تہی دست


جامی بھائی کے کتاب کی رسمِ اِجرا تھی اور میں ٹریفِک جام میں بُری طرح پھنس گیا تھا۔ بڑی مُشکل سے گُلو خلاصی ہوئی۔ نتیجتاً جب میں اُردو ہال پہونچا کافی دیر ہو چُکی تھی۔ جب میں ہال میں داخل ہُوا تو جلسہ شُروع ہو چُکا تھا۔ مجھے بہت پیچھے بیٹھنے کے لئے سِیٹ مِلی۔ ڈائس پر محترمہ زینت ساجدہ صاحبہ اور پروفیسر سراج الدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی نئے صاحب جِنھیں میں جانتا نہ تھا تقریر کر رہے تھے۔ چہرے پر ہلکی داڑھی آنکھوں پر چشمہ لگائے دِھیمے انداز میں بات کر رہے تھے۔ شعری مجموُعہ سے زیادہ وہ جامی بھائی سے اپنے تعلقات پر گُفتگو کر رہے تھے۔

اُنھیں افسوس تھا کہ گردِشِ دوراں کا شِکار ہو کر وہ اُردو ادب سے بھی دُور ہو گئے تھے اور جامی بھائی سے تعلُقات کی ڈور بھی اُنکے ہاتھ سے چُھوٹ گئی تھی۔ بیس سال بعد اب بھی وہ مُسافِر کی طرح حیدرآباد آئے تھے۔ دُور سے میں اُن کی شکل پہچاننے میں ناکام رہا تھا۔ میں غور سے اُن کی تقریر بہت دیر تک سنتا رہا اور اُن کی آواز میرے ذہن میں گُھومتی رہی کہ یہ صاحب آخر کون ہیں۔ کیونکہ اُن کی آواز بہت جانی پہچانی لگ رہی تھی۔ آخر کار اُن کی آواز نے اُن کی شخصیت کا راز کھول دیا۔ اچانک غیر اِختیاری طور پر میرے منہ سے نِکل گیا ارے یہ تو واجِد بھائی ہیں۔ میں حیران رہ گیا اُنھیں یہاں دیکھ کر۔ اِس شخص کی تلاش ہمارے خاندان میں کِتنے لوگوں کو تھی۔ اِس شخص نے کِتنے لوگوں کے دِل دُکھائے تھے۔ کِتنوں کے دِل توڑے تھے لیکن یہ شخص خُود معصُوم اور مظلُوم تھا۔ اِس کا دِل خُود ٹُوٹا ہوا تھا۔ اُس پر کوئی فِردِ جُرم عائد نہیں کی جا سکتی تھی سِوائے بے حِسی، خُودّاری اور اَنا کے۔ کِسی نے اِس شخص کا دِل بڑی بے رحمی سے توڑا تھا ساتھ ہی اپنی ہی بیٹی کا دِل بھی انجانے میں روند دِیا تھا۔ وہ کوئی اور نہیں خود میرے مرحُوم والِد تھے۔ اُنکے فیصلے پر ہم سب کراہ اُٹھے تھے، حیران تھے۔ لیکن کُچھ کر نہیں سکتے تھے۔ اُنکے آگے کِسی کو بولنے کی ہمّت نہیں تھی کہ اُن کا رعب و دبدبہ ہی ایسا تھا۔

جلسہ کے بعد میں نے واجِد بھائی کو بہت تلاش کیا۔ لیکن وہ نہیں مِلے پتہ چلا کہ وہ جلسہ کے اِختتام سے پہلے ہی جا چُکے تھے۔ جامیؔ بھائی سے پُوچھنے پر پتہ چلا کہ اک زمانہ میں وہ اُن کے شاگرد تھے۔ لیکن پھر ایسے غائب ہوئے کہ زمین کھا گئی یا آسمان۔ اب بھی اُنہوں نے خُود جامیؔ بھائی سے رابطہ کیا تھا اور اُن کا پتہ کسی کو بھی نہیں معلُوم۔ جامیؔ بھائی نے مُجھ سے دریافت کِیا کہ تم واجِد کو کیسے جانتے ہو۔ میں نے بتایا کہ وہ چچّی ماں مرحُوم کے رشتہ کے بھائی کے لڑکے تھے۔ اُنکے پاس اُن کا آنا جانا تھا، اور جب سے وہ رُوپوش ہوئے تب سے ہمیں اُن کی تلاش تھی جو کہ لاشعوُری طور پر اب بھی جاری ہے۔

واجِد بھائی کا دُنیا میں کوئی نہ تھا۔ والدین کا اِنتقال ہو چُکا تھا۔ اُن کی والدہ بھی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ ننھیال میں بھی جہاں تک ہمیں معلُوم تھا اُن کا کوئی رِشتہ دار نہ تھا۔ چچّی ماں اکثر دعوتیں کیا کرتی تھی جِن میں واجِد بھائی کو بھی مدعو کیا کرتی تھیں۔ اُن دِنوں واجِد بھائی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اُن کے والد نے شاید اچّھا خاصہ پیسہ پیچھے چھوڑا تھا، وہ انجینئرِنگ کالج کے ہاسٹل میں رَہا کرتے تھے۔ جب وہ دعوتوں میں آتے تو خُوب محفلیں جمتیں۔ دعوت میں اکثر دو گُروپ ہوتے ایک بڑوں کا اور ایک نوجوانوں کا۔ میں اور احمد دونوں دس اور بارہ سال کے تھے، کسی بھی گُروپ میں فِٹ نہ ہوتے تھے لیکن گھُس پِٹ کر نوجوانوں کے گُروپ میں شامِل ہو جاتے۔

بڑی آپا کی شادی ہو چُکی تھی باقی تینوں بہنیں اور چچّا جان کی دونوں بیٹیاں کنواری تھیں۔ یہیں اِنھی دعوتوں میں حریم باجی اور واجد بھائی ایک دُوسرے کو پسند کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ پسندیدگی محبت میں اور پھر محبت چاہت میں بدل گئی۔ یہ بات صرف نوجوانوں کے گُروپ کو معلُوم تھی۔ بڑے اِس سے ناواقِف تھے۔ اِس محبت میں نہ عہد و پیمان تھے نہ خط و کِتابت تھی۔ ڈھکی چُھپی کوئی بات نہ تھی۔ سارا گُروپ واقف تھا اور کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ زندگی یُونہی گُزر رہی تھی کہ ایک سانحہ ہو گیا۔ کم از کم میں تو اُسے ایک سانحہ ہی کہوں گا۔ بڑی آپا کے سُسرال والوں نے راحت آپا کو اپنے ایک بیٹے کے لئے پسند کر لیا۔ ابّا کو اِس رشتہ سے کوئی اعتراض تو نہ تھا لیکن وہ دو بڑی بیٹیوں کو چھوڑ کر سب سے چھوٹی بیٹی کی شادی کے لئے تیار نہیں تھے۔ اِس لئے اُنھوں نے بات ٹالنے کی بہت کوشش کی، لیکن اُن لوگوں کا اصرار بڑھتا گیا۔ اُس کا اثر بڑی آپا کی زندگی پر بھی پڑنے لگا۔ مجبوُراً راحت آپا کی شادی بڑی آپا کے دیور سے ہو گئی۔ ابّا باقی دو لڑکیوں کی شادی کے لئے بہت فِکر مند ہو گئے۔ سال ڈیڑھ سال کی بہت تگ و دَو کے بعد وہ منجھلی آپا کی شادی کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اب وہ حریم آپا کی شادی کے لئے فِکرمند ہو گئے۔ کیونکہ اُن کا ریٹائرمنٹ بھی قریب آ رہا تھا اور ہاتھ بھی کُچھ تنگ ہو چلا تھا۔

دونوں شادیوں میں اندازہ سے زیادہ پیسہ خرچ ہو گیا تھا۔ منجھلی آپا کی شادی کے چھ ماہ بعد واجِد بھائی نے چچّی ماں کے ذریعہ حریم آپا کے لئے رشتہ بھیج دیا۔ چچّی ماں نے کہا کہ رِشتہ طے کر دیتے ہیں۔ واجِد کی تعلیم ختم ہونے پر شادی کر دیں گے۔ واجِد بھائی نے ابھی انجینئرنگ کے تیسرے سال میں قدم رکھّا تھا اور ابھی اُن کی تعلیم کے تین سال اور باقی تھے۔ لیکن وہ حریم باجی کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔ نوجوانوں کے گُروپ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لڑکا گھر کا تھا اور مُستقبِل بھی خوش آئند تھا۔ بس وقت کی بات تھی۔ ہم لوگ اِس اُمّید میں تھے کہ کسی بھی دِن واجِد بھائی اور حریم باجی کا رسم ہو جائے گا۔ لیکن سب کی توقعات کے خِلاف ایک بھونچال آ گیا۔

ابّا نے رشتہ رد ّکر دیا۔ اُنہوں نے کُھلے عام کوئی وجہ نہیں بتائی۔ سُننے میں آیا کہ ابّا تین سال کے لئے ٹھہرنے کے لئے تیّار نہیں تھے۔ بڑی آپا اور منجھلی آپا نے واجِد بھائی کی حِمایت میں بات بھی کی لیکن ابّا راضی نہیں ہوئے۔ چچّی ماں کو بھی دُکھ ہوا کہ اُن کی بات خالی گئی۔ کُچھ دِن میں بھونچال تھم گیا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ جیسے کچھ ہُوا ہی نہیں لیکن اب محفلوں میں پہلے جیسی رونق نہ رہی۔ واجِد بھائی نے تو آنا بالکل ہی کم کر دیا۔ کبھی کبھار چچّی ماں سے آ کر مِل لیتے اور بہت اِصرار کرنے پر کسی دعوت میں سرسری طور پر چلے آتے۔ نہ وہ پہلے سی محفلیں، نہ بذلہ سنجی نہ لطیفے نہ قہقہے۔ حریم باجی بھی بہت خامُوش رہتیں۔ اُن کی چاہت اِک ان کہی کہانی تھی۔ یہ جذبات کی کہانی تھی، جِسے لفظوں میں ڈھالا نہیں جاسکتا تھا۔ صِرف جذبات تھے جو محسُوس کیے جا سکتے تھے۔ باجی کے جذبات مجرُوح ہو چکے تھے، روندے جا چُکے تھے۔ اُن کا دِل ٹوٹ چُکا تھا۔ ہم اُن کا درد سمجھ سکتے تھے لیکن کُچھ کر نہیں سکتے تھے۔

ابّا جان نے بہت کوشش کی لیکن باجی کا کہیں رشتہ جم ہی نہیں رہا تھا۔ کِسی کو لڑکی پسند نہیں آتی تو کِسی کی مانگیں اِتنی زیادہ تھیں کہ ابّا کی اِستطاعت کے باہر تھیں۔ یُونہی تِین سال بِیت گئے۔ وقت گُزر گیا، حالات وہیں کے وہیں رہے۔ واجِد بھائی کی تعلیم ختم ہو گئی۔ وہ جاب کرنے لگے۔ پھر ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا، ابّا جان نے ہار مان لی اور حریم آپا کے لئے واجِد بھائی کے رِشتہ کے لئے راضی ہو گئے۔

چچّی ماں نے واجِد بھائی سے پھر بات کی۔ واجِد بھائی نے فوراً کوئی جواب نہیں دیا بلکہ چچّی ماں سے کچھ وقت مانگا۔ نوجوانوں کے گُروپ میں یہ اُمید بندھ گئی تھی کہ بہت جلد واجِد بھائی حامی بھر لیں گے اور بِالآخر یہ شادی ہو جائے گی اور کُچھ دِن ہلّہ گُلّہ رہے گا۔ لیکن پتہ نہیں کیا ہُوا واجِد بھائی نے چچّی ماں سے معذرت کرلی اور رِشتہ سے اِنکار کر دیا۔ اُنہوں نے ایک خط کے ذریعہ چچّی ماں کو لِکھا کہ اب بہت کچھ بدل چُکا ہے۔ وہ تِین سال سے ہزیمت اُٹھاتے رہے ہیں۔ گھاؤ اِتنے گہرے ہیں کہ مندمِل نہیں ہوسکتے۔ ہم دونوں میں کوئی عہد و پیمان نہ تھے۔ اَب تو فاصلے بہت بڑھ گئے ہیں۔ سب پر اِس خلافِ توقع بات پر بجلی سی گِر گئی، خصوصاً ابّا جان کو ذہنی جھٹکا لگا مگر وہ سہ گئے۔ اُنہیں یقین نہیں ہو رہا تھا کہ سامنے کا بچّہ اُن کی بات کو رد ّکر دے گا۔ حریم باجی نے کوئی ردِّ عمل ظاہر نہیں کیا۔ یہ ایک طرح سے اُن کی بے عِزّتی تھی۔ لیکن وہ چُپ چاپ یہ وار سہ گئیں۔ کِسی سے کُچھ نہ کہا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ کُچھ کہنے کو باقی نہ تھا۔ واجِد بھائی نے کوئی گُنجائش نہیں چھوڑی تھی۔

پانچ چھ مہینے ایسے ہی گُزر گئے۔ پھر ایک دِن پتہ چلا کہ واجِد بھائی لاپتہ ہو گئے۔ بہت دِن سے وہ کسی کو دِکھائی نہ دیے تھے۔ نہ ہی کسی سے رابطہ کیا تھا۔ نوکری لگنے کے بعد وہ ایک فلیٹ کرایہ پر لے کر رہ رہے تھے۔ وہاں جا کر دریافت کیا تو پتہ چلا کہ ایک مہینہ ہُوا وہ فلیٹ خالی کر کے جا چُکے ہیں۔ نہ فلیٹ کے مالِک کو نہ چوکیدار کو کِسی کو بھی معلُوم نہ تھا کہ وہ کہاں گئے ہیں۔ بہت تلاش ہُوئی۔ جہاں جہاں اِمکان تھا وہاں ڈُھونڈا گیا۔ مگر سب بے سُود رہا۔ لاشعُوری طور پر اُن کی تلاش آج تک جاری تھی کہ آج وہ اُردو ہال کے جلسہ میں بیس سال بعد جھلک دِکھلا کر غائب ہو گئے۔ اب پتہ نہیں پھر کبھی نظر آئیں گے یا نہیں۔

میں جلد سے جلد حریم آپا کو واجِد بھائی کے بارے میں سُنانا چاہ رہا تھا۔ لیکن مصروفیت کی وجہ سے تین دِن اُن کے پاس جا نہیں سکا۔ چوتھے دِن اُن کی طرف گیا۔ بھائی جان گھر پر نہیں تھے۔ میں نے جاتے ہی اشتیاق بھرے انداز میں اُن سے کہا میں واجِد بھائی کے بارے میں کُچھ بتانا چاہ رہا ہوں۔ یہ سُنتے ہی حریم آپا کا چہرہ غُصّہ سے تمتما اُٹھا۔ ”کیا بتانا چاہ رہے ہو یہی نہ کہ اُنہوں نے زِندگی کا بیشتر حِصّہ امریکہ میں گُزارہ، پیشہ تدریس سے وابستہ رہے۔ دو امریکن یونیورسٹیز میں پروفیسر رہے۔ ایک گوری عورت کو مُسلمان کر کے شادی کی اور اُنکے دو لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔“

”یہ سب آپ کو کیسے معلوم ہُوا۔ میں تو صرف یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ تین دِن پہلے اُردو ہال میں ایک جھلک دیکھی تھی۔ پھر وہ نجانے کدھر غائب ہو گئے۔“ میں نے کہا

”کیسے معلوم ہُوا؟ وہ خُود خواب میں آ کر بتا کر گئے۔“ حریم آپا نے چِڑ کر کہا۔ پھر وضاحت کی۔ تُمہارے بھائی جان اُنکے بچپن کے دوست اور راز دار ہیں۔ اُنہیں ہمیشہ معلوم تھا کہ وہ امریکہ میں ہیں۔ بلکہ تُمہارے بھائی جان نے اُن کے کہنے پر مُجھ سے شادی کی۔ امریکہ جانے سے کُچھ دن پہلے اُنہوں نے کہا کہ اگر ایک قُبول صورت، گندمی رنگت والی لڑکی سے شادی کرنے میں تُمہیں اعتراض نہ ہو تو ایک لڑکی کا یہ پتہ ہے۔ میں خُود شادی کر لیتا۔ لیکن ہماری قِسمت کی راہیں جُدا ہیں۔ پرسُوں رات اِسی بات پر تُمہارے بھائی جان سے لڑائی ہو گئی۔ میں نے کہا کہ آپ نے کیوں اعلیٰ ظرفی دِکھائی۔ کیوں رحم کھا کر مُجھ سے شادی کی، نہ کرتے۔ جہاں قِسمت ہوتی وہیں شادی ہوجاتی۔ تُمہارے بھائی جان نے یاد دِلایا کہ ہماری شادی بھی تو قِسمت ہی کی شادی تھی۔ اللہ کو منظُور تھی تو ہُوئی تھی۔ دو دن پہلے وہ ہمارے ہاں آئے تھے۔

”آپ“ واجِد بھائی سے مِلیں؟ ”میں نے باجی سے دریافت کیا۔“ میں نہ مِلی نہ ہی مِلنے کا اِرادہ ہے، میں آواز سے ہی پہچان گئی تھی کہ یہ واجِد ہے۔ ”

”اب واجِد بھائی ہے کہاں، کہاں ملاقات ہو سکتی ہے؟“

”مجھے کیا پتہ، اپنے بھائی جان سے پُوچھو وہ کچھ زیادہ ہی مُتّاثِر نظر آ رہے ہیں واجِد سے، ساتھ لئے لئے گُھوم رہے ہیں پُرانے دوستوں سے مِلانے کے لئے۔ اُنہوں نے کہا بھی کہ ایک دعوت کریں گے اور سارے خاندان والوں کو مدعُو کریں گے۔

”یہ تو اچھا آئیڈیا ہے۔“ میں نے کہا۔
”میں نے صاف صاف بتا دیا کہ نہ میں کسی کی دعوت کروں گی نہ کسی کو بُلاؤں گی۔“

”واجِد کیا لینے آئے ہیں یہاں۔ اپنے زعم میں ہم لوگوں کو تہی دست چھوڑ کر گئے تھے ہمیں بتانے آئے ہیں کہ میں نے بہت اچھی زندگی گُزاری ہے۔ آپ لوگوں کے فیصلے غلط تھے۔ فیصلے کرنے والے تو اپنی قبروں میں جا کر سو گئے۔ اُنہیں لے جا کر مرحوُمِین کی قبروں پر کھڑا کر دو۔ اللہ ہی فیصلہ کریں گے کہ مرحوُمِین کی دُوراندیشی غلط تھی یا اِن کی جھوٹی انا۔ جھوٹی انا والے بہت اذّیت ناک زِندگی گُزارتے ہیں۔ اُن کے دِل میں چُبھے ہوئے کانٹے کبھی نہیں نِکلتے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ اب یہاں کیا لینے آئے ہیں۔“

”ارے آپ اتنا غُصّہ کیوں کر رہی ہیں۔“ میں نے باجی کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔

” اور نہیں تو کیا۔ اگر وہ آ کر یہ سب نہیں بتاتے، تو اُن کی ساری محنت اور جدوجہد، کامیابیاں سب اکارت جاتیں۔ وہاں اِن کے جیسے ہزاروں ہیں۔ کون اُنہیں پوچھتا کہ تُم کون سے تُرمچی ہو۔ یہ یہاں داد و تحسین سمیٹنے آئے ہیں۔ مگر یہ یہاں سے تہی دست واپس جائیں گے۔ اُنھیں کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔“

با جی ابھی تک غُصّے سے تمتما رہی تھیں اور میں اُنہیں دیکھتا رہ گیا۔ میں سمجھ گیا کہ حریم باجی کے دِل میں واجِد بھائی کی مُحبّت ابھی تک زِندہ ہے۔

Facebook Comments HS