فلسطینی ورلڈ لٹریچر ایوارڈ کی کہانی
میں بے حد جذباتی ہو جاتی تھی۔ اپنی بے حد فعال، متحرک، صحت مند اور تندرستی جیسی نعمت سے گزاری گئی زندگی کو یکسر بھول جاتی تھی۔ اور قدرت کے اس اصول کی نفی کر رہی تھی کہ صبح کے بعد شام اور رات کے بعد سحر کا طلوع ہونا کائنات ربی کا اصول ہے۔ پتہ نہیں کیوں میں خصوصی توجہ کی مستحق بننا چاہتی تھی۔ کیوں؟ کیوں؟ جیسے سوالیہ نشان بالک ہٹ دھرمی کی تصویر پیش کر رہے تھے۔
ایسے ہی یاس بھرے دنوں میں ایک پیغام میرے موبائل کی سکرین پر جگمگایا تھا۔ یہ سمان افشاری Samanch Afshari کی طرف سے تھا کہ آپ اپنے پاسپورٹ کی کاپی فوراً بھیجیے دو ہفتے بعد آپ کو بغداد میں منعقد ہونے والی The Palestinian World Literature Award کی تقریب میں شامل ہونا ہے، جہاں آپ اپنی کتاب ”لہو رنگ فلسطین“ پر بات کریں گی۔ جیسے مرے کو مارے شاہ مدار والی بات ہوئی تھی۔ بیڈ پر لیٹی سوچتی تھی کہ خدا کی نوازشات کے رنگ بھی کتنے نرالے ہیں؟ تقریباً دہ ماہ قبل جب ابھی اس ناگہانی آفت کا دور دور تک نام و نشان تک نہ تھا۔ جہلم بک کارنر کے امر شاہد کی طرف سے پیغام ملا تھا کہ چند عرب ممالک نے (The Palestinian World Literature Award) کے لئے ایک تنظیم بنائی ہے جو فلسطین پر لکھے گئے لٹریچر کو اکٹھا کر رہی ہے۔ آپ کو کچھ لوگ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس نے اطہر رسول حیدر کا نمبر دیا۔ جس سے بات ہونے پر اس نے مجھے تنظیم کی غرض و غایت اور ممبران سبھی کی تفصیل بھیج دی۔ ان میں ایرانی نوجوان (سمان افشاری ) Samanch Afshari کا نام تھا۔ اور وہی میری کھوج کر رہا تھا۔ کتاب کی پی ڈی ایف فوراً بھیجنے کو کہا گیا۔ لیجیے اس بھیجنے بجھوانے کے چکروں سے نپٹ کر بیٹھ گئے اور بغداد کے خواب دیکھنے لگے۔ گو میں 2008 میں عراق جا چکی تھی مگر اب ایک نئے رنگ میں وہاں جانا اور اس سارے منظر نامے کا حصہ بننے میں جس قدر کشش تھی اس کا تو کوئی جواب ہی نہ تھا۔ اور اب بیڈ پر لیٹی آنکھوں میں امنڈتی برسات کو برسنے سے روکنے پر کتنے پہر تنبیہ کرتی نیرنگی زمانہ پر حیران تھی۔
اپنا کوئی نمائندہ Substitute بھیج دوں۔ اب صورت حال سے انہیں اطہر رسول کے ذریعے مطلع کیا۔ جہاں سے معذرت کے ساتھ کہا گیا کہ ”نہیں۔ مصنف کا ہونا ضروری ہے“ ۔ خیال تھا کہ اگر کہیں انعام مل جاتا ہے جو 60,000 ہزار ڈالر پر مشتمل تھا تو اسے فلسطین فنڈ کے لیے دے دیتی۔ مگر یہ سب تو مقدر کی باتیں تھیں۔
انہی دنوں میں ایک دوپہر بڑے بیٹے کے نٹ کھٹ شیطان سے لونڈے دونوں میرے پاس آ کر بیٹھے۔ ان کے چہروں پر پھیلی افسردگی اور مایوسی میرے لئے قدرے تعجب انگیز تھی۔ ایک لمحے کے لیے مجھے خیال آیا کہ کہیں یہ میری وجہ سے تو ملول نہیں۔ پر اگلے لمحے مجھے زور کی ہنسی آئی۔ ”واہ ری خوش فہمی، صدقے جاؤں تیرے، جواب نہیں تیرا بھی، یہ نئی نسل اتنے احساس والی کہاں سے ہو گئی؟
پوچھا پتہ چلا کہ 20 بیس دسمبر کو اُن کی مع اپنے والدین آسٹریلیا کے لیے فلائٹ تھی۔ اور اب میری بیماری کی وجہ سے ان کا باپ روانگی ملتوی کروانے کا سوچ رہا ہے۔ چھوٹا والا لمبی چوڑی کہانیاں سنانے لگا تھا کہ دو سال قبل بھی اُن کا ویزہ کینسل ہو گیا تھا۔ اندر خانے مفہوم کچھ یہی تھا کہ دادو اب تمہاری وجہ سے ہمارا پروگرام غارت ہونے جا رہا ہے۔ مجھے غصہ نہیں آیا کہ اپنے بچپن میں ہم بھی اپنے کسی پروگرام کے کھٹائی میں پڑنے پر بڑا جزبز ہوتے تھے۔ اس کا کارن اگر گھر کا کوئی معمر فرد ہوتا تو پھر سمجھ لیں اس کو زیرِ لب صلواتیں سُنانے کی تو برسات ہو جاتی۔ تسلی دی کہ ”گھبراؤ نہیں۔ ارے اگر مرنا ورنا ہوتا تو اوپر والے نے یہاں تک کاہے کو لانا تھا۔ اب بچ بچاؤ ہو گیا ہے۔ ہاں پُتری دادی کی وجہ سے تمہارے پروگرام میں کوئی کھنڈت نہیں پڑے گی۔ باقی تمہارے بھاگ۔ دانہ چُگنا ہے اور پانی پینا ہے تو پھر جانا ہی جانا ہے“۔
یہ میری نسل کی دوسری پیڑھی ہے خالص محبتوں میں بڑی ملاوٹیں شامل ہو گئی ہیں۔ تیسری پیڑھی کے بارے میں تو ویسے ہی مشہور ہے کہ ”پَڑ پیا تے ساکھ گیا“ یعنی تیسری نسل پر رشتہ ختم۔
تو فیملی کو 20 بیس دسمبر کو بھیج کر خدا کا شکر ادا کیا کہ مولا نے شرم رکھ لی۔ وگرنہ دادی نے ہی مورد الزام ٹھہرنا تھا۔
اب اپنے دل کے بار بار ڈاکٹرز ہاسپٹل میں کیس کروانے پر متاسف ہونے کا کیسے نہ کہوں۔ بارہ لاکھ روپے کی بھاری رقم دے کر بھی اگر ایسی تکلیف سے گزرنا مقدر تھا تو پھر حکومتی کارڈیالوجی میں پرائیویٹ طریق پر بھی تو یہ کام کروایا جاسکتا تھا۔ باقی رقم کسی ضرورت مند کے کام آ سکتی تھی۔ یہاں جس معیار کی توقع تھی وہ تو نصیب نہ ہوا۔
اور جب میں پہلے چیک اپ کے لیے اسپتال جا رہی تھی میں نے خود سے پوچھا تھا۔ ”مجھے یہ سب باتیں ڈاکٹر سے کرنی ہیں یا انہیں پی جانا ہے“ ۔ سچ تو یہ ہے کہ میرا جی چاہتا تھا اپنی ساری اخلاقیات اٹھا کر چولہے میں جھونک دوں۔ تہذیب و شائستگی کا جو چولا اوڑھے ہوئے ہوں اُسے تار تار کردوں۔ اپنا سارا دکھ، اپنی ساری اذیت کو ننگا کر کے دکھا دوں۔
فائدہ؟ بے بسی سے پُر ایک اعتراض نے جس سفاکی سے کہا اُس نے آنکھوں کو پانیوں سے بھر دیا تھا۔
”فائدے اور نقصان کے چکر میں مت اُلجھو۔ کہہ دو جو کہنا چاہتی ہو۔ تمھارا کیتھارسس ہی ہو جائے گا“ میرے اندر نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں دلداری سی کی۔
سرجن خالد حمید کے والد شاہد حمید انگریزی سے اردو میں ترجمہ نگاری کے جس بلند ترین مقام پر فائز تھے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اپنے کام سے انہیں جو عشق رہا اس نے انہیں ادب کے اس شعبے میں انفرادیت دی۔ وہ بہت قابل استاد اور بلند نظر ادیب تھے۔ خالد حمید اسی باپ کا بیٹا ہے جو ملک کا جانا مانا سرجن ہونے کے ساتھ نیک نام بھی ہے۔ ہفتہ کا ایک دن اس کے شیڈول میں غریبوں کے لئے مخصوص ہے۔ ڈاکٹرز ہسپتال کا کارڈیک سیکشن کلی طور پر ڈاکٹر خالد حمید کے پاس ہے۔ ایسے میں عمر رسیدہ مریضوں کے لیے تھوڑا سا ریسرچ ورک ہونا ضروری سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے لیے بہتر اور ذمہ دار عملے کا تعین ازحد ضروری ہے۔ عملے کی لاپرواہیوں، پھرتیوں اور بھلکڑ پنے کی تو میں خود عینی گواہ تھی۔
دکھ اور یاس کا اندوہناک احساس میرے شریر کی ہر رگ اور ورید میں اُتر گیا۔ میرے اندر نے فوراً کہا تھا۔ ”شکر کرو وہ ایک انتہائی قابل سرجن ہے۔ یہ پیشہ ورانہ مہارت اور قابلیت بھی بس اسی نسل تک ہے۔ آنے والے کل میں نہایت نکمے ڈاکٹروں کی فوج ظفر موج آ رہی ہے“ ۔
اب آنکھیں برسنے لگی تھیں۔ ایسا ہی ہے۔ میرے ملک کو کس کی نظر کھا گئی؟ یہ تو عروج کی سیڑھیاں بڑی رفتار سے چڑھ رہا تھا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں کا میو اسپتال اپنے ڈاکٹروں اور اپنی بہترین انتظامی پالیسیوں کی بنا پر قابل مثال تھا۔
اور جب میں رندھے ہوئے لہجے میں باتیں کرتی تھی۔ ڈاکٹر خالد میرے پاس کھڑے سنتے تھے۔
”میں تو آرام اور سُکھ کے لیے یہاں آئی تھی۔ کیا جانتی تھی کہ کیا لے کر جا رہی ہوں؟ آپ کی پیشہ ورانہ عظمتوں کو میرا سلام ہے کہ اس اوپن ہارٹ سرجری کا تو پتہ ہی نہیں چلا، پر آپ کی انتظامی صلاحیتوں پر اعتراض ہے مجھے۔ “
”یہ Bedsores ہیں۔ میں انگلینڈ میں دس سال رہا ہوں وہاں بھی ایسا ہو جاتا تھا“ ۔
”آپ کی بات کو جھٹلانا تو ممکن نہیں۔ تاہم اگر یہ بیڈ سورز بھی ہیں تو کیا انہیں دیکھنا، ان کا نوٹس لینا اور ہمیں گائیڈ کرنا ضروری نہیں تھا۔ وہ علاج جو پندرہ دن بعد شروع ہوا وہ فی الفور ہو جاتا۔ مریض کی اذیت میں کمی ہو جاتی۔ نہیں ڈاکٹر مان جائیے“ ۔
آج ایک ماہ اور دس دن گزر گئے ہیں۔ صبح و شام اور دوپہر بیٹی اور بہو کی زخموں کی دھلائی اور مرہم پٹی جیسے تکلیف دہ مراحل جن میں اُن کا دھیرے دھیرے Dead ہوئے گوشت کو اُتارنا شامل ہے۔ مجھے وہ اس شہزادی کی طرح محسوس ہوتی ہیں جو کہانی کے شہزادے کے جسم سے سوئیاں نکالتے نکالتے ادھ موئی سی ہو گئی ہیں۔ سوچتی ہوں میری کلّی صحت کا شہزادہ کب آ کر ان شہزادیوں کو اس کشٹ سے آزاد کرے گا۔
یہاں میں اپنے عزیزوں، اپنے دوستوں، اپنے پڑھنے والوں، اپنے پیاروں کی محبتوں اور دعاؤں کے لئے ان کی شکر گزار ہوں۔ ہاں ان میں ایک ایسی ہستی بھی ہے جس کی شخصیت کا ایک ایسا روپ میرے سامنے آیا جس نے مجھے حیرت زدہ کر دیا۔
یہ وجاہت مسعود اور تنویر جہاں ہیں۔ وجاہت فون پر تھے۔ بیماری کی تفصیل سن کر بے حد متفکر لہجے میں پوچھتے تھے۔ آپا آپ کے پاس کون ہے؟ دیکھ بھال کیسے ہو رہی ہے؟ رات کو کوئی انتظام ہے؟ پوری تفصیل جان کر انہیں تسلی ہوئی۔ ایسے محبتوں والے لوگ اس نفسا نفسی کے دور میں کہاں ہیں؟ بہت دعائیں اور پیار آپ سب کے لیے۔ خدا آپ سب کو سدا تندرست رکھے آمین۔


