ڈیپ سیک اور ایل ایل ایم: ترقی پذیر ممالک کے لیے مواقع، لیکن پاکستان پیچھے کیوں؟
پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ”ڈیپ سیک“ (DeepSeek) ماڈلز کا تذکرہ ایک ہاٹ ٹاپک بن چکا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس موضوع پر ہمارے یہاں بھی کافی لوگ بات کر رہے ہیں، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم نے اس انقلابی ٹیکنالوجی سے کس حد تک فائدہ اٹھایا ہے؟
دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اوپن سورس ماڈلز جیسے ڈیپ سیک اور ایل ایل ایم (Large Language Models) نے ان ٹیکنالوجیز کو پہلے سے کہیں زیادہ قابل رسائی اور استعمال کے لائق بنا دیا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہو سکتا ہے کیونکہ ان ماڈلز کی مدد سے یہ ممالک اپنے مسائل کو حل کرنے اور نئے مواقع پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کی ترقی اور استعمال میں کہاں کھڑے ہیں؟ پاکستان میں اس شعبے میں کوئی خاص پیشرفت کیوں نہیں ہو رہی؟ ہم نے کس حد تک اس ٹیکنالوجی کو اپنایا ہے اور اس کے فائدے اپنے معاشی، تعلیمی اور صنعتی شعبوں میں کس طرح شامل کیے ہیں؟
یہ وقت ہے کہ ہم اس پر غور کریں کہ AI کی اس نئی لہر کو اپنانے کے حوالے سے ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے یا جنریٹیو اے آئی اور اوپن سورس ماڈلز کو استعمال کر کے اپنے ملک کو اس تبدیلی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) اور جنریٹو AI (GenAI) ٹیکنالوجی کے میدان میں جہاں ترقی یافتہ ممالک سبقت لے رہے ہیں، وہاں ترقی پذیر یا تیسری دنیا کے کئی ممالک بھی AI کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے اور عالمی مسابقت میں حصہ لینے کے لیے اہم پیشرفت کر رہے ہیں، لیکن پاکستان بدقسمتی سے اس میدان میں پیچھے رہ رہا ہے۔
اگر ہم تیسری دنیا کے دوسرے ممالک کو دیکھیں تو ہر ملک اس نئی جدت کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے اور حکومتی سطح پر وہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس سے وہ ان ماڈلز کا استعمال کر کے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ رہے ہیں۔
بھارت:
بھارت اس وقت تیسری دنیا کے ممالک میں AI اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے زیادہ متحرک ملک ہے۔ National AI Strategy: 2018 میں بھارت نے ”AI for All“ پالیسی کا اعلان کیا تاکہ AI کو تعلیم، صحت، زراعت، اور سمارٹ شہروں میں شامل کیا جا سکے۔ حکومت نے AI ریسرچ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ بھارتی حکومت AI کی مدد سے زراعت میں پیداوار بڑھانے اور کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے۔
بھارت نے ایک قومی منصوبہ بھاشانی پراجیکٹ شروع کیا جو AI کی مدد سے بھارتی زبانوں کے لیے زبان کی رکاوٹ ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
بھارت میں ہزاروں AI اسٹارٹ اپس کام کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، Wadhwani AI زراعت میں AI کا استعمال کر رہا ہے، اور Niramai AI کی مدد سے چھاتی کے سرطان کی تشخیص کر رہا ہے۔
سب سے اہم یہ کہ بھارت میں AI پر توجہ دینے کے لیے IITs اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں خصوصی کورسز اور ریسرچ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔
برازیل :
برازیل نے جنوبی امریکہ میں AI اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔
برازیل کی حکومت نے AI ریسرچ کو فروغ دینے کے لیے 2021 میں ایک جامع پالیسی National Artificial Intelligence Strategy متعارف کرائی۔
برازیل نے جنریٹو AI کی مدد سے عوامی صحت کے مسائل جیسے زیکا وائرس کی پیش گوئی اور قابو پانے میں کامیاب تجربات کیے۔
ایمیزون کے جنگلات کی حفاظت کے لیے AI ماڈلز تیار کیے گئے ہیں جو ڈیفارسٹیشن اور جنگلاتی جرائم کی نگرانی کرتے ہیں۔
ملک بھر میں AI کے لیے ریسرچ سینٹرز اور انوویشن حب بنائے گئے ہیں۔
ایتھوپیا اور نائیجیریا:
ایتھوپیا جیسے ترقی پذیر ممالک بھی AI کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں۔
زراعت میں AI کی مدد سے کسانوں کو زمین کی نوعیت اور فصلوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
حکومت نے ڈیجیٹل تعلیم کے لیے AI پلیٹ فارمز بنائے ہیں، جو اسکولوں میں تعلیم تک رسائی کو بہتر بنا رہے ہیں۔
ایتھوپیا جیسے ممالک کے لیے چیلنجز کے باوجود حکومت AI کو ڈیجیٹل معیشت میں ضم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
اسی طرح نائیجیریا میں AI کو صحت، فنانس، اور تعلیم کے میدان میں انقلابی تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش:
Digital Bangladesh Initiative جیسا منصوبے کے ذریعے بنگلہ دیشی حکومت صحت اور تعلیم میں AI کو استعمال کرنے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ گارمنٹس انڈسٹری میں AI کی مدد سے پیداوار کی کارکردگی کو بہتر کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
جب کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے حکومتی سطح پر کوئی واضح پالیسی یا حکمت عملی موجود نہیں۔ دیگر ممالک میں حکومتیں خود ایسے منصوبوں کی قیادت کرتی ہیں یا ان کے لیے سرمایہ فراہم کرتی ہیں، لیکن پاکستان میں یہ پہلو نظرانداز کیا گیا ہے۔
پاکستان کے تعلیمی ادارے بھی AI اور ML کی تحقیق میں زیادہ متحرک نہیں ہیں۔ جہاں دوسرے ممالک میں یونیورسٹیاں ان ٹیکنالوجیز کے لیے ریسرچ سینٹرز قائم کر رہی ہیں، پاکستان میں ایسے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
پاکستان میں انٹرنیٹ تک محدود رسائی، تربیت یافتہ ماہرین کی کمی، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فقدان بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو غربت، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، صحت کے مسائل، اور حکومتی نا کارکردگی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز کو حل کرنے کے لیے وسائل کی کمی ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ لیکن Deep Seek جیسے اوپن سورس ماڈلز ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کم لاگت، زیادہ موثر اور تیز رفتار حل فراہم کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے موقع ہے کہ ہم AI کی مدد سے زراعت، صحت، اور تعلیم میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ AI پر سرمایہ کاری ملکی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کر سکتی ہے۔
پاکستان میں صحت کے شعبے کو بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں، جیسے ڈاکٹروں کی کمی اور دیہی علاقوں میں سہولیات کی عدم دستیابی۔ ڈیپ سیک جیسے ماڈلز کو مریضوں کی طبی تاریخ کا تجزیہ کرنے، بیماریوں کی تشخیص، اور دور دراز کے علاقوں میں ٹیلی میڈیسن کی خدمات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ڈیپ سیک اور ایل ایل ایم جیسے ماڈلز کو تعلیمی مواد کی تیاری اور ترجمے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسے پاکستان میں بہت سے بچے اردو یا علاقائی زبانوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، لیکن جدید تعلیمی مواد زیادہ تر انگریزی میں ہوتا ہے۔ اوپن سورس ماڈلز کا استعمال کر کے تعلیمی مواد کا اردو میں ترجمہ اور موضوعات کی وضاحت کی جا سکتی ہے، تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم مل سکے۔
پاکستان میں معیشت زیادہ تر زراعت پر منحصر ہے، لیکن یہاں کے کسان جدید تکنیک سے محروم ہیں۔ مصنوعی ذہانت ماڈلز کے ذریعے کسانوں کو موسم کی پیش گوئی، فصلوں کی بیماریوں کا پتہ لگانے، اور پانی کے موثر استعمال کے بارے میں مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ یہ ماڈلز زراعت میں انقلاب لا سکتے ہیں۔
اوپن سورس ٹیکنالوجیز نے startups کے لیے دروازے کھول دیے ہیں۔ کم لاگت والے ایل ایل ایم ماڈلز کا استعمال کر کے یہاں کے نوجوان ایپلیکیشنز، ڈیجیٹل سلوشنز، اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ ملک کی معیشت کو بھی بہتر بنائے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ
وہ مصنوعی ذہانت اور اوپن سورس ماڈلز کو اپنانے کے لیے ایک جامع پالیسی تشکیل دے اور اس کے لیے فنڈز مختص کرے۔
یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت کے خصوصی ریسرچ سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ مقامی مسائل کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جا سکے۔
پاکستان کے اسٹارٹ اپس کو اوپن سورس ماڈلز کے ذریعے نئے حل فراہم کرنے کے لیے مواقع دیے جائیں، اور ان کی رہنمائی کی جائے۔
عام لوگوں اور نوجوانوں میں AI اور ML کے استعمال کے بارے میں آگاہی اور تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ خود اس میدان میں کام کرنے کے قابل بن سکیں۔
جہاں دیگر ترقی پذیر ممالک، جیسے ایتھوپیا، نائیجیریا، اور بنگلہ دیش، اوپن سورس ماڈلز کو اپنا کر اپنے مسائل حل کر رہے ہیں اور معیشت کو مضبوط کر رہے ہیں، وہیں پاکستان کو بھی اس دوڑ میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان نے اب بھی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو ہم صرف دیکھنے والوں کی صف میں رہ جائیں گے، جبکہ دنیا ہم سے آگے نکل جائے گی۔
ٹیکنالوجی کے انقلاب میں شامل ہونے کا وقت اب ہے، ورنہ ہم کل صرف پچھتا سکیں گے۔


