تھرڈ برٹش ایمپائر: ڈومینین ریاست تا دولت مشترکہ کی تشکیل


امریکی قوم نے کم و بیش پونے دو سو سال تک برطانوی استبدادیت، جبّر اور غلامی کا طوق پہنے رکھا جو بالآخر چار جولائی 1776 ء کو اعلان آزادی کی صورت میں ختم ہوا۔ شمالی امریکا میں برطانیہ کے زیر تسلط تیرہ کالونیز (ریاستوں ) نے برطانوی غلامی سے آزادی کا نقارہ بجایا اور نوآبادیاتی امریکا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد فرانس کے ساتھ اتحاد کیا تاکہ برطانوی وحشت و بربریت کے خلاف لڑا جا سکے اور پھر اسی فرانس میں بادشاہت کے خلاف بغاوت ہوئی اور 13 برس بعد 1789 ء انقلاب فرانس کے ذریعے جمہوریت کی بنیاد رکھی گئی۔

امریکا سے پسپا ہونے والی برطانوی فوج اور جرنیلوں کو ہندستان پر مسلط کر نے کے لیے بھیج دیا گیا اور شکست خوردہ جرنیلوں نے ہندستان میں اپنی نوآبادیات قائم کرنے کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کی معاونت کی اور انھی جرنیلوں کی آمرانہ سوچ کے تحت آئندہ دو صدیوں تک ہندستان کو غلامی کے شکنجہ میں جکڑ کر رکھا گیا۔ امریکا کی 167 سالہ غلامی کے خاتمہ کے بعد ہندستان پر غلامی کے ایک نئے عہد کا آغاز ہوا۔ بیسویں صدی میں برطانوی ایمپائر کو غیر مستحکم ماحول میں ہم آہنگ رکھنا ایمپائر کی سیاست کا مرکزی مسئلہ تھا۔

برطانوی سام راج نے اپنی ایمپائر کو وسعت دینے اور اس جڑیں مضبوط کرنے کے لیے متنوع سیاسی انتظامات کیے جس کے لیے تھرڈ ایمپائر کی حکمت عملی لاگو کی گئی۔ نوآبادیاتی جبر کو برقرار رکھنے کے لیے برطانیہ نے ریاستوں کو مکمل آزاد کرنے کے برعکس، ڈومینین کے تصورات رائج کیے۔ برطانوی سام راج نے ڈومینین کا تصور تین ریاستوں پر ابتداء میں لاگو کیا۔

یکم جولائی 1867 ء میں برٹش نارتھ امریکا ایکٹ کے تحت کینیڈا کو برطانیہ کی پہلی ڈومینین کا درجہ دیا گیا۔ اس قانون کے تحت اونٹاریو، کیوبیک، نووا اسکوٹیا اور نیو برنس وِک کو ملا کر کینیڈا کا قیام عمل میں آیا۔ یکم جنوری 1901 ء میں آسٹریلین فیڈریشن کے تحت برطانوی نوآبادیاتی علاقوں کو ملا کر آسٹریلین کامن ویلتھ تشکیل دیا گیا، اور آسٹریلیا کو ڈومینین کا درجہ دیا گیا۔ 26 ستمبر 1907 ء میں برطانوی حکومت نے شاہی حکم (Royal Proclamation) کے ذریعے نیوزی لینڈ کو باضابطہ طور پر ڈومینین کا درجہ دیا، جس سے یہ برطانیہ کی سلطنت میں زیادہ خودمختار ریاست بن گئی۔ یہ تینوں ممالک بعد میں تدریجی طور پر مکمل آزادی کی طرف بڑھے، لیکن ابتدا ءمیں برطانیہ کی حکمرانی میں محدود خودمختاری کے ساتھ کام کرتے رہے۔ امریکی نوآبادیات کی آزادی دراصل پہلی برطانوی سلطنت کے منہدم ہونے سے جڑی ہے جس کے بطن سے ڈومینین کا تصور اُبھرا۔

سن 1900 ء کے بعد برطانوی ایمپائر کے فکر کا مرکزی تصور یہ تھا کہ ایک ایسی سلطنت، جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مختلف اقوام پر مشتمل ہو، مشترکہ اقدار اور باہمی مفادات کے ذریعے ایک دولتِ مشترکہ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ تاہم، عملی دشواری اس میں تھی کہ ڈومینینز کی بڑھتی ہوئی خود مختاری کی خواہشات کو سلطنت کے دفاع اور اقتصادی پالیسی میں اتحاد کی ضرورت کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جائے؟ یہ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں برطانوی ایمپائر کی سیاست کا مرکزی موضوع رہا۔

ایک سیاسی اکائی کے طور پر زندہ رہنے کے لیے، ایمپائر کے نظام کو دو بنیادی ضروریات درکار تھیں : ایمپائر کے دفاع کے موثر ذرائع اور برطانوی نوآبادیاتی اور نیم نوآبادیاتی علاقوں میں سیاسی اتحادیوں کا تعاون۔ یعنی آبادکاروں، سلطانوں، شیوخ، سرداروں، زمینداروں، نوابوں، اور کیریبین، مغربی افریقہ، اور جنوبی ایشیا کے ’کریول‘ یا ’اینگلو۔ اورینٹل‘ اشرافیہ کی وفاداری یا تعاون کے بغیر، دوسری برطانوی سلطنت بھی پہلی سلطنت کی طرح زوال کا شکار ہو سکتی تھی۔ برطانوی حدود سے باہر بیرون ممالک سے تعاون ایمپائر کے مسئلے کا صرف ایک پہلو تھا جبکہ ایمپائر کو برقرار رکھنے کے لیے برطانیہ کو داخلی تعاون کی بھی ضرورت تھی۔

برطانیہ میں، انیسویں صدی کے دوران ترقی پانے والے سیاسی اداروں، اقتصادی مفادات، اور سماجی رویوں کے پیچیدہ جال کو متحرک کرنا ضروری تھا تاکہ سن 1900 ء کے بعد ابھرنے والی نئی قسم کی سلطنت کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ نہ صرف برطانوی سلطنت کی پالیسیوں کے لیے عوامی حمایت کو یقینی بنایا جائے، بلکہ سلطنت کو قومی شعور میں بھی مکمل طور پر ضم کیا جائے۔ سلطنت کو برطانیہ کی شناخت کا ایک اہم حصہ سمجھا جانا چاہیے تھا، نہ کہ محض ایک ضمیمہ۔

برطانیہ کے وائٹ ہال سے، 1768 ء کے بعد سے نوآبادیاتی ریاستوں کے امور مملکت سیکرٹری آف اسٹیٹ کے ذریعے نمٹائے جا رہے تھے، اگرچہ بعض اوقات یہ دیگر وزارتی محکموں کے ساتھ بھی منسلک رہا۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں، جنگ اور نوآبادیات کے سیکریٹری شپ کو یکجا کر دیا گیا، اور یہ 1854 ء تک مکمل طور پر الگ نہیں کیے گئے۔ 1854 ء میں کالونیل آفس 12 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں قائم تھا، جو ایک انتہائی خستہ حال عمارت تھی، جسے بعد میں منہدم کر کے ”وِپس آفس“ کے لیے جگہ فراہم کی گئی۔

1875 ء میں یہ دفتر ایک نئی جگہ منتقل کیا گیا، جو ہوم، فارن، اور انڈیا دفاتر پر مشتمل تھا۔ 1945 ء میں دفتر کو گریٹ اسمتھ اسٹریٹ منتقل کیا گیا۔ پارلیمنٹ اسکوائر میں کالونیل آفس کی نئی عمارت کی منصوبہ بندی 1954 ء میں ترک کر دی گئی، کیونکہ ونسٹن چرچل نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ ان کا اعتراض یہ نہیں تھا کہ سلطنت سکڑ رہی تھی، بلکہ یہ تھا کہ یہ منصوبہ پارلیمنٹ اسکوائر کو وسعت دینے کے ان کے اپنے عظیم الشان منصوبے کو خراب کر دے گا، جسے انھوں نے ”برطانوی سلطنت کے دل کے لیے ایک عظیم الشان جگہ“ کے طور پر تصور کیا تھا۔

1890 ء کی دہائی میں ٹائپ رائٹر اور ٹیلی گراف کے عام استعمال سے پہلے، کالونیل آفس ایک سست رفتار اور معمولی جگہ تھی۔ یہ دفتر 1895 ء سے 1903 ء تک جوزف چیمبرلین کے بطور سیکریٹری آف اسٹیٹ آنے سے پہلے ایک سیاسی پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ 1870 ء میں دفتر میں آنے والے خطوط کی تعداد صرف 13,500 تھی، جو 1900 ء تک بڑھ کر 42,000 اور 1905 ء تک 50,000 سالانہ ہو گئی۔ یہ وائٹ ہال کے سب سے چھوٹے محکموں میں سے ایک تھا، اور 1903 ء تک اس کا عملہ صرف 113 افراد پر مشتمل تھا۔ تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، لیکن دفتر نسبتاً چھوٹا ہی رہا: 372 ( 1935 ء) ، 450 ( 1939 ء) ، 817 ( 1947 ء) ، 1661 ( 1954 ء) اور ملازمین کی یہ تعداد 1964 ء میں ایک دم کم کر نے کے بعد 53 کر دی گئی۔

برطانیہ کے کالونیل آفس پر یہ تنقید کی گئی کہ وہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر خود مختار ریاستوں (کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اور جنوبی افریقہ) کے حوالے سے غیر حساس ہے۔ اس کے جواب میں 1907 ء میں دفتر کے اندر ایک علیحدہ ”ڈومینینز ڈیپارٹمنٹ“ قائم کیا گیا۔ یہ بالآخر 1925 ء میں ایک علیحدہ سیکریٹری شپ آف اسٹیٹ فار ڈومینین افیئرز کی تخلیق کا باعث بنا، لیکن 1930 ء تک یہ عہدہ سیکریٹری آف اسٹیٹ فار دی کولونیز، ایل۔ ایس۔ ایمرے کے پاس رہا۔ 1931 ء کے بعد دونوں عہدے الگ رہے، یہاں تک کہ 1962 ء میں ڈنکن سینڈز نے دونوں کو دوبارہ یکجا کیا۔ اسی دوران، ڈومینینز آفس کو 1947 ء میں ”کامن ویلتھ ریلیشنز آفس“ کا نام دیا گیا، جب اس نے تقسیم ہند کے بعد باقی ماندہ انڈیا آفس کا کام سنبھالا۔ غالباً یہی وہ وقت تھا جب ”ڈومینینز آفس“ نے کسی حقیقی مقصد کا ادراک حاصل کیا۔ 1966 ء میں نوآبادیاتی دفتر اور کامن ویلتھ ریلیشنز آفس کو ضم کر دیا گیا۔ دو سال بعد ، 1968 ء میں، فارن آفس کے ساتھ حتمی انضمام کے بعد ”فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس“ قائم کیا گیا۔

لفظ نوآبادیات، کالونیل آفس کے ساتھ برطانوی استعماریت کو عیاں کرتا تھا، لہذا یہ ضروری سمجھا گیا کہ کالونیل کا لفظ سرکاری طور پر ختم کر دیا جائے، یہ تبدیلیاں بغیر کسی مخالفت کے نہیں ہوئیں۔ کابینہ کے سیکریٹری نارمن بروک نے 1956 ء میں ہی ایک متحدہ ”ڈپارٹمنٹ آف کامن ویلتھ افیئرز“ کے حق میں رائے دی تھی، جو ”کالونیل“ کے لفظ کو ختم کر دے، جو تیزی سے ایک توہین آمیز اصطلاح بن چکا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اب اتنے بالغ ہو چکے ہیں کہ وہ اس تبدیلی کو دھمکی کے طور پر نہ لیں، اور سب کو نوآبادیاتی پالیسی پر تنقید کو ختم کرنے کی ضرورت کا ادراک ہونا چاہیے۔

تاہم، 1958 ء تک ایلن لینکس بوئڈ (سیکریٹری آف اسٹیٹ) کا ماننا تھا کہ ہمیں ”نوآبادیاتی اور کامن ویلتھ امور کے حتمی انضمام“ کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ 1959 ء میں ہائی کمشنرز سے اس تجویز پر ان کے خیالات پوچھے گئے، تمام ہائی کمشنرز نے کہا کہ کامن ویلتھ حکومتیں نوآبادیاتی علاقوں کے ساتھ منسلک ہونے کو ناپسند کریں گی: یہ ایک پسماندہ عمل ہو گا جو ”نوآبادیاتی سوچ“ کی بدنامی کو بڑھا سکتا ہے۔

1962 ء کے آخر تک نوآبادیاتی سلطنت کے خاتمے کی حد تک وزیر اعظم ہیرالڈ میک ملن ان دونوں دفاتر کو ضم کرنے کے حق میں تھے۔ لیکن پلاؤڈن کمیٹی نے کامن ویلتھ ریلیشنز آفس اور فارن آفس کے انضمام کی تجویز دی، جسے میک ملن نے یہ کہتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا: ”نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ پلاؤڈن کمیٹی بالکل غلط راستے پر ہے۔ کامن ویلتھ کو فارن آفس کے ساتھ ضم کرنا سیاسی طور پر ہمارے لیے یورپی مشترکہ مارکیٹ سے بھی زیادہ نقصان دہ ہو گا“ ۔ 1964 ء کے بعد آنے والی لیبر حکومت نے مختلف سوچ اپنائی۔ 1965 ء میں کامن ویلتھ سیکریٹریٹ کا قیام (افریقی۔ ایشیائی اقدام پر) نے صورتحال کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔

1925 ء تک، جب علیحدہ ”ڈومینینز آفس“ قائم کیا گیا، نوآبادیاتی دفتر کا کام بنیادی طور پر جغرافیائی یا علاقائی خطوط کے مطابق تقسیم کیا گیا تھا، اور یہ علاقائی شعبے نسبتاً خود مختار تھے، دفتر کا کردار نگرانی کا تھا۔ نوآبادیات کو لندن سے نہیں چلایا جاتا تھا، کیونکہ ”یہ وہ ایک بڑی بدعت تھی جس سے ہم سب کانپتے تھے“ ، بلکہ ان کے گورنر اپنے علاقوں میں ہی انتظام کرتے تھے۔ تاہم، گورنر عمومی طور پر مرکزی نگرانی کے تحت کام کرتے تھے۔ گورنر کی تجاویز کی عملیت کو کالونیل آفس کے ذریعے پرکھا جاتا تھا، اور اس کے اہلکار اپنے کام کو ”احتیاط سے تنقیدی جائزہ لینے کا ایک لازمی عمل“ سمجھتے تھے۔ انھیں اس دلیل سے کوئی مسئلہ نہیں تھا کہ انھیں مخصوص نوآبادیات کے حوالے سے عملی تجربہ یا ذاتی معلومات حاصل نہیں تھیں۔

1930 ء کی دہائی سے نوآبادیاتی سلطنت کو بتدریج ایک مجموعی طور پر دیکھنا شروع کیا گیا، اور اس پر ایسے اقدامات کیے جانے لگے جو مداخلت پر مبنی اور عمومی پالیسیوں کے قابل ہوں، جس کا آغاز ”نوآبادیاتی ترقی اور فلاح و بہبود“ سے ہوا۔ علاقائی ہم آہنگی کی کوششیں بڑھ گئیں، اور انتظامیہ زیادہ پیچیدہ اور تکنیکی ہوتی گئی۔ اس کے مطابق، موضوعاتی شعبوں کی اہمیت بڑھنے لگی۔ پہلے سے ایک جنرل ڈپارٹمنٹ موجود تھا، جو نوآبادیاتی خدمات میں ترقیوں اور تبادلوں، پوسٹل مواصلات، کاپی رائٹ ایجادات، یونیفارم اور جھنڈوں جیسے امور سے نمٹتا تھا؛ لیکن عمومی پالیسی سے اس کی محدود حد تک وابستگی تھی۔

1930 ء میں پرسنل ڈویژن قائم کیا گیا، اور جنرل ڈپارٹمنٹ نے اپنے موضوعاتی افعال کو ترقی دی، جو بعد میں مزید تقسیم ہو گئے۔ 1934 ء میں اقتصادی امور (تجارت، نوآبادیاتی مصنوعات) کے لیے ایک شعبہ قائم کیا گیا، جس کے بعد بین الاقوامی تعلقات (لیگ آف نیشنز کے مینڈیٹس) ، دفاع، سماجی خدمات (مزدوری، تعلیم، اور صحت) ، اور ترقی کے شعبے بنائے گئے۔ 1950 ء تک موضوعاتی شعبوں کی تعداد 21 تک پہنچ گئی، جبکہ جغرافیائی شعبے صرف 8 تھے۔

ایک متوازی ترقی خصوصی مشیروں کی تعداد میں اضافہ تھی۔ 1867 ء سے ایک قانونی مشیر موجود تھا۔ 1934 ء میں ”ایڈوائزری کمیٹی آن نیٹیو ایجوکیشن ان ٹراپیکل افریقہ“ کے سیکریٹری کو عملی طور پر تعلیمی مشیر کا درجہ دیا گیا۔ 1926 ء میں ایک چیف میڈیکل ایڈوائزر، 1928 ء میں اقتصادی اور مالیاتی مشیر، 1928 ء میں ماہی گیری مشیر، 1929 ء میں زرعی مشیر، 1930 ء میں حیوانی صحت کے مشیر، اور 1938 ء میں لیبر کے مشیر مقرر کیے گئے۔ 1960 ء تک، وہاں 30 سائنسی اور تکنیکی مشیر اور 23 مشاورتی کمیٹیاں تھیں۔

ان تبدیلیوں کی عکاسی 1930 ء کی دہائی کے اواخر میں نظر آنے والے موضوعاتی فائلز کے بڑھتے ہوئے مرکزیت میں ہوئی، اور 1950 ء تک موضوعاتی فائلز کی تعداد علاقائی فائلز سے تین گنا زیادہ ہو چکی تھی۔ 1925 ء سے 1954 ء کے دوران جغرافیائی یا علاقائی ریکارڈز کے شعبے اب پبلک ریکارڈ آفس میں 30 سالوں کے لیے 55,000 محفوظ فائلز کے طور پر موجود ہیں، جبکہ 1939 ء سے 1954 ء کے صرف 15 سالوں کے لیے موضوعاتی ریکارڈز کی تعداد 31,000 فائلز پر مشتمل ہے۔

جغرافیائی اور موضوعاتی شعبوں کے درمیان تعاون قریبی رہا۔ وزراء جب فیصلے کرتے تھے تو انھیں عام طور پر نہ صرف کسی ایک جغرافیائی شعبے یا کسی ایک موضوعاتی شعبے کے ذریعے مشورہ دیا جاتا تھا بلکہ دونوں مل کر کام کرتے تھے۔ اور علاقائی شعبے سیاسی طور پر ان اعداد و شمار سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے جو محض اعداد و شمار سے ظاہر ہوتے ہیں۔

کیا نوآبادیاتی دفتر میں سلطنت کے مسائل پر ایک ”سرکاری ذہن“ موجود تھا؟ تکنیکی طور پر، اگرچہ یہ صرف سیکریٹری آف اسٹیٹ کا ایک ذریعہ تھا، لیکن ”ایک مسلسل ادارے کے طور پر، اس کا اپنا ایک اجتماعی ’ذہن‘ تھا، جو اس کی طویل روایت، اس کے عملے کے تجربے اور ذاتی خصوصیات، اور نوآبادیاتی سروس کے ساتھ اس کے مستقل اور قریبی تعلقات کے اثر و رسوخ پر مبنی تھا۔“ اس کے برعکس، ایک سیکریٹری آف اسٹیٹ کو بہت طاقتور ہونا پڑتا تھا تاکہ وہ اپنی پالیسی کو چند مخصوص مسائل کے علاوہ باقی تمام پر نافذ کر سکے۔

زیادہ تر فائلیں صرف اہلکاروں کی صوابدید پر سیکریٹری آف اسٹیٹ تک جاتی تھیں۔ حکومت کی تبدیلیاں شاذ و نادر ہی مسئلہ بنتی تھیں۔ عام طور پر سیاسی دو طرفہ اتفاق رائے غالب رہتا تھا، اگرچہ یہ 1964 ء کے بعد بظاہر ٹوٹتا ہوا دکھائی دیا۔ اس سے پہلے اقتدار میں آنے والی نئی جماعتوں کے مطابق زیادہ ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت نہیں تھی۔ وزراء کے درمیان مزاجی اختلافات زیادہ اہم تھے، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں۔ کوئی باتونی وزیر کسی خاموش مزاج وزیر کی جگہ لے سکتا تھا، سخت گیر کسی نرمی برتنے والے کے بعد آ سکتا تھا، یا کوئی دانشور کسی نیم خواندہ وزیر کے بعد مقرر ہو سکتا تھا۔

دیگر تمام سرکاری ملازمین کی طرح، کالونیل آفس کے اہلکاروں سے بھی توقع کی جاتی تھی کہ وہ سیاسی طور پر غیر جانبدار ہوں گے۔ تاہم، عمومی طور پر نوآبادیاتی دفتر کا ”ذہن“ انسانی اور ترقی پسند تھا اور سلطنت کے بارے میں انتہائی دائیں بازو کے خیالات سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ سلطنت پر فخر کرتے تھے، لیکن اس کے بارے میں شکوک و شبہات بھی رکھتے تھے۔ وہ سب سے زیادہ خوش اور موثر طریقے سے کام کرتے تھے جب حکومت لبرل جیسی ہو، جیسا کہ 1905 ء سے 1915 ء تک کی لبرل حکومت، یا 1945 ء سے 1951 ء تک کی لیبر حکومت۔

پاکستان روز اوّل سے ہی دولت مشترکہ کا ممبر بن گیا، ہندستان میں برطانوی راج کا براہ راست خاتمہ ہوا اور پاکستان کا نظامِ حکومت، عدالتی ڈھانچہ، اور بیوروکریسی برطانوی ماڈل پر قائم کیے گئے۔ دولت مشترکہ میں شامل ہونے سے پاکستان برطانوی روایات اور طرزِ حکمرانی سے جڑا اور یوں نوآبادیاتی روایات اور دساتیر ریاست پاکستان کی میراث بن گئے اور 1956 ء تک پاکستان کی حیثیت برطانوی ڈومینین کی رہی اور ملکہ برطانیہ کی منظوری سے گورنر جنرل کی تقرریاں کی جاتی رہیں۔

برطانیہ کے ساتھ تعلقات میں ایک اہم موڑ اُس وقت آیا جب دولت مشترکہ نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 ء میں احتجاجاً پاکستان کو دولت مشترکہ سے الگ کر کے رکنیت چھوڑ دی تاہم بے نظیر بھٹو نے برسر اقتدار آ کر 1989 ء میں دولت مشترکہ کی دوبارہ رکنیت حاصل کر لی۔ آج پاکستان، نوآبادیاتی روایات، قوانین، ضابطوں کا امین بن کر برطانیہ کی تشکیل کردہ تھرڈ ایمپائر کا ایک اہم رکن ہے اور برطانیہ دولت مشترکہ کے ذریعے سے پاکستان کی داخلی پالیسیوں پر اپنا اثر برقرار رکھے ہوئے ہے جس پر آئندہ کسی مضمون میں قلم اُٹھائیں گے۔

Facebook Comments HS