مصنوعی ویڈیوز اور تصاویر۔ جدید دور کے سماجی قاتل


اے آئی سماج کے لئے خطر ناک ہتھیار بھی بن سکتا ہے

مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے فوائد اور ترقی کے باوجود، اس کے کئی نقصانات سامنے آرہے ہیں، خاص طور پر غیر متفقہ مباشرت امیجری (این سی آئی آئی) کے تناظر میں۔ اس مسئلے نے ہراساں کرنے کے کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال لوگوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

این سی آئی آئی ایسے مواد کو کہتے ہیں جو کسی کی مرضی کے بغیر اس کی مباشرت کی تصاویر یا ویڈیوز پر مبنی ہو۔ اس میں عریانی یا جنسی نوعیت کی واضح تصاویر شامل ہوتی ہیں، چاہے وہ حقیقی ہوں یا اے آئی کے ذریعے تخلیق کی گئی ہوں۔ یہ مسئلہ مشہور شخصیات سے لے کر عام افراد تک سب کو متاثر کر سکتا ہے۔ پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اکثر اس مسئلے سے موثر طریقے سے نمٹنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اے آئی ٹیکنالوجی نے ہراساں کرنے کے روایتی طریقوں کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ آج صرف ایک تصویر سے جنسی نوعیت کا واضح مواد تخلیق کرنا ممکن ہے جیسا کہ حالیہ دنوں میں ہم نے مریم نواز کی تصاویر پر سیاسی تنقید کے روپ میں دیکھا، لیکن یہ مصنوعی تصاویر کس طرح کسی عام آدمی یا عورت کی زندگی خراب کر سکتی ہیں یہ فحش تصاویر اور ویڈیوز سے دنیا بھر میں ہو رہا ہے اور نہایت خطرناک ہتھیار کی طرح اس ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ 2024 کے دوران، ٹیلر سوئفٹ کی جعلی تصاویر کا معاملہ نمایاں رہا، جس میں اے آئی کا غلط استعمال کیا گیا۔ یہ تصاویر chan 4 پر شیئر ہوئیں اور چند ہی منٹوں میں وائرل ہو گئیں، جنہیں لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ایک بار جب یہ مواد انٹرنیٹ پر آ جاتا ہے، تو اسے مکمل طور پر ہٹانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔

2021 کی ایک تحقیق میں یہ سامنے آیا کہ امریکہ میں 41 فیصد افراد کسی نہ کسی شکل میں آن لائن ہراسانی کا شکار ہوئے ہیں، جبکہ 35 سال سے کم عمر خواتین میں یہ تناسب 33 فیصد ہے۔ اسی طرح 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق، 95,000 ڈیپ فیک ویڈیوز میں سے 98 فیصد پورنوگرافی پر مبنی تھیں، اور 99 فیصد ہدف خواتین تھیں۔ نابالغ افراد اور LGBTQ کمیونٹی بھی اس مسئلے کا خاص شکار ہیں۔

اگرچہ اس سے مکمل تحفظ ممکن نہیں، مگر کچھ احتیاطی تدابیر اپنانے سے خود کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے :

·پروفائلز کو نجی بنائیں : انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر اپنے پروفائل کو پرائیویٹ رکھیں تاکہ صرف منظور شدہ افراد آپ کا مواد دیکھ سکیں۔

·غیر ضروری فالوورز کو ہٹائیں یا بلاک کریں : اگر کوئی پریشان کر رہا ہو تو اسے فوراً بلاک کریں یا اپنی پروفائل سے ہٹا دیں۔

یہ حقیقت کہ ہراساں کرنے کے کے واقعات میں بڑے پیمانے پر لوگ ملوث ہوتے ہیں، ہمیں یہ سمجھنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہراسانی کو روکنے کے لیے معاشرتی شعور ضروری ہے۔ کسی کے این سی آئی آئی کو شیئر کرنا بھی ہراساں کرنے کے زمرے میں آتا ہے، چاہے وہ مواد آپ نے تخلیق نہ کیا ہو۔

اگر آپ کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جو ہراسانی کا شکار ہے، تو ان کا ساتھ دیں۔ متاثرہ افراد کی حوصلہ افزائی کریں اور ایسے مواد کے پھیلاؤ کو روکنے میں کردار ادا کریں۔

مصنوعی ذہانت کی ترقی نے جہاں انسانیت کے لیے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں اس کے غلط استعمال نے کئی خطرناک مسائل کو جنم دیا ہے۔ این سی آئی آئی جیسے معاملات کا سامنا کرنے کے لیے تکنیکی، قانونی اور سماجی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ صرف اسی صورت میں ہم ایک محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل دنیا کا خواب پورا کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS