی یا اقتصادی مقاصد کو آگے بڑھانے کے بنیادی مقصد کے ساتھ نہیں کی جانی چاہیے۔ بچوں کے اپنے مذہبی پس منظر کا احترام کیا جانا بھی بہت ضروری ہے، اور کسی بھی بچے کو اپنے مذہب یا عقیدے کو تبدیل کرنے کی حوصلہ افزائی یا قائل نہیں کیا جانا چاہیے۔

ہر ملک میں، متعلقہ حکام کو ایک دستاویز تیار کرنی چاہیے جس میں موجودہ ہدایات کے مطابق متبادل دیکھ بھال میں بچوں کے حقوق کا ذکر ہو۔ متبادل دیکھ بھال میں بچوں کو یہ سمجھنے کے قابل بنانا چاہیے کہ دیکھ بھال کے ماحول کے قواعد، ضوابط اور مقاصد کیا ہیں اور ان کے حقوق اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔ دیکھ بھال میں موجود بچوں کو ایک معروف، موثر اور غیر جانبدار طریقہ کار تک رسائی حاصل ہونی چاہیے جس کے ذریعے وہ اپنی تعلیم، علاج یا رہائش وغیرہ کے بارے میں شکایات یا خدشات کی اطلاع دے سکیں۔

متبادل نگہداشت کی خدمات کے انتظام کے بارے میں جامع اور تازہ ترین ریکارڈز رکھے جانے چاہئیں، جن میں ان کے زیر نگہداشت تمام بچوں کے تفصیلی فائلیں، ملازم عملہ اور مالی لین دین شامل ہوں۔ تمام ایجنسیوں اور محکموں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ملازمت سے پہلے، بچوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں آنے والے نگہبان اور دیگر عملے کی مناسب اور جامع جانچ پڑتال کی جائے۔

نگہداشت سے بعد کی دیکھ بھال میں منتقلی کا عمل بچوں کے جنس، عمر، پختگی اور خاص حالات کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے اور اس قسم کے فیصلوں میں ان بچوں اور ان کے خاندان والوں کی مکمل مشاورت اور مدد شامل ہونی چاہیے۔ نگہداشت چھوڑنے والے بچوں کو بعد کی دیکھ بھال کی زندگی کی منصوبہ بندی میں حصہ لینے کی ترغیب بھی دی جانی چاہیے۔ خصوصی ضروریات والے بچوں کو ایک مناسب مدد کے نظام سے فائدہ اٹھانا چاہیے، جس میں غیر ضروری ادارہ جاتی نظام سے بچنے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ عوامی اور نجی دونوں شعبوں کو، خصوصی ضروریات والے بچوں کے لیے ملازمت دینے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 38 کے تحت حکومت معاشرتی انصاف اور اقتصادی بہبود کی فراہمی کی پابند ہے۔ لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ حکومتی ادارے اکثر ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی مذکورہ قراردادوں میں ریاستوں پر زور دیا گیا ہے کہ ان بچوں کے لحاظ سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی ریاست اپنے شہریوں کی مدد کے بغیر کوئی نمایاں کام نہیں کر سکتی۔ اور حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اس قسم کے ادارہ جاتی نظام پنپتے ہی وہی ہیں جہاں ریاست یا کمیونٹی لیول پر ان بچوں کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام نہ ہو۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گود لینے کے قوانین (آڈاپشن لاز) کو بہتر بنایا جائے تا کہ ہر بچے کو خاندان کا تحفظ میسر ہو سکے۔ مقامی کمیونٹیز کو متحرک کیا جائے تا کہ ”والد یا والدہ کی دیکھ بھال کے بغیر بچوں“ کو معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جا سکے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اس سلسلے میں سماجی شعور اجاگر کیا جائے تاکہ لوگ کفالت گاہوں کی بجائے بچوں کو اپنے خاندان کا حصہ بنانے کی ترغیب حاصل کریں۔

ماں یا باپ کے بغیر بچوں کی فلاح و بہبود صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ان بچوں کو تعلیمی، نفسیاتی، اور سماجی حمایت فراہم کر کے ہی ہم اقوام متحدہ کی ہدایات پر عمل کر سکتے ہیں اور اپنے معاشرے کو ایک بہتر مستقبل دے سکتے ہیں۔ ان بچوں کے لیے ہماری محبت اور وقت ہی اصل سرمایہ ہے، جو انہیں اپنی پہچان اور خود اعتمادی دے سکتا ہے۔

Facebook Comments HS