دوزخ نامہ: ناول، ٹائم مشین یا ادھڑی پھٹی دھرتی کا نوحہ


کیا تقسیم کے بعد برصغیر دوزخ بن گیا تھا؟ کیا 47 کی تقسیم 90 سال پہلے کے غدر کی ایکسٹنشن تھی؟ فتح تو کمپنی بہادر کی تھی ہی ہاں ہندو مسلم پھوٹ سے مزید آسان ہو گئی تھی۔ تقسیم کی اس کہانی کو کئی زاویوں سے فن میں مختلف اصناف میں پرکھا گیا ہے۔ عینی بی بی ہوں، انتظار حسین ہوں یا پھر نسیم حجازی۔ لکھنے والے اس واقعے کو عبرت بھی بنایا کیے ، اس سے سوال بھی اٹھایا کیے اور اس کو بیچ کر شہرت اور پیسہ بھی کمایا کیے ۔

ڈرامے، فلمیں، شاعری، نغمے، تھیٹر یہاں تک کہ رقص میں بھی تقسیم ہند کا عکس ڈال کر اس ٹراما کو پراسیس کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوزخ نامہ نام کی یہ کتاب بھی اک نئے پیرائے میں اسی کڑی کا حصہ بن گئی ہے۔ ہاں اک اور تقسیم بھی کر ڈالی ظالموں نے 1857 کے 114 اور 1947 کے 24 سال کے بعد ۔ کتنے ظالم ہیں یہ تاریخوں کے ہیر پھیر بھی۔ اتنا ہی ظالم اس کتاب کا مرکزی کردار، وقت بھی ہے۔ کتاب کے مصنف کا تعلق اسی دھرتی کے اس خطے سے ہے جس کا ایک بازو برصغیر کا تیسرا کٹا ہوا بازو ہے یعنی ہندوستانی بنگال۔

سرجن جسم کا وہ حصہ کاٹتے ہیں جو گل سڑ گیا ہو یا جس کی زندگی کی امید ختم ہو گئی ہو بلکہ زندہ حصے بھی اس کے ساتھ رہ کر موت کو پہنچنے لگیں۔ کیا برصغیر کے حصے بھی گلنے لگے تھے؟ کیا کاٹے بنا کوئی چارہ نہ تھا۔ زندہ حصوں کو جب کاٹا گیا اور وہ بھی بغیر بے ہوشی کی دوا کے تو کیسا غدر مچا؟ 1857 اور 1947 کے ادوار کے متعلق ان سوالوں کے کھرے جواب چاہیے تو پڑھ ڈالیے اس کتاب کو اور داد دیجیے مصنف ربی سنکربل اور مترجم انعام ندیم کو۔ مترجم کی خاص عنایت ہوئی کہ ان کی پوڈکاسٹ کے بعد دفتر میں ان سے دستخط شدہ مسودہ موصول ہوا۔

میں نہ تو نقاد ہوں اور نہ ہی ادیب ہوں۔ اک عام بلکہ انتہائی عام آدمی ہوں جو ہوش سنبھالنے سے لے کر اب تک کتاب اور فکشن سے دوستی کیے بیٹھا ہے۔ کام سائیکاٹرسٹ کا کرتا ہوں سو سانحات کا انسانی رویوں پر اثر دیکھنا شاید ذات کا حصہ بن چکا ہے۔ کتاب سے محبت اور سانحات کی وحشت کو سمجھنے کی جستجو اس فن پارے کو پڑھنے اور پھر رائے لکھنے کا موجب ٹھہری ہے۔ منٹو اور غالب کا قبروں میں لیٹے اور دوزخ میں بستے ہوئے یہ مکالمہ آج کل کے کئی زندہ لوگوں کے مکالمے سے زیادہ جاندار ہے بلکہ پونے دو صدیوں کے سیاسی و سماجی واقعات کا باکمال تجزیہ ہے۔

پونے دو صدیاں میں نے یوں کہا کہ آج کے حالات پہ بھی یہ مکالمہ تاریخیں اور جگہیں بدل کے فٹ بیٹھے گا۔ یہ تاریخی ناول، مکالماتی ناول یا سوانحاتی ناول ہے جیسی باتیں نقاد کریں گے۔ کہاں حقائق اور مصنف کا تخیل گڈ مڈ ہوتا یہ بھی بہت ضروری بات نہیں ہے۔ محمد سلیم الرحمن نے لکھا ہے کہ جہاں ربی سنکر بل کا تخیل بھی آیا ہے اس نے بھی غالب اور منٹو کی محبوبیت میں اضافہ ہی کیا ہے۔ آصف فرخی نے طویل مقدمے میں دونوں لیجنڈز کی اس ناول میں بنتی شخصیت کے مختلف زاویوں کو پرکھا ہے۔

ہمارا تو بھئی بت پرستوں کا علاقہ ہے۔ جو بھا جاوے اس کا بت ضروری ہو جاتا ہے۔ لاکھ ادب کے ٹھیکیدار نعرے لگائیں کہ فن کو دیکھو، فنکار کو نہیں پر ہم نہیں مان کے دیتے۔ کیسے نور جہاں کا گانا سنیں اور طلسماتی خاتون کے ہالے سے نظریں چرائیں۔ زیف بھائی کہتے کہ شاعر کی شخصیت و زندگی کو اس کی شاعری سے مکمل الگ کر کے دیکھو۔ کیسے دیکھیں کہ تمام نہ سہی پر بیشتر شاعری تو شاعر کی سوچ سے ہی جڑی ہوتی ہے جو اس کی زندگی سے بہرحال منسلک ہے۔

جو شخصیت اپنے عہد میں دیکھ لی اور اس سے مل لیے، اس کا بت ٹوٹ بھی جائے تو مضائقہ نہیں ہے۔ جس کو دور سے دیکھا یا یو ٹیوب ویڈیوز یا ٹیلیویژن پر دیکھا یا کچھ وقت اس کے عہد میں جیے تو بھی معاملہ بہتر نپٹ جاتا ہے۔ ان شخصیات سے بھی ریلیٹ کرنا آسان ہے جن کی رنگین تصاویر دیکھیں یا ان لوگوں سے مل لئے جنہوں نے براہ راست انہیں دیکھا ہے۔ مشکل ماضی بعید کی عظیم ہستیوں کے ساتھ ہوتی ہے جن کا نقش تو مٹا مٹا سا ہے پر کام وقت کے ساتھ ساتھ مزید چمک رہا ہے۔

غالب آخری کیٹیگری میں آتے ہیں۔ نہ ان کو خود دیکھا ہے اور نہ ہی کسی ایسے کو دیکھا جس نے ان کو دیکھا ہے۔ آصف فرخی کے کتاب میں دیے گئے مقدمے کے مطابق ”عام آدمی کے لئے غالب سیلولائیڈ کے پتلے، ہدایت کار گلزار اور اداکار نصیرالدین شاہ والے غالب سے زیادہ کچھ نہیں“ ۔ فلم والا گیٹ اپ، کچھ زبان زد عام شعر اور خطوط کے چست فقروں سے ہماری نسل نے غالب کا بت تراشا ہوا ہے اور پوج بھی رہی ہے۔ اس کتاب نے اس بت ہرجائی کی کچھ ادائیں اور خطوط بدل ڈالے ہیں۔

منٹو کا معاملہ الگ ہے۔ بے شمار سوانحی اور نیم سوانحی خاکے اور افسانے اور اپنا قبر کا کتبہ تک لکھ کر آنے والی نسلوں تک اپنا متنازعہ مگر متنوع امیج منٹو نے خود بنایا ہے۔ اس تنازع اور تنوع میں اضافہ ان لوگوں نے خوب کیا جن لوگوں کی منٹو سے سرسری ملاقات بھی رہی تھی۔ ڈاکٹر حسن منظر سے میری ذاتی ملاقات میں بھی منٹو پر بات ہوئی۔ ڈاکٹر حسن منظر کی منٹو سے کچھ دھندلی ملاقاتیں ان کے ذاتی عقائد اور اخلاقیات کے سٹینڈرڈز سے چھن کر منٹو کی اک تصویر بناتیں ہیں جن سے ہمیں کچھ اختلاف ہے۔ دوزخ نامہ میں منٹو اپنے خود کے بنائے امیج سے ہرگز بدلا ہوا نہ لگے۔

اس کتاب میں دو لیجنڈز کا مکالمہ دو عہود کو کور کرتا ہے۔ ایک کا پیک ٹائم اس کے عہد کے غدر سے پہلے تھا جبکہ دوسرے کی پیک اس کے عہد کے غدر سے کبھی منفی تو کبھی مثبت اثر پکڑتی رہی۔ جب معاشرہ زوال پذیر ہونے کی ڈگر پر چل پڑتا ہے تو زمان کا دائرہ بے معنی ہوجاتا ہے اور مکان کے ڈھے جانے کا منظر سالوں کے فرق سے بھی ایک سا ہی ہوتا ہے۔ کائنات کے تخلیق کار سے تو اصل غالب اور منٹو کی بھی گاڑھی نہ چھنتی تھی لہذا اس دنیا اور اس کے کرداروں کو چھوڑ کر ہم جو بھی بات کریں گے اب ربی سنکر بل کے تخلیق کردہ منٹو اور غالب کی کریں گے۔

اپنے اپنے زمانے کے غدر کو بھوگنے بعد دونوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اب ان کا اور معاشرے دونوں کا چل چلاؤ ہے۔ دونوں کے غدر میں اک فرق یہ تھا کہ ایک کہ بعد غلامی تھی پر جراحی نہ تھی۔ دوسرے کے بعد آزادی تھی (آج تک یہی خیال ہے ) مگر جراحی ایسی کہ ”مرہم ایس پاسے اور پھوڑا اوس پاسے“ ۔ فرنگیوں کا آ کر قبضہ جما کر مذہبی تقسیم کی بنیاد رکھنا زیادہ تکلیف دہ تھا یا واپس جاتے ہوئے اس مذہبی تقسیم کو معراج پر پہنچا کر دھرتی کو ادھیڑنا زیادہ گھناؤنا عمل تھا؟

اس سوال کو جھیلنا منٹو، غالب، مصنف، مترجم اور مضمون نگار سب کے لئے مشکل ہے۔ منٹو صاحب کا یہ مکالمہ ”مرزا وہاں نظام الدین اولیا کی درگاہ کے پاس سلطان جی کے قبرستان میں اور میں یہاں لاہور میں میانی صاحب قبرستان میں۔ کبھی یہ ایک ہی ملک ہوا کرتا تھا۔ زمین کے اوپر سرحدوں کی کتنی ہی خاردار تاریں لگی ہوں، زمین کے نیچے تو یہ ایک ہی ملک ہے، ایک ہی دنیا ہے۔ کیا کوئی مردوں کی آپس میں بات چیت پر بھی پابندی لگا سکتا ہے؟

“ اس درد کی عکاسی کرتا ہے جو شاید غلامی سے بھی بڑھ کے تھا۔ اس کیموتھراپی والا معاملہ ہو گیا تھا جو کینسر سے زیادہ صحت مند خلیوں کو مارتی ہے اور علاج کے بعد مریض کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوجاتی ہے۔ منٹو غالب سے بات کر کے اپنے افسانے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے کردار کی مانند لگتے کہ شاید ادھر کی دنیا سے مایوس ہو کر اس پار کی دنیا میں لیٹ کر یہ مسئلے کرنا چاہتے ہیں۔

کتاب کے تمام زاویوں پہ بات ممکن نہیں ہے۔ زمانے کی شورش پر فوکس کریں تو منٹو نے غالب کو یہ بتایا بھی کہ 1947 کے سامنے تو 1857 کچھ بھی نہ تھا اور اگر غالب ان کے عہد میں ہوتے تو خودکشی یا قتل میں سے ایک ضرور ان کا مقدر ٹھہرتا۔ ذاتی سطح پر تقسیم کا غم یوں بٹا کہ کچھ میل پر واقع قبریں دو مختلف ملکوں کے حصے میں آ گئیں۔ دو لیجنڈز کا خاندانی پس منظر اور مشکلات میں گھری ابتدائی بھی زندگی دلچسپ ہے۔ دونوں رندوں کے آغاز کی کہانی تو پیغمبروں کی کہانیوں جیسی مشکل تھی۔

واقعی کوئی خدا اوپر بیٹھا ہے جو سونے کو کندن بنانے کے مشن پہ ہوتا ہے۔ عائلی زندگی بھی دونوں کی مختلف اشکال میں مشکل تھی۔ غالب کے نکاح میں محبت کا فقدان تھا۔ مذہبی بنیاد پر بھی خلیج ہائل تھی۔ اور کچھ ہو نہ ہو شادی کو بچوں کی گلو جوڑے رکھتی ہے، وہ بھی نہیں تھی۔ تعلق بہرحال تھا اور اس میں جان بھی تھی۔ جہاں بھی غالب اپنی زوجہ ذکر کرتے رشتے کی نوعیت اور عقائد کے زندگی پر اثرات پر خفیف سا طنز ضرور ہوتا مگر ان کی سپورٹ کی عادت بھی تھی بہرحال غالب خستہ کو۔

غالب کی بے انتہا ذہانت، زندگی کے مصائب اور فرنگیوں کی در اندازیاں یہ سب عوامل ان وجودی سوالات کا باعث بنتے ہیں جو جگہ جگہ وہ خود اٹھاتے اور پھر ان کے جواب کے طور پر روحانی قصے کتاب کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ ویسے محنت اور سیلف ریلائنس والے کھیلوں سے زندگی کی بازی لڑنے کی بات کرتے ہیں مگر جگہ جگہ روحانی قصے بھی ٹانکتے جاتے ہیں۔ یہ بات شاید اصل غالب سے ناول کے غالب کو دور کر دیتی ہے۔ لاشعوری طور پر مصنف بھی شاید کچھ وجودی سوالات کا شکار تھے اور اپنے تراشے ہوئے حل غالب کی زبانی دہراتے رہے ہیں۔ غالب کا تصوف ہرگز ناول والے تصوف جیسا نہیں تھا۔ میر کے فین تو غالب تھے ہی مگر اتنے ہوں گے کہ منٹو سے ملاقات پہ بات بے بات میر کے شعر پڑھیں گے سوچا نہ تھا۔

دلی کو شاہجہاں کے نام سے ہی یاد کرنا اور اپنے آپ کو خدا کا برا خواب کہنا یہ دونوں باتیں ایک ہی باب ہیں شروع ہوتیں ہیں جہاں سے داغ بیل ڈلتی ہے آدمی اور شہر کے ارتقا کو سمجھنے کی یعنی زمانے کے ارتقا کو سمجھنے کی۔ دونوں لیجنڈز کا بچپن عام لوگوں سے مختلف تھا، ٹرامیٹک تھا اور بنیاد رکھی جا رہی تھی شروع سے ہی مشکل زندگی کی بھی اور فن کو کندن کرنے کی بھی۔ کام دونوں کا کتنا مختلف تھا پر مسائل ملتے جلتے تھے۔

دونوں کو جوانی میں ہی اندازہ ہو گیا کہ ان کی شہرت بعد از مرگ ہی ہوگی۔ دونوں کا معاشرہ بھی ان کی جوانی میں ہی میں شورش زدہ ہو گیا تھا۔ اس شورش کا بہت اثر رہا ان کی معاشی، عائلی، فنی اور روحانی زندگی پر۔ غدر اور تقسیم بغیر ٹائم لائن کے ساتھ ساتھ گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔ غدر کے بعد کی زندگی کو ادھر غالب ڈسکریڈٹ کرتے نظر آتے تو ادھر عصمت بھی تقسیم کے بعد اپنے دوست کے خطوط کا جواب نہیں دیتیں۔ غدر کے بعد زندگی کا چلن کیا رکھنا ہے، غالب کے ہاتھ میں زیادہ تھا نہیں۔ تقسیم کے بعد لکیر پار کرنا یا نہ کرنا شاید منٹو کے ہاتھ میں تھا۔ تھا؟ جو ماحول بن گیا تھا اور جو روزگار کے حالات ہو گئے تھے کیا منٹو کے ہاتھ میں کچھ تھا؟ وہ مرضی سے آئے تھے کہ عصمت ان سے ناراض ہو گئی تھیں؟ عصمت نہ آ کر فائدے میں رہیں؟

گرل فرینڈ رکھنے کا رواج غالب کے زمانے میں تو ہرگز نہ تھا۔ شاعر کو شاعری کے لئے زمیں اور زن دونوں درکار ہوتی ہیں۔ طوائفوں سے سخت قسم کا تعلق دونوں لیجنڈز کا رہا۔ اب اس تعلق میں جسم اور روح کہاں گڈمڈ ہوتے، پتا نہیں چلتا ہے۔ منٹو کے دوست سمجھتے تھے کہ منٹو رنڈیوں سے جنسی تعلقات نہیں رکھ سکتے تھے۔ اس پہ ہم کیا قیاس کریں مگر ان عورتوں کی نبض پر منٹو کا ہاتھ ضرور تھا۔ اس بات پر بھی ہم قائل کہ دونوں طوائف کے جسم کے پار روح کو ضرور دیکھتے تھے۔

مقروض ہونے کی اور معاشی معاملات کو ہینڈل کرنے کی داستان بھی کچھ ملتی جلتی سی دونوں لیجنڈز کی۔ اک صدی کا وقفہ بھی معاشرے کو اس قابل نہ بنا سکا کہ وہ بڑے فنکار کی قدر کرے اور اس کی محنت کرنے کی کپیسیٹی کی شناخت کر کے معاشی آسودگی کے حصول کو آسان کرسکے۔ غالب کا قرض چکانے کے واسطے مزید قرض لے کر سرکار سے مذاکرات کے لئے کلکتہ کا سفر بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ عام آدمی بھی سفر کو وسیلہ ظفر بنا ڈالتا تو جینیس کے سفر کے تو کیا ہی کہنے۔

سفر کے دوران بیماری لکھنؤ لے گئی اور پھر کاشی کا قیام۔ فرنگیوں کی تقلید میں بنارس نہ کہہ پائے اس شہر کو ہمارے اونچی ناک والے مرزا۔ قرض کی ادائیگی غالب کو شہروں شہروں گھمایا کی تو اسی خوف نے منٹو کو بھی پروڈیوسروں اور پبلشروں کے آگے خوار کرایا۔ انیسویں صدی کی اقدار نے غالب کو کافی وقت بچائے رکھا کہ وارنٹ ہو بھی تو شرفا کو گھر سے گرفتار نہ کرنے کا چلن تھا سو غالب دبک کے گھر میں بیٹھے رہتے تھے۔ معاشرے کے چلن کی تو بہت بات کی ہم نے مگر فنکار انتہائی ذاتی سطح پر بھی معاشی حالات بہتر کرنے کے لئے جو کرتا ہے، کئی دفعہ اس کو خود سے نفرت کرا دیتا۔ بادشاہ کی مدح اور تاریخ کا شاہی ورژن لکھنے پر خود کو خواجہ سرا سمجھنا اک فنکار کے لئے کس قدر تکلیف دہ رہا ہو گا۔ اسی طرح بوتل اور باقی خرچوں کے لئے اوسط اور ادنی درجے کے سکرپٹ لکھتے ہوئے منٹو کا ضمیر بھی کچوکے تو ضرور لگاتا ہو گا جن کی تکلیف کو وہ مزید شراب پی کر کم کرتے ہوں گے ۔

مقدموں کی بھی خوب رہی دونوں لیجنڈز کے ساتھ۔ منٹو کے افسانوں کو پہلے متنازع اور پھر فحش قرار دے کر جرمانے اور سزائیں تقسیم سے پہلے بھی اور بعد بھی۔ عدالتوں کا نظام آج جیسا ہی تھا سو سینیٹی کی توقع عبث سمجھیے۔ ڈاکٹر حسن منظر سے 6064 اور 65 میں کی ملاقاتوں میں یہ موضوع زیر بحث آیا۔ اعلی پائے کے افسانہ نگار اور سائیکاٹرسٹ ہوتے ہوئے بھی وہ منٹو کے افسانوں اور کچھ جملوں پر معترض تھے کہ وہ اس وقت کے نوجوانوں میں بگاڑ کا باعث تھے۔

چلو اس طبقۂ فکر کی بات کرلی رجسٹر مگر مقدمے چلا کر تخلیق کار کے قد کو کم کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ مقدمے غالب پر بھی چلے تھے۔ غدر سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ پولیس اور جج سے دونوں لیجنڈز کا واسطہ پڑتا رہا تھا۔ کچھ مورل پولیسنگ کے واسطے دونوں کی بیویاں موجود تھیں۔ امراؤ بیگم اور صفیہ بیبی میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ شاید ہر ٹیپیکل گھریلو بیوی میں ہوتیں۔ یا شاید ہر فنکار کی بیوی میں ہو جاتیں فنکار کو سہ سہ کر اور اس کے ساتھ شادی کو چلا چلا کر۔

دونوں اس پل کی مانند تھیں جو فنکاروں کو دنیا اور آخرت کے تقاضوں سے جوڑے ہوئے تھا۔ کبھی کبھی فنکار اور بوتل کے بیچ میں بھی آنے کی ناکام کوشش کرتی تھیں۔ امراؤ بیگم کے پاس مذہب تھا اور صفیہ کے پاس بیٹیاں اور اقدار تھیں۔ ان معاون اداکاراؤں کو دیوداس کی پارو کے طور پر دیکھنا یا چندرمکھی کے طور پر یہ ہر قاری کی اپنی صوابدید پر ہے۔ ویجنتی مالا نے بھی تو معاون اداکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ منٹو کو افسانہ نگار اور غالب کو شاعر بنائے رکھنے میں اگر باہر کی عورتوں کے کردار مسلم تو گھر کی خواتین کو بھی کم نہیں گردانا جا سکتا۔ کیسے زمانہ، فنکار اور بیوی کا ٹرائی اینگل زندگی کے چلن کو متعین کرتا، یہ کتاب اس کی اچھی تصویر کشی کرتی ہے۔

”یہ محض ہندوستان کی تقسیم نہیں تھی، یہ دوستی کی تقسیم بھی تھی“
”میرے لیے دلی کی موت ادب اور اخلاق کی موت تھی“
”اسی لیے امید کو بھی حلال گوشت کی طرح ذبح کر دینا چاہیے“

اس کتاب کو سب اپنے انداز سے برتیں گے۔ کوئی پسندیدہ شاعر و افسانہ نگار کے امیج سے لطف لے گا۔ کسی کو خطے تاریخ کتاب کی سطور سے پھوٹتی محسوس ہوگی۔ کوئی مکالمے کی فارم پر سر دھنے گا۔ اپنی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے ہمیں تو اس کتاب میں فرنگیوں کے قبضے کے پہلے، دوران اور بعد کے دکھ اور کسی حد تک نا امیدی کی نیم مکمل تصویر دکھی۔ تارڑ صاحب کی بات کہ ”شہر مذہب بدلتے ہیں، کلچر نہیں“ کتنی درست لگتی ہے کہ جب کسی دھرتی کے کلچر اور مزاج کو بدلنے کی کوشش زبردستی کی جائے تو وہ بل فائٹنگ والے بیل کی طرح بے نتھی ہو جاتی ہے۔ سونامی نظر نہیں آتا مگر مکینوں کو ہلا کر تباہی کے دہانے تک پہنچ دیتا ہے۔ مبارک ہو مصنف کو اور مترجم کو کہ ہمیں یاد دلایا کہ ہم اس ادھڑی پھٹی دھرتی پر بنجی جمپنگ کر رہے ہیں جس پر زندگی ان لوگوں کی بھی مشکل تھی جو اس کو پرکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کچھ زیادہ ہی رکھتے تھے۔

Facebook Comments HS