سُرخ خندق (افسانہ)
میں محمد ابتسام حسن! تیرہ سال مسلسل درگاہوں پہ مانگی گئی دعاؤں کا ثمر۔ چاچا جی جو میرے ابو جی کو اپنی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بیٹوں کی طرح عزیز تھے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے میرے سگے والدین سے بڑھ کر مَنتیں مان رکھی تھیں۔ اس کے علاوہ دادی جی، امی جی، ابو جی کو جس کسی نے جو نسخہ، ٹوٹکا، دَم دارو بتایا انھوں نے من و عن وہی کیا۔ اور پھر ایک دن سجدے
Read more

