پڑوس سے ہی کچھ سیکھ لیں
پاکستان، بھارت اور چین عمر کے لحاظ سے ہم عمر ممالک ہیں۔ چین اور بھارت اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا میں سب سے بڑے ہیں۔ چین پاکستان اور بھارت سے 2 سال عمر میں چھوٹا لیکن معاشی اعتبار سے اس وقت دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ نو آبادیاتی نظام میں معاشی استحکام کی اہمیت کو جتنے بہتر انداز سے چین نے سمجھا ہے خطے میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ 1948 تک بدترین خانہ جنگی کا شکار رہنے والے ملک کو آج جب دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو ہر کوئی انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔ چین دنیا کا واحد ملک ہے جس نے مختصر سے عرصے میں 80 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال کر دنیا میں ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وہ اس وقت اپنے ملک کی تقریباً ڈیڑھ ارب کی آبادی کو خط غربت سے دور لے گیا ہے۔ چین اس وقت 3.2 کھرب امریکی ڈالرز کا مالک ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔ چین کی اس عالمگیر کامیابی کی وجہ صرف معاشی اور سیاسی استحکام کے ساتھ طے شدہ پالیسیوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔
نو آبادیاتی صف بندی کے دوران 1949 میں چین کے اندر کمیونسٹ انقلاب آیا اور کئی سو سال سے چلی آ رہی بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔ چین نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ انہوں نے اپنے ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہے۔ جمہوریت، شخصی آزادی، عیاشی اور سیاسی الجھنوں سے دور رہتے ہوئے یک جماعتی نظام کے تحت انہوں نے یہ کام کر دکھایا۔ اس وقت 145 کروڑ کی آبادی میں سے چین میں صرف 8 کروڑ لوگوں کو سیاست کرنے کی اجازت ہے وہ بھی صرف ایک ہی جماعت کی چھتری تلے۔ اس جماعت کا حصہ بننے کے لئے کوئی بھی چینی شہری درخواست دے سکتا ہے لیکن شامل کرنے یا درخواست رد کرنے کا اختیار پارٹی کے پاس ہے۔ شامل ہونے والے شخص کو کس ریاستی عہدے پر لگانا ہے اس کا فیصلہ بھی وہی پارٹی کرتی ہے۔ کرپشن کے معاملے میں چین میں کوئی معافی نہیں ہے اور کرپٹ افراد کو وہ پھانسی پر لٹکانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ دنیا بھر کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے انتہائی آسان اور بہترین مواقع پیدا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہر چینی شہری اس سے مستفید ہو کر خود کو امیر سے امیر تر کر سکتا ہے۔ لیکن۔ جس کمپنی کا کاروبار اچھا چل جائے تو اس کی تمام تر فیصلہ سازی میں کمیونسٹ پارٹی کے نمائندے کا ہونا بھی ضروری ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے نمائندے کے آنے کے بعد عموماً فیصلہ سازی کے تمام اختیار اس کے پاس چلے جاتے ہیں۔
دوسرا ہمارا ہمسایہ بھارت ہے جو اس وقت دنیا میں سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت بن رہا ہے۔ انہوں نے پچھلے چند سالوں میں معاشی میدان میں بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بھارت میں اس وقت 170 ارب پتی افراد موجود ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ ارب پتی افراد رکھنے والے ممالک میں بھارت کا تیسرا نمبر ہے۔ ہمارے ساتھ ہی آزاد ہونے والا انڈیا 1990 تک پاکستان سے معاشی طور پر کہیں پیچھے تھا۔ 1993 میں بھارت اور پاکستان کے پاس دو دو ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے۔ بھارتی عوام اپنے حکمرانوں کو کوستی تھی کہ ہم سے چھ گنا چھوٹے ملک کے پاس ہمارے جتنی دولت ہے جو ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے نیشنلائزیشن کے بدترین تجربے کے باوجود پاکستان معاشی طور پر بھارت سے آگے تھا۔ اگر بھٹو ملکی صنعت کو ہتھیانے والا تجربہ نا کرتے تو 1990 میں پاکستان اس وقت کا ایشین ٹائیگر ہوتا۔ 1993 میں منموہن سنگھ وزیر خزانہ بنے تو بھارت کی اقتصادی اصلاحات کے بانی بن گئے۔ منموہن سنگھ نے اپنے ملک کے کاروباری افراد سے مل کر معیشت کو پٹری پر چڑھا دیا۔ اسی وجہ سے انہیں بھارتی عوام نے آئندہ دس سال اپنا وزیر اعظم چن کر اپنی قسمت سنوار لی۔ منموہن سنگھ کی اقتصادی پالیسیوں کو نریندر مودی نے بھی بدترین سیاسی اختلافات کے باوجود گزشتہ دس سال سے جاری رکھا ہوا ہے۔ حکومتوں کے بدلنے یا سیاسی اختلافات نے ان کے اقتصادی پلان کو ذرا سا بھی متاثر نہیں کیا۔ ہمارے پاس خدا خدا کر کے 16 ارب ڈالر کے ذخائر ہوئے ہیں تو ہم لڈیاں ڈالنے میں مصروف ہیں جبکہ بھارت کے پاس اس وقت 644 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے پچھلے تیس سال میں درجنوں کروڑ افراد کو غربت کی لکیر کے نیچے سے نکالا ہے۔ وہ اس وقت آئی ٹی کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ انہوں نے اپنی مقامی صنعت اور زراعت کو عروج پر پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ بھارت نے معیشت کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کو بھی برقرار رکھا۔ طرح طرح کے تجربات، آئین شکنی اور اداروں کے آپسی تصادم سے بچ نکلنے میں کامیاب ہونا ہی بھارت کی اقتصادی کامیابی کی اہم وجہ ہے۔
جبکہ بدقسمتی سے ہم آج تک نا جانے کن کن تضادات کا شکار ہیں۔ ہمیں مغلوں جیسی بادشاہت کا شوق بھی ہے اور افریقیوں جیسی آمریت کا جنون بھی۔ ہم چین جیسی معاشی ترقی بھی چاہتے ہیں اور مغرب جیسی جمہوریت بھی۔ ہم اسلامی نظام بھی چاہتے ہیں اور ملائشین ماڈل سے بھی متاثر ہیں۔ دبئی جیسی شان و شوکت بھی ہمیں درکار ہے اور امریکہ جیسی مادر پدر آزادی بھی۔ ہم اتنے تضادات کا شکار ہوچکے ہیں کہ سہیل وڑائچ صاحب نے ہمارا نام ہی تضادستانی رکھ دیا ہے۔
1956 کے آئین پر ہمارا اتفاق ہوا ہی تھا کہ ہمیں اس میں کیڑے نظر آنا شروع ہو گئے۔ اس کو توڑ کر 1962 میں نیا تجربہ کر لیا۔ ہمارا متفقہ فیصلہ تھا کہ جمہوریت کے بغیر ہمارا گزارا ہی نہیں لیکن 1970 تک ہم نے باقاعدہ کوئی شفاف الیکشن ہونے ہی نہیں دیے۔ خدا خدا کر کے الیکشن کروائے تو ہماری اناؤں نے دو بھائیوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ پاکستانی عوام کو بھٹو کی شکل میں اپنی رہنمائی نظر آنے لگی تو ہم نے اسے راستے سے ہٹا کر ہی دم لیا۔ بے نظیر بھٹو نے سیاسی تربیت پا لی تو اس سے بھی ہماری نا بنی۔ اس کے مقابلے میں ہم نے نواز شریف کو پیدا کر کے توازن قائم کرنا ضروری سمجھا۔ 1985 سے 1999 تک ان دونوں کے درمیان اقتدار کی آنکھ مچولی جاری رہی تو ہمیں پھر اس سسٹم کو لپیٹ کر ان دونوں سے جان چھڑانے میں اپنی عافیت نظر آئی۔ ایک عشرے کی جلاوطنی نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر میثاق جمہوریت پر مجبور کیا تو ہمیں وہ بھی پسند نا آیا اور ہم نے اسے باریاں لگانا قرار دے دیا۔ ہمیں ایک نیا تجربہ کرنے کا شوق پیدا ہو گیا الگ بات ہے کہ وہ بھی بعد میں ایسا گلے پڑا کہ اب پوری دنیا میں وہی ہمارا تماشا بنائے ہوئے ہے۔ جمہوریت ابھی آئی ہی تھی کہ ہم نے ان دونوں کا متبادل تیسرا تلاش کر لیا۔ پوری قوم کو باور کروایا کہ پہلے تو سب چور لٹیرے تھے آپ کا مسیحا تو بس یہی ہے۔ ملکی سیاست میں کچھ استحکام کی وجہ سے معیشت نے ابھی ہلکی سی اڑان پکڑی ہی تھی کہ ہم نے چین سے ملتے سی پیک کو سبوتاژ کر کے نا جانے کس کو خوش کرنے کے لیے پالیسیوں کا رخ یکسر ہی موڑ دیا۔
2018 میں عوام نے جنہیں ووٹ دیا ہم نے انہیں قبولیت نا بخشی اور 2024 میں بھی ہم نے مقبولیت کا بت قبولیت کے ہتھوڑے سے توڑنے میں توانائیاں خرچ کر کے ملک میں نیا ہیجان اور بحران پیدا کر دیا۔
2018 کے بھٹکے ہوئے ہم ابھی تک دوبارہ سنبھلنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ اس وقت ہم دوبارہ فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہمارا آج کا فیصلہ ہماری منزل کا تعین کرے گا۔ ایک طرف چین کے ساتھ چل کر سی پیک کی بحالی کا کڑوا گھونٹ ہے جسے پینے سے ہماری معیشت کو لگی بیماریاں دور ہونے کی امید ہے لیکن خطرہ یہ ہے کہ امریکہ کی ناراضی جیسی خارش بھی ہمارے گلے پڑ سکتی ہے۔ سی پیک کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ ہے۔ امریکہ کو راضی کرنے کے چکروں میں پہلے ہم مسلسل 4 سال سی پیک کو بند کر کے اپنی معیشت کا کباڑا کرچکے ہیں۔ اب اگر ہم کسی تذبذب کا شکار ہوئے تو اس کا ازالہ ناممکن ہو جائے گا۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہونا، ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔


